| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم صاحبو اور احبابو، میرا ارادہ یہاں ایک سے زائید مراسلات لکھوں۔ ان مراسلات کا صرف ایک مقصد ہے کہ کسی بھی موضوع پر قرآن کی آیات کے حوالہ فراہم کئے جائیں کہ قرآن کیا کہتا ہے۔ انڈیکس: قرآن کیا کہتا ہے ۔ قرآن کس کے لئے کارآمد ہے، یہ کن لوگوں کے لئے ہدایت ہے؟ قرآن ایک عظیم کتابِ ہدایت ہے، ہم میں سے وہ لوگ جو قرآن کو باترجمہ پڑھتے ہیں ان کو تو عموماً یہ علم ہوتا ہے کہ کسی موضوع پر قرآن کی کیا آیات موجود ہیں لیکن عام آدمی کو عموماً معلوم نہیں ہوتا کہ کسی خاص موضوع پر قران کے کیا احکامات ہیں۔ ان حوالہ جات یا ریفرنسز کی مدد سے ایک آدمی بآسانی اللہ تعالی کے بیان کے ہوئے احکامات اور فرائض کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرسکتاہے۔ کیا یہ قران و سنت اور حدیث کی بحث ہےِ ؟ جی نہیں۔ قران کے فراہم کردہ موضوعات پر ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال و سنت مبارکہ اور احادیث وافر تعداد میں موجود ہیں۔ یہ سنتیں قرآن سے مناسبت رکھتی ہیں، ایسی احادیث کوئی بھی صاحب یہاں رقم کرسکتے ہیں اور معلومات میں اضافہ کرسکتے ہیں ، میری کوشش یہ رہے گی کہ قرآن کے تراجم کی مدد سے قرآن کی آیات فراہم کی جائیں۔ اگر آپ کسی موضوع پر مزید آیات کے بارے میںجانتے ہیں یا مزید روایات ، احادیث ، سنت یا اقوال زریں پیش کر سکتے ہیں تو یہ یقیناً تمام احباب کے لئے ایک بہترین مدد ہوگی۔ اور سب دوست آپ کے شکر گزار ہونگے۔ میرا مقصد قطعاً کسی فرقہ کی آیات کو چھپانا یا واضح کرنا نہیں ہے۔ آپ کسی بھی موضوع پر مناسب آیات کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ اگر قرآن کے پیش کردہ متن ۔ ترجمہ اور آپ کے عقائد میں اختلاف ہے تو آپ کیا کریں؟ آپ کی آسانی کے لئے اوپن برہان اور یہاں پاک ڈاٹ نیٹپر قرآن کے 25 عدد تراجم مستند مترجمین کے موجود ہیں۔ اگر آپ کے عقائد میں اور قران کے متن میںفرق ہے تو یہ آپ کے لئے تدبر اور غور کرنے کا مقام ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کے ممکنہ حل یہ ہوسکتے ہیں۔ 1۔ ممکن ہے میں نے کچھ ایسا رنگ دے دیا ہو کہ آیت کے معانی آپ کے عقیدہ کے خلاف ہوں۔ اس صورت میں آپ اُس دھاگہ میں نشاندہی فرما دیجئے ، آپ کی جائز شکایت، متن میں مناسب رد و بدل کرکے دور کرکے مجھے بہت خوشی ہوگی۔ 2۔ کوئی ایک ترجمہ آپ کے لئے مناسب نہیں یا آپ اس ترجمہ میں کوئی غلطی پاتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کسی بھی دوسرے طبع شدہ ترجمہ کو شامل کرکے اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اصل مترجم یا اس کے پبلشر سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ میں اس مد میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا، اس لیئے کہ تمام مترجمین اپنے اعلی کام کی بناء پر میرے لئے لائق صد احترام ہیں۔ 3۔ ترجمہ اور متن کو آپ مل جل کر اپنے عقائد کے خلاف پاتے ہیں یا یہ آپ کے لئے نئے ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے لئے کوئی خیال بالکل نیا ہوتا ہے یا انہوںنے فرض کررکھا ہوتا ہے کہ یہ عین اسلامی خیال ہے لیکن وہ بات قرآن حکیم میں موجود ہی نہیں ہوتی ہے۔ مثال: جیسے منکر نکیر کا تذکرہ قرآن میںنہیں ملتا ہے۔ تو اس صورت میں اگر ایسا لکھا جائے کہ منکر نکیر کا تذکرہ قرآن میں نہیں ملتا ہے تو بطور حوالہ یہ ایک درست بات ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمام روایات جو منکر نکیر کے بارے میں ہیں درست نہیں ہیں ۔ آپ مناسب روایات کا حوالہ دے کر اپنی بات واضح کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں ایسا فرض کرنا کہ یہ بتانے سے کہ منکر نکیر کا تذکرہ قرآن حکیم میںموجود نہیں ہے، ان تمام احادیث کی نفی ہوتی ہے جو منکر نکیر کے بارے میں ہیں، ایسا سمجھنا درست نہیں ہے۔ 4 ۔ تمام تراجم اور مکمل متن کو مکمل طور پر آپ اپنے عقائد کے خلاف پاتے ہیں۔ اگر آپ کا عقیدہ واضح طور پر قرآن کے خلاف ہے تو یہ آپ کے لئے تدبر کا مقام ہے۔ اس ضمن میں، میں آپ کی شاید ہی کوئی خدمت کرسکوں کیوں کہ میںکسی بھی عقیدہ کی توثیق یا تردید نہیںکرتا۔ یہ فرق آپ کواسلام کی سیاست، خواتین و یتیموں کے مالی و سماجی حقوق اور مال و زر کی تقسیم کی مد میں ملیں گے۔ چونکہ یہاں صرف اور صرف قرآن کے ترجمہ سے حوالہ فراہم کئے جارہے ہیں۔ اس لئے کسی عقیدہ پر بحث ان دھاگوں سے کی حد سے بہت باہر ہے۔ احتراز کیجئے۔ کچھ میرے بارے میں۔ یہی میرا اصل نام ہے۔ میرا خاندان ہزارہ، پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ بیشتر تعلیم میں نے کراچی میں حاصل کی، اللہ تعالی کے فضل سے ، 5 سال کی عمر سے 7 سال تک پبلک اسکول اور دینی مدرسہ بیک وقت جاتا رہا۔ اعلی تعلیم، الیکٹرانکس انجینئرنگ میں این ای ڈی یونیورسٹی سے حاصل کی اور سنسناٹی اوہایو سے انجنئرنگ میں ماسٹرز کیا۔ امریکی تجارتی اداروں میں عمر کا بیشتر حصہ کام کیا اور 2000 سے امریکہ میں اپنا کاروبار کرتا ہوں۔ عربی زبان کا سوفٹ وئر المساعد العربی کا خالق، صدف اردو نستعلیق کے انجن کا خالق، اور اوریکل ڈیٹا بیس کے اے سنکرونس ملٹی پاتھ لکھنے اور پڑھنے کے انجن کا خالق ہوں۔ الحمد للہ، پاکستان میں پاکستان نیٹ ورک سروسز کے نام کے 1996 سے 2003 تک انٹرنیٹسروس فراہم کی۔ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق جو ابتدائی درجوں میں شروع ہوا، زندگی بھر نہیں چھوٹا، ابتدائی تعلیم صرف ناظرہ تک محدود تھی جو ستمبر 1980 سے کم از کم نصف گھنٹہ روزانہ سمجھ کر ترجمہ سے پڑھنے کہ صورت میں میں باقاعدگی سے جاری ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لئے 6 سمسٹر یونورسٹی میں عربی سیکھنے کے بعد یہ جانا کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے جس پایہ کی عربی کی مہارت درکار ہے وہ اس طرح مجھے حاصل نہیں ہوسکتی لہذا باوجود اس کے کہ قرآن حکیم کا بیشتر حصہ عربی میںہی سمجھ لینے میں کوئی دشواری محسوس نہیں پاتا، اب بھی ترجموں اور لغات کا محتاج ہوں۔ تمام کے تمام تراجم میں خود بھی پروف ریڈ کرتا ہوں۔ چونکہ بیشتر مترجمین بذات خود عربی زبان کے عالم ہیں لہذا یہ تمام تراجم بہت مدد گار ہیں ۔ ان تراجم کو جن کو تقریباًَ تمام علماء قابل قبول جانتے ہیں، رد نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سے زیادہ ترجمہ کو قرآن کے متن کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ہوتا ہے۔ قرآن کو باترجمہ پڑھنے کا کام میں کم از کم نصف گھنٹہ روزانہ کرتا ہوں ۔ اب تک کم از کم 25 تراجم بارہا پڑھ چکا ہوں۔ یہ وہ وجوہات ہیں کہ اس کا فائیدہ میں اپنے احباب کو پہنچانا چاہتا ہوں کہ وہ بھی جانیں کہ قرآن کس موضوع پر کیا کہتا ہے۔ میںچاہتا تھا کہ قرآن میں موجود کسی بھی لفظ کے بارے میں تمام قرآنی آیات پیش کنے کے قابل ہوسکوں۔ ایسا اگر میں ذاتی طور پر کر بھی لیتا تو دوسرے افراد کے لیے پھر بھی یہ ایک مشکل کام ہوتا۔ لہذا میں نے قرآن کے ایک کراس ریفرنس پر کام کا کیا جو کہ اوپن برہان پر موجود ہے۔ اس کی مدد سے آپ کسی بھی موضوع پر مکمل آیات ڈھونڈھ سکتے ہیں ، ایک ہی موضوع پر موجود آیات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اور اس طرح قرآن میں اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈھ سکتے ہیں۔ تو کیا میں آپ کے مسائیل کا حل اور آپ کے یا کسی کے عقیدہ کی توثیق یا تردید کرسکتا ہوں؟ جی نہیں ۔ نہ میں آپ کے مسائیل کا دینی حل بتا سکتا ہوں اور نہ ہی آپ کے اور نہ ہی کسی کے دینی عقیدہ کی توثیق و تردید کرسکتا ہوں۔ میرا مقصد صرف اور صرف کسی بھی موضوع پر قرآن کی آیات کا مستند حوالہ فراہم کرنا ہے۔ اس طرح آپ خود بھی ان آیات کے بارے میں جانتے ہیں اور اپنی پسند کے عالم سے بھی ان آیات کا ریفرنس دے کر معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا میرا تعلق کسی "صرف قرآن تحریک" سے ہے؟ جی نہیں۔ میں قرآن کو بطور فرض اور صحیح سنت کو سنت مانتا ہوں۔ اور یہ سمجھتا ہوں کہ سنت ادا کرنا احسن ہے لیکن اگر چھوٹجائے تو کوئی گناہ نہیں ۔ اس میں ضمن میں کسی پیچیدہ سوالات کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ دعا ہے کہ یہ مراسلات ہم سب کی معلومات میں اضافہ کا باعث ہوں۔ آمین۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 26-10-08 at 12:37 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (23-10-08), میاں شاہد (26-10-08), موجو (10-06-09), ابن جلال (23-10-08), خالد احمد صدیقی (23-10-08), عادل سہیل (26-10-08), عرفان حیدر (23-10-08) |
| کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 23-10-08 | عرفان حیدر | بہت احسن قدم ہے | 100 |
| 23-10-08 | خالد احمد صدیقی | دستیاب نہیں | 150 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 174
کمائي: 803
شکریہ: 664
50 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ جناب!
