واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


:::::: قران کی حفاظت :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 01:57 AM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb :::::: قران کی حفاظت :::::::

:::::: قران کی حفاظت :::::::

أعوذ ُ باللہِ السَّمیعِ العَیلمِ مِن الشِّیطٰنِ الرَّجیم و مِن ھَمزہِ و نَفخِہِ و نَفثہ،

قران الکریم دوسری آسمانی کتابوں سے سب سے بلند اور ممتاز اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھنے کا خود ذمہ لیا ہے ، اور اس کا وعدہ فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((( إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ))))) سورت الحجر/آیت9،
اللہ تعالیٰ نے قران کو اس بات سے محفوظ فرما دیا کہ اس میں کچھ بڑھایا جاسکے یا کچھ کم کیا جا سکے ، اور اگر اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے قُران کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا تو اس میں بھی تحریف اور تبدیلی کا وہی حال ہوتا جو سابقہ آسمانی کتابوں کا ہوا ، کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے انہی لوگوں کو سونپی تھی جن کی طرف اللہ نے وہ کتابیں اتاری تھیں ، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ((((( إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَناً قَلِيلاً وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ::: بے شک ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی ہے جس کے ذریعے اللہ پر ایمان لانے والے انبیاء ، اہل اللہ اور عُلماءیہودیوں کے لیے فیصلے کیا کرتے تھے ، کیونکہ انہیں اللہ کی کتاب کی حفاظت کا حُکم دیا گیا تھا ، اور وہ اس پر (اقرار کرتے ہوئے)گواہ تھے ، لہذا (اے یہودیو)تم لوگ ، لوگوں سے مت ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو تھوڑی قیمت پر فروخت مت کرو، اور جو اللہ کے نازل کردہ (احکام اور ہدایات)کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہ کافر ہیں))))) سورت المائدة/ آیت 44 ،
قران الکریم کو اس عظیم خوبی کے ذریعے دوسری آسمانی کتابوں سے بُلند اور ممتاز کرنے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ یہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ، آسمانی کتابوں کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے ،
لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لیے ایسے اسباب تیار اور مہیا فرمائے جو اس کے علاوہ کسی بھی اور کتاب کے لیے میسر نہیں تھے اور نہ ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں ، ان شاء اللہ ،
::::::: اِن اسباب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پہلے بلا فصل خلیفہ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا قران کولکھا ہوا جمع کرنا تھا ،
::::::: اور اِن اسباب میں سے یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تیسرے بلا فصل خلیفہ عُثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ُ کا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی رضا مندی سے قُران کو ایک کتاب کی صورت میں ثابت شدہ قرأٔتوں کے مطابق جمع فرمایا ، اور پھر اس کے نسخے لکھوا کر تمام ملکوں میں روانہ فرمائے ،اور اس کے علاوہ قُران کے جو بھی لکھے ہوئے حصے تھے انہوں جلوایا دیا تا کہ کسی پریشانی اور اختلاف کا باعث نہ بنیں ،
::::::: اوراِن اسباب میں سے سب سے بڑا اور معجزاتی سبب قُران کو زبانی یاد کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس محیر العقول کام کو مسلمانوں کے لیے اس قدر آسان فرما دیا کہ تاریخ میں کسی قوم کا کسی کلام کی اتنی بڑی تعداد کو حرف بہ حرف تو کیا ایک ایک زیر و زبر کی مطابقت کے ساتھ یاد کرنے کی کوئی مثال نہیں ۔ بلکہ ایسی کسی کوشش کی بھی کوئی مثال نہیں ، بلکہ ایسا کرنے کی سوچ کی بھی کوئی مثال نہیں ،
