سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ؛۔۔۔
ایک وقت تھا جب خود میرے لیے یہ ایک نیا علمی موضوع تھا ۔(یہ عقیدہ اہل تشیع میں کتنا باقی رہ گیا ہے میں نہی جانتا) لیکن مجھے اس نظریہ پر یقین ہے اور چاہتا ہوں کے اس کو شیئر کروں اور اگر کسی حدیث یا قرانی آیات سے کچھ نظریہ بدل سکئے تو میں دعوت دیتا ہوں کہ ضرور اس پر بحث کریں اس لیے میں اس موضوع کو سوالات کی صورت میں رکھا ہے ۔ ۔ ۔شکریہ۔
سوال :- کیا ہم دو بار مریں گئے ؟؟ اور کیا ہم دو بار زندہ ہونگے ؟؟
دیکھتے ہیں کہ قرآن کیا کہتا ہے ۔ ۔ ۔
سُوۡرَةُ مؤمن / غَافر40-
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٍ۬ مِّن سَبِيلٍ۬ (١١)
وہ کہیں گے
اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو بار موت دی اورتو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا پس کیا نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (11)
اس آیت سے دو بار موت کا تصور نظر آتا ہے ۔ اور دو بار زندہ ہونا تو سب ہی جانتے ہیں۔
اس آیت میں دو2 بار مرنے اور دو2 بار زندہ ہونے کہ بعد یہ کہا جارہا ہے کہ کیا نکلنے کی کوئی راہ ہے
سوال :- کیا کسی اور امت میں ایسا ہوا ہے ؟؟
پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کسی امت میں دو 2 بار مرنا اور دو 2 بار زندہ ہونے کا علمل رکھاگیا ہے جو ہم یہ سوچئں کہ یہ امت بھی اسی عمل سے گزرے گی
پہلی مثال ؛-
۔سُوۡرَةُ البَقَرَة ایت 55
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَـٰقَوۡمِ إِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ أَنفُسَڪُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلۡعِجۡلَ فَتُوبُوٓاْ إِلَىٰ بَارِٮِٕكُمۡ فَٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ ذَٲلِكُمۡ خَيۡرٌ۬ لَّكُمۡ عِندَ بَارِٮِٕكُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡۚ إِنَّهُ ۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ (٥٤) وَإِذۡ قُلۡتُمۡ يَـٰمُوسَىٰ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهۡرَةً۬ فَأَخَذَتۡكُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَأَنتُمۡ تَنظُرُونَ (٥٥)
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے
توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے (۵۴) اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے،
تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے (۵۵)
دوسری مثال :-
سُوۡرَةُ البَقَرَة
۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَـٰرِهِمۡ وَهُمۡ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلۡمَوۡتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحۡيَـٰهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَڪۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡڪُرُونَ (٢٤٣)
سورة البَقَرَة
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو
خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (۲۴۳)
تیسری مثال "-
سُوۡرَةُ البَقَرَة
أَوۡ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ۬ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحۡىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِاْئَةَ عَامٍ۬ ثُمَّ بَعَثَهُ ۥۖ قَالَ ڪَمۡ لَبِثۡتَۖ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ۬ۖ قَالَ بَل لَّبِثۡتَ مِاْئَةَ عَامٍ۬ فَٱنظُرۡ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ ءَايَةً۬ لِّلنَّاسِۖ وَٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡعِظَامِ ڪَيۡفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوهَا لَحۡمً۬اۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ ۥ قَالَ أَعۡلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ ڪُلِّ شَىۡءٍ۬ قَدِيرٌ۬ (٢٥٩)
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔
تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۵۹)
سوال :- کیا قیامت سے پہلے زندہ کرنے کی کوئی آیت ہے جب زندہ کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد قیامت میں بھی زندہ کیا جائے گا ؟؟ ثابت کریں ؟؟
اس ایت میں صاف ظاہر ہے کہ اللہ نے جب پہلی موت کے بعد گناہ گار لوگوں کو زندہ کیا تو وہ قیامت کا زندہ کرنا نہی ہے کیونکہ ایت کہہ رہی ہے کہ اسی طرح قیامت میں بھی لوٹائے جانے کا زکر ہے ۔ ۔
سورہ 41-ایت 19،20-21 ، 22حٰم السجدہ / فُصّلَت
وَيَوۡمَ يُحۡشَرُ أَعۡدَآءُ ٱللَّهِ إِلَى ٱلنَّارِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ (١٩)
حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَہِدَ عَلَيۡہِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَأَبۡصَـٰرُهُمۡ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (٢٠)
وَقَالُواْ لِجُلُودِهِمۡ لِمَ شَهِدتُّمۡ عَلَيۡنَاۖ قَالُوٓاْ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنطَقَ كُلَّ شَىۡءٍ۬ وَهُوَ خَلَقَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍ۬ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ (٢١)
وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَتِرُونَ أَن يَشۡہَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَآ أَبۡصَـٰرُكُمۡ وَلَا جُلُودُكُمۡ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيرً۬ا مِّمَّا تَعۡمَلُونَ (٢٢)
اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے(19)
یہاں تک کہ جب وہ سب وہاں آجائیں گے تو گواہی دیں گے ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان اعمال کے جو وہ کرتے رہے۔(20)
اور کہیں گے وہ اپنے اعضا سے، کیوں گواہی دی ہے تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گے کہ گویائی دی ہے ہمیں اس اللہ نے جس نے گویائی بخشی ہے ہر چیز کو اور
اسی نے پیدا کیا ہے تمہیں پہلی بار اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔(21
اور تم پردہ نہ کرتے تھے اس بات سے کہ تم کو بتلائیں گے تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے پر تم کو یہ خیال تھا کہ اللہ نہیں جانتا بہت چیزیں جو تم کرتے ہو(22)
سوال :- کیا قتل/ شہید ہوئے بغیر جنت میں جاسکتے ہیں ؟؟
یہ بھی ہم دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ
شائد جنت نے وعدہ لیا ہے کہ وہ شہیدوں کو ہی اپنے پاس بلائے گئی ۔ ۔یعنی جن لوگوں کے اعمال بہت اچھے ہیں اور دنیا میں اللہ اور رسول کو راضی کیا تو کیا وہ جنت میں نہی جائیں گئے ؟؟ جو لوگ طبعی موت مرئے ہیں ان کا کیا ہوگا؟؟ ۔۔ کیونکہ شہادت ہی جنت میں جانے کا واحد زریعہ ہے ۔ تو پھر یہ عقیدہ تقویت پاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کے بعد شہید ہونگے تو جنت میں جائیں گئے۔ پھر سمجھاتا ہوں کہ وہ نیک لوگ جو اس زندگی میں طبعی موت مرئے ہیں اور دوسری بار جب زندہ ہوں گئے تو وہ شہادت پائیں گئے اور جو لوگ پہلی بار شہید ہوئے تھے وہ دوسری بار طبعی موت /یا شہادت پائیں گئے ۔ ۔
سُوۡرَةُ التّوبَة
۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشۡتَرَىٰ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَنفُسَهُمۡ وَأَمۡوَٲلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلۡجَنَّةَۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقۡتُلُونَ وَيُقۡتَلُونَۖ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّ۬ا فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ وَٱلۡقُرۡءَانِۚ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِۚ فَٱسۡتَبۡشِرُواْ بِبَيۡعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعۡتُم بِهِۦۚ وَذَٲلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ (١١١)
بے شک الله مسلمانوں سے ان کی جان اوران کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کی جنت ہے الله کی راہ میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اور قتل بھی کیے جاتے ہیں یہ توریت اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنااسے ضروری ہے اور الله سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہ بڑی کامیابی ہے (۱۱۱)
سوال :- کیا قیامت میں ہم اللہ کے حضور حاضر کیے جائیں گئے تو گناہ گار اور مومن سب ایک ساتھ ہوں گئے یا صرف گناہ گار یا صرف مومن ہونگے ؟؟جواب سب حاضر کیے جائیں گئے ۔۔۔گناہ گار اور مومن سب ۔ ۔ ۔
سورہ ُ آل عِمرَان
وَلَٮِٕن مُّتُّمۡ أَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحۡشَرُونَ (١٥٨)
اور اگر
تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے (15
سوال؛- کیا جس جگہ پہلی بار مرنے کے ہم کو رکھا جائے گا اس کا زکر بھی ہے ؟؟
ہر امت میں سے صرف گناہ گاروں کو حاضر کیا جائے گا اس جگہ کا بھی زکر ہے ۔ ایت دیکھیں ۔
سُورہ النَّمل27-
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُ مِن ڪُلِّ أُمَّةٍ۬ فَوۡجً۬ا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُمۡ يُوزَعُونَ (٨٣)
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَڪَذَّبۡتُم بِـَٔايَـٰتِى وَلَمۡ تُحِيطُواْ بِہَا عِلۡمًا أَمَّاذَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ (٨٤)
اورجس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی ہو گی (83)
یہاں تک کہ جب سب حاضر ہوں گے کہے گا کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں سمجھے بھی نہ تھے یا کیا کرتے رہے ہو (84)
سوال اس طرح تو گناہ گاروں کے لیے دو عذاب ہوگئے ؟ تو کیا کوئی آیت ایسی ہے ؟؟
سورہ 32 ایت 21
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
اور ہم ان کو
یقیناً بڑے عذاب سے پہلے قریب تر عذاب چکھائیں گے تاکہ وہ باز آجائیں۔
یہ تمام آیات اور اس کے علاوہ بھی کچھ اور ہیں اور اس کے علاوہ بھی جو ہم نہی جانتے یا جس کا مطلب ہم نہی سمجھ سکتے قران میں ہیں ۔
یقینا جواب کے منتظر ہیں ۔ ۔توجہ کے منتظر ہیں ۔ایک سوچ کی منتظر ہیں ۔