میں اس فورم پر خاموش تماشائی کے طور پر گھومنا زیادہ پسند کرتا ہوں، کبھی کبھار دل کرتا ہے کہ کچھ پوچھ لوں مگر خاموش ہو جاتا ہوں کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ ہر بند ہ آگے بڑھ کر جواب دینے کی کوشش کرتا ہے اور اس سے کبھی کبھار تو فائدہ ہوتا ہے مگر زیادہ تر کھچڑی پک جاتی ہے اور یہ مجھے پسند نہیں اس لئے خاموشی کو بہت سمجھتا ہوں۔ آپ کی تحریر کافی متاثر کن ہے، پسند آئی اور اللہ آپ کو ہر اچھے مقصد میں کامیاب کرے۔ کیا میں بوقت ضرورت یہاں آپ سے کچھ پوچھنا چاہوں تو مجھے اس کی اجازت ہے؟ اگر کسی اور سے پوچھنا ہوگا تو میں انکے کسی مضمون میں پوچھ لوں گا یاں نہیں ، یہ نہ ہو کہ میں سوال پوچھ لوں تو جوابات کی لائن لگ جائے ؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خالد احمد صدیقی کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (23-10-08), عرفان حیدر (23-10-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سلام و شکریہ بھائی خالد،
آپ کو کیا کسی کو بھی کچھ پوچھنے یا کہنے کے لئے کسی بھی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ذہن میں رکھئے کہ میں ایک معمولی طالب علم ہوں، لہذا جو ریفرنس بھی فراہم کرسکا، اس کی خوشی ہوگی۔ سوال و بیان کے علاوہ، اپنی بھرپور تنقید اور مناسب تائید سے نوازتے رہیئے۔ اضافہ فرماتے رہیئے۔ اور اللہ تعالی سے دعا فرماتے رہئے کہ وہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | خالد احمد صدیقی (23-10-08) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 174
کمائي: 803
شکریہ: 664
50 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اگر فورم کے قوانین کو مدنظر رکھیں گے تو میرا خیال ہے کہ کسی کو بھی کوئی شکایت نہیںہوگی اور نہ ہی ہونی چاہئے باقی اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ہم یہیںموجود ہیں
__________________
![]() |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | خالد احمد صدیقی (24-10-08), عرفان حیدر (23-10-08) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 174
کمائي: 803
شکریہ: 664
50 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٹھیک ہے جب کوئی پریشانی ہوگی تو دیکھیں گے
فاروق صاحب! کیا آپ قیامت کے دن مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ملنے والی شفاعت اور مقامِ محمود کے بارے میں کچھ تفصیلات بیان کر سکتے ہیں ؟ شکریہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے خالد احمد صدیقی کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (23-10-08), فاروق سرورخان (23-10-08), عُکاشہ (25-10-08), عبداللہ حیدر (23-10-08), عرفان حیدر (23-10-08) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 174
کمائي: 803
شکریہ: 664
50 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک بات اور ہے کہ آج ہم پر طرحطرحکی پریشانیاں اور مصیبتیں ٹوٹ رہی ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟ کہیںایسا تو نہیں کہ ہماری اکثریت گمراہ ہو چکی ہے اس وجہ سے ہم پر پریشانیاںدھڑادھڑ آرہی ہیں ؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خالد احمد صدیقی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا اس سے کوئی مسلکی بحث تو شروع نہیں ہوگی؟ یہ نہ ہو کہ کان پڑی آواز ہی سنائی نہ دے، کیونکہ میں نے ہمیشہ مسائل کے حوالے سے قرآن کے ساتھ حدیث کا ذکر بھی سنا ہے بلکہ کچھ اور بھی چیزیں ہیں جنکا ذکر میں اگلی بار معلوم کر کے بتاؤں گا کیونکہ میں نے سنا ہے مگر مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا۔ اس سے کسی مسلکی بحث شروع ہونے کی کوئی وجہ میں سوچ نہیں سکتا۔ وہ اس لئے کہ اسلام کے تمام فرقوں کا مرکزی عقیدہ قرآن ہے۔ اگر کوئی صاحب اپنے عقیدہ کے بارےمیں کوئی حدیث بھی شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس میںکوئی برائی نہیںہے۔ اس کی مثال اس طرح لیجئے، کہ عذاب قبر کا تذکرہ قران میں نہیں ہے۔ لیکن کچھ مسلک اس عقیدہ پر احادیث کی مدد سے یقین رکھتے ہیں۔ لہذا اگر یہ کہا جائے کہ "ّعذاب قبر" کی اصظلاح قرآن میں نہیں پائی جاتی تو یہ ایک درست بات ہوگی۔ اب اگر اس میں ایک صاحب آ کر کہتے ہیں کہ ان کا تعلق فرقہ ایک ایسے فرقہ سے ہے اور ان کے فرقہ میں درج ذیل احادیث کی وجہ سے "عذاب قبر" کے فلسفہ پر یقین کیا جاتا ہے تو یہ مسلکی بحث نہیں بلکہ اضافی انفارمیشن ہے کہ مسلمانوں کا ایک فرقہ اس طرح مزید انفارمیشن استعمال کرتا ہے۔ اگر آپ دیکھئے تو سنی اور شیعہ فرقوں میں ہی اعتقاد کا بڑا فرق پایا جاتا ہے ، جبکہ ان فرقوں کے نیچے بھی بہت سے مزید فرقہ ہیں۔ اس اعتقاد کے فرق کو ہم سب کو قبول کرنا چاہئیے کیونکہ یہ فرق باوجود کوششوں کے آج تک مٹ نہیں سکا ہے۔ اس امید پر کہ آہستہ آہستہ سب آپس میں اجتہاد کرلیں گے۔ اب میں واپس آتا ہوں قرآن کیا کہتا ہے کے بنیادی خیال کی طرف کہ یہ صرف اور صرف ایک عدد قرآن کا ریفرنس ہے۔ اس کی کیا مثال ہوگی؟ مثال کے طور پر اگر پوچھا جائے کہ جمع شدہ زکواۃ کو کس کس کو تقسیم کیا جائے ؟ کیا اس کا کوئی ریفرنس قرآن مین ہے؟ یعنی اللہ تعالی کا حکم کیا ہے۔ اب یہاں ایک عدد یا زائد آئت کا حوالہ فراہم کیا جائے تو اس طرح ہم کو اللہ تعالی کے حکم کے بارے میں اور اس بنیادی اصول کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے جو اللہ تعالی نے فراہم کیا۔ اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ اس کے بارے میں ہم رسول اکرم کا حکم نظر انداز کردیں گے یا بعد میں ہونے والا کوئی ملی یا امتی اجتہاد نظر انداز کردیں گے ۔ اگر کوئی صاحب قرآن کے اس بنیادی اصول کے بارے میں مزید اطلاعات احادیث سے فراہم کرتے ہیں تو یہ غیر مناسب نہیں بلکہ اضافی معلومات ہیں۔ بہت سے امور ایسے ہیں جن کے بارے میں قرآن نے بنیادی اصول فراہم کیا اور اس کے بعد حکومتوں نے ان اصولوں مین مناسب اضافہ کیا۔ ایسے اضافہ کو علماء نے پیش کیا یا اس کی توثیق کی کہ یہ ایک منصفانہ اصول تھا۔ ایسی ترامیم کو اجتہاد کا نام دیا گیا۔ کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف انہی اصولوں کو مانیں جو کہ ماضی میں طے ہوچکے ہیں اور جدید اجتہاد سے دور رہیں۔ ایسے لوگوں کو تقلید پسند کہا جاتا ہے۔ اس میںکوئی برائی نہیں ہے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ اجتہاد جاری رہنا چاہئیے ، اور جوں جوں نئے نئے مسائیل سامنے آئیں یا پرانے مسئلوں میں وقت اور معاشرتی تبدیلیوںکی وجہ سے قرآن کے بنیادی اصولوں کو روشنی میں نئے قوانیں یا پرانے قوانیں میں نئی ترامیم وضع کی جائیں تو ایسے لوگ غیر مقلد یا جدت پسند کہلاتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف یہاں قرآن کے بنیادی نظریات کا ریفرنس فراہم کرنا ہے تاکہ ایک عام آدمی کو اس سے آگاہی ہو۔ میں ایک مثال اور دیتا ہوں : آپ کو اگر شادیوں کے دوران کبھی مہر کی بحث میںبیٹھنے کا موقع ملا ہے تو اپ نے بتیس روپے آٹھ آنے والی روایت کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ کہ جناب رسول اکرم نے اپنی صاحبزادی کا مہر "اتنا ہی " طے کیا تھا لہذا لڑکا اس سے زیادہ مہر نہیں دے گا۔ تو کیا ہم کو مہر کے معاملے میں کوئی آیت ایسی ملتی ہے کہ اس کو ریفرنس کے لئے استعمال کیا جاسکے؟ چلئے ایسے کسی ریفرنس کی تلاش میں نے آپ کے لئے چھوڑی امید ہے کہ آپ میرا مقصد سمجھ گئے ہونگے کہ کسی ریفرنس کا مطلب قرآن میں فراہم کردہ اللہ تعالی کے اصول کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کے ہم اس اصول یا حکم کو مزید واضح کرنے والی احادیث کا ریفرنس قبول نہ کریں۔ عام طور پر میرا تجربہ ہے کہ ذاتی عبادات کے ضمن میں تو بہت تفصیل مل جاتی ہے لیکن وہ عبادات جو ہم کو من حیث القوم ادا کرنی ہے ان کے بارے میں ریفرینس مشکل سے ملتا ہے یا اس معاملے کو اجاگر ہی نیہں کیا گیا یا اگر کیا بھی گیا تو وہ اس کے بارے میں عام طور پر عام آدمی کو بہت زیادہ پتہ ہی نہیں۔ اگر ہم ایک عام آدمی کو قران کے ایک اصول سے روشناس کراتے ہیں تو یہ یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 24-10-08 at 11:46 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (24-10-08), خالد احمد صدیقی (24-10-08) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
بھائیو اور بہنو، صاحبو اور احبابو، سلام
اقتباس:
اس سوال کے جواب میں ہم اس اصول کو مد نظر رکھیں گے۔ 1۔ مقام محمود پر فائز کیا جانے کا ریفرنس: 17:79 وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا اور رات کو تہجّد پڑھو یہ زائد عبادت ہے تمہارے لیے بعید نہیں کہ (اس کی برکت سے) فائز کر دے تمھیں تمھارا رب ''مقامِ محمود'' پر۔ 2۔ اللہ تعالی کے اذن و اجازت سے شفاعت پہنچانے کا ریفرنس: 2:255 اللّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ اللہ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے زندہء جاوید ہے، پوری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ نہیں آتی اس کو اونگھ اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں۔ کون ہے جو سفارش کرسکے اس کے حضور بغیر اس کی اجازت کے۔ وہ جانتا ہے اسے بھی جو بندوں کے سامنے ہے اور وہ بھی جو ان سے اوجھل ہے اور نہیں احاطہ کرسکتے وہ، ذرا بھی اس کے علم میں سے مگر جس قدر وہ چاہے، حاوی ہے اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر، اور نہیں تھکاتی اس کو نگہبانی ان دونوں کی، اور وہی ہے برتر اور عظیم۔ اس معاملہ پر مختلف قسم کی آراءہیں۔ رائے نمبر 1: اللہ تعالی کے سوا شفاعت کا حق کسی کو حاصل نہیں کہ کوئی بشر محمدرسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم سمیت شفاعت کا حق نیہں رکھتا۔ رائے نمبر 2: سوائے محمدرسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو شفاعت کا حق حاصل نہیں ہے۔ رائے نمبر 3: ہر مذہب کے نبی کو شفاعت کا حق حاصل ہے۔ ممکن ہے کوئی مزید آراء بھی ہوں ، جس کا مجھے علم نہیں ۔ ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ جن کو اللہ کا اذن و اجازت حاصل ہوگی وہ شفاعت فرماسکیں گے۔ وہ اللہ کے رسولوں کے علاوہ کون ہوسکتا ہے۔ مزید دیکھئے کہ اذن یافتہ لوگوں کی طرف سے شفاعت ممکن ہے: إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِن شَفِيعٍ إِلاَّ مِن بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ یقیناً تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائنات) کو چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں یا مرحلوں) میں (تدریجاً) پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر (اپنے اقتدار کے ساتھ) جلوہ افروز ہوا (یعنی تخلیقِ کائنات کے بعد اس کے تمام عوالم اور اَجرام میں اپنے قانون اور نظام کے اجراء کی صورت میں متمکن ہوا) وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے (یعنی ہر چیز کو ایک نظام کے تحت چلاتا ہے۔ اس کے حضور) اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں، یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، سو تم اسی کی عبادت کرو، پس کیا تم (قبولِ نصیحت کے لئے) غور نہیں کرتے شفاعت کے سلسلے میں اللہ تعالی نے جو بنیادی اصول فراہم فرمائے ہیں : اس دن سے ڈرو جس دن مشرکین اور گناہ گاروں کی کوئی شفاعت قبول نہیں کی جائے گی: 2:48 وَاتَّقُواْ يَوْماً لاَّ تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئاً وَّلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلاَ يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلاَ هُمْ يُنصَرُونَ اور ڈرو اس دن سے جب کام نہ آئے گا کوئی کسی دوسرے کے ذرا بھی اور نہ منظور ہوگی اس کی طرف سے سفارش اور نہ قبول کیا جائے گا کسی کی طرف سے بدلے میں (کوئی اور) اور نہ ہی انہیں مدد پہنچے گی۔ رسول اکرم کو یہ خبر دینے کا حکم کہ پرہیز گاروں کو شفاعت اور مدد ملے گی : 6:51 وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ 6:51 اور آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو ڈر سنائیے جو اپنے رب کے پاس اس حال میں جمع کئے جانے سے خوف زدہ ہیں کہ ان کے لئے اس کے سوا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ (کوئی) سفارشی تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں اپنے مال میںسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو کہ یہ شفاعت کا باعث بن سکتا ہے: 2:254 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خُلَّةٌ وَلاَ شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے (اﷲ کی راہ میں) خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور (کافروں کے لئے) نہ کوئی دوستی (کار آمد) ہوگی اور نہ (کوئی) سفارش، اور یہ کفار ہی ظالم ہیں جن لوگوں نے اپنی زندگی کو کھیل تماشہ بنالیا ہے ، کیا ان کے لئے کوئی شفارشی ہوگا؟ 6:70 وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللّهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لاَّ يُؤْخَذْ مِنْهَا أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ اور آپ ان لوگوں کو چھوڑے رکھیئے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب دے رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعے (ان کی آگاہی کی خاطر) نصیحت فرماتے رہئے تاکہ کوئی جان اپنے کئے کے بدلے سپردِ ہلاکت نہ کر دی جائے، (پھر) اس کے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی مدد گار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی, اور اگر وہ (جان اپنے گناہوں کا) پورا پورا بدلہ (یعنی معاوضہ) بھی دے تو (بھی) اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کے بدلے ہلاکت میں ڈال دیئے گئے ان کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا پینا ہے اور دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے اللہ اور اس کے اجازت یافتہ کے علاوہ جو لوگ کسی سفارشی سے توقع رکھتے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ 6:94 وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءَ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ اور بیشک تم (روزِ قیامت) ہمارے پاس اسی طرح تنہا آؤ گے جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ (تنہا) پیدا کیا تھا اور (اموال و اولاد میں سے) جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آؤ گے، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھیں گے جن کی نسبت تم (یہ) گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے (معاملات) میں ہمارے شریک ہیں۔ بیشک (آج) تمہارا باہمی تعلق (و اعتماد) منقطع ہوگیا اور وہ (سب) دعوے جو تم کیا کرتے تھے تم سے جاتے رہے غیر اللہ اور اس کے اجازت یافتہ لوگوں کی بابت مزید ایک آیت 7:53 هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ وہ صرف اس (کہی ہوئی بات) کے انجام کے منتظر ہیں، جس دن اس (بات) کا انجام سامنے آجائے گا وہ لوگ جو اس سے قبل اسے بھلا چکے تھے کہیں گے: بیشک ہمارے رب کے رسول حق (بات) لے کر آئے تھے، سو کیا (آج) ہمارے کوئی سفارشی ہیں جو ہمارے لئے سفارش کر دیں یا ہم (پھر دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ ہم (اس مرتبہ) ان (اعمال) سے مختلف عمل کریں جو (پہلے) کرتے رہے تھے۔ بیشک انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور وہ (بہتان و افتراء) ان سے جاتا رہا جو وہ گھڑا کرتے تھے 10:18 وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـؤُلاَءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللّهَ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ اور (مشرکین) اللہ کے سوا ان (بتوں) کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور (اپنی باطل پوجا کے جواز میں) کہتے ہیں کہ یہ (بت) اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں، فرما دیجئے: کیا تم اللہ کو اس (شفاعتِ اَصنام کے من گھڑت) مفروضہ سے آگاہ کر رہے ہو جس (کے وجود) کو وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں (یعنی اس کی بارگاہ میں کسی بت کا سفارش کرنا اس کے علم میں نہیں ہے)۔ اس کی ذات پاک ہے اور وہ ان سب چیزوں سے بلند و بالا ہے جنہیں یہ (اس کا) شریک گردانتے ہیں تو پھر شفاعت کس کی قبول ہوگی؟ 19:87 لاَ يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلاَّ مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (اس دن) لوگ شفاعت کے مالک نہ ہوں گے سوائے ان کے جنہوں نے (خدائے) رحمان سے عہد (شفاعت) لے لیا ہے 20:109 يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا اس دن سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے (خدائے) رحمان نے اذن (و اجازت) دے دی ہے اور جس کی بات سے وہ راضی ہوگیا ہے کم ازم کم بتوں اور غیر اللہ کو پوجنے والوں کی شفاعت کی کوئی امید نہیں۔ 30:13 وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ اور ان کے (خود ساختہ) شریکوں میں سے ان کے لئے سفارشی نہیں ہوں گے اور وہ (بالآخر) اپنے شریکوں کے (ہی) مُنکِر ہو جائیں گے اور نہ ہی بتوں کی سفارش کسی کے کام آئے گی۔ 26:23 أَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِ آلِهَةً إِن يُرِدْنِ الرَّحْمَن بِضُرٍّ لاَّ تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلاَ يُنقِذُونِ کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لوں کہ اگر خدائے رحمان مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ مجھے اُن کی سفارش کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکیں تو پھر کیا گناہ کرتے رہیں اور ظلم کرتے رہیں کہ شفاعت ہو جائے گی؟؟؟؟ 40:18 وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ اور آپ ان کو قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈرائیں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے کیا فرشتے شفاعت پہنچا سکتے ہیں؟ 53:26 وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَى اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جِن کی شفاعت کچھ کام نہیں آئے گی مگر اس کے بعد کہ اﷲ جسے چاہتا ہے اور پسند فرماتا ہے اُس کے لئے اِذن (جاری) فرما دیتا ہے امید ہے کہ اس سے آپ کو شفاعت کے موضوع پر مناسب ریفرنس مل گیا ہوگا۔ شفاعت کے موضوع پر مزید بھی آیات ہیں۔ وہ آپ ان آیات کے ارد گرد پڑھ سکتے ہیں۔ مزید اس ضمن میں احادیث رسول موجود ہیں، جن کی مدد سے یہ موضوع بہت واضحہوجاتا ہے۔ کچھ آیات جو میں نے شفاعت کے موضوع پر شامل نہیں کی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں پہلے سے بیان کئے ہوئے اصول کی توثیق کی گئی ہے۔ بہر صورت اگر آپ ان آیات کو بھی پڑھ لیجئے۔ شفاعت کے موضوع پر مکمل آیات کی فہرست کا لنک: 2:48 ، 2:123 ، 2:254، 2:255، 4:85، 6:51، 6:70، 6:94 ، 7:53، 10:3 ، 10:18، 19:87، 20:109، 26:100، 30:13، 32:4، 34:23، 36:23 ، 39:43، 39:44، 40:18، 43:86، 53:26 74:48، 89:3 ان آیات سے آپ کو اللہ تعالی کے شفاعت کے بارے میں حکم اور اصول جاننے میں مدد ملے گی۔ اور احادیث کے معانی بھی بہت بہتر سمجھ میں آئیں گے۔ اگر کوئی بھائی احادیث کے لنک یا اس ضمن میںاحادیث بھی فراہم کرسکیں تو یہ موضوع بہت ہی مکمل ہوجائےگا۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 25-10-08 at 07:49 AM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 174
کمائي: 803
شکریہ: 664
50 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ بھائی جی ماشا اللہ بہت اچھا جواب دیا ہے خوش رہیں اللہ برکت دے مذید سوالات کا حوصلہ پیدا ہوا ہے
ویسے کیا ہی اچھا تھا کہ اس بارے میں کچھ احادیث بھی بیان کر دیتے تو چار چاند لگ جاتے Last edited by خالد احمد صدیقی; 25-10-08 at 12:15 PM. |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
خالد بھائی۔ سلام ،
پہلے تو شکریہ کہ آپ نے پسند فرمایا۔ احادیث کے بارے میں میری معلومات بہت ناقصہیں۔ اللہ تعالی مجھے معاف فرمائیں۔ میرے پاس صرف 3 عدد احادیث کی کتب ہیں اور ایک مزید کتاب جس کو آپ نصف کتاب کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی صرف اور صرف اردو میں ہیں، عربی میںنہیں۔ پھر میں کسی قسم کا عالم ہونے کا دعوی بھی نہیں کرتا، نہ ہی یہ کسی قسم کے فتاوی ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس کا مقصد صرف اور صرف قرآن کا ریفرنس فراہم کرنا ہے۔ ایک بار پھر وصاحت کرتا ہوں کہ ایسا عام طور پر ہوتا ہے کہ کوئی بات آپ نے قرآن میں پڑھی ہوتی ہے لیکن یاد نہیںرہتا کہ وہ کسی آیت اور کس سورۃ میں ہے ۔ اگر ہم یہاں مختلف موضوعات پر عام فہم تراجم سے یہ معلومات درج کردیں تو یقیناً یہ ہماری معلومات میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ پھر ماشاء اللہ ہمارے دوسرے دوست بھی ہیں جو کہ احادیث پر بہت عبور اور علم رکھتے ہیں، وہ جب چاہیں مزید معلومات میں اضافہ فرما سکتے ہیں اور جیسا کہ میںنے عرضکیا کہ اگر کوئی صاحب ایسا حوالہ فراہم کرسکیں تو ہم تک ایک بزرگ اور جلیل القدر نبی اکرم کے عظیم اقوال، الفاظ اور ہدایات پہنچ جائیں گے ۔ اگر آپ بھائیوں اور بہنوں کو موضوعات پر آیات کا یہ انداز پسند ہو تو مجھے یہ سلسلہ جاری رکھ کر بہت خوشی ہوگی۔ اس سلسلے میں جو چاہے وہ شرکت کرسکتا ہے اور اس طرح مفید حوالہ جات کا اضافہ کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ سب کو مفید نظر آئے تو اس کا ایک سیکشن بنایا جاسکتا ہے اور الگ الگ مراسلات کو الگ الگ دھاگوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | میاں شاہد (25-10-08) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہ صرف آج کی بات نہیں، یہ کوئی عرصہ 200 سال سے جاری ہے کہ مسلمان (اسلام نہیں) دنیا بھر میں انحطاط کا شکار ہیں۔ اگر آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالئے تو پاکستان سے شمال میں سابقہ روسی ممالک سے افریقہ کے مغربی ساحل تک مسلمان ایک وسیع و عریض خطے کے مالک ہیں۔ جو کہ رقبے میں کسی روس ، کسی چین یا کسی امریکہ سے کم نہیں ، اس خطے میں لگ بھگ امریکہ سے دگنی سے تگنی تعداد میں مسلمان آباد ہیں اور ایک شدید انحطاط کا شکار ہیں۔ کوئی نہ کوئی وجہ ہے ضرور کہ مسلمان پر یہ عتاب طاری ہے۔ یہ ہمارا کام ہے کہ مرضکی وجہ تلاش کریں تو پھر اس کا علاج مشکل نہیں۔ اگر ہم اللہ کی کتاب پڑھ کر صرف اتنی ہدایت حاصل کرلیں کہ اپنا مرض ہی تلاش کر پائیں تو بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی کہ علاج تو پھر کوئی نہ کوئی دریافت کرہی لے گا۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#13 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں آپ کی اس بات کا خیال کرتے ہوئے جو آپ نے بھائی فاروق سرور سے کہی کہ :::: اقتباس:
اور آپ کے اس مندرجہ ذیل سوال کا جو جواب دیا گیا ہے کیا وہ آپ کے لیے کافی ہے ؟؟؟ یا آپ کسی اور کو کچھ کہنے کی اجازت دیں گے ؟؟؟ اقتباس:
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 26-10-08 at 12:41 AM. |
|||
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | خالد احمد صدیقی (26-10-08) |
|
|
#14 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور یہ بھی اچھا کہا ہے آپ نے کہ اس سے کسی مسلکی بحث شروع ہونے کی کوئی وجہ آپ سوچ نہیں سکتے ، لیکن اس کے بعد مسلکی ہی کیا ساری امت کے صدیوں سے متفق علیہ بنیادی عقیدہ کو ’’’ ایک فرقے ‘‘‘ کا اپنایا ہوا ’’’ فلسفہ ‘‘‘ قرار دے رہے ہیں ، کہ ::: اقتباس:
محترم بھائی ، آپ کی بڑی مہربانی ہو گی کہ اپنی ذاتی سوچ و فکر کی بنا ہر اسلامی عقائد و اصطلاحات کےنئے مفاہیم پیش مت کیجیے اقتباس:
اور نہ ہی اللہ کے بیان کردہ قوانیں میں کسی عالم نے اضافہ کیا ، حکومتوں کی طرف سے کیا کیا ہوتا رہا اور ہو رہا ہے وہ کوئی شرعی اجتہاد نہیں ، نہ ملی نہ امتی ، فاروق بھائی ، اللہ کے واسطے ، اسلامی اصطلاحات پر رحم کیجیے ، انہیں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ، آپ نے اجتہاد اور تقلید پسند اور غیر مقلد اور جدت پسند کی جو شرح فرمائی ہے ، اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے ، بھائی جی ، میں آپ کے اس کام میں مخل نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن آپ کی اس قسم کی باتیں دخل اندازی ہر مجبور کر دیتی ہیں ، اقتباس:
اقتباس:
|
|||||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من ، السلام علیکم
بھائی جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا میرا مقصد صرف اور صرف ------------------- کسی بھی موضوع پر حوالہ جات فراہم کرنا ---------------- مسائیل کا حل فراہم کرنا نہیں یا عقاید کی توثیق نہیں ------------------------ آپ اس میں جو بھی اضافہ کرنا چاہیں وہ ہم سب کے لئے باعث علم ہوگا۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 26-10-08 at 01:20 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | میاں شاہد (26-10-08), عبداللہ حیدر (26-10-08) |
![]() |
| Tags |
| color, گذارش, پسند, قرآن, نظر, مقام محمود, مسائل, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اچھا کام, اسلام, اسلامی, بھائی, جواب, حکم, حدیث, درخواست, عالم, صحیح, صدیوں, صدیقی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ”ہماری سنگل ڈیکر نہیں چلتی، بھارتی ڈبل ڈیکر چلے گی“ | جاویداسد | خبریں | 2 | 18-10-10 07:22 PM |
| کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ | جاویداسد | خبریں | 2 | 04-10-10 02:20 PM |
| جہازوں کی سائیڈ وینڈ لینڈینگ | وجی | دلچسپ اور عجیب | 2 | 05-02-09 04:20 PM |
| حکومت پریس کونسل آرڈیننس اور نیوز پیپرز رجسٹریشن آرڈیننس مین ترمیم پر آمادہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-11-07 10:39 AM |
| قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 03-09-07 10:41 AM |