| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::::: قران فہمی کا قرانی طریقہ ::::::: بسم اللہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم الحمد للہ وحدہُ الذی لا اِلھَ الا ھو و الذی لیس اصدق منھُ قِیلا و الذی ارسل رسولھ بالھُدیٰ و تبیّن ما ارادَ ، و الصلاۃ و السلام علی محمد عبد اللہ و رسول اللہ ، الذی لم ینطق عن الھَویٰ و الذی امانۃ ربھ قد ادیٰ ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اوالاد کی ہدایت کے لیے اور اسے اللہ کی پہچان کروانے کے لیے اسی میں سے اپنے نبی اور رسول چنے ، اور ان نبیوں اور رسولوں کی طرف اپنے آسمانی رسول جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے پیغامات ، احکامات ، ماضی حال اور مستقبل کے غیب کی خبریں ارسال فرمائیں ، جنہیں وحی کہا جاتا ہے ، اور کبھی اللہ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام کو ذریعہ بنائےبغیر بھی وحی کی جاری رہی ، پس صحیح عقیدہ والے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں نے اپنی اپنی طرف نازل ہونے والی شریعت میں جو بھی احکام بتائے ، خواہ عقائد سے متعلق ہوں یا عِبادات سے ، یا معاملات و عادات سے، سب اللہ کی طرف سے وحی ہیں ، اور اسی طرح غیب کی خبروں میں سے جو کچھ بتایا وہ بھی بالیقین اللہ کی طرف سے وحی ہیں ، اور اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قران کریم کو ، سابقہ تمام کتابوں کی کسوٹی بنایا ، اپنے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سابقہ تمام نبیوں سے بڑھ کر افضل و اعلیٰ مُقام اور درجہ عطاء فرمایا ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دی جانے والی شریعت کو سابقہ تمام شریعتوں کا ناسخ بنایا ، اور اسی طرح اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُس کی اپنی ذات و صفات ، اپنی مخلوق کی ابتداء تخلیق اور انتہاء ، قیامت تک اور قیامت میں اور قیامت کے بعد ہونے والے واقعات میں سے جتنا چاہا بتایا اور اُس میں سے جتنا آگے بتانے کی اجازت ہوئی وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی اُمت کو بتایا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی اختیار کردہ سنت کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول بنایا اور ان کو سابقہ تمام نبیوں اور رسولوں سے ممتاز رکھا ، اس امتیاز میں سے ایک یہ بھی تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف اللہ کے احکامات اور پیغامات کو اللہ کی کتاب قران کریم میں سے ہی وحی نہیں کیا جاتا تھا ، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کی جاتی تھی ، اور اس کی سب سے بڑی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذمہ داریوں میں اللہ تعالی نے یہ بھی مقرر فرمایا تھا کہ ((((( بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ::: اور (اے محمد)ہم نے آپ کی طرف ذکر (قران) نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے لیے واضح فرمائیں کہ اُن کی طرف کیا اتارا گیا ہے اور تا کہ وہ غور کریں ))))) سورت النحل / آیت44 اور مزید تاکید فرمائی کہ ((((( وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ::: اور(اے محمد ) ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ یہ لوگ جِس (چیز ) میں (بھی) اِختلاف کرتے ہیں آپ اِن لوگوں پر(اِس کتاب کے مطابق)وہ (چیز) واضح فرما دیجیے ، اور (ہم نے یہ کتاب)ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت (بنا کر نازل کی ہے) ))))) سورت النحل/آیت64 ::::: اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان دو فرامین میں ہمیں بڑی وضاحت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام مبارک کی وضاحت اور بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذمہ داری تھی ، لہذا اللہ کی کتاب قران میں سے ہر ایک بات کو سمجھنے کے لیے، اللہ کے اسی کلام کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اور عمل مبارک کو دیکھا جائے گا ، لغوی قواعد ، منطقی قیاس آرائیاں ، عقلی چہ میگوئیاں ، فلسفیانہ غوطہ بازیاں ، تخیلات کی پروازیں ، سب کی سب قطعا کوئی حجت ، کوئی دلیل نہیں ہیں ، جبکہ تک کہ انہیں اللہ کے کلام سے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ سے سند قبولیت حاصل نہ ہو ، اور ان دو مصادر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے براہ راست شاگردوں ، مدرسہ ءِ رسالت سے دین سیکھنے اور اللہ کے کلام کے معانی اور مفاہیم سیکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، جن کے دِلوں کے تقوے کی گواہی اللہ پاک نے دی ، ان کی جماعت کے اقوال و افعال سے ورنہ تو گمراہی ہی گمراہی ہے ، جس کا شکار خوشی فہمیوں میں گِھرے ہوئے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خود کو قران سمجھنے والے سمجھتے ہیں اور جہالت زدہ فلسفوں کی دلدل میں دھنستے ہی چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کبھی """صحیح ثابت شدہ سنت """ کا انکار کرتے ہیں اور تو کبھی کسی """غیر ثابت شدہ روایت """کو مانتے ہیں ، کبھی قران کریم کے عِلاوہ ہر ایک کتاب کو ناقابل اعتماد قرار دیتے ہیں ، اور کبھی پھر انہیں کتابوں میں سے اپنے لیے دلائل بھی پیش کرتے ہیں ، کبھی أئمہ اور عُلماء رحمہم اللہ کا ادب کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی ان کو جھوٹا اور جاہل ثابت کرنے کی کوشش میں مشغول نظر آتے ہیں، ان کی مثال اُس شخص جیسی ہے جسے خود ہی اپنے احوال کا پتہ نہیں ہوتا ، اپنے ہی اقوال کے جال میں ان کے فلسفوں کے پاوں پھنسے رہتے ہیں ، جتنا نکالنا چاہیں اتنی ہی نئی گرہیں ان کے گِرد لگتی چلی جاتی ہیں ((((( مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاء وَلاَ إِلَى هَـؤُلاء وَمَن يُضْلِلِ اللّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً ::: وہ لوگ اس کے درمیان میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں ، نہ تو اِن کی طرف ہوتے ہیں ، اور نہ ہی اُن کی طرف ، اور ( اے محمد ) جسے اللہ گمراہ کرے آپ ہر گِز اس کے (ہدایت) کا کوئی راستہ نہیں پا سکتے ))))) سورت النساء /آیت143، اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفسرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک بھی ذکر کیا ہے ، عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بين الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إلى هذه مَرَّةً وَإِلَى هذه مَرَّةً :::منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان متردد رہتی ہے کبھی اس کی طرف مائل ہوتی ہے اور کبھی اِس کی طرف ))))) صحیح مُسلم /حدیث 2784 /کتاب صِفات المُنافِقِینَ وأٔحکامِھِم ، صدقَ اللہُ و رسولَہُ ، پس جب ایسے لوگوں کو اللہ کی طرف سے ہی گمراہ کر دیا جائے تو کسی کے لیے ان کو گمراہی سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا ، ہم ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے ان کے سامنے قران اور صحیح ثابت شدہ سے براہین قاطعہ رکھ کر ان کے لیے دُعا ہی کر سکتے ہیں ، کہ ، اے اللہ تعالیٰ تُو اِن میں سے کسی پر رحم فرمانا چاہے تو وہ غفور اور رحیم ہے ، اور صرف تُو ہی ہے جو اُنکے دِلوں کو بدل سکتا ہے اور اُنہیں تیرا دِین ، تیرے فرمان ، تیرے ہی اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے مطابق اورتیرےرسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے افعال مبارکہ کے مطابق سمجھنے کی راہ پر چلا سکتا ہے ، پس ہمارے ساتھ اور ان کے ساتھ اپنی رحمت والا معاملہ فرما ، آمین ، ثُمَّ آمین ، و السلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتار جا سکتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | احمد نذیر (08-11-11), ارشد کمبوہ (30-11-10), راجہ اکرام (14-12-09), سحر (23-11-09), ضِرار Derar (29-11-10), طاھر (22-11-09), عبداللہ آدم (12-12-10), عبداللہ حیدر (23-11-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
ایک اچھے موضوع پر لکھنے کا شکریہ - اللہ آپ کو جزائے خیر عطافرمائے - آمین۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (30-11-10), ضِرار Derar (29-11-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ، جزاک اللہ خیرا یا عمی۔ یہ تحریر ان شاء اللہ ایک ریفرنس کا کام دے گی۔
والسلام علیکم |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ضِرار Derar (29-11-10), عبداللہ آدم (12-12-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (30-11-10), ضِرار Derar (29-11-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (30-11-10), ضِرار Derar (29-11-10) |
|
|
#6 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 17
کمائي: 671
شکریہ: 18
13 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=عادل سہیل;231694]
::::::: قران فہمی کا قرانی طریقہ ::::::: [B]پس صحیح عقیدہ والے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں نے اپنی اپنی طرف نازل ہونے والی شریعت میں جو بھی احکام بتائے ، خواہ عقائد سے متعلق ہوں یا عِبادات سے ، یا معاملات و عادات سے، سب اللہ کی طرف سے وحی ہیں ، اور اسی طرح غیب کی خبروں میں سے جو کچھ بتایا وہ بھی بالیقین اللہ کی طرف سے وحی ہیں ، اور اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قران کریم کو ، سابقہ تمام کتابوں کی کسوٹی بنایا ، اپنے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سابقہ تمام نبیوں سے بڑھ کر افضل و اعلیٰ مُقام اور درجہ عطاء فرمایا ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دی جانے والی شریعت کو سابقہ تمام شریعتوں کا ناسخ بنایا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی اختیار کردہ سنت کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول بنایا اور ان کو سابقہ تمام نبیوں اور رسولوں سے ممتاز رکھا ، اس امتیاز میں سے ایک یہ بھی تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف اللہ کے احکامات اور پیغامات کو اللہ کی کتاب قران کریم میں سے ہی وحی نہیں کیا جاتا تھا ، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کی جاتی تھی ، السلام و علیک میں نے آپکی تحریر سے چار پیراگراف منتخب کیے ہیں انکی وضاحت کے لئے آپ سے گزارش ہے آپ اسکے لئے قرآنی آیت یا سند بتا دیجیے تاکہ بات واضح ہو۔ یعنی 1)شریعت کے جو بھی احکامات ہوتے ہیں تو وہ وحی سے ہوتے ہیں یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن معاملات اور عادات وغیرہ کے جو اعمال نبیوں سے ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی وحی سے ہوتے ہیں اسکی قرآنی دلیل کیا ہے؟ 2)یہ بات صحیح ہے کہ قرآن حکیم کو سابقہ تمام کتابوں کی کسوٹی بنایا گیا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ کہاں سے نکل آیا کہ آخری رسول کی شریعت نے پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا اسکا بھی قرآنی حوالہ درکار ہے؟ 3)(آخری پیراگراف)آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی کہ اللہ نے قرآن کے علاوہ بھی وحی کی جو کہ قرآنی میں نہیںہے اور اگر وہ قرآن میں نہیں ہے تو پھر کہاں ہے؟ اور انکی تعداد کتنی ہے، نمبر بتا دیں؟ آصف احمد |
|
|
|
|
|
#7 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم بھائی ، آصف احمد صاحب ، سب سے پہلے میں تو جواب میں تاخیر پر معذرت خواہ ہوں ، اس ممکنہ تاخیر کے بارے میں ، میں آپ کو پہلے آگاہ کر چکا تھا ، آصف بھإئی ، آپ کے سوال میں سے میں نہیں سمجھ سکا کہ سند کے مطالبے سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ میں اپنی بات کی دلیل میں اگر کوئی حدیث شریف پیش کروں تو اس کی سند بھی پیش کروں تو ، اِن شاء اللہ میرے بھائی میں یہ کر دوں گا ، اور اگر آپ کچھ اور مُراد رکھتے ہیں تو اس کی وضاحت فرما دیجیے گا تا کہ آپ کی طلب کے مطابق ہی جواب پیش کرنے کی کوشش کی جائے ، آپ نے پہلے سوال کے طور پر دریافت فرمایا ::: اقتباس:
آصف بھائی میں نے لکھا تھا ::: اقتباس:
لہذا میرے بھائی ، آپ نے میری لکھی ہوئی عبارت میں جو کچھ محسوس کیا وہ کچھ اُس میں ہے ہی نہیں ، و الحمد للہ ، """ احکام """ حکم کی جمع ہے ، اور اس سے مُراد کسی عقیدے ، عِبادت ، معاملہ اور عادت کے حلال یا حرام ، صحیح یا غلط، جائز یا ناجائز ہونے کا حکم ہے ، اور یہ حکم اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے ، کوئی نبی اور رسول علیہم السلام اپنی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں دیتے رہے ، اس وضاحت کے بارے میں قران کریم سے دلیل اللہ کا یہ فرمان مبارک ہے جو اُس نے اپنے انبیاء اور رُسُل علیہم السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ (((((أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ ::: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی ، لہذا تُم ان لوگوں ( کو دی گئی ) ہدایت کی پیروی کرو )))))) سورت الانعام / آیت 90، یہاں جس ہدایت کا خصوصی طور پر انبیاء اور رُسُل علیہم السلام کے لیے ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ کی طرف سے وحی کردہ یہ احکام ہیں جو انسانی زندگی کے سارے پہلووں پر محیط ہوتے تھے ، اور ہماری طرف نازل کردہ آخری شریعت کے احکام اب تک ہیں اور قیامت قائم ہونے تک رہیں گے، ان شاء اللہ آپ کے اگلے سوالات کے جوابات اگلی فرصت میں ، و السلام علیکم۔ |
|||
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (12-12-10) |
![]() |
| Tags |
| color, com, کوشش, کلام, کتابوں, پہچان, پاک, واقعات, قواعد, قران, نظر, منافق, ایمان, اعلیٰ, جاہل, حال, حدیث, دُعا, راستہ, شخص, علی, صفات, صحیح, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|