واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


:::::: قران کی حفاظت :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 01:57 AM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb :::::: قران کی حفاظت :::::::

:::::: قران کی حفاظت :::::::

أعوذ ُ باللہِ السَّمیعِ العَیلمِ مِن الشِّیطٰنِ الرَّجیم و مِن ھَمزہِ و نَفخِہِ و نَفثہ،

قران الکریم دوسری آسمانی کتابوں سے سب سے بلند اور ممتاز اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھنے کا خود ذمہ لیا ہے ، اور اس کا وعدہ فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((( إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ))))) سورت الحجر/آیت9،
اللہ تعالیٰ نے قران کو اس بات سے محفوظ فرما دیا کہ اس میں کچھ بڑھایا جاسکے یا کچھ کم کیا جا سکے ، اور اگر اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے قُران کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا تو اس میں بھی تحریف اور تبدیلی کا وہی حال ہوتا جو سابقہ آسمانی کتابوں کا ہوا ، کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے انہی لوگوں کو سونپی تھی جن کی طرف اللہ نے وہ کتابیں اتاری تھیں ، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ((((( إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَناً قَلِيلاً وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ::: بے شک ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی ہے جس کے ذریعے اللہ پر ایمان لانے والے انبیاء ، اہل اللہ اور عُلماءیہودیوں کے لیے فیصلے کیا کرتے تھے ، کیونکہ انہیں اللہ کی کتاب کی حفاظت کا حُکم دیا گیا تھا ، اور وہ اس پر (اقرار کرتے ہوئے)گواہ تھے ، لہذا (اے یہودیو)تم لوگ ، لوگوں سے مت ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو تھوڑی قیمت پر فروخت مت کرو، اور جو اللہ کے نازل کردہ (احکام اور ہدایات)کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہ کافر ہیں))))) سورت المائدة/ آیت 44 ،
قران الکریم کو اس عظیم خوبی کے ذریعے دوسری آسمانی کتابوں سے بُلند اور ممتاز کرنے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ یہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ، آسمانی کتابوں کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے ،
لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لیے ایسے اسباب تیار اور مہیا فرمائے جو اس کے علاوہ کسی بھی اور کتاب کے لیے میسر نہیں تھے اور نہ ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں ، ان شاء اللہ ،
::::::: اِن اسباب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پہلے بلا فصل خلیفہ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا قران کولکھا ہوا جمع کرنا تھا ،
::::::: اور اِن اسباب میں سے یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تیسرے بلا فصل خلیفہ عُثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ُ کا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی رضا مندی سے قُران کو ایک کتاب کی صورت میں ثابت شدہ قرأٔتوں کے مطابق جمع فرمایا ، اور پھر اس کے نسخے لکھوا کر تمام ملکوں میں روانہ فرمائے ،اور اس کے علاوہ قُران کے جو بھی لکھے ہوئے حصے تھے انہوں جلوایا دیا تا کہ کسی پریشانی اور اختلاف کا باعث نہ بنیں ،
::::::: اوراِن اسباب میں سے سب سے بڑا اور معجزاتی سبب قُران کو زبانی یاد کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس محیر العقول کام کو مسلمانوں کے لیے اس قدر آسان فرما دیا کہ تاریخ میں کسی قوم کا کسی کلام کی اتنی بڑی تعداد کو حرف بہ حرف تو کیا ایک ایک زیر و زبر کی مطابقت کے ساتھ یاد کرنے کی کوئی مثال نہیں ۔ بلکہ ایسی کسی کوشش کی بھی کوئی مثال نہیں ، بلکہ ایسا کرنے کی سوچ کی بھی کوئی مثال نہیں ،
پس قُران کریم کو یاد کرنے والوں میں کسی کی کوئی تخصیص نہیں ، چھوٹے بڑے ، جوان بوڑھے ، عورت مرد ، عربی عجمی ، کالے گورے ، پیلے سُرخ ہر قسم کے مسلمان اس کو یاد کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس کلام کو سب کے لیے آسان فرما دیا ہے اور اس کی خبر بھی فرمائی ہے ((((( وَلَقَدْ يَسَّرنَا الْقُرآنَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ ::: اور یقیناً ہم نے قران کو آسان فرما دیا ہے تو ہے کوئی نصحیت پانے اور یاد کرنے والا ))))) سورت القمر/ آیت17. ::::::: قران کریم کی حفاظت کے اس معجزاتی سبب اور طریقے کے ذریعے ہمیں بہت سے گواہ اور ثبوت ملتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما چکا ہے ، یہ واقعہ ہی دیکھیے :::
ایک دفعہ ایک یہودی مامون الرشید کے دربار میں حاضر ہوا اور مامون کے سامنے کچھ گفتگو کی جو بہت ہی بہترین انداز میں تھی ، اس کے انداز کلام اور علم کو دیکھ کر مامون بہت متاثر ہوا اور اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اسے مال و عطاء کی رغبت بھی دلائی ، لیکن وہ یہودی یہ کہہ کر چلا گیا کہ """میرے باپ دادا کا دین ہی میرا دین ہے """ ، پھر اگلے سال یہی یہودی مامون الرشید کے دربار میں آیا اور فقہ کے بارے میں بہت اچھے انداز میں بات کی ، مامون نے اس کی باتیں سن کر کہا """ کیا تُم وہی نہیں ہو ؟ """ یعنی وہی جسے میں نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور اُس نےقبول نہیں کی تھی ،
اس نے کہا """ جی ہاں میں وہی ہوں """
مامون نے کہا """ تو پھر(میری دعوت چھوڑ کر اس کے بعد )تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا بنا ؟ """
اُس نے کہا """ میں آپ کے پاس سے نکلا تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان ادیان (تینوں دین) کا امتحان کروں ، آپ جانتے ہیں کہ میری لکھائی بہت اچھی ہے ، لہذا میں نے یہاں سے جانے کے بعد سب سے پہلے تورات کے تین نسخے لکھے اور اُن میں کمی اور زیادتی کی ، پھر انہیں لے کر گرجا میں گیا اور سب نسخے فروخت کر دیے ،
اس کے بعد میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر انہیں لے کر بیعۃ (یہودیوں کی عبادت گاہ) میں گیا اور وہ سب نسخے فروخت کر دیے ،
اس کے بعد میں نے قران کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر اسے کچھ مسلمانوں کے پاس لے گیا تو انہوں نے ان نسخوں کو لےکر دیکھنا اور پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی بعد انہوں نے وہ نسخے خریدنے کی بجائے مجھے مارنے کے لیے پکڑ لیا ، کیونکہ انہوں نے ان نسخوں میں میری طرف سے کی گئی کمی اور زیادتی کو فوراً ہی پکڑ لیا تھا ، اس طرح مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ یہی کتاب محفوظ ہے اور یہی اس دِین کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے ، لہذا میں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گیا ،
یہ واقعہ اور اس طرح کے کئی واقعات قران حکیم کے محفوظ رہنے کی ایک مستقل حسی دلیل ہیں جن سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ، پس جو کوئی قران کریم میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی واقع ہو جانے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہی نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر جُھوٹ باندھنے والا ہے اور اللہ کے فرمان کا منکر یعنی کافر ہے ،
اللہ کے آخری اور حتمی دِین کی دو میں ایک بنیادی اساس قران کریم کی لفظی حفاظت کا ذمہ تو اللہ نے لیا اور اللہ تعالی سے بڑھ کر اور کوئی سچا نہیں ، اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا نہیں ،
اسلام کے دشمنوں نے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے کے بعد یہ جان لیا کہ اللہ کی اس کتاب میں وہ لوگ کسی طرح کی لفظی تبدیلی نہیں کر سکتے نہ کوئی کمی کر کے اور نہ کوئی زیادتی کر کے ، تو انہوں نے قران کے فہم میں معنوی تحریف کا راستہ اپنایا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے ، اور ہیں ،
قران کو سمجھنے کے لیے اپنی اپنی عقل اور رائے ، منطق اور فلسفہ کا استعمال رائج کیا گیا ،ا ور ان کا سب سے پہلا زہریلا پھل یہ نکلا کہ قران کو سمجھنے کا سب سے پہلا ، بنیادی ترین اور درست ترین ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قولی ،فعلی اور تقریری سُنّت مبارکہ کو قران کے مقابل بنایا گیا اوراُمت مسلمہ کے ہر کس و ناکس کو بظاہر قران کا محب اور قران پر عمل پیرا ہونے کےزعم میں مبتلا کرنے کی کوشش کے ذریعے یہ کج روی سُجھائی جانےلگی کہ وہ اپنی سوچ و فکر کی بنا پر سُنّت کو رد یا قبول کرتا رہے ،
پس ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو قران کریم میں مذکور اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ مبارک میں سے چند ایک کے بھی لفظی و لغوی معانی نہیں جانتے چہ جائیکہ ان کے احکام اور اللہ کی مراد جانتے ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کو رد کرتے ہیں ، اور قران کی معنوی تحریف کرتے ہیں ، لیکن یہ بھول جاتے ہیں ((((( إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ))))) میں کیے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ ہر دور میں اپنے اِیمان والے بندوں میں سے ایسے بندے ظاہر فرماتا رہتا ہے جو اللہ کے کلام کی اس معنوی تحریف کے دجل کو بھی ظاہر کر کے باطل کرتے رہتے ہیں ، اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس آخری کتاب اور اس میں موجود اپنے احکامات کو محفوظ رکھے گا ،
((((( يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ::: چاہتے ہیں کہ اپنے منہوں (کی پھونکیں ) سے اللہ کی روشنی بُجھا دیں اور اللہ انکار کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنی روشنی مکمل کر کے ہی رہے گا بے شک کافر جتنا بھی نا خوش ہوں ))))) سورت التوبہ / آیت 32 ۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو کافروں کی ہر چال سے محفوظ رکھے اورہر شر سے محفوظ رکھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Adeeba (24-10-09), shafresha (22-10-09), فاروق سرورخان (22-10-09), کنعان (14-12-09), مرزا عامر (10-09-10), حیدر Rehan (14-11-09), عبداللہ حیدر (22-10-09)
پرانا 16-11-09, 02:12 AM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل بھائی، سلام علیکم،

اس میں شبہ نہیں‌کہ آپ کی معلومات کا معترف ہوں لیکن آج آپ کے قلم سے جو کچھ نکلا ہے اس پر میں آپ کی طرف سے کیا جانے والا ہر قسم کا جملہء‌ معترضہ معاف کرتا ہوں۔

بھائی عادل سہیل لکھتے ہیں : (دلی شکریہ کے ساتھ)
اقتباس:
اُس ویب سائٹ تک رسائی آپ ہی کے سبب سے ہوئی ہے ، آپ نے قران کے نسخوں والے تھریڈ میں اس کے کئی لنکس دیے ، اور میں نے جب ان کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ،
اقتباس:
آپ نے یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والی جس ویب سائٹ کے لنک دیے ہیں ، یہاں بھی اور ایک دوسرے تھریڈ میں بھی وہ اصل نہیں ، وہاں تو مجھے آج روایات تو کیا اصل کتاب کی اندرونی کتب کی ارقام بھی مختلف نظر آئی ہیں ، پس کوئی فاتر العقل ہی ایسی کسی جگہ پر لگائی گئی ارقام کی بنا پر اصل کتابوں کو با عیب سمجھے گا ،
اقتباس:
صحیح مُسلم کی اندرونی کتابوں کی ترقیم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ آپ کی یہودیوں سے دوستیاں بنانے والی ویب سائٹ نے بد دیانتی سے کام لے کر وہاں ان کتابوں کی ترتیب میں ہیر پھیر کیا ہے ،
وزارت شئوون الاسلامیہ سعودی عرب کی جس سائٹ کا آپ نے لنک دیا ہے اس کو ہی ذریعہ گھوم پھر کر دیکھ لیتے تو صحیح مُسلم کے ابواب کے اصل قدیم عناوین اور ان کی ترقیم کا پتہ چل جاتا ،
اور آپ کی یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والی ویب سائٹ کی بد دیانتی کا بھی پتہ چل جاتا کہ وہاں """ کتاب الصلاۃ """ کے بعد کی سات کتابوں کو گول کر دیا گیا ہے اور انہیں اپنے طور """ کتاب الصلاۃ """ میں داخل کر دیا گیا !!!
اقتباس:
جو انگریزی ترجموں اور علمی بددیانتی والی یہودیوں مکسچرویب سائٹس سے احادیث پڑھ کر سنت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو قبول و رد کرتا ہو ،
جو ایسے مصادر سے سیکھ سیکھ کر امت کے اماموں اور علما کے کاموں میں نقص نکالتا ہو اور انہیں """ جاہل ملا """ کہتا ہو ،

میں آپ کے کسی بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کررہا۔ آپ کے الفاظ میں، ---- کم از کم اس ایک ویب سائیٹ پر ---- کچھ روایات کی (یا سب روایات کی) ترقیم درست نہیں، ترجمہ اصل متن سے نہیں ملتا، ترتیب درست نہیں اور روایات رد کی گئی ہیں اور خارج کی گئی ہیں اور داخل کی گئی ہیں۔ ------- اس معاملہ میں تھوڑا سا غلط نہیں ہوتا بلکہ یا غلط ہوتا ہے یا صحیح۔ لہذا اس ویب سائیٹ کا مواد غلط ہے۔

کیا ہم کہہ سکتے ہیں‌کہ اس ویب سائیٹ پر روایات کی جن کتب کو پیش کیا گیا ہے یا جن کتب روایات کا ترجمہ کیا گیا ہے وہ ---- ترتیب، ترقیم، ترجمہ، متن، تعداد کے لحاظ سے ناقابل قبول ہیں؟

اگر آپ اس سے متفق ہیں تو بہت ہی شکریہ۔۔۔۔۔ یہی میں‌برسوں سے کہہ رہا ہوں۔

آپ جانتے ہیں‌کہ میں روایات سے غلیل بازی نہیں‌کرتا۔ جو روایات بھی خلاف قرآن ہیں وہ ناقابل قبول ہیں۔ یہ میرا مؤقف ہے اور آپ ایسی روایات اور کتب روایات اب خود بھی دیکھ چکے ہیں۔ مزید جیسے جیسے موقع ملتا گیا، اس "روایت ٹیکنالوجی" کی مدد سے مزید ایسی کتب جن میں تمام مندرجہ بالاء نقائص‌ موجود ہیں اور جو مختلف ممالک سے شائع ہوئی ہیں آپ کو حسب المقدور پیش کرتا رہوں گا۔

آپ کے جو الفاظ میں نے من وعن اوپر اقتباساً‌ پیش کئے ان پر دست بوسی

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-11-09, 12:38 AM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
عادل بھائی، سلام علیکم،

اس میں شبہ نہیں‌کہ آپ کی معلومات کا معترف ہوں لیکن آج آپ کے قلم سے جو کچھ نکلا ہے اس پر میں آپ کی طرف سے کیا جانے والا ہر قسم کا جملہء‌ معترضہ معاف کرتا ہوں۔
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، جزاک اللہ خیرا ، ((((( ذَلکَ فضلُ اللہِ یؤتیہِ مَن یَشاء )))))
جن کا آپ جواب نہ سے سکیں اُن باتوں کے لیے آپ ایسے ہی عذر تلاش کرتے ہیں بہر حال ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میں آپ کے کسی بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کررہا۔ آپ کے الفاظ میں، ---- کم از کم اس ایک ویب سائیٹ پر ---- کچھ روایات کی (یا سب روایات کی) ترقیم درست نہیں، ترجمہ اصل متن سے نہیں ملتا، ترتیب درست نہیں اور روایات رد کی گئی ہیں اور خارج کی گئی ہیں اور داخل کی گئی ہیں۔ ------- اس معاملہ میں تھوڑا سا غلط نہیں ہوتا بلکہ یا غلط ہوتا ہے یا صحیح۔ لہذا اس ویب سائیٹ کا مواد غلط ہے۔

کیا ہم کہہ سکتے ہیں‌کہ اس ویب سائیٹ پر روایات کی جن کتب کو پیش کیا گیا ہے یا جن کتب روایات کا ترجمہ کیا گیا ہے وہ ---- ترتیب، ترقیم، ترجمہ، متن، تعداد کے لحاظ سے ناقابل قبول ہیں؟

اگر آپ اس سے متفق ہیں تو بہت ہی شکریہ۔۔۔۔۔ یہی میں‌برسوں سے کہہ رہا ہوں۔
بھائی جی ، کیا آپ کو سمجھ نہیں آئی یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ قارئین آپ کی ایسی باتوں سے جھانسے میں آ سکتے ہیں ،
جناب ، میرے مراسلات کو غور سے پڑہیے ، میں نے آپ کی یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والی ویب سائٹ پر پیش کردہ احادیث کی کتابوں کے ترجمے میں بد دیانتی کو آشکار کیا ہے ، اور یہ بتایا ہے کہ اصل کتابوں میں اندرونی کتابوں ، ابواب اور احادیث کی ترقیم ایسی نہیں جیسی اُس ویب سائٹ پر بنائی گئی ہے ،
اس میں اصل کتابوں پر کوئی عیب نہیں ، بلکہ اُس ویب سائٹ پر اصل کتابوں میں رد و بدل کر کے جو مواد ان کتابوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہ عیب دار ہے ، لیکن ،،،،،،،،،،،کیا خوب کہا ہے کسی نے ، ساون کے اندھے کو ہرا ہی سوجھتا ہے ،
بڑے بھائی آپ خود ہی مان رہے ہیں کہ اُس ویب سائٹ پر موجود مواد غلط ہے اور پھر اسی غلط مواد کو اصل کتابوں کی پرکھ کی کسوٹی بنا رہے ہیں !!!!!!!!!!!!!!
کیا خوب انداز ہے کسی چیز کی درستگی کی پرکھ کا کہ کسوٹی ہی وہ اپنائی جا رہی جو بذات خود غلط پے

آپ برسوں سے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اس ویب سائٹ پر موجود تحریف شدہ مواد جیسے مواد کو دیکھ کر ہی کہتے ہوں گے ، کبھی اصل کتابوں کو بھی دیکھیے ، بلکہ پڑہیے ، ان شاء اللہ فائدہ ہو گا ،
اب آپ کے اُس مراسلے کی طرف آتا ہوں جس کا جواب ابھی باقی تھا کہ آپ کہ یہ مراسلہ سامنے آ گیا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-11-09, 12:50 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
حسب دستور ، کچھ لوگ اصل معاملہ سے دور اور اصل موضوع سے دور ہو کر صرف اور صرف کردار کشی کی کوشش کی ہے۔
جب تک انسان صرف انسان کے نقص نکالتا رہے اور موضوع پر توجہ مرکوز نہ کرسکے اس کو چاہئیے کہ اپنی "عاقلانہ رائے" اپنے آپ تک محدود رکھے۔

میرے محترم بھائی، آپ کےتمام ذاتی حملے ایک طرف رکھ رہا ہوں اور آرہا ہوں واپس اس موضوع پر۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، اتنا غصہ مت کیا کیجیے کہ سلام بھی چھٹ جائے ،
یہ دستور آپ کا ہے اور اس پر آپ کا عمل پیرا رہنا ہر اس جگہ بہت نمایاں ہے جہاں جہاں میری اور آپ کی یا دیگر بھائیوں کی اور آپ کی گفتگو ہوتی رہی ہے ،
بھائی جی ، الحمد للہ میں موضوع سے بالکل نہیں ہٹا ، جو کچھ آپ نے لکھا ، حدیث کی کتابوں اور اماموں کے بارے میں جو طعن آپ نے کیے ان ہی کا سارا جواب دیا ہے ،
پس جب آپ کے اس طعن و تشنیع اور اس کی لا علمی پر مبنی بنیاد کا انکشاف ہوا تو """ حسب دستور """" آپ اُس کو """ کردار کُشی """ اور """ انسان کے نقص """ نکالنے جیسے الفاظ سے تعبیر کر کے قارئین کی توجہ آپ کی غلطیوں سے ہٹانے کی سعی میں مشغول ہو گئے ،
بڑے بھائی ، جب آپ نے محدثین کی ذات اور ان کی عظیم الشان پُر مشقت محنتوں کو محض اپنے ذاتی خیالات اور یقیناً لا علمی پر مبنی خیالات کی بنا پر ناقص قرار دیتے ہیں تو اُس وقت آپ کو اپنا یہ فرمان یاد نہیں رہتا """""" جب تک انسان صرف انسان کے نقص نکالتا رہے اور موضوع پر توجہ مرکوز نہ کرسکے اس کو چاہئیے کہ اپنی "عاقلانہ رائے" اپنے آپ تک محدود رکھے۔ """""""
جزاک اللہ خیرا ، فاروق بھائی ،کہ جس بات کو آپ اپنے تیئں """ ذاتی حملہ """ سمجھ رہے ہیں اس سے در گزر کر رہے ہیں ،
چلیے اسی موضوع کی طرف چلتے ہیں جسے آپ اصل موضوع کہہ رہے ہیں ،،،،،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-11-09, 01:05 AM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

اصل موضوع تھا۔ کہ ایک خلاف قرآن روایت پیش کی گئی جو کہ انگریزی اور عربی دونوں میں ہے۔ جن لوگوں‌کا یہ کارنامہ ہے کہ رسول اکرم صلعم اور صحابہ کرام (ر) پر اتنا بڑا بہتان باندھا، کہ وہی بزرگ نبی جس پر قرآن حکیم کی شادی و نکاح کی آیات نازل ہوئیں ، وہ اصحابہ جو ان کے اشارے پر جان قربان کرنے کو تیار۔ ان پر ایسا بہتان کہ ویرانہ میں دو لڑکیاں‌پسند آگئیں اور ان سے فوری فائیدہ اٹھا کر ان صحابہ کو رسول اکرم کے پاس لایا جارہا ہے ، جس کو رسول اکرم درست قرار دے رہے ہیں۔ آپ سمجھانا
کیا چاہتے ہیں صاحب؟ یہ وہی نبی ہیں‌جنہوں نے امت مسملہ میں نکاح کی قدریں قائم کیں اور اس روایت کو دیکھئے کہ منسوب کرنے والوں‌نے یہ تمام قدریں یک دم پامال کروادیں؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، اس اصل موضوع پر بلکہ ساری ہی بحث سے دور رہنے کے لیے میں نے آغاز میں ہی عرض کیا تھا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اور بھلا ہو گا کہ جہاں یہ روایت ہے وہاں اس کے آگے پیچھے والی اسی موضوع کی دیگر روایات کا بغور مطالعہ فرمایے ،
لیکن ،،،،،،،،،،،، یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والوں کے میسر کردہ انگلش ترجموں کی بجائے اصل عربی کتابوں میں ملاحظہ فرمایے ،
اور موضوع پر میسر ساری روایات کا مطالعہ فرمایے ،
کچھ شروح کا بھی مطالعہ فرمایے ، اس واقعے کے زمانہ کا بھی پتہ کجیے ،
اور پھر مزید دو بار اس کو دہرایا ، لیکن ،،،،،،،،،،
شاید آپ کو سمجھ نہیں آئی اور آپ صرف اُس سبق کو دہرانے پر لگے ہوئے جو کہیں سے آپ کو رٹا دیاگیا ہے ، ( یہ ذاتی حملہ نہیں آپ کے مبلغءِ عِلم کے بارے میں ایک حقیقت ہے )
فاروق بھائی ، جس روایت کو آپ اپنی لا علمی کی بنا پر بہتان کہہ کر امام مسلم علیہ رحمۃ اللہ پر بہتان لگا رہے ہیں ، بلکہ امام مسلم علیہ رحمۃ اللہ سے لے کر ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہُ تک نو9 راویوں پر بہتان لگا رہے ہیں ،
اور انتہائی افسوس ناک بلکہ شرم ناک بات یہ ہے کہ آپ نے اس واقعہ کو بالکل غلط بیانی سے کام لے کر کچھ کا کچھ بنا کر ذکر کیا ہے ،
آپ کے انگریزی ترجمے ،،،،،،،،،،
پچھلے مراسلات میں بار ہا کہا تھا کہ اس روایت کو غور سے پڑہیے ، اور اس کے ارد گرد والی روایات کو بھی پڑہیے ، لیکن،،،،،،،،،،،
لیجیے اب میں وہ روایت حرف بحرف نقل کرتا ہوں اور یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو آپ نے بھی نقل کیے ہیں ، اورمیں اس کا ترجمہ بھی کرتا ہوں ان شاء اللہ :::
""""""" عن بن مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قال دَخَلتُ أنا وأبو صِرمَةَ على أبي سَعِيدٍ الخُدرِيِّ فَسَأَلَهُ أبو صِرمَةَ فقال يا أَبَا سَعِيدٍ هل سَمِعتَ رَسُولَ اللَّهِ صلّی اللہُ عَلیہِ و علی آلہ وسلم يَذكُرُ العَزلَ ؟
ابن محیریز رحمۃُ اللہ علیہ کی طرف سے روایت ہے کہ ، میں اور ابو صِرمہ ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ کے پاس گئے تو ابو صِرمہ نے اُن سے پوچھا """ اے ابا سعید کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو عزل کے بارے میں بات کرتے ہوئے سُنا ؟ """
فقال نعم غَزَونَا مع رسول اللَّه صلّی اللہُ عَلیہِ و علی آلہ وسلم غَزوَةَ بَلمُصطَلِقِ فَسَبَينَا كَرَائِمَ العَرَبِ فَطَالَت عَلَينَا العُزبَةُ وَرَغِبنَا في الفِدَاءِ فَأَرَدنَا أَن نَستَمتِعَ وَنَعزِلَ ::: تو انہوں نے فرمایا جی ہاں ، ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ مُصطلق میں (بنو مُصطلق) پر جِہاد کیا تو ہم نے عرب کی باعزت عورتوں کو قیدی بنایا ، اس دوران ہم لوگوں پر اکیلے پن (یعنی بیویوں کے بغیر رہنے ) کی مدت لمبی ہو گئی اور ہمیں اُن قیدی عورتوں کے عوض مال حاصل کرنے کی بھی اُمید تھی تو ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اُن عورتوں سے جنسی طور پر فائدہ حاصل کریں اور ( جنسی تعلق کی تکمیل میں) عزل کریں ،
فَقُلنَا نَفعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلّی اللہُ عَلیہِ و علی آلہ وسلم بين أَظهُرِنَا لَا نَسأَلُهُ ::: تو ہم نے کہا ہم یہ کام کریں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں ، نہیں ہم ( ایسا کرنے سے پہلے ) رسول اللہ صلّی اللہُ عَلیہِ و علی آلہ وسلم سے پو چھیں گے ،
فَسَأَلنَا رَسُولَ اللَّهِ صلّی اللہُ عَلیہِ و علی آلہ وسلم ::: تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے پوچھا فقال ::: تو انہوں نے اِرشاد فرمایا ((((( لَا عَلَيكُم أَن لَا تَفعَلُوا ما كَتَبَ اللَّه خَلقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إلى يَومِ القِيَامَةِ إلا سَتَكُونُ ::: تُم لوگوں کے لیے ضروری نہیں کہ تُم لوگ ایسا نہ کرو ، اللہ نے قیامت تک جِس جِس جان کی تخلیق مقرر فرما رکھی ہے وہ (تخلیق ) ہو کر ہی رہے گی )))))
اس کا انگریزی ترجمہ آپ نے یہ لکھا :::
Abu Sirma said to Abu Sa'id al Khadri (Allah he pleased with him): 0 Abu Sa'id, did you hear Allah's Messenger (may peace be upon him) mentioning al-'azl? He said: Yes, and added: We went out with Allah's Messenger (may peace be upon him) on the expedition to the Bi'l-Mustaliq and took captive some excellent Arab women; and we desired them, for we were suffering from the absence of our wives, (but at the same time) we also desired ransom for them. So we decided to have sexual intercourse with them but by observing 'azl (Withdrawing the male sexual organ before emission of semen to avoid-conception). But we said: We are doing an act whereas Allah's Messenger is amongst us; why not ask him? So we asked Allah's Mes- senger (may peace be upon him), and he said: It does not matter if you do not do it, for every soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی تو اب آپ یہ بتایے کہ یہ وہی روایت ہے جس کے خلاف آپ واویلا کر رہے ، اور بالکل غلط بیانی سے کام لے کر کہہ چکے ہیں کہ """"""" ان پر ایسا بہتان کہ ویرانہ میں دو لڑکیاں‌پسند آگئیں اور ان سے فوری فائدہ اٹھا کر ان صحابہ کو رسول اکرم کے پاس لایا جارہا ہے ، جس کو رسول اکرم درست قرار دے رہے ہیں۔ آپ سمجھانا کیا چاہتے ہیں صاحب؟ """""""
آپ کا یہ جھوٹ اس عربی متن ، اور اس کی انگریزی ترجمہ میں کہاں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
::::::: بڑے بھائی میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ شدید ترین غلطی پر ہیں ،
آپ کا مذکورہ بالا جھوٹا بیان پڑھ کر اب تو یہ حسن ظن بھی نہیں رکھا جا سکتا کہ """ حسب دستور """ غلط تراجم پر انحصار کرتے ہوئے ، یا اپنی لا علمی کی بنا پر غلط ترجمہ کرتے ہوئے آپ اس طرح الزام تراشی کرنے اور جھوٹ بولنے کا شکار ہو رہے ہیں ، بلکہ معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ جو بات آپ نے لکھی وہ تو کسی طور غلط ترجمہ کے کھاتے میں بھی نہیں پڑ سکتی ،،، تو ،،، آپ جان بوجھ کر احادیث کو ایسے رنگ میں ذکر کر رہے جو سراسر غلط ہے اور پھر """ حسب دستور """ قارئین کے جذبات کو ابھارنے والے الفاظ اور اسلوب کا سہارا لے کے اپنی اس دھوکہ دہی کو چھپانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں ،
فاروق بھائی ، میں یہ سمجھانا چاہ رہا ہوں کہ یہ وہی نبی ہیں جنہوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ، اللہ کے احکام کے مطابق جب جب جس جس کام کے بارے میں جو جو حکم ہوا اُس کو مکمل ترین امانت داری سے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم تک پہنچا دیا ، اور ان اصحاب رضی اللہ عنہم نے اپنے بعد والوں کو اور اسی طرح یہ احکام اگلی نسلوں تک پہنچتے رہے ،
آپ کو اس روایت میں ایسی کونسی چیز نظر آ رہی ہے جو آپ کے """ خلاف قران """ فلسفے کے مطابق درست نہیں ؟؟؟؟؟؟؟
اور ایسی کون سی بات نظر آ رہی جو اُن احکامات کے خلاف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نکاح کے بارے میں دیے ؟؟؟؟؟؟؟
الحمد للہ مجھے خوب اندازہ ہے کہ آپ کو کیا شبہہ وارد ہے ، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے لکھا کہ """ جناب ، اس اصل موضوع پر بلکہ ساری ہی بحث سے دور رہنے کے لیے میں نے آغاز میں ہی عرض کیا تھا کہ """ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اور بھلا ہو گا کہ جہاں یہ روایت ہے وہاں اس کے آگے پیچھے والی اسی موضوع کی دیگر روایات کا بغور مطالعہ فرمایے ،
لیکن ،،،،،،،،،،،، یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والوں کے میسر کردہ انگلش ترجموں کی بجائے اصل عربی کتابوں میں ملاحظہ فرمایے ،
اور موضوع پر میسر ساری روایات کا مطالعہ فرمایے ،
کچھ شروح کا بھی مطالعہ فرمایے ، اس واقعے کے زمانہ کا بھی پتہ کجیے ،
لیکن ،،،،،،،،،،،،
چلیے ایک دفعہ پھر کہتا ہوں کہ اس روایت کو غور سے پڑہیے ، جی پڑہیے ، اس میں بڑی وضاحت سے ذکر ہے کہ یہ واقعہ بنو مصطلق پر معرکہ جہاد کے دوران کا ہے ،
کسی ویرانے میں عورتیں پکڑنے کا نہیں ، اب ذرا یہ دیکھیے کہ یہ غزوہ کب پیش آیا تھا ؟؟؟ اور اس کے بعد بتایے کہ :::
آپ کو اس روایت میں ایسی کونسی چیز نظر آ رہی ہے جو آپ کے """ خلاف قران """ فلسفے کے مطابق درست نہیں ؟؟؟؟؟؟؟
اور ایسی کون سی بات نظر آ رہی جو اُن احکامات کے خلاف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نکاح کے بارے میں دیے ؟؟؟؟؟؟؟
،،،،،،،،،،،،،،،،،،، چلیے آپ کے دیگر فرامین پر کچھ بات کرتے ہیں ،،،،،،،،،،،،،،،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-12-09), عبداللہ حیدر (17-11-09)
پرانا 17-11-09, 01:20 AM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا یہ جناب کا ایمان ہے کہ یہ کتب قرآن کی آیات کو منسوخ کرتی ہیں؟۔۔ کیا اسی قرآن کو جس میں ناسخ و منسوخ ہیں؟
بلکہ اس جھنجھٹ میں بھی کیوں پڑیں ان کتب کی روشنی میں تو تمام قرآن ہی منسوخ قرار پاتاہے۔ نعوذ باللہ

قرآن حکیم میں کوئی آیت ایسی نہیں جو قرآن کی آیات کو منسوخ کرتی ہو۔ ایسے احکامات ضرور ہیں جو پرانی کتب کے احکامات کو منسوخ کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی آیات کی تنسیخ ، معاذ اللہ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ،
بہت دفعہ کہہ چکا ہوں آپ اپنے ایمان کی خیر منایے ، اگرلا علمی پر مبنی ذاتی افکار کی بنا پر صحیح سنت کو رد کرنا اِیمان ہے !!! تو اللہ ہر کلمہ گو کو ایسے اِیمان سے محفوظ ہی رکھے ،
یاد رکھیے دوسروں کے ایمان کے آپ ذمہ دار نہیں ،


چلتے چلتے ذرا یہ تو بتایے کہ اِیمان کی تعریف کیا ہوتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟
مجھے اُمید ہے کہ ان شاء اللہ آپ کوئی مدلل جواب نہ دے سکیں گے ، ہو سکتا ہے کسی سرچ انجن کے ذریعے کوئی کیوری رن کر کے اِیمان سے متعلقہ آیات مبارکہ کا ذکر کر دیں لیکن تعریف بیان نہیں کر پائیں گے ، اور پوچھتے ہیں دوسروں کا ایمان ، اور حکم لگاتے ہیں دوسروں کے اِیمان پر ،
میں پہلے بھی ایک جگہ آپ سے کہہ چکا ہوں کہ """ محترم بھائی ، آپ کون ہوتے ہیں کسی کے ایمان کا امتحان لینے والے ؟؟؟ جس ملک میں رہتے ہیں کبھی وہاں کے کافروں سے ان کے ایمان کا پوچھا ہے ؟؟؟ """
اوریہ بھی کہہ چکا ہوں کہ ::: """"" اپنی خیر منایے اور دوسروں کے ایمان پر حکم لگانا چھور دیجیے یقین رکھیے اللہ کے ہاں اس کا جواب دینا اتنا بھاری ہو گا کہ آپ کی ساری کی ساری """ اعلی ترین تعلیم """ بھی اس کا حساب تو کیاا ندازہ بھی نہیں کر سکتی
آپ بار بار دوسروں کے ایمان پر حملہ آور ہوتے ہیں تا کہ کوئی اس کے جواب میں ایسی بات کہہ دے جو آپ کو قارئین و سامعین کی جذباتی ہمدردیاں حاصل کرنے میں مدد دے سکے ، تو جناب ان شاء اللہ مجھ سے تو ایسی توقع مت رکھیے، آپ جس قدر میرے ایمان پر الزام لگانا چاہیں لگایے ، ان شاء اللہ ، یہ سب میری آخرت میں میرے لیے ، میری دُنیا سے زیادہ فائدہ مند ہو گا """"

میرا اِیمان یہ ہے کہ صحیح ثابت شدہ سُنت مبارکہ قران پاک کی تفسیر ہے ، شرح ہے ، بیان ہے ، مخالف نہیں ، ناسخ نہیں ،
میں یہ نہیں کہوں گا کہ آپ کا اِیمان کیا ہے ؟ کیوں مجھے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں آپ کے اقوال آپ کے اِیمان کے خوب آئینہ دار ہیں ،

فاروق بھائی ، آپ یقیناً رمضان میں روزے رکھتے ہوں گے ، اور میرا حسن ظن ہے کہ نفلی روزے بھی رکھتے ہوں گے ، ذرا یہ تو بتایے کہ آپ سحری اور افطاری کس کس وقت کرتے ہیں اور کس وجہ سے وہ اوقات اپناتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟
اور یہ بھی بتایے کہ جس عورت کو حیض آنا بند ہو گیا ہو یا حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اُن کو طلاق ہو جانے کی صورت میں اُن کی عِدت کی مدت کیا ہوتی ہے؟؟؟؟؟؟؟
اگر آپ ان سوالات کے جوابات دے سکیں تو ان شاء اللہ آگے بات ہو گی ،
اور ان شا اللہ قران میں سے ناسخ اور منسوخ کے بارے میں ایک الگ تھریڈ میں معلومات مہیا کروں گا ، جی چاہے تو اس موضوع پر وہاں بات کر لیجیے گا،
اب میرے مندرجہ بالا سوالات کے جوابات عنایت فرما دیجیے یہ فرما کر فرار مت ہویے گا کہ
""" آپ کے سوالات بیانیہ ہوتے ہیں اور بہت بکھرے ہوئے ہوتے ہیں """
ویسے آپ کا یہ عذر بھی آپ کی محدود سمجھ کی دلیل ہے ، بہر حال ،،،،،
آپ قران پاک میں سے کچھ احکام کے منسوخ ہونے سے منکر ہیں ، میں نہیں ، اور یہ کہتا ہوں کہ ((((( اَعوذُ باللہ اَن اَکونَ مِن الجاھلین ::: میں جاہلوں میں سے ہو جانے سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں )))))) ۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-12-09), عبداللہ حیدر (17-11-09)
پرانا 17-11-09, 01:46 AM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
نکاح کے احکامات کو معطل کردینے والے یہ بہتان یقیناً ان کتب کے اصل مرتبین نے نہیں باندھے ہونگے، یہ یقینی طور پر دشمناں اسلام کی کاروائی ہے۔ ایسے بہتان باندھنے والوں نے جناب کے خیال میں‌ قرآن کی حفاظت کی؟ توبہ توبہ توبہ توبہ!

رسول اکرم کی سنت سے الحمد للہ یہ ذہن و قلب منور ہیں۔ الحمد للہ ، الحمد للہ

لیکن ان روایات کو جو ایک مرتبیں کو درست اور دوسرے کو غلط معلوم ہوں ، جو نہ عقلی معیار پر پوری اترتی ہوں اور نہ ہی قرآن سے ان کی توثیق ہو پائے ، ان پر کوئی بھی تاویل لے آئیے وہ پڑھنے کے قابل ہی نہیں۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بڑے بھائی ، میرے سابقہ مراسلات میں اس روایت کے مطالعے کے بارے میں میری باتوں پر غور فرمایے ، اور مطالعہ فرمایے ،
اللہ کرے کہ آپ کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پہچان ہی ہو جائے ، خوش فہمی بڑی بری ہوتی ہے ،
بھائی جی ، کسی روایت کا ایک محدث کے ہاں صحیح ہونا اور دوسرے کے ہاں ضعیف ہونا اپنے ذاتی افکار اور لاعلمی پر مبنی فلسفوں کی بنا پر نہیں ہوتا ، اس کی سمجھ آپ کو صرف اسی وقت آ سکتی ہے جب آپ مدتوں تک علوم الحدیث کا مطالعہ کریں گے ،
محدثین رحمہم اللہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کی حفاظت کا عظیم کام لیا ، اور اس میں کوئی شک نہیں ، ان کو قران کی حفاظت کرنے والا میں نے کب کہا ہے بڑے بھائی ،
آپ کا یہ بیان بھی غالبآ ویرانے میں دو لڑکیاں ملنے والی کہانی کی طرح آپ کی ذاتی سوچ کا شاخسانہ ہے،

میں نے تو یہ لکھا تھا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
احادیث کی کتابیں مرتب کرنے کی‌ضرورت اس لیے پیش آئی کہ دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں تک ان کے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ اس طرح محفوظ ہو کر پہنچے کہ اس میں کم سے کم تبدیلی کا امکان ہو ، لکھی ہوئی با سند روایات ہوں اگر کہیں کوئی اونچ نیچ ہونے لگے تو ایک دوسرے کی یاد داشت کے ساتھ ساتھ لکھے ہوئے نسخوں کی مدد سے جانچ پڑتال کر لی جائے ،
بھائی جی آپ حدیث پاک کی کتابوں اور """ اُس """ کے مرتبین کے بارے میں غلط فہمی کا نہیں بلکہ جہالت کا شکار ہیں ،
صحاح ستہ ایک اصطلاح ہے جسے بہت بعد میں مسلمانوں نے بنایا ،
محدثین اور مححقق عُلما کے ہاں آج تک """ صحاح ستہ """ نامی کسی چیز کو نہیں مانا گیا ،
رہا معاملہ واقعتا احادیث کی روایات کے صحیح ہونے کا تو اس کا دعویٰ امام البخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کیا اور اللہ کی توفیق سے پورا کیا ، اور ان کے بعد امام مسلم نے اور اللہ کی توفیق سے انہوں نے بھی پورا کیا ،
کسی روایت کی درستگی اور نا درستگی کی جانچ کے لیے ایک وسیع علم ہے قواعد و قوانین ہیں جن کی شاید الف ب بھی آپ نہیں جانتے ، مجبورا پھر کہنا پڑتا ہے کہ محترم بھائی جی ، کسی علم کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اس کا تعارف اور اس کی تاریخ کے ابتدائی اسباق ہی سیکھ لیا کیجیے بلکہ آپ کو تو اس سے زیادہ کی شدید ضرورت ہے کیونکہ آپ نے محض اعتراضات ہی وارد کرنا ہوتے ہیں ، جن کی کوئی علمی وقعت نہیں ہوتی ۔
جو عقل اللہ کے کلام کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے سمجھنے کی بجائے اپنے نیم خواب فلسفوں کی مدد سے سمجھنے میں مشغول ہو اُس کا معیار حقائق کی پرکھ میں کوئی درجہ نہیں رکھتا ،
جی ہاں ، جب کسی کی غلط بیانوں اور """ عقل مندی """ کا پول کھلتا ہے تو ایسی باتوں کو پڑھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ،
ابھی ایک دو دن میں ان شاء اللہ آپ کے ایک دوسرے تھریڈ میں آپ سے کچھ گفتگو ہو گی اور ان شاء اللہ وہاں بھی اُس ""' عقل """ کے معیار کا کچھ اظہار ہو گا جسے خود اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کی سمجھ نہیں لیکن فیصلے کرتے ہے سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مقبول یا مردود ہونے کی ، و لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-12-09), عبداللہ حیدر (17-11-09)
پرانا 17-11-09, 02:06 AM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آپ کو ایک روایت کا اختصاریہ مفہوم عرض‌کرتا ہوں۔
"دعوت اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب رسول اللہ سے مکہ کے سرداروں نے دریافت کیا اے محمد (ص) تمہارے لائے ہوئے دین، اسلام سے ہوگا کیا تو رسول اکرم نے فرمایا ---- ایک نوجوان عورت، عرب کی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک سونا اچھالتی چلی جائے گی اور کوئی اس کو کچھ نہ کہے گا ----"

یہ وہ معیار ہے جو ہمیشہ ذہن میں رکھئے ۔۔۔۔ اس معیار کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچئیے کہ کیا یہ عظیم نبی کسی طور بھی ، ایسے جرم کی صریح اجازت دے سکتے ہیں کہ اجنبی عورتوں‌سے بلا کسی کی اجازت کے پسند آنے پر جنسی فائیدہ اٹھایا جائے اور اس کی اجازت رسول اکرم نکاح کے تمام فریم ورک کو ایک طرف اٹھا کر دے دیں؟؟؟؟

بھائی قرآن حکیم کے علاوہ جن کتب پر آپ نے ایمان رکھا ہوا ہے وہ مشکوک مواد سے بھری ہوئی ہیں۔ یاتو مان لیجئے کہ قرآن کا فراہم کردہ نکاح‌کا فریم ورک رسول اکرم نے اس روایات کے ساتھ ساتھ متروک کردیا تھا یا پھر مان لیجئے کہ عزل کی اجازت دینے والی کم از کم یہ ایک روایت قرآن کے احکامات کے خلا ف ہے ۔۔ اور یقینی طور پر یہودی سازش ہے

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا، جہاں‌ ان روایات کا انگریزی ترجمہ رکھا جارہا ہے اس پر مسلمان ہی کام کررہے ہیں ۔ آپ کو کوئی اعتراض ہے تو ان کو لکھئے۔ ان سے معلوم کیجئے کہ کیا صحیح‌ہے اور کیا درست؟ میں تو ان تمام کتب روایات کو جزوی طور پر مشکوک سمجھتا ہوں

والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، لگتا ہے آپ جہاد میں قید ہونے والی کافر عورتوں کے بارے میں احکام سے بھی لا علم ہیں ،
یا جانتے تو ہیں لیکن کسی کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کر سکتے ، یا کسی کو خوش کرنے کے لیے ایسی باتوں کو رد کرتے ہیں ،
یہاں سے ہم غلاموں اور لونڈیوں کے موضوع میں داخل ہو جائیں گے ، اور اس کے بارے میں آپ کی """ حسب دستور """ ( آپکا دستور) رائے مجھے معلوم ہے ، اور اس پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا ، مختصراً یہ کہتا ہوں کہ """ ما ملکت ایمانکم """" کا وہ مفہوم جاننے کی کوشش فرمایے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین تبع تابعین رحمہم اللہ کے ہاں قول اور فعلاً مروج تھا ، صدیوں بعد آنے والے کسی ایک شخص یا چند اشخاص کی اُن سب سے مخالفت یا اُن حقائق کا انکار کچھ حیثیت نہیں رکھتا ،
معاذ اللہ جُرم وہ نہیں جو ان سب بزرگ ہستیوں سے ثابت ہو بلکہ جُرم ان ثابت شدہ امور کا انکار ہے ،
فاروق بھائی ، باز آ جایے ، کسی کے ایمان پر حکم لگانے سے ، یقین مانیے اللہ کے ہاں اس کا جواب نہ دے پائیں گے ،

احادیث کی کتابیں آپ کے ہاں مشکوک ہونا ہی چاہیں کیونکہ آپ اللہ کے فرامین کو اپنی ذاتی سوچوں کے مطابق سمجھتے ہیں ، اور علوم الحدیث اور تدوین حدیث کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ، اور ظاہری سے بات ہے کہ جب کوئی کسی چیز کا علم ہی نہ رکھتا ہو تو اُس چیز کے بارے میں خوامخواہ کے شکوک کا شکار ہو گا ہی ،
بھائی جی گذارش ہے کہ """ حسب دستور """ ادھر ادھر کی باتوں کے ذریعے میرے سوالات سے فرار اختیار مت کیجیے گا ، جس طرح میں آپ کی ایک ایک بات کا جواب دیتا ہوں ، براہ مہربانی میرے سوالات کے جوابات عنایت فرمایے ،
ان شاء اللہ اگلی ملاقات آپ کے قران کے نسخوں والے تھریڈ میں ہو گی ، کچھ دن پہلے وہاں بھی ایک چھوٹا سا سوال پیش کیا تھا جو ابھی تک تشنگیء جواب لیے ہوئے آپ کا منتظر ہے ،
اور ان شاء اللہ مزید بھی پیش کرنے والا ہوں ،

الحمد للہ ، جس نے اپنے دین کی دو بنیادوں ، اپنی کتاب اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کی حفاظت کا خوب انتظام فرما رکھا ہے اور صدیوں سے ہمارے امام اور علما اللہ کی عطا کردہ توفیق سے یہ کام خوب اچھی طرح انجام دے رہے ہیں ،

لہذا مجھے اپنے دین کے بارے میں کچھ جاننے کے لیے ، اپنے دین کی کتابوں کے بارے میں کچھ جاننے کے ، کسی ایسی یونیورسٹی سے جو کافروں کے مال پر کام کر رہی ہو اور کافر بھی وہ جن کی مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی روز روشن سے بھی بڑھ کر عیاں ہے ، کچھ دریافت کرنے کی حاجت نہیں ، اور خاص طور پر کسی ایسی جگہ سے جہاں مسلمانوں کو یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی تلقین کی جاتی ہو ، اور ایسے ملک کی ایسی حکومت کے زیر نگرانی ہو جسکی رگ رگ مسلمانوں کے خون میں رنگی ہو، جس کا لمحہ لمحہ اسلام کے خلاف سازشوں میں مشغول رہتا ہو ،
آپ کے اس مشورے پر تو شکریہ بھی نہیں کہہ سکتا ،


برائے مہربانی اب یہاں امریکہ کی صفائی پیش کرنا شروع مت کیجیے گا ،
اپنے موضوع پر ہی رہیے گا اور میرے سوالات کے جوابات عنایت فرمایے گا ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ۔ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-11-09), کنعان (14-12-09), عبداللہ حیدر (17-11-09)
پرانا 17-11-09, 02:53 AM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی عادل سہیل سلام علیکم،

آپ کی عادات کو جانتے ہوئے، ذاتی حملہ ایک طرف رکھ رہا ہوں۔

جو کچھ آپ نے لکھا وہ حد درجہ معصومیت پر مشتمل ہے۔
1۔ یہ صرف اور صرف گمان ہے کہ یہ سنت رسول ہے۔ آپ کے پاس کیا کوئی وحی آئی ہے یا آپ کے پاس کوئی ایسی کتاب موجود ہے جو رسول اکرم کی موجودگی میں‌لکھی گئی تھی۔ یا آپ کے پاس وہ اصل کتاب موجود ہے جو کسی محدث نے لکھی تھی؟ آپ کیسے جانتے ہیں کہ موجودہ کتاب میں‌دشمنان اسلام نے کوئی ملاوٹ نہیں کی؟

2۔ یہ بھی آپ کا گمان ہے کہ یہ روایت کسی صحابی سے منسوب ہے۔ بلکہ آپ کو کیا کسی کو بھی یہ بھی علم نہیں‌کہ یہ روایت اور اس جیسی مزید روایات کب ان کتب میں‌داخل ہوئیں۔
3۔ جