واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


علوم القرآن 2

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 03-11-09, 10:08 AM   #1
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default علوم القرآن 2

علوم القرآن 2

علوم القرآن
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے آخری آسمانی ہدایت ہے ۔ ایک طرف اس کا مقصد انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت کے ذریعے ایک خاص ترتیب اور نظم وضبط میں لا کرآخرت کی زندگی کو کامیاب بنانا ہے ۔دوسری طرف یہ کتاب اللہ تعالیٰ کا ایک عدیم المثال معجزہ بھی ہے جس نے اپنی زبان ، بیان اور دوسری خصوصیات کے باعث ان عربوں کو گنگ کر دیا تھا جو اپنے علاوہ ساری دنیا کو گونگا اور خود کو بیان کا ماہرکہتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے تمام جن و انس کو چیلنج دیا کہ اس قرآن جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ ارشاد ربانی ہے :
قل لئن اجتمعت الانس والجن علیٰ ان یاتوا بمثل ھٰذا القراٰن لا یاتون بمثلہ
ولو کان بعضھم لبعض ظہیرا۔(بنی اسرائیل )
’’ اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ اگر تمام جن و انس اس بات پرجمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا کوئی کلام لے آئیں تو اس جیسا کلام ہرگز نہ لا سکیں گے ، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار ہوں ۔‘‘
قرآن کے اس چیلنج کے اصل مخاطب عرب کے تمام فصحاء و بلغاء اور شعراء و خطباء تھے جو فصاحت و بلاغت کے دل دادہ تھے ۔ جن کا بچہ بچہ شعر گوئی کے فن سے آشنا تھا، مگر وہ سب باوجود اپنی پوری کوشش کے ، قرآن جیسا کوئی ایک لفظ یا فقرہ بھی نہ بنا سکے تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ قرآن اللہ کی طرف سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے لیے دلیل اور معجزہ ہے ۔ قرآن کا یہ اعجاز صرف زبان و بیان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ہر لحاظ سے معجزہ ہے ۔اس کے اندر علوم و معارف کا خزانہ ہے ۔یہ دنیا کے تمام علوم کی بنیاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ما فرطنا فی الکتاب من شیء۔ ( الانعام ۶:۳۸)
’’ ہم نے کتاب (قرآن) میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑ ی۔‘‘
آغاز اسلام ہی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ، تابعین ، تبع تابعین اور لاکھوں کروڑوں علماء و ماہرین قرآن مجید میں غورو فکر اورتدبرکرتے رہے ہیں ۔ انھوں نے عالم انسانی کے سامنے ایسے علوم و فنون پیش کیے ہیں جن کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔ زیر نظر مقالہ قرآنی علوم کے مطالعے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے ۔

علم کا مفہوم
علم عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنیٰ’جاننا‘ ، ’معلومات حاصل کرنا وغیرہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خود علم سکھایا ہے ۔اور اسی علم کی بنیا د پر انسان کی برتری دیگر مخلوقات پر ثابت کر دی ہے ۔ ارشادہے :
و علم ادم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملائکۃ۔
(سورۃ البقرۃ ۲:۳۱)
’’ اور اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سب نام سکھا دیے ۔پھر ان کو فرشتوں کے
سامنے پیش کیا ۔‘‘
ذرائع علم
ذرائع علم سے مراد وہ آلات ہیں جن کے ذریعے سے انسان معلومات اکٹھی کرتا ہے ۔ ان کی تعداد چھ ہے ۔ یعنی حواس خمسہ: قوت شامہ، قوت لامسہ، قوت ذائقہ، قوت بصارت، قوت سماعت اور وحی خداوندی۔پھر عقل کے ذریعے سے ان حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرتا اور ان سے نتائج اخذ کرتا ہے ۔
علم کے درجات
علمائے کرام نے علم کے تین درجات بیان کیے ہیں ، جن سے انسانی علم کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے :
۱۔ علم الیقین: یعنی کسی چیز کے بارے میں خارجی ذرائع سے کچھ معلومات حاصل ہو جانا۔
۲۔ عین الیقین: حاصل شدہ معلومات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ان کے بارے میں رائے قائم کرنا۔
۳۔ حق الیقین: دیگر مذکور ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو تمام ذرائع علم استعمال کر کے ، تجربے اور تجزیے کی کسوٹی سے گذار کرنتائج اخذ کرنا۔
علم کی اقسام
علم کے پہلے پانچ ذرائع یعنی حواس خمسہ کا تعلق مادی دنیا سے ہے ۔ مادے کی مختلف اشکال کا مشاہدہ اور معائنہ علم کہلاتا ہے ۔یہ مشاہدہ حواس خمسہ کی مدد سے کیا جاتا ہے ۔مادہ دو چیزوں پر مشتمل ہے : ایک ظاہری حصہ اور دوسرا اس کا باطن یا شعور۔ چنانچہ علوم کی تقسیم اسی چیز کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے ۔ علوم کو عام طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
۱۔ شعوری یا سماجی علوم ((Social Sciences
۲۔ مادی علوم (Natural Sciences )
۳۔ متفرق علوم
علوم القرآن:
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب اور بنی نوع انسان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے غار حرا کی
تاریکیوں میں نازل کیا اور ہمیشہ کے لیے نور ہدایت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
و نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء و ھدی و رحمۃ و بشریٰ
للمسلمین۔ ( النحل ۸۹)
’’ اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے ، اور
ہدایت و رحمت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے ۔‘‘

قرآن مجید جہاں بنیادی طور پر انسانیت کو راہ ہدایت دکھاتا، اللہ کے غضب سے ڈراتا ، خوش خبری سناتا، نیکی پر ابھارتا اور برائی سے روکتا نظر آتا ہے وہیں یہ ہر قسم کے علوم و معارف سے بھی بحث کرتا ہے ۔آغاز اسلام ہی سے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور لاکھوں کروڑ وں علماء و ماہرین فن قرآن مجید کے بحر ذخار میں غوطہ زن رہے ہیں ۔ انھوں نے عالم انسانیت کے سامنے ایسے علوم و فنون پیش کیے ہیں جن کی مثال سابقہ اقوم و ملل اور مذاہب میں نہیں ملتی۔ مثلا، علم اللغۃ ، صرف، نحو، مخارج حروف، عموم و خصوص، حقیقت و مجاز، ظاہر ومجمل، محکم ومتشابہ، امر و نہی، ناسخ و منسوخ، حلال وحرام، امثال و حکم، وعدہ و وعید، نکاح و طلاق، تقسیم میراث وغیرہ، سینکڑ وں علوم ہیں جو علماء نے گنوائے ہیں ۔ ان سب کا ماخذ و مرجع قرآن مجید ہی ہے ۔ جلال الدین سیوطی کے نزدیک قرآن میں ستر ہزار علوم موجودہیں ۔خود اللہ تعالیٰ نے اس بات کی گواہی قرآن مجید میں اس طرح سے دی ہے :
’’ما فرطنا فی الکتٰب من شیء۔ ‘‘
(الانعام ۶:۳۸)
’’ ہم نےکتاب (قرآن) میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔‘‘
اور فرمایا:
’’ و نزلنا علیک الکتٰب تبیانا لکل شیء۔‘‘
( النحل۱۲ :۸۹)
’’ اور ہم نے ہر چیز کو بیان کرنے کے لیے آپ پرکتاب اتاری ہے ۔‘‘
علمائے کرام اور مفسرین نے علوم القرآن میں ، شعوری و مادی، سماجی یا سائنسی علوم کی تقسیم نہیں کی۔ بعض علماء نے تمام علوم کو بےترتیب جمع کر دیا اور بعض نے نہایت اختصار سے چند اقسام بنا دی ہیں ۔ محمد ابن جریر طبری (م ۳۱۱ھ ) کی تفسیر کے مقدمے میں قرآنی علوم کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں :
’’یشتمل القرآن علیٰ ثلاثۃ اشیاء: التوحید والاخبار والدیانۃ‘‘[سیوطی،جلال الدین، مقدمہ تفسیر طبری]
’’قرآن مجید تین چیزوں پر مشتمل ہے : توحید ، اخبار اور دیانات۔‘‘
ابن عربی (م ۵۴۴ ھ) نے علوم القرآن کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے :
’’ام علوم القرآن ثلاثۃ اقسام: توحید، تذکیر، احکام۔‘‘[ابن عربی، احکام القرآن، ص ۳۱۷]
شاہ ولی اللہ دہلوی بیان کرتے ہیں :
’’لیعلم ان معانی القرآن المنطوقۃ لایخرج عن خمسۃ علوم: الاحکام
مخاصمۃ، تذکیر بآلاء اللہ، تذکیر بایام اللہ، تذکیر بالموت۔‘‘[شاہ ولی اللہ، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر]
محمد تقی عثمانی اپنی کتاب علوم القرآن میں ان علوم کو چار قسموں میں تقسیم کرتے ہیں :
۱۔عقائد ۲۔ احکام ۳۔ قصص ۴۔ امثال۔[تقی عثمانی، علوم القرآن،ص۲۹۳]
ڈاکٹر محمد گجر خان نے اپنے محاضرات میں علوم القرآن کو دو بنیادی زمرہ جات، سماجی علوم اور سائنسی علوم میں تقسیم کر کے درج ذیل ذیل علوم کا ذکر کیا ہے :
(ا) سوشل سائنسز ( سماجی علوم)
۱۔ علم تفسیر
علم التفسیر سے مراد وہ علم ہے جس کی بنیاد پر قرآن مجید کی آیات کا معنی و مفہوم معلوم کیا جاتا ہے ۔ مجمل آیات کی شرح و وضاحت کی جاتی ہے اور احکام و مسائل اور اسرار و حکم سے بحث کی جاتی ہے ۔
۲۔علم حدیث:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ کی طرف سے ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین کی شرح و وضاحت فرمائیں گے اور لوگوں کا تزکیہ کریں گے۔ چنانچہ آپ کے فرامین اور ہدایات کا مطالعہ علم حدیث کہلاتا ہے ۔
۳۔ علم اصول فقہ:
علم اصول فقہ سے مراد وہ علم ہے جس کی بنیاد پر قرآنی آیات سے مختلف مسائل کا استنباط کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ عام خاص، مطلق و مقید، اور امر و نہی کے بارے میں علم حاصل کیا جاتا ہے ۔
۴۔علم التاریخ والقصص:
قرآن مجید میں جو گزشتہ اقوام کے واقعات اور قصص بیان کیے گئے ہیں ، ان کے علم کو علم القصص کہا جاتا ہے ۔ علماء نے ان تاریخی واقعات کے بارے میں تحقیق کی اور ان اقوام کی غلطیوں کی نشان دہی کی جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کے نتیجے میں دنیا و آخرت میں فلاح کی نوید دی اور بعض کو سرکشی اور نافرمانی کے باعث ذلیل و رسوا کیا۔
۵۔ علم اصول الدین:
دین کے بنیادی اصولوں اور ان کے متعلقات پر بحث کا علم ، علم اصول الدین کہلاتا ہے ۔
۶۔فن قراء ت:
فن قراء ت سے مراد قرآن مجید کی مختلف قراء توں کی علم ہے ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سات قراء توں پر نازل ہو ا ہے ۔ اس علم میں اس بات پر بحث کی جاتی ہے کہ مختلف الفاظ میں کس قدر مختلف قراء توں کا احتمال ہے اور قرات کی تبدیلی سے معانی میں کس حد تک تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔
۷۔علم النحو والصرف
علم النحو سے مراد وہ علم ہے ، جس میں قرآن کی آیات کہ فنی پہلو سے دیکھا جاتا ہے ۔ مختلف الفاظ کی اعرابی حالت اور ان میں تبدیلی پر بحث کی جاتی ہے ۔ قرآن کے الفاظ کی صحیح اور درست قرات کے لیے بھی علم نحو کا جاننا بہت ضروری ہے ۔ اسی طرح علم صرف کی مدد سے الفاظ کے وزن اور صیغے کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے ۔
۸۔علم ناسخ و منسوخ:
قرآن مجید کے ان احکام اور آیات کا علم جنھیں اللہ تعالیٰ نے بعد میں منسوخ کر دیا ، علم ناسخ و منسوخ کے ذیل میں آتا ہے ۔
۹۔علم شان نزول:
علم شان نزول سے مراد قرآنی آیات کے نزول کے وقت کا تعین کرنا اور اس دور کے حالات کا مطالعہ کرنا ہے ۔
۱۰۔علم الاقسام:
علم الاقسام سے مراد قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات ، صفات ، مخلوقات ، مقامات اور نبی کریمکی جو قسمیں کھائی ہیں ان کی وجوہات اور مقاصد کو جاننے کی کوشش کرنا ہے ۔مثلا:
ن، والقلم وما یسطرون۔(سورۃ القلم ۶۸:۱)
اور فرمایا:
لا اقسم بھٰذا لبلد۔ (سورۃ البلد ۹۰:۱)
۱۱۔علم نظم قرآن:
علم نظم قرآن سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور صورتوں کی ترتیب بے مقصد نہیں ہے ۔ اس ترتیب اورنظم کے پس پشت مقا صد کو جاننے کا علم ، علم نظم قرآن کہلاتا ہے ۔
۱۲۔ علم اعجاز القرآن:
قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی نبوت کی تائید میں بطور معجزہ عطاء کیا گیا تھا۔ یہ اسلوب ، احکام ، زبان و بیان اور الفاظ و تراکیب کے لحاظ سے ایک زندہ معجزہ ہے ۔ اس کی ان معجزانہ خصوصیات کاعلم ، علم اعجاز القرآن کہلاتا ہے ۔
۱۳۔علم الخطابت والوعظ:
اس علم میں قرآن مجید کے انداز تخاطب پر بحث کی جاتی ہے ۔ قرآن میں بیان کردہ تماثیل، وعد ، وعید، تحذیر اور تبشیر پر مشتمل آیات کی روشنی میں علماء و واعظین نے اس علم کی بنیاد رکھی۔
۱۴۔علم تعبیر الروء یا:
بعض محققین و علماء نے قصۂ حضرت یوسف علیہ السلام کی روشنی میں خواب اور ان کی تعبیرات کا علم وضع کیا۔ اللہ نے فرمایا ہے :
’’ و یعلمک من تاویل الاحادیث۔‘‘(سورۃ یوسف۱۲: ۶)
۱۵۔علم الفرائض والمیراث:
قرآن کریم میں بیان کردہ فرائض اور تقسیم میراث کے قوانین کی تفہیم و تفصیل کے بارے میں علم کو علم الفرائض والمیراث کے عنوان سے الگ علم کے طور پر لیا گیا ہے ۔ علماء نے ان مسائل کی باریکیوں پر مفصل بحث کی اور اللہ تعالیٰ کا صحیح منشا و مقصد جاننے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
’’ للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون۔‘‘(سورۃ النسائ۴: ۷)
۱۶۔علم المواقیت:
قرآن میں بیان کردہ چاند ، سورج اور ان کی حرکت ، بروج اور منازل شمس و قمر کی وضاحت کے لیے جو علم وضع کیا گیا، اسے علم المواقیت کہا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
ھوالذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا و قدرہ منازل لتعلموا عدد
السنین والحساب۔(سورۃ یونس ۱۰:۵)
۱۷۔علم الامثال:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی بات کی وضاحت کے لیے مختلف مثالیں بیان کی ہیں ۔ ان کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں جاننے کا علم ، علم الامثال کہلاتا ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
’’ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا۔‘‘
(سورۃ البقرۃ۲: ۲۶)
۱۸۔علم المعانی والبیان:
قرآن مجید کی مخصوص تراکیب اور الفاظ کے بارے میں اس علم کو علم معانی ، بیان اور بدیع کہا جاتا ہے ۔
۱۹۔علم الاشارات والتصوف:
صوفیا نے قرآن مجید کی آیات سے بعض اشاری مفاہیم اخذ کیے اور ان کی بنیا د پر سلسلۂ تصوف کے حق میں جودلائل پیش کیے ان کے بارے میں علم کو علم الاشارات والتصوف کہا جاتا ہے ۔
۲۰۔علم موہبہ:
اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو ان کے تقویٰ ، خلوص اور تعلق بالقرآن کی وجہ سے ایک خا ص روحانی علم حاصل ہو جاتا ہے جسے علم الموہبہ کہا جاتا ہے ۔
۲۲۔ علم الاخلاق:
قرآن مجید میں بیان کردہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں اور صفات کو جاننے اور ان پر بحث کے علم کو علم الاخلاق کہا جاتا ہے ۔اللہ تعالی نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات وا لا صفات میں یہ سارے اعلٰی اخلاقی اصول بدرجہ کمال جمع کر دیے تھے ۔ اللہ کا ارشاد ہے :
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔
اللہ نے مومنوں کوبھی ان اخلاق کو اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ ارشاد ہے :
وعباد الرحمٰن الذین یمشون علی الارض ہونا و اذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ (سورۃ الفرقان: ۶۳)
۲۳۔علم القانون:
قران مجید میں مختلف جرائم اور ان کی سزاوئں کے بارے میں جو بیان کیا گیا ہے ، ان کی تفصیل اور طریق کا ر کے علم کو علم القانون کہا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ۔ (سورۃ النور:۲)
’’ بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد(بدکاری ثابت ہو تو) ہر ایک کوسو کوڑ ے لگاو۔‘‘
اسی طرح چوری کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ہے :
السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھماجزاء بما کسبا۔
(سورۃ المائدہ ۵:۳۸)
۲۴۔علم سیاست:
علم سیاست سے مراد قرآن میں حکومت و ریاست کے متعلق بیان کیے گئے اصولوں اور احکام کا مطالعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ اس دنیا میں حاکم اعلیٰ اللہ کی ذات ہے اور حکمران کو اس دنیا میں اقتدار اللہ کی امانت کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ قانون اللہ کا ہو اور حاکم کی معروف میں اطاعت کی جائے ۔ارشاد ہے :
ان الحکم الا للہ۔(سورۃ یوسف ۱۲:۶۷ )
اور مسلمانون کو حکم دیا ہے کہ:
یایھا الذین اٰمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔
(سورۃ النساء ۴:۵۹)
۲۵۔علم عمرانیات:
قرآنی احکام کی روشنی میں انسانی معاملات اور تمدن کا علم علم عمرانیات کہلاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی عمرانی اونچ نیچ کو ختم کر دیا ہے اور تمام انسانوں کو انسانی حقوق کے لحاظ سے برابر قرار دیا ہے ۔ ارشاد ہے :
یا ایھا الناس انا خلقنا کم من ذکر و انثیٰ و جعلنٰکم شعوبا و قبائل
لتعارفوا، ان ا کرمکم عنداللہ اتقٰکم۔(سورۃ الحجرات ۴۹:۱۳)
۲۶۔قانون بین الممالک:
مسلمانوں کے دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات اور معاملات کے احکام و ہدایت کو جاننے کا علم ، علم قانون بین الممالک کہلاتاہے ۔قرآن میں دوسری اقوام کے ساتھ معاملات اور جنگ و صلح کے قوانین بھی اللہ نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے ہیں ۔ ارشاد ہے :
قل یاٰ اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ۔
(سورۃ ال عمران ۳:۶۴)
’’ اے نبی کہ دیجئے کہ اے اھل کتاب آو ایسی بات کی طرف جو تم میں اورہم میں
یکساں ہے ۔‘‘
۲۷۔ علم المعاش:
معاش کے حصول اور تقسیم کے بارے میں الہٰی ہدایات کا مطالعہ ، علم المعاش کہلاتا ہے ۔

(ب)مادی یا سائنسی علوم
قرآن مجید میں بیان کردہ سائنسی علوم درج ذیل ہیں :
۱۔ علم حیاتیات:
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسانی تخلیق کے جو مراحل بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں مزید تحقیق اور مطالعہ علم حیاتیات کہلاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :
ولقد خلقنا الانسان من سلا لۃ من طین۔ ( المومنون۱۲:۴۳)
۲۔علم طب:
قرآن میں کچھ چیزوں مثلا شہد کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ:
’’فیہ شفاء للناس‘‘۔(سورۃ النحل ۶۸)
اسی طرح نبی کریم کی کچھ احادیث میں امراض اور علاج کا بیان ہے ۔چنانچہ اس بنیاد پر طب و صحت سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے قرآن کی روشنی میں علم طب کی بنیا د رکھی۔
۳۔علم معدنیات:
علم جمادات و معدنیات بھی قرآن سے اخذ کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف قسم کی معدنیا ت کا ذکرفرمایا ہے جن کو انسانی فائدے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہے :
’’ و من الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا و غرابیب سود۔‘‘
(سورۃ فاطر۳۵: ۲۷)
۴۔ علم الجنین
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تخلیق آدم کے مختلف مراحل کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ ارشاد ہے :
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین۔ثم جعلنٰہ نطفۃ من قرار مکین۔
(سورۃ المومنون ۲۳:۱۲)
’’ اور ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرا ر دے دیا۔‘‘
۵۔علم الہندسہ:
قرآن میں مذکو ر بعض پیشوں اور پیمائشوں کے ذکر کی روشنی میں تکنیکی ذہن کے لوگوں نے علم الہندسہ کی بنیا د رکھی۔
۶۔علم النجوم:
قرآن میں اللہ نے مختلف ستاروں اور دیگر اجرام فلکی کا ذکر کیا ہے اور ان کے مداروں ، طلوع و غروب اور دیگر امور کو بیان کیا ہے ۔ ان کے مطالعے اور منازل کے علم کو علم النجوم کہا جاتا ہے ۔ اس علم کی بنیا د ریاضی کے علم پر ہے ، لیکن اس کے لیے دلیل قرآن ہی کی آیات سے لی گئی تھی۔
ولقدزینا السماء الدنیا بمصابیح و جعلنٰھا رجوما للشیٰطین و
اعتدنا لھم عذاب السعیر۔ (سورۃ الملک۶۷ :۵)
’’بے شک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انھیں شیطان کے
مارنے کا ذریعہ بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے جلانے والا عذاب تیار
کر رکھا ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by گوندل; 03-11-09 at 11:45 AM.
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-11-09), فاروق سرورخان (03-11-09), راجہ اکرام (03-11-09), عامرشہزاد (04-11-09)
جواب

Tags
فن, فنی, کمال, پاک, واقعات, قرآنی, نظر, میراث, مجید, مسائل, معجزہ, اللہ, اسلام, اعلیٰ, ترک, حدیث, خوش, خان, سیاست, عورت, عقل, غار, صحابہ, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:32 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger