واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


علوم القرآن1

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-11-09, 01:20 AM   #1
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default علوم القرآن1

علوم القرآن1

قرآن مجید ایک تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابتدائیہ

قرآن مجید خالق کائنات کی طرف سے بنی نوع انسان کے لیے ایک عظیم تحفہ ، اور پیغام ہدایت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جہالت، توہمات اور شرک کے اندھیروں میں ڈوبی انسانیت کو اس کتاب عظیم کی روشنی سے منورکیا۔ غار حرا کی تاریکیوں سے پھوٹنے والی اس عظیم الشان روشنی نے نبی رحمت کی قیادت میں ۲۳ سال کے قلیل عرصے میں عرب کے کونے کونے کو نور توحید سے منور کر دیا۔دنیاسے شرک و بدعت، جہالت، اور توہمات کا خاتمہ کیا اورانسانیت کو خدائے واحد کی بندگی و اطاعت سے بہرہ ور کیا۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عدیم المثال معجزہ اورتمام علوم و فنون کا سرچشمہ ہے ۔ اس کے علوم و معارف کبھی ختم نہ ہونے والے ہیں ۔ چودہ سو سال سے ماہرین علوم و فنون قرآن کے علوم سے مستفید ہو رہے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے ۔ اس کے علوم کبھی ختم نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حیرت انگیز کتا ب کو ہر لحاظ سے معجزہ قرار دیا ہے ۔ یہ معجزہ ربانی ہمیشہ معجزہ رہے گا اور اس کا اعجاز تاقیامت قائم رہے گا۔ دین و عبادت کی تمام تر عمارت قرآن پر قائم ہے ۔ اس میں احکام بھی ہیں اور شرائع بھی، امثال و حکم اور مواعظ بھی، انذار و تبشیربھی ہے اور جنت و دوزخ کی تفاصیل بھی، اقوام سابقہ کے عبرت آموز واقعات بھی ہیں اور ابدی نعمتوں اور راحتوں کے حصول کے طریقے بھی بیان کیے گئے ہیں ۔ الغرض، انسانی ضرورت کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں صراحت کے ساتھ بیان نہ فرما دی ہو۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے :
’’وھو الذی انزل الیکم الکتٰب مفصلا والذین اٰتینٰھم الکتٰب یعلمون
انہ منزل من ربک بالحق فلا تکونن من الممترین۔‘‘
(سورۃ الانعام 114)
’’ اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ایک کامل کتاب تمہارے پاس بھیج دی ، اس کے مضامین خوب صاف صاف بیان کیے گئے ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ بھیجی گئی ہے ، سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔‘‘
قرآن: لغوی معنی:
علمائے لغت نے لفظ ’’قرآن‘‘ کے درج ذیل معنی بیان کیے ہیں :
۱۔ قراء یقراء قراء ( باب فتح یفتح) پڑ ھنا ، ملا کر پڑ ھنا ۔ بقول الزجاج : (باب نصر ینصر) مصدر قرء ، قراء ۃ ، قراٰن۔(1)
۲۔ القرآن : التنزیل (2)
۳۔ قراء قراء و قراء ۃ و قراٰنا ، کتاب کو پڑ ھنا۔(3)
۴۔ قرآن ، مقروء کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس صورت میں اس کا مطلب وہ صحیفہ ہے جو پڑ ھا جاتا ہے ۔ (4)
قرآن: اصطلاحی مفہوم:
اسلامی اصطلاح میں قرآن سے مراد وہ مخصوص کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے ۔ علمائے اصول نے قرآن مجید کی تعریف اس طرح سے کی ہے :
’’ القرآن: ھو کتاب اللہ المنزل علیٰ محمد ، المعجز بسورۃ منہ المتعبد بتلاوتہ، المکتوب فی المصاحف، المنقول الینا، بین دفتی الصحف نقلا متواترا۔
’’ قرآن مجید سے مراد ہے الکلام المنزل ، اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے ۔ جس کی ایک ایک سورت اپنی جگہ ایک معجزہ ہے ۔ وہ جس کی تلاوت کی جائے تو وہ عبادت سمجھی جائے گی۔ جو نسخوں میں لکھا ہوا ہمارے پاس موجود ہے اور صحابہ کرام سے لے کرآج تک ایک تواتر کے ساتھ مصاحف کی شکل میں نقل ہو تا چلا آ رہا ہے ۔‘‘(5)
لسان القرآن:
قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل کیا ہے ۔ عربی زبان اس وقت کی تمام زبانوں میں اپنی فصاحت ، بلاغت ، زور بیان، کثرت الفاظ، مترادفات و اضداد، ایجاز اور وسعت کے اعتبار سے نمایان حیثیت کی حامل تھی۔ ارشاد بار ی تعالیٰ ہے :
’’ان انزلنا قرآنہ عربیا لعلکم تعقلون۔‘‘ ( سورۃ یوسف۱۲:۲)
ٓ اسماء القرآن:
اسماء القرآ ن سے مراد قرآن کے وہ صفاتی نام ہیں جو اللہ نے خود قرآن مجید میں بیان کیے ہیں ۔ اکثر علماء کے نزدیک قرآن کے صفاتی ناموں کی تعداد پچاس ہے ۔ بعض نے ان کی تعداد ننانوے بھی بیان کی ہے ۔ ذیل میں ہم قرآن کے بعض اسماء کا ذکر کرتے ہیں :
القرآن: اس کا مشہور نام القرآن ہے ، جس کا مطلب پڑ ھی جانے والی کتاب ہے ۔یہ لفظ قرآن میں ۶۶ بار استعمال ہوا ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
’’ان ہذا القرآن یقص علیٰ بنی اسرائیل اکثرا لذی ہم فیہ یختلفون۔‘‘
(سورۃ النمل ۲۷: ۷۶)
الفرقان: قرآن کا یہ صفاتی نام اس کی حق و باطل میں تمیز کرنے کی آفاقی صلاحیت کی وجہ سے ہے ۔ اس کے نزول کے بعد حق اور باطل بالکل الگ الگ ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
’’ تبرک الذی نزل الفرقان علیٰ عبدہ لیکون للعالمین نذیرا۔‘‘
(سورۃ الفرقان ۲۵:۱)
الکتٰب: اس سے مراد محکم قوانین بھی ہیں اور منظم و منضبط کتا ب کی شکل میں ہونا بھی مراد ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :
’’ ذالک الکتاب لا ریب فیہ۔‘‘ ( سورۃ البقرہ ۲:۲)
المبارک: اس سے مراد برکت والی کتاب ہے ۔ارشاد ہے :
’’وھذا کتاب انزلنٰہ مبٰرک فاتبعوہ واتقوا لعلکم ترحمون۔‘‘
(سورۃ الانعام ۵:۱۵۵)
الحکیم: اس سے مراد حکمت اور دانائی کی باتوں سے بھر پور کتاب ہے ۔ارشاد ہے :
’’یٰسٓ۔ والقراٰن الحکیم۔‘‘ (سورۃ یٰسٓ۳۶:۱۔۲)
المبین: واضح اور کسی قسم کے شک و شبہ سے پاک کتاب ہے :
’’الرٰ۔تلک اٰیٰت الکتاب المبین۔ (سورۃ یوسف ۱۲:۱)
العزیز: یعنی غالب اور وقعت والی کتاب ہے :
’’ان الذین کفروابالذکر لماجاء ھم، وانہ لکتٰب عزیز۔‘‘
(سورۃ حٓم ۴۱:۴۱)
العظیم: عظمت اور بزرگی والی کتاب ہے :
’’ولقد اٰتینٰک سبعا من المثانی والقرآن العظیم۔‘‘
(سورۃ الحجر۱۵:۸۷)
الذکر: یہ کتاب لوگوں کے لیے تذکرہ اور نصیحت ہے :
’’وھٰذا ذکر مبارک انزلنٰہ، افانتم لہ منکرون۔‘‘
(سورۃالانبیائ۲۱:۵۰)
الھدیٰ: ہدایت دینے والی کتاب ہے :
’’شہر رمضان الذی انزل فیہ القراٰن ھدی للناس وبینٰت من الھدی۔‘‘
(سورۃ البقرۃ ۲:۱۸۵)
الشفاء: مومنین کے لیے اس کتاب میں شفا ہے :
’’وننزل من القراٰن ما ھو شفاء و رحمۃ للموء منین۔‘‘
(سورۃ بنی اسرائیل ۱۷:۸۳)
النور:ایسی کتاب ہے جو کہ خود بھا روشنی ہے اور اپنے پڑ ھنے والوں کو بھی منور کرتی ہے :
’’یاٰیھا الناس قد جاء کم برھان من ربکم وانزلنا الیکم نورامبینا۔‘‘
(سورۃ النساء ۴:۱۷۴)
ذکریٰ: اس کتاب میں مومنوں کے لیے نصیحت اور یاددھانی ہے :
’’وجاء ک فی ھذہ الحق وموعظۃ و ذکریٰ للمومنین۔‘‘
(سورۃ ہود ۱۱:۱۲۰)
الوحی: یہ کتاب اللہ کی طرف ایک مخصوص طریق کا ر کے ذریعے نازل کی گئی ہے ، جسے وحی کہتے ہیں :
’’قل انما انذرکم بالوحی۔‘‘ (سورۃ الانبیاء ۲۱:۴۵)
المصدق: یہ کتاب اپنے سے پہلے والی نبوتوں اور کتابوں کی تصدیق کرتی ہے :
’’ و ھٰذا کتاب انزلنٰہ مبٰرک مصدق الذی بین یدیہ ولتنذر ام القریٰ و حولہ۔‘‘
(سورۃ الانعام ۶:۹۲)
احسن الحدیث: یہ کتاب قراٰن ایک بہترین کلام ہے :
’’اللہ نزل احسن الحدیث کتٰبا متشابھا مثانی۔‘‘(سورۃ الزمر۳۹:۲۳)
نزول قرآن:
قرآن مجیداللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے سے نازل کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریبا چالیس سال (قمری حساب سے چالیس سال چھ ماہ اور بارہ دن اور شمسی حساب سے انتالیس سال تین ماہ اورسولہ دن )(۶) ہوئی تو آپ آبادی سے دور ایک پہاڑ ی میں موجودغارحرامیں ، غور و فکر اور عبادت کے لیے ، کئی کئی دن قیام کرتے ۔ اسی دوران ایک دن فرشتہ جبرائیل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید بذیعہ وحی آپ پر نازل کرنا شروع کیا۔ایک دن آپ ﷺ غار میں مصروف عبادت تھے کہ آپ کے سامنے جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوئے ۔ انھوں نے آپ سے کہا: اقراء، (پڑ ھو) آپ نے جواب میں فرمایا: ما انا بقاریئ(میں پڑ ھا ہوا نہیں ہوں ) اس پر فرشتے نے آپ کو اپنے سینے سے لگا کر دبایا اور پھر کہا: اقراء:۔آپ نے پھر اپناجواب دہرایا: ما انا بقاریء۔چنانچہ تین بار یہی عمل فرشتے نے دہرایا اور پھر سورہ علق کی درج ذیل ابتدائی آیات پڑ ھیں :
’’اقراء باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقراء و ربک الا کرم۔
الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ ( سورۃ العلق ۹۶:۱۔۵)
’’ پڑ ھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ پڑ ھ اورتیرارب بڑ ا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس اچانک واقعے سے گھبرا گئے ۔ اسی عالم میں آپ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا: زملونی ، زملونی (مجھے کچھ اوڑ ھا دو، مجھے کچھ اوڑ ھا دو)۔ چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ جب آپ کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہ سے سارا ماجرا بیان کیا۔ انھوں نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا: آپ رشتہ داروں کا پاس رکھتے ہیں ، راست باز اور امانت دار ہیں ۔ لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ ناداروں کے دست گیر ہیں اور مہمانوں کی خاطر داری کرتے ہیں اس لیے اللہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔‘‘ پھر آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو تورات اور انجیل کے عالم تھے ۔انھوں آپ کی روداد سن کر کہا کہ یہ وہی ناموس ہے جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا۔
اس کے بعد کچھ عرصہ وحی نازل نہیں ہوئی۔ ا س زمانے کو فترت وحی کا زمانہ کہتے ہیں ۔ یہ عرصہ تقریبا ۶ ماہ یا بعض روایات میں اڑ ھائی سال ہے ۔ اس کے بعد دوسری وحی نازل ہوئی جس میں سورہ مدثر کی درج ذیل آیات نازل ہوئیں :
’’ یاٰیھا المدثڑ۔ قم فانذر ۔ وربک فکبر۔ و ثیابک فطھر۔ والرجز فاھجر۔‘‘
(المدثر۷۴:۱۔۵)
’’ اے چادر اوڑ ھنے والے ، اٹھیے اور لوگوں کو ڈرائیے ، اور اپنے رب کی بڑ ائی بیان کیجیے ، اپنا لباس صاف رکھیے اور ناپاکی سے دور رہیے ۔‘‘
وحی اور نزول وحی:
وحی کا لغوی مطلب خفیہ اور سریع اشارہ ہے ۔ علمائے لغت نے اس کا مطلب : ’’الاشارہ السریعۃ بلطف‘‘ بتایا ہے ۔ یعنی جلدی سے لطیف انداز میں کسی کو کوئی اشارہ کرنا جسے وہ آسانی سے سمجھ لے ۔ وحی کا لفظ کلام عرب میں بکثرت ملتا ہے ۔ اللہ نے قرآن میں بھی اس لفظ کو انھی معنوں میں استعمال کیا ہے ۔ مثلا: ’’ و اوحیٰ ربک الیٰ النحل ان اتخذی من الجبل بیوتا۔ ‘‘
( سورۃ النخل ۱۲:۶۸)
’’ اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑ وں ، درختوں اور لوگوں
کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنا گھر بنا۔‘‘
اسی طرح ارشاد ہے :
’’ و اوحینا الیٰ ام موسیٰ ان ارضعیہ۔‘‘(سورۃ القصص۲۸:۷)

وحی ایک ایسا ذریعہ علم ہے جو سراسر وہبی ہے ۔ اس کا حصول کسی انسان کی ذاتی کوششوں کا مرہون منت نہیں ۔یہ ذریعہ علم عام انسانوں کو میسرنہیں ہے ۔یہ قطعی اور یقینی ذریعہ علم ہے ۔ آپ پر وحی کئی طریقوں سے نازل ہوتی تھی۔ کبھی آپ فرشتے کو براہ راست اس کی اصلی صورت میں دیکھ لیتے تھے ۔ کبھی فرشتہ آپ کے پاس انسانی صورت میں آتا تھا۔ وحی کی بعض صورتیں آپ پر بہت گراں ہوتی تھیں ۔ آپ کو شدید سردی کے موسم میں سخت پسینہ آ جاتا تھا۔ اگر آپ کسی سواری پر سوار ہوتے تو وہ اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکتی اور زمین پر بیٹھ جاتی۔حضر ت زید بن ثا بت، جو کا تبان وحی میں بہت نما یاں مقام رکھتے تھے ایک مرتبہ ایک محفل میں آپ کے برابر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کا گھٹنا آپ کے گھٹنے کے اوپر تھا۔اس موقع پر اچانک وحی نازل ہوئی۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ مجھے یو ں لگاجیسے کسی نے احد پہاڑ میرے گھٹنے پر رکھ دیا ہے اور میرا گھٹنا چور چور ہو جائے گا۔ ایک بار آپ قصویٰ نامی اونٹنی پر سوار تھے ۔ اسی دوران وحی کا نزول ہو گیا۔ صحابہ نے مشاہدہ کیاکہ اونٹنی کی ٹانگیں اس طرح لرز رہی تھیں گویا اس پر کوئی بہت بڑا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ وہ اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکی اور زمین پر بیٹھ گئی۔
قرآن مجید کی کل مدت نزول ۲۲ سال ۲ ماہ اور ۲۲ دن ہے ۔ اس میں مکی دور ۱۲ سال ۵ ماہ اور۱۳ دن ہے ۔ مدنی دور ۹ سال ۹ ماہ اور ۹ دن ہے ۔ پہلی وحی بالاتفاق ، سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں ۔آخری وحی کے بارے میں صحابہ کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض صحابہ نے سورہ بقرہ کی آیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘ (المائدۃ ۵:۳)کو آخری وحی قرار دیا ہے اور بعض نے : ’’واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ، ثم توفی کل نفس ما کسبت وھم لایظلمون۔‘‘( البقرۃ ۲:۲۸۱) کوآخری وحی قرار دیا ہے ۔(۷)
کتابت قرآن:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بھی آیت نازل ہوتی آپ اپنے پاس موجود صحابہ کو اسے لکھنے کا حکم دیتے ۔صحابہ کرام اپنے پاس دستیاب چیزوں پر وحی کے الفاظ تحریر کر لیتے تھے ۔ ان چیزوں میں کاغذ، کپڑ ا، لکڑ ی، اونٹ کے شانے کی ہڈی، کھجور کے درخت کی شاخیں وغیرہ شامل ہیں ۔
جمع و تدوین قرآن:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں ، تمام آیات و سور کو ان کی اصل جگہ پر متعین کر کے ، قرآن مجید کو مکمل کر کے مسجد نبوی میں رکھوا دیا تھا۔ آپ نے حفاظ کرا م کو اپنی نگرانی میں قرآن مجید کے دور کرائے ۔صحابہ کرام نے نہایت ذمہ داری اور احتیاط سے آگے دوسرے لوگوں تک قرآن کو منتقل کیا۔

حضرت ابوبکر صدیق کے عہد میں مختلف جنگوں میں جب کثرت سے حفاظ قرآن کی شہادت ہوئی تو حضرت عمر کو خیال ہوا کہ اگر اس طرح کثرت سے حفاظ قرآن کی شہادت ہوتی رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ قرآن مجید کے معاملے میں لوگوں میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ پیدا ہو جائے ۔چنانچہ آپ نے اس خدشے کا اظہار حضرت ابو بکر سے کیا اور قرآن مجید کو کتابی شکل میں لکھنے اور اسلامی ریاست میں پھیلانے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے پہلے تو اس بنیاد پر اس کام کی مخالفت کی کہ نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں اس کا م کو نہیں کیا لہذا اسے نہیں کرنا چاہیے ، لیکن بعد میں بحث و مباحثہ کے بعد دونوں حضرات اس رائے پر متفق ہو گئے کہ اس کام میں کسی قسم کی نافرمانی کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے ۔چنانچہ حضرت ابوبکر نے حضرت زیدبن ثابت کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اس عظیم ذمہ داری کو مکمل کریں ۔ صحیح بخاری میں حضرت زید کی زبانی اس واقعے کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے :
’’وعن زید ابن ثابت قال ارسل الی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمر
بن الخطاب عندہ قال: ابوبکران عمراتانی فقال:ان القتل قد استحر یوم
الیمامۃ بقراء القراٰن و انی اخشیٰ ان استحر القتل بالقراء المواطن فیذھب
کثیرمن القراٰن وانی اریٰ ان تامربجمع القراٰن، قلت لعمرکیف تفعل شیئا
لم یفعلہ رسول اللہ فقال عمر: ھذا واللہ خیرفلم یزل عمریراجعنی
حتیٰ شرح اللہ صدری لذٰلک و رایت فی ذٰلک الذی رای عمر، قال زید
قال ابوبکر انک رجل شاب عاقل لا نتھمک وقدکنت تکتب الوحی
لرسول اللہ فتتبع القراٰن فاجمعہ، فواللہ لو کلفونی نقل جبل من
الجبال ما کان اثقل علی مما امرنی بہ من جمع القراٰن فقال قلت کیف
تفعلون شیئا لم یفعلہ رسول اللہ قال ھو واللہ خیر فلم یزل ابوبکر
یراجعنی حتی شرح اللہ صدری للذی شرح لہ صدر ابی بکرو عمر
فتتبعت القراٰن اجمعہ من العسب واللخاف و صدورالرجال حتیٰ وجدت
اخر سورۃ التوبۃ مع ابی خزیمۃ الانصاری لم اجدھا مع اھد غیرہ:لقد
جاء کم رسول من انفسکم حتیٰ خاتمۃ براء ۃ فکانت الصحف عند
ابی بکرحتیٰ توفہ اللہ ثم عند عمرحیاتہ ثم عندحفصۃ بنت عمر۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب التفسیر)
’’حضرت زید بن ثابت انصاری بیان فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں جنگ یمامہ میں کثرت سے صحابہ کرام شہید ہوئے تو حضرت ابوبکرنے مجھے طلب فرمایا۔ میں حاضرہواتو دیکھا کہ حضرت عمربن خطاب بھی وہان تشریف رکھتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر نے مجھ سے فرمایاکہ عمرمیرے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاری بہت کثرت سے شہیدہوئے ہیں اور مجھے یہ ڈرہے کہ اگر قرآن کے پڑ ھنے پڑ ھانے والے ایسی ہی دوسری جنگوں میں شہید ہوتے گئے تو قرآن کا بڑ ا حصہ ضائع ہو جائے گا۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن کو(کتابی صورت میں ) جمع کرنے کا حکم دے دیں حضرت ابوبکرنے فرمایا کہ میں نے عمر سے کہا، تم وہ کام کس طرح کرو گے جس کو رسول اللہ
نے نہیں کیا؟ عمر ؓ نے مجھے جواب دیا کہ خدا کی قسم یہ کام اچھا ہے ۔ پھر وہ برابر مجھ سے اصرار
کرتے رہے ۔یہاں تک کہ اس معاملے میں اللہ نے میرا سینہ کھول دیا اور میری رائے بھی
وہی ہو گئی جو عمر کی تھی۔‘‘
چنانچہ حضرت زید بن ثابت ؓنے اس ذمہ دار ی کو احسن انداز سے پورا کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے جو قرآن لکھوا کر مسجد نبوی میں رکھا ہوا تھا، میں نے وہ ساری تختیاں ، اور کھجور کی چھالیں نکالیں اور اس کے ساتھ دوسرا کام یہ کیا کہ جن لوگوں کو قرآن حفظ تھا، ان کو بلا کر، کتابت شدہ قرآن اور حفظ شدہ قرآن کے درمیان مطابقت کرائی۔ جب ان دونوں ذرائع کی مطابقت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ قرآن کی آیت ہے اور اس ترتیب کے ساتھ ہے ، تو اسے ایک مرتب شکل میں جمع کر لیا۔
حضرت عثمانؓ کے دور میں جب اسلام اور مسلمان دور دراز علاقوں تک پہنچ گئے تو ہر علاقے کے لوگوں نے قرآن کو اپنے علاقے کے لہجے کے مطابق پڑ ھنا شروع کر دیا۔ اس طرح قرآن کی قراء ت میں اختلافات سامنے آنے لگے ۔ چنانچہ ان اختلافات کا تدارک کرنے کے لیے یہ طے کیا گیا کہ قرآن جس لہجے یعنی قریش کے لہجے یا قراء ت میں نازل ہوا ہے تو اسی لہجے کو معیاری لہجہ بنا کر تمام لوگوں کو پابند کیاجائے کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور لہجے میں قران کی تلاوت نہ کریں ۔ چنانچہ اس سلسلے میں قرآن کا ایک معیاری نسخہ قراء ت قریش پر تیا ر کیا گیا اور ریاست اسلامی سے باقی تمام لہجات پر مبنی نسخے واپس لے کرضائع کر دیے گئے ۔ حضرت
انس بن مالک سے مروی ایک روایت میں یہ واقعہ اس طرح سے بیان ہوا ہے :
’’ عن انس بن مالک ان حذیفۃ ابن الیمان قدم علیٰ عثمان وکان یغازی اھل الشام فی فتح آرمینیۃ و اٰذربیجان مع اھل العراق۔ فافزع حذیفۃ اختلافھم فی القراء ۃ فقال حذیفۃ لعثمان، یا امیر المومنین ادرک ھذہ الامۃ قبل ان یختلفوا فی الکتٰب اختلاف الیھود والنصٰریٰ فارسل عثمان الیٰ حفصۃ ان ارسلی الینا با الصحف ننسحھا فی المصاحف ثم نردھا الیک فارسلت بھا حفصۃ الیٰ عثمان، فامرزیدبن ثابت و عبداللہ ابن زبیر وسعید ابن العاص و عبداللہ ابن الحارث بن ھشام۔فنسخوھا فی المصاحف وقال عثمان للرھط القریشین الثلاث اذا اختلفتم انتم و زیدبن ثابت فی شئی من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فانمانزل بلسانھم ففعلوا حتیٰ اذا نسخوا الصحف فی المصاحف رد عثمان الصحف الیٰ حفصۃ و ارسل الیٰ کل افق بمصحف ممانسخوا و امر بما سواہ من القرآن فی کل صحیفۃ او مصحف ان یحرق، قال ابن شھاب فاخبرنی خارجۃ بن زیدبن ثابت انہ سمع زیدبن ثابت قال فقدت اٰیۃ من الاحزاب حین نسخنا المصحف قدکنت اسمع رسول اللہ ﷺ یقرابھا فالتمسناھا فوجدنٰھامع خزیمۃ بن ثابت الانصاری من الموء منین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فالحقنٰھا فی سورتھافی المصحف۔ (صحیح البخاری، کتاب التفسیر)
’’ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہؓ بن الیمان حضرت عثمان کے پاس آئے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب آپ اہل اسلام کے لشکر کو اہل عراق کے لشکر کے ساتھ ملا کر آرمنیہ اور آذربائیجان کی فتح کے لیے تیار کر رہے تھے ۔ حضرت حذیفہ اس بات سے سخت پریشان تھے کہ لوگ قرآن کی قراء ت میں اختلاف کرتے ہیں ۔ اس لیے انھوں نے حضرت عثمان سے کہا کہ اے امیر الموء منین ، اس امت کی فکر کیجئے اس سے قبل کہ کتاب اللہ کے بارے میں ان کے درمیان وہی اختلاف پیدا ہو جائے جو یہود اورنصاریٰ کے درمیان ہوا تھا۔ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے (مصحف صدیقی) ہیں وہ ہمیں بھجوا دیجیے تاکہ ہم اس سے نقل کروا کر دوسرے مصاحف تیار کرا لیں ۔ اس کے بعد ہم یہ اصل صحیفے آپ کو لوٹا دیں گے ۔ حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کو بھجوا دیے اور انھوں نے چار اصحاب، زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعیدبن عاص اور عبداللہ بن حارث بن ہشام کو اس کام پر مقرر کر دیا کہ وہ اس مصحف صدیقی سے نقل کر کے مصاحف تیا ر کریں ۔مزید براں ان چار اصحاب میں سے قریش کے جو تین آدمی تھے ان کو حکم دے دیا کہ جب کبھی قرآن کی کسی چیز کے بارے میں تمہارے یا زید بن ثابت کے درمیان اختلاف ہو جائے تو تم قرآن کو قریش کی زبان کے مطابق لکھنا، کیونکہ وہ انھی کی زبان میں نازل ہوا ہے ۔ ان اصحاب نے ایسا ہی کیا اور جب وہ مصاحف کی شکل میں قرآن کے نسخے تیارکر چکے تو حضرت عثمان نے مصحف صدیقی حضرت حفصہ کو لوٹا دیا اور قرآن کے جو نسخے تیار کیے گئے تھے ان میں سے ایک ایک اسلامی مقبوضات کے ہر علاقے میں بھجوا دیا اور حکم دے دیا کہ اس کے سوا قرآن کا جو کوئی نسخہ یا صحیفہ کسی کے پاس موجود ہو وہ جلا دیا جائے ۔‘‘
اس کے بعد حضرت علی کے دور میں قرآن کے الفاظ کی پہچان کے لیے نقاط کا تعین کیا گیا۔ ب ، ت، ث اور جِ، ح، خ، د، ذ، ر، ز وغیرہ پر نقاط لگا کر لوگوں کے لیے قرآن کی تلاوت کو آسان بنا دیا گیا۔ تاکہ اغلاط کا امکان کم سے کم ہو جائے ۔ اسی طرح حجاج بن یوسف کے دور میں جب سلطنت میں مزید وسعت کی وجہ سے بہت سے غیر عرب لوگوں تک قرآن پہنچا ، جن کی مادری زبان عربی نہ تھی، اور ان لوگون نے اعراب میں غلطیاں کرنا شروع کر دیں تو حجاج کے حکم پر قرآن کے الفاظ پر اعراب کا اضافہ کیا گیا۔
مکی اور مدنی سورتیں :
قرآن مجید کا نزول دو ادوار میں ہوا۔ اس کی کچھ سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں اور کچھ مدینہ میں ۔مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں کو مکی سورتیں کہا جاتا ہے ۔ ان کی تعداد ۸۶ ہے ۔مدینہ میں نازل ہونے والی سورتیں مدنی کہلاتی ہیں ۔ان کی تعداد۲۸ ہے ۔ بعض سورتوں کی کچھ آیات مکی اور کچھ مدنی ہیں ۔
مکی سورتیں درج ذیل ہیں :
العلق، القلم ، المزمل، المدثر ، الفاتحہ، اللہب، التکویر، الاعلیٰ، ا للیل، ا لفجر ، ا لضحیٰ، الانشراح، العصر، العٰدیٰت، الکوثر، التکاثر، الماعون، الکافرون، الفیل، الفلق، الناس ، الاخلاص، النجم، عبس، القدر، الشمس، البروج، التین، قریش، القارعہ، القیٰمہ، الھمزہ، المرسلٰت، ق، البلد، الطارق، القمر، ص، الاعراف، الجن، یٰس، الفرقان، فاطر، مریم، طٰہٰ، الواقعہ، الشعراء، النمل، القصص، بنی اسرائیل، یونس، ہود، یوسف، الحجر، الانعام، الصٰفٰت، لقمٰن، سبا، الزمر، المومن، حٰم السجدہ، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، الذٰریٰت، الغاشیہ، الکہف، النحل، نوح، ابراہیم، الانبیاء ، المومنون، السجدہ، الطور، الملک، الحاقہ، المعارج، النبا، النٰزعٰت، الانفطار، الانشقاق، الروم، العنکبوت، المطففین۔
مدنی سورتوں کے اسماء درج ذیل ہیں :
البقرہ، الانفال، آل عمران، الاحزاب ، الممتحنہ، النساء، الزلزال، الحدید، محمد، الرعد، الرحمٰن، الدھر، الطلاق، البینہ، الحشر، النور، الحج، المنافقون، المجادلہ، الحجرات، التحریم، التغابن، الصف، الجمعہ، الفتح، المائدہ، التوبہ، النصر۔
حروف مقطعات:
قرآن مجید میں بعض سورتوں کے آغاز میں کچھ مفر د حروف بھی آئے ہیں مثلا: الم، کھٰیٰعص، طٰس وغیرہ۔ ان کو حروف مقطعات یعنی کٹے ہوئے حروف کہا جاتا ہے ۔ ان کے بارے میں علمائے تفسیر نے بہت سی رائیں دی ہیں :
بعض علماء نے کہا ہے کہ ان حروف کے خاص مطالب ہیں ۔ بعض نے ان کے بارے میں بیان کیا ہے کہ ان حروف کے استعمال سے اللہ نے کفار مکہ کو چیلنج دیا ہے کہ یہی حروف ابجد استعمال کر کے ہم نے ایسا معجر کلام بیان کیا ہے ۔ اگر تم اس کلام کے من جانب اللہ ہونے میں کچھ شک رکھتے ہوتو تم بھی ان حروف کو استعمال کر کے ایسا کلام تخلیق کرو۔ کچھ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس قسم کا کلام عربوں میں پایا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے انھوں نے اس پر کوئی خاص اعتراض نہیں کیا۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ نے ان حروف کے معانی کے بارے میں کچھ بیان نہیں کیا اس لیے ہمیں بھی ان کے معنی جاننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ حروف مقطعات درج ذیل ہیں جو تکرار کے ساتھ قرآن میں استعمال ہوئے ہیں :
الم ، المص، المر، کھیٰعص، طہٰ، یٰس، طسم ، حٰم ، حٰمعسق، قٓ، نٓ، صٓ۔
اعجاز القرآن:
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جس علاقے میں اس نے اپنا کوئی بنی اور رسول بھیجا ہے اس کو اپنی بات کی تائید میں کوئی ایسا معجزہ بھی دیا ہے جو اس علاقے کے لوگوں کی ذہنی ، عقلی، علمی اور تمدنی سطح کے مطابق تھا۔ جس علاقے میں جس علم اور فن کا چرچا اور مہارت مسلمہ ہوتی تھی اس علاقے میں مبعوث ہونے والے نبی کو ایسا معجزہ دیا جاتا تھا جو اس علاقے اعلیٰ ترین انسانی کمال اور فن سے ماورا اور بہت اعلیٰ درجے کا ہوتا تھا، تاکہ لوگ اس کو آسانی سے تسلیم کر لیں کہ یہ چیز انسانی بس سے باہر ہے اور اس کو پیش کرنے والا شخص ضرور اللہ کی طرف سے پیش کر رہا ہے ۔مثلا، حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں طب یونانی کا چرچا تھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دست مسیحائی کا معجزہ دیا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو اور جادوگروں کا چرچا تھا ۔ جادو کا فن اپنے عروج پر تھا اور اسی جادو کی بنیا د پر معاشرے میں لوگوں کا مقام متعین کیا جاتا تھا۔ ایسے حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصائے موسوی عطاء کیا گیا ، جس کے معجزات دیکھ کر ماہر فن جادوگر پکا ر اٹھے کہ یہ ضرور اللہ کی طرف سے ہے اوروہ بے اختیا ر اللہ تعالیٰ کے دربار میں سجدہ ریز ہو گئے ۔
قرآن مجید اللہ تعالی کا ایک زندہ معجزہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کو ان کی نبوت کے ثبوت اور اس کی تائید میں عطاء کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کو جنھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا، چیلنج دیا کہ اس جیسی کوئی ایک صورت ہی بنا لاؤ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’ قل لئن اجتمعت الانس والجن علیٰ ان یاتوا بمثل ھذا القراٰن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظہیرا۔ (بنی اسرائیل: )
’’ اے نبی کہ دیجیے کہ اگر تمام جن و انس اس بات پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیساکوئی کلام لے آئیں تو اس جیسا کلام ہرگز نہ لا سکیں گے ، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔‘‘
تمام اہل اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کی مانند کوئی کلام پیش کرنا انسانی بس کی بات نہیں ہے ۔ اگرچہ اس کا کے لیے پوری دنیا ہی کیوں نہ جمع ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اس قرآن کی صداقت میں شک و شبہ رکھتے تھے ، اور اس کو اللہ کا کلام ماننے سے متذبذب تھے ایک اور جگہ پھر مقابلے کی دعوت
ان الفاظ سے دی ہے :
’’ وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعو
شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔‘‘ ( سورۃ البقرۃ ۲:۲۳)
’’ اگر تم اس چیز میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے کسی قسم کے شک میں ہو توپھر تم اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاو ، اور اللہ کو چھور کر اپنے تمام مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔‘‘
قرآن کے اس چیلنج کے مخاطب عرب کے تمام فصحاء و بلغاء اور شاعر و خطیب تھے ، جن کی گھٹی میں فصاحت و بلاغت تھی۔ جن کا بچہ بچہ شعر گوئی کے فن سے آشنا تھا۔ مگر وہ لوگ اپنی پوری کوشش کے باوجود قرآن جیسا کوئی ایک لفظ یا فقرہ بھی نہ بنا سکے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ قرآن اللہ کی طرف سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے لیے دلیل اور معجزہ ہے ۔ اس نے دنیا کو اپنے مقابلے سے عاجز کر دیا ہے ۔ اگر مقابلے کا ذرا برابر بھی امکان ہوتا تو وہ لوگ اپنی اسلام دشمی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بغض و عنا د کو ضرور عملی شکل میں سامنے لے آتے اور قرآن کے مقابلے میں کوئی کلام ضرور تیا ر کرتے ۔ لیکن وہ ایسا ہرگز نہ کر سکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو کہا ہے :
’’ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکٰفرین۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:۲:۲۴ )
’’ پس اگر تم ایسا نہ کر سکو اور تم ہرگز ایسا نہ کر سکو گے ، پس تم اس آگ سے ڈرو جس کاایندھن آگ اور پتھر ہوں گے ۔‘‘
فضائل قرآن:
قرآن مجید کے دنیاوی اور اخروی فضائل بے شمار ہیں ۔ احادیث کی کتب ان فضائل سے معمور ہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے :
’’ عن عثمان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیر کم من تعلم
القرآن وعلمہ۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر)
’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کریں اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیں ۔‘‘
ایک اور روایت میں جو حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ایحب احدکم اذا رجع الیٰ اھلہ ان یجد فیہ ثلاث خلفات عظام سمان
قلنا نعم، قال فثلاث آیات یقراء بھن احدکم فی صلوٰتہ خیر لہ من ثلاث
خلفات عظام سمان۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل القراٰن)
’’کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جائے تو وہ دیکھے کہ اس کے ہاں تین حاملہ ، بڑ ی جسیم اور فربہ اونٹنیاں کھڑ ی ہیں ؟ ہم نے عرض کیاہاں یا رسول اللہ، ہم یہ چاہتے ہیں ۔اس پر آپ نے فرمایا کہ تین آیتیں ، جو تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑ ھے ، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہیں کہ وہ اپنے گھر پر تین ایسی حاملہ ،جسیم اور فربہ اونٹنیاں پائے ۔‘‘
اسلام میں اگر چہ حسد کو نا پسند کیا گیا ہے لیکن دو لوگوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے :
’’عن ابن عمر قال قال رسول اللہ : لا حسد الا علی اثنین ، رجل
اٰتاہ اللہ القرآن فھو یقوم بہ اٰناء اللیل و اٰناء النھار و رجل اٰتاہ اللہ مالافھو ینفق منہ اٰناء اللیل و اٰناء النھار۔(صحیح بخاری ، کتاب التفسیر)
’’حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: کسی پرحسدکی گنجایش نہیں ہے مگر دو آدمیوں کے علاوہ۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا ہو اور وہ شب و روز اس لیے کھڑ ا ہو۔(یعنی نماز یا تعلیم و تعلم) اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے شب و روز اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہو۔‘‘
قرآن مجید کو دنیا و آخرت میں سرفرازی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہے :
’’ عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول اللہ : ان اللہ یرفع بھذا
الکتاب اقواماو یضع بہ اٰخرین۔‘‘ ( صحیح مسلم، کتاب فضائل القراٰن)
’’حضرت عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے کچھ لوگوں کو اٹھائے گا اور کچھ لوگوں کو گرائے گا۔‘‘

علوم القرآن:
علوم القرآن سے مراد وہ تمام علوم ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے قرآن مجید کے ساتھ ہے ۔قرآن مجید جہان انسان کی شخصی زندگی کی اصلاح اور تزکیہ کرتا ہے وہاں اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اندر علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے ۔ آغاز اسلام ہی سے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور لاکھوں کروڑ وں علماء و ماہرین فن قرآن مجید کے بحر ذخار میں غوطہ زن رہے ہیں ۔ انھوں نے عالم انسانیت کے سامنے ایسے علوم و فنون پیش کیے ہیں جن کی مثال سابقہ اقوم و ملل اور مذاہب میں نہیں ملتی۔ مثلا، علم اللغۃ ، صرف، نحو، مخارج حروف، عموم و خصوص، حقیقت و مجاز، ظاہر ومجمل، محکم ومتشابہ، امر و نہی، ناسخ و منسوخ، حلال وحرام، امثال و حکم، وعدہ و وعید، نکاح و طلاق، تقسیم میراث وغیرہ، سینکڑ وں علوم ہیں جو علماء نے گنوائے ہیں ۔ ان سب کا ماخذ و مرجع قرآن مجید ہی ہے ۔ آج سے ایک ہزار سال قبل قاضی ابوبکر ابن العربی نے ان علوم و فنون کی تعداد کا اندازہ سات سو کے قریب لگایا تھا۔(۱)
خود اللہ تعالیٰ نے اس بات کی گواہی قرآن مجید میں اس طرح سے دی ہے :
’’ما فرطنا فی الکتٰب من شیء۔ ‘‘
(الانعام ۶:۳۸)
’’ ہم نے کتاب (قرآن) میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑ ی۔‘‘
اور فرمایا:
’’ و نزلنا علیک الکتٰب تبیانا لکل شیء۔‘‘
( النحل۱۲ :۸۹)
’’ اور ہم نے ہر چیز کو بیان کرنے کے لیے آپ پرکتاب اتاری ہے ۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی تصنیف’’ الفوز الکبیر فی اصول التفسیر‘‘ میں درج ذیل پانچ علوم کا ذکر کیا ہے :
۱۔ علم الاحکام:
علم الاحکام سے مراد وہ علوم ہیں جو بندوں کے لیے دین و دنیا میں کامیابی کے لیے سیکھنا ضروری ہیں ۔ مثلا ، فرائض، واجب ، مستحبات ، حرام، مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی وغیرہ۔
۲۔ علم مخاصمہ:
علم مخاصمہ سے مراد قرآن کا وہ اسلوب اور خطاب ہے جو اللہ نے مشرکین، یہود، نصاریٰ اور منافقین سے کیا ہے ۔ ان کے عقائد باطلہ کا رد کرتے ہوئے ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دی ہے ۔
۳۔علم تذکیر بآلاء اللہ:
علم تذکیر بآلاء اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کی پیدایش اور تخلیق کائنات سے متعلق مراحل کا بیان اور عالم انسانی پر کیے گئے انعامات کا ذکر ہے ، جس کا مقصداس کی قدرت و ربو بیت کو بیان کر کے لوگوں کو اس کی بندگی اور اطاعت پر آمادہ کرنا ہے ۔
۴۔علم تذکیر بایام اللہ:
علم تذکیر بایام اللہ سے مراد ان واقعات و حوادث کا بیان ہے جن کی بنیاد پر اللہ نے فرمانبرداروں کے لیے انعامات اور نا فرمانوں کے لیے سزا کا اعلان کیا ہے ۔
۵۔علم تذکیر بالموت:
علم تذکیر بالموت سے مراد قیامت کے احوال بیان کرنا ، حشر نشر، حساب کتاب، وزن اعمال اور جزا و سزا کا بیان ہے ۔

حوالہ جات
1۔القاموس المحیط، للفیروزآبادی۔
2۔القاموس المحیط، للفیروزآبادی۔
3۔المنجد۔
4۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ص۳۱۸۔
5۔ محمود احمد غازی، ڈاکٹر، محاضرات قرآنی، الفیصل ناشران و تاجران کتب، لا ہور، طبع ۴، مئی ۲۰۰۸، ص۲۸۳۔
6۔ محاضرات قرآنى وص۱۰۵۔
7۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ص ۳۲۵
8۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج ۷، ص۱۲۰۔


OLOR="Red"] جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔[/COLOR]
گوندل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-11-09), فاروق سرورخان (03-11-09), عادل سہیل (13-11-09)
جواب

Tags
کمال, کتابوں, پہچان, پاک, پسند, واقعات, قرآن, چور, نماز, مکہ, میراث, موسیٰ علیہ السلام, منافقین, مجید, مسجد, مسجد نبوی, معجزہ, بندگی, توحید, تعلیم, رمضان, عیسیٰ, عبادت, غار, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger