| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علوم القرآن 3
۷۔ ۔ علم جمادات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جمادات ، معدنیات اور ارضیات کے حوالے سے کئی مقام پر ارشادات فرمائے ہیں ۔مثلا: و من الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا و غرابیب سود۔ (سورۃ فاطر۳۵:۲۷) ’’ اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور گہرے سیاہ۔‘‘ ۸۔ علم نباتات اللہ نے زمین سے اگنے والی نباتات اوران کی تخلیق کے مراحل کا ذکر کیا ہے ۔ اور ان کی تخلیق کو اپنی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے : ان اللہ فالق الحب والنویٰ۔یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی۔ذالکم اللہ فانیٰ توفکون۔ (سورۃ الانعام۶:۹۵) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ دانے کو اور گٹھلیوں کو پھاڑ نے والا ہے ۔ وہ جان دار کو بے جان سے نکال لاتا ہے اور وہ بے جان کو جان دار سے نکالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہ ہے ، سو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو۔‘‘ ۹۔۔ علم فلکیات قرآن مجید میں اجرام فلکی کا بھی ذکر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق اور اس کے نظام کے بارے میں کئی سورتوں میں تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اسی طرح قیامت کے دن اس نظام کے ختم کر دینے کے بارے میں بھی تفصیل سے بحث کی ہے : ھوالذی خلق اللیل والنہار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون۔ (سورۃ الانبیاء ۲۱:۳۳) ’’اور وہی تو ہے جس نے رات دن، سورج اور چاند کو بنایا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں ۔‘‘ ۱۰۔ علم کائنات یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی قدرتوں ، طاقتوں اور عظیم الشان صناعی کا شاہ کا ر ہے ۔اللہ نے یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تخلیق کیا ہے اور انسانوں کو اس میں غوروفکر کی دعوت دی ہے ۔ ارشاد ربانی ہے : ’’افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت۔ و الی السماء کیف رفعت۔والی الجبال کیف نصبت۔ ’’ کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیے گئے ہیں ۔اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا اور پہاڑ وں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیے گئے ہیں ۔‘‘ ۱۱۔ علم ارضیات اللہ تعالی نے قرآن مجید میں زمین و آسمان کی تخلیق اور اس کی مختلف خصوصیات اور اس میں موجود مخلوقات کے بارے میں بیان فرمایا ہے ۔ اسی طرح روز قیامت اس سارے نظام کے خاتمے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ارشاد ہے : فقضٰھن سبع سمٰوات فی یومین و اوحیٰ فی کل سماء امرھا و زینا السماء الدنیا بمصابیح و حفظا۔( سورۃ فصلت ۴۱:۱۲) ’’ پس دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ان اللہ یمسک السمٰوٰت والارض ان تزول ا و لئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ۔ (سورۃ فاطر ۳۵:۴۱) ’’یقینا اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ و ہ ٹل نہ جائیں ا ور ا گر ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔‘‘ ۱۲۔ علم آثار قدیمہ اللہ نے قرآن میں سابقہ اقوام و امم کے حالات و واقعات بیان کیے ہیں اور مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے حالات پر تحقیق کریں اور ان وجوہات کا پتا لگا کرعبرت حاصل کریں جن کی بنا پر وہ قومیں ختم ہوئیں یا انھیں زمین میں اقتدار حاصل رہا۔ آثار قدیمہ کے اس علم کے بارے میں اللہ نے قرآن میں اس طرح سے فرمایا ہے : قد خلت من قبلکم سنن فسیروا فی الارض فانظروا کیف کا ن عاقبۃ المکذبین۔ (سورۃ آل عمران :۱۳۷) ’’ تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گذر چکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔‘‘ ۱۳۔علم طیور قرآن مجید علم طیور کی بنیا د بھی فراہم کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف پرندوں مثلا ابابیل، کوے ، تیتر اور ہد ہد وغیرہ کا ذکر کیا ہے ۔ پرندوں کی عادات و خصائل سے انسان نے بہت فائدے اٹھائے ہیں ۔ ان سے موسموں کو جاننے ، خطوط رسانی، خوراک اور دیگر بہت سے کا م لیے گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعوت فکر دی ہے کہ وہ ان سے مزید کا م لے سکیں ۔ ارشاد ہے : اولم یروا الی الطیر فوقھم صٰفٰت و یقبضن ، ما یمسکھن الا الرحمٰن۔ (سورۃ الملک ۶۷:۱۹) ’’ کیا انھوں نے اپنے سروں پر اڑ تے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیڑ بھی لیتے ہیں ۔ اللہ کے سوا ان کو کوئی بھی نہیں تھام سکتا۔‘‘ ۱۴۔علم البحر بحر ی علوم کا مرکز و منبع بھی قرآن مجید ہے ۔اس میں بحری حیات کا مطالعہ، سمندروں کے انسانی زندگی پر اثرات ، انسانی تمدن، تجارت ، باہمی روابط کے فروغ میں سمندر وں کے کردار کا مطالعہ شامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : وھو الذی مرج البحرین ھٰذا عذب فرات و ھٰذا ملح اجاج۔ (سورۃالفرقان ۲۵:۵۳) ایک اور آیت میں ارشاد ہے : و اذا غشیھم موج کالظلل دعوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (سورۃ لقمان ۳۱:۳۲) ۱۵۔علم ہوا بازی علم ہوا بازی کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پرندوں کی مثال دے کر بیان کیا ہے کہ وہ کس طرح سے پر پھیلا کر اور ان کو سکیڑ کر اڑ تے ہیں ۔اسی طرح اللہ نے ہواوں کی تسخیر کے بارے میں بھی بیان کیا ہے ۔ارشاد ہے : الم یروالی الطیر مسخرٰت فی جو السماء، ما یمسکھن الا اللہ۔ (سورۃ النحل۱۶:۷۹) اور فرمایا: اولم یروا الی الطیر فوقھم صٰفٰت و یقبضن، ما یمسکھن الا الرحمٰن۔ (سورۃ الملک ۶۷:۱۹) ۱۶۔علم طب: قرآن مجید میں علم طب و صحت کے بارے میں بھی ہدایات موجود ہیں ۔ارشاد ربانی ہے : فاذا مرضت فھو یشفین۔ (سورۃ الشعراء ۲۶:۸۰) اور شہد کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ’’یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فیہ شفاء للناس۔ (سورۃ النحل۱۶:۶۹) ۱۷۔علم الزجاجہ (شیشہ گری) اللہ نے قرآن میں شیشہ اور اس کی بنی ہوئی چیزوں کا ذکر بھی کیا ہے ۔ارشاد ہے : و یطاف علیھم بانیۃ من فضۃ و اکواب کانت قواریرا۔ قواریرا من فضۃ قدروھا تقدیرا۔ (سورۃ الانسان ۷۶:۶۱) ۱۸۔علم الطبخ والخبز قرآن مجید میں علم الطبخ اور خبز کے بارے میں بھی بیان موجود ہے ۔ارشاد ہے : وقال الاٰخرانی احمل فوق راسی خبزا تاکل الطیر منہ۔ "(سورۃ یوسف ۱۲:۳۶) اور فرمایا: و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدہن و صبغ لاٰکلین۔ (سورۃ المومنون۲۳:۲۰) ۱۹۔علم الفخار علم الفخار سے مراد خشت سازی کا کام ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرعون و موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بیان فرمایا ہے : فاوقد لی یٰھامٰن علی الطین فاجعل لی صرحا۔ (سورۃالقصص ۲۸:۳۸) ۲۰۔ علم الکتا بۃ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی میں ہی علم کتابت کی اہمیت بیان کر دی تھی۔ ارشاد فرمایا: اقراء باسم ربک الذی خلق۔خلق الانسان من علق۔اقراء وربک الا کرم۔ الذی علم بالقلم۔ (سورۃ العلق ۹۶۔۱۔۴) ۲۱۔علم الحجارہ علم الحجارہ سے مراد پتھروں سے مختلف مصنوعات بنانے کا فن ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تتخذون من سھولھا قصورا و تنحتون الجبال بیوتا۔ (سورۃ الاعراف۷:۷۴) اور اسی طرح فرمایا: و ینحتون من الجبال بیوتا اٰ منین۔ (سورۃالحجر۱۵:۶) ایک اور مقام پر ارشاد ہے : و تنحتون من الجبال بیوتا فٰرھین۔ (سورۃ الشعرا۲۶:۱۴۹) ۲۲۔علم الصبغ علم الصبغ یا رنگ سازی کا بھی قرآن میں ذکر ہے ۔ارشاد ہے : صبغۃ اللہ و من احسن من اللہ صبغۃ۔ (سورۃ البقرۃ۲:۱۳۸) خلاصہ بحث اس ساری بحث سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید بنی نوع انسان کے لیے ہدایت و رحمت ہے ۔ یہ علوم و معارف کا ایک سمندر ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔ اس کے فیوض وبرکات صدیوں سے جاری ہیں اور قیامت تک جار ی رہیں گے ۔ یہ اس کے اعجاز کی دلیل بھی ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کا ثبوت بھی ہے ۔ اس کتاب عظیم میں زندگی گزارنے کے بنیادی اصول بھی موجو د ہیں اور علوم و فنون کے دل دادہ لوگوں کے لیے ہر قسم کے علوم بھی۔ مسلمان نہایت ہی خوش قسمت امت ہیں کہ اللہ نے انھیں اتنی بڑ ی دولت قرآن مجید کی صورت میں عطاء کی ہے ۔قرآن کے علوم کا یہ چشمہ ہمیشہ سے جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قرآن میں بار بار غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتے ہیں ۔ارشاد ہے : ’’افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا۔‘‘ (سورۃ النسا۴:۸۲) ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے ۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : کتاب انزلنٰہ الیک مبٰرک لیدبروا اٰیٰتہ ولیتذکرو اولوا الالباب۔ (سورۃ ص۳۸:۲۹) ’’ یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل کیا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ ان آیات کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن میں تفکر اور تدبر مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے ۔اگر مسلمان اس ذمہ داری کو ادا نہیں کریں گے اور اس کی طرف سے غفلت کے مرتکب ہوں گے تواللہ ان کی جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔اور وہ ذلت و خواری میں مبتلا ہو جائیں گے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ومن اظلم ممن ذکر بآیٰت ربہ فاعرض عنھا و نسی ما قدمت یدٰہ۔ ’’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے ، وہ پھر بھی منہ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے ۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(عبدال ی عابد، شعبہ علوم اسلامیہ، سرگودھا یونیورسٹی) |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فن, واقعات, موسیٰ علیہ السلام, مجید, خوش, رات, زندگی, ظالم, عقل, علوم, علم, عمران, عادات, عظیم, غفلت, صحت, صدیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|