پس قُران کریم کو یاد کرنے والوں میں کسی کی کوئی تخصیص نہیں ، چھوٹے بڑے ، جوان بوڑھے ، عورت مرد ، عربی عجمی ، کالے گورے ، پیلے سُرخ ہر قسم کے مسلمان اس کو یاد کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس کلام کو سب کے لیے آسان فرما دیا ہے اور اس کی خبر بھی فرمائی ہے ((((( وَلَقَدْ يَسَّرنَا الْقُرآنَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ ::: اور یقیناً ہم نے قران کو آسان فرما دیا ہے تو ہے کوئی نصحیت پانے اور یاد کرنے والا ))))) سورت القمر/ آیت17. ::::::: قران کریم کی حفاظت کے اس معجزاتی سبب اور طریقے کے ذریعے ہمیں بہت سے گواہ اور ثبوت ملتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما چکا ہے ، یہ واقعہ ہی دیکھیے :::
ایک دفعہ ایک یہودی مامون الرشید کے دربار میں حاضر ہوا اور مامون کے سامنے کچھ گفتگو کی جو بہت ہی بہترین انداز میں تھی ، اس کے انداز کلام اور علم کو دیکھ کر مامون بہت متاثر ہوا اور اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اسے مال و عطاء کی رغبت بھی دلائی ، لیکن وہ یہودی یہ کہہ کر چلا گیا کہ """میرے باپ دادا کا دین ہی میرا دین ہے """ ، پھر اگلے سال یہی یہودی مامون الرشید کے دربار میں آیا اور فقہ کے بارے میں بہت اچھے انداز میں بات کی ، مامون نے اس کی باتیں سن کر کہا """ کیا تُم وہی نہیں ہو ؟ """ یعنی وہی جسے میں نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور اُس نےقبول نہیں کی تھی ،
اس نے کہا """ جی ہاں میں وہی ہوں """
مامون نے کہا """ تو پھر(میری دعوت چھوڑ کر اس کے بعد )تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا بنا ؟ """
اُس نے کہا """ میں آپ کے پاس سے نکلا تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان ادیان (تینوں دین) کا امتحان کروں ، آپ جانتے ہیں کہ میری لکھائی بہت اچھی ہے ، لہذا میں نے یہاں سے جانے کے بعد سب سے پہلے تورات کے تین نسخے لکھے اور اُن میں کمی اور زیادتی کی ، پھر انہیں لے کر گرجا میں گیا اور سب نسخے فروخت کر دیے ،
اس کے بعد میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر انہیں لے کر بیعۃ (یہودیوں کی عبادت گاہ) میں گیا اور وہ سب نسخے فروخت کر دیے ،
اس کے بعد میں نے قران کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر اسے کچھ مسلمانوں کے پاس لے گیا تو انہوں نے ان نسخوں کو لےکر دیکھنا اور پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی بعد انہوں نے وہ نسخے خریدنے کی بجائے مجھے مارنے کے لیے پکڑ لیا ، کیونکہ انہوں نے ان نسخوں میں میری طرف سے کی گئی کمی اور زیادتی کو فوراً ہی پکڑ لیا تھا ، اس طرح مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ یہی کتاب محفوظ ہے اور یہی اس دِین کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے ، لہذا میں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گیا ،
یہ واقعہ اور اس طرح کے کئی واقعات قران حکیم کے محفوظ رہنے کی ایک مستقل حسی دلیل ہیں جن سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ، پس جو کوئی قران کریم میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی واقع ہو جانے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہی نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر جُھوٹ باندھنے والا ہے اور اللہ کے فرمان کا منکر یعنی کافر ہے ،
اللہ کے آخری اور حتمی دِین کی دو میں ایک بنیادی اساس قران کریم کی لفظی حفاظت کا ذمہ تو اللہ نے لیا اور اللہ تعالی سے بڑھ کر اور کوئی سچا نہیں ، اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا نہیں ،
اسلام کے دشمنوں نے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے کے بعد یہ جان لیا کہ اللہ کی اس کتاب میں وہ لوگ کسی طرح کی لفظی تبدیلی نہیں کر سکتے نہ کوئی کمی کر کے اور نہ کوئی زیادتی کر کے ، تو انہوں نے قران کے فہم میں معنوی تحریف کا راستہ اپنایا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے ، اور ہیں ،
قران کو سمجھنے کے لیے اپنی اپنی عقل اور رائے ، منطق اور فلسفہ کا استعمال رائج کیا گیا ،ا ور ان کا سب سے پہلا زہریلا پھل یہ نکلا کہ قران کو سمجھنے کا سب سے پہلا ، بنیادی ترین اور درست ترین ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قولی ،فعلی اور تقریری سُنّت مبارکہ کو قران کے مقابل بنایا گیا اوراُمت مسلمہ کے ہر کس و ناکس کو بظاہر قران کا محب اور قران پر عمل پیرا ہونے کےزعم میں مبتلا کرنے کی کوشش کے ذریعے یہ کج روی سُجھائی جانےلگی کہ وہ اپنی سوچ و فکر کی بنا پر سُنّت کو رد یا قبول کرتا رہے ،
پس ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو قران کریم میں مذکور اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ مبارک میں سے چند ایک کے بھی لفظی و لغوی معانی نہیں جانتے چہ جائیکہ ان کے احکام اور اللہ کی مراد جانتے ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کو رد کرتے ہیں ، اور قران کی معنوی تحریف کرتے ہیں ، لیکن یہ بھول جاتے ہیں ((((( إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ))))) میں کیے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ ہر دور میں اپنے اِیمان والے بندوں میں سے ایسے بندے ظاہر فرماتا رہتا ہے جو اللہ کے کلام کی اس معنوی تحریف کے دجل کو بھی ظاہر کر کے باطل کرتے رہتے ہیں ، اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس آخری کتاب اور اس میں موجود اپنے احکامات کو محفوظ رکھے گا ،
((((( يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ::: چاہتے ہیں کہ اپنے منہوں (کی پھونکیں ) سے اللہ کی روشنی بُجھا دیں اور اللہ انکار کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنی روشنی مکمل کر کے ہی رہے گا بے شک کافر جتنا بھی نا خوش ہوں ))))) سورت التوبہ / آیت 32 ۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو کافروں کی ہر چال سے محفوظ رکھے اورہر شر سے محفوظ رکھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Adeeba (24-10-09), shafresha (22-10-09), فاروق سرورخان (22-10-09), کنعان (14-12-09), مرزا عامر (10-09-10), حیدر Rehan (14-11-09), عبداللہ حیدر (22-10-09)
پرانا 21-11-09, 02:25 PM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
تدویں حدیث کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے اور بھتیجے عبداللہ حیدر نے آپ کو کافی معلومات مہیا کر رکھی ہیں ،
آپ انہیں ماننا نہیں چاہتے ، علمی حقائق کو اپنی خود ساختہ ، یا آپ جیسے کچھ """ پڑھے لکھے عُلما """ کی سوچوں کی بنا پر اپنائے ہوئے فلسفوں کے ذریعے ان حقائق کو رد کرتے ہیں ، لیکن ان حقائق کے ساتھ کیے جانے والے آپ کے رویے کا کیا شکوہ ، جب اللہ کے کلام کی غلط تاویلات کی جاتی ہیں ، اپنی سوچوں کو درست دکھانے کے لیے واقعات ہی بدل دیے جاتے ہیں ، من گھڑت جھوٹ سنائے جاتے ہیں ، اور دوران ءِ مخمصہ اس قدر ہیں کہ اپنے ہی کلام کی خود مخالفت کی جاتی ہے تو بڑے بھائی آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ،
الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ عدد خلفہ و رضا نفسہ ، اللہ کا یہ ضعیف بندہ ، اللہ کے دین کا ایک چھوٹا سا طالب علم آپ کے ہر سوال کا جواب دیتا رہا ہے ، اور ان شاء اللہ دیتا رہے گا ، تاخیر پر معاف فرمایے گا ، وقت کی کمی اس کا سب سے بڑا سبب ہے ،
بھائی ، اللہ کا واسطہ ہے اپنے ایمان کی خیر منایے ، اور دوسروں کے ایمان کی تفتیشش مت کیا کیجیے ، یقین مانیے کہ اللہ کو جواب نہ دے پائیں گے ، یاد کیجیے اس موضوع پر اللہ کے کلام کے ذریعے بھی آپ کو یاد دہانی کروا چکا ہوں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
بات تدوین حدیث کی نہیں ہے۔ کتب روایات کی ہے۔ کہ آیا کہ ان کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے یا نہیں۔

صرف اس وجہ سے کہ آپ نے قرآن بغور نہیں پڑھا تو اس کا مطلب یہ تو نہ ہوا کہ آپ قران کے معنی پڑھ کر اس پر اپنی کتب کے حساب سے فتوے قائم کریں اور جو لوگ آپ کی مکمل کتب پر ایمان نہیں رکھتے ان کو جھوٹا قرآر دیں۔

آپ جیسے گول مول جوابات میں نے کبھی نہیں دیکھے بھائی۔ لیکن آپ کو برا نہیں کہوں گا کہ کسی کو برا کہ کر جاہل کہہ کر اور ہتک و کردار کشی کرکے میں اس جیسا نہیں بننا چاہتا۔ اللہ تعالی کو جواب دینا ہے

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 14-12-09, 01:23 AM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
برادر من اللہ کو کو جواب اللہ کے وقت پر انشاء‌اللہ دیں گے کہ اسکے حکم کے مطابق اسکی کتاب پر ، اس پر اور اس کے نبی پر ایمان، اس کے فرشتوں پر اور قیامت پر ایمان رکھا۔
جی دینا ہی پڑے گا ، لیکن یہ سوچیے کہ کیا جواب دیں گے ،
قران میں سے ایمان کی تعریف تو آپ بتا نہیں سکے ، ایمان کیا بتائیں گے !!!!!!!!!!!!!!!!
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-12-09, 01:25 AM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میرا سوال اب تک ادھار ہے کہ

آپ ان کتب کا حوالہ کیوں دیتے ہیں کیا ان کتب پر آپ کا ایمان ہے؟ اگر ہے تو کیوں؟

الحمدلللہ قرآن کے بعد آنے والی کسی بھی کتاب پر میرا ایمان نہیں‌ہے ۔ سب کتابیں پرکھی جائیں گی ، ان کا متن، ان کی مصنفین۔ ان میں‌ممکنہ ملاوٹ۔ یہ ہے میرا نظریہ۔ آپ نے کبھی بھی صاف صاف جواب نہیں دیا۔ گول مول طریقہ سے کنی کترا جاتے ہیں۔ پھر ہم جیسے کم عقلوں کو جاہلیت سے بھرپور کہتے ہیں ، گویا کتاب سے بات فوراً کردار کشی پر آجاتی ہے۔

آپ اس کا سیدھا سادا ہم کم عقلوں کی سمجھ میں آنے والا جواب کیوں‌نہیں دے سکتے۔ کیا ضروری ہے کے بات کو گھمایا پھرایا جائے۔
جناب ، اللہ ہی بہتر جانے کہ آپ ایمان کسے کہتے ہیں ، رہا میرا معاملہ تو میں ہر اس بات پر ، ہر اس عمل پر جو صحیح اسناد کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں ثابت ہوتا ہے ، اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ وہ اللہ کی رضا کے عین مطابق ہے ، کسی کی ترجمے زدہ عقل میں آئے یا نہ آئے ،
لیجیے آپ کے سوال کا جواب ہو گیا ، اسے محفوظ کر لیجیے ،
فاروق صاحب ، سب کتابیں یقینا پرکھی جاتی ہیں ، لیکن پرکھنے کے اس پرکھ کے ماہرین درکار ہوتے ہیں نہ کہ چند ترجموں کو دیکھ دیکھ کر قران کے مخالف اور موافق ہونے کا حکم لگانے والے ، اورنہ کوئی ایسا پرکھ کر سکتا ہے جسے اس پرکھ کے قواعد و قوانین کی بنیادوں تک کا بھی علم نہ ہو ، ایسے شخص کو اس علم سے جاھل ہی کہا جائے گا ، کرادرکشی کیسی ؟؟؟
میرا جواب آپ کے سامنے آ چکا ہے ، ایک دفعہ پھر پڑھ لیجیے اور یاد رکھیے گا کہ جواب ہو چکا ،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (14-12-09)
پرانا 14-12-09, 01:28 AM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی یا تو کسی امر کی دلیل ہوتی ہے اور یا پھر اس امر پر ایمان ہوتا ہے۔ ان کتب روایات کے بارے میں‌ جاننا چاہتا ہوں۔ کہ مجھے بھی اللہ کو جواب دینا ہے، مجھ تک ابھی تک یہ ہدایت نہیں پہنچی کہ ان پر ایمان رکھنے کا حکم کس نے دیا ہے ؟ ان کتابوں کی صحت کی کیا دلیل ہے؟ کیا آپ کا ان کتب پر ایمان ہے؟
جناب ایمان کی تعریف آپ نہیں جانتے اس لیے اس قسم کا فلسفہ کہتے ہیں ، بہرحال اگر آپ واقعتا اپنی آخرت کے سدھار کے لیے احادیث کی روایات کی کتب کے بارے جاننا چاہتے ہیں ان کی صحت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ، تو اس علم کا مطالعہ کیجیے ، اس کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے ، ائمہ حدیث کی زندگیوں کا مطالعہ کیجیے ، حدیث کی حفاظت اس کی پرکھ ، روایات حدیث کو قبول و رد کرنے میں ان کی محنتوں اور جان فشانی کا مطالعہ کیجیے ، اگر اللہ نے چاہا تو ہدایت دے دے گا ، کیونکہ ہدایت صرف وہی دے سکتا ہے ،
ایک دفعہ پھر کہتا ہوں ایمان کی تعریف قران میں سے بیان فرمایے تو پھر آپ کو جواب دیا جائے گا کہ کن کتابوں پر کس کا ایمان ہے ،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), کنعان (14-12-09)
پرانا 14-12-09, 01:29 AM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آسان اور سیدھے سادے جوابات عنایت کردیجئے تاکہ بات کرنے میں آسانی ہو۔ تواتر کی دلیل کو میں نہیں مانتا ، اس لئے کہ تواتر بھی ثابت نہیں ہے۔ ترقیم بھی درست نہیں ، متن بھی مساوی نہیں، ترتیب میں بھی سقم ۔ ایسی کتب کو کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ بھی کسی طور پر الہامی کتب ہیں؟ سمجھنے میں مدد کیجئے۔ یہی ایک سوال آپ سے کتنے عرصہ سے کررہا ہوں۔ آپ آج تک اس کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے پائے بلکہ کوئی جواب ہی نہیں‌دیتے ہیں۔
تواتر کی دلیل کو آپ نہیں مانتے تو ، جناب یہ حقیقت تو جان ہی لیجیے کہ پوری امت کے سامنے آپ کی کچھ حیثیت نہیں ، آپ کے ماننے یا نا ماننے سے کوئی حقیقت بدلنے والی نہیں ،
ویسے یہ تو بتایے کہ """ تواتر """ کہتے کسے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کتب احادیث کی ترقیم کے بارے میں آپ کو پہلے کافی کچھ بتا چکا ہوں ، اگر آپ سمجھ نہیں پاتے یا سمجھ کر نا سمجھ بنے رہنا چاہتے ہیں تو ،،،،،،
متن کے غیر مساوی ہونے سے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ، وضاحت کیجیے ،
بزرگوار آپ سے میں نے تو ہر گز نہیں کہا کہ کتب احادیث """ الہامی """ ہیں ، یہ سبق کہاں سے پڑھا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), کنعان (14-12-09), عبداللہ حیدر (14-12-09)
پرانا 14-12-09, 01:30 AM   #36
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جہاں تک بالمشافہ بات چیت کا تعلق ہے ، آپ سے بات کرکے بہت ہی خوشی ہوگی۔ مجھے آپ farooqsarwarkhan@gmail.com پر ای میل کیجئے تو آپ کو معلومات فراہم کردوں گا جس کی مدد سے آپ مجھ سے کسی بھی دشواری کے بغیر بات چیت کرسکیں گے۔

والسلام
اس پیشکش پر شکریہ قبول فرمایے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کو اگر ہماری بالمشافہ گفتگو میں ہماری خیر منظور ہو گی تو وہ اس کا انتظام بھی فرما دے ۔ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), عبداللہ حیدر (14-12-09)
پرانا 14-12-09, 08:47 AM   #37
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اس پیشکش پر شکریہ قبول فرمایے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کو اگر ہماری بالمشافہ گفتگو میں ہماری خیر منظور ہو گی تو وہ اس کا انتظام بھی فرما دے ۔ و السلام علیکم۔
53:24 أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّى
53:39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (15-12-09)
پرانا 14-12-09, 12:47 PM   #38
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ کرے یہ بالمشافہ گفتگو خیر کا باعث بنے ۔۔۔ آمین
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), فاروق سرورخان (14-12-09), عادل سہیل (15-12-09)
پرانا 15-12-09, 02:39 AM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
53:24 أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّى
53:39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى
السلام علیکم،
((((( و ما تشاؤن الا ان یشاء اللہ )))))
((((( ان الساعۃ ءاتیۃٌ أکادُ اُخفیھا لِتُجزَی کُلَّ نفس بِما تَسعی )))))

والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, فروخت, کوشش, کلام, کتابوں, واقعات, قران, نظر, مکمل, ایمان, امتحان, اسلام, بہترین, حال, خوش, خبر, راستہ, سال, عورت, عقل, عبادت, عربی, عظیم, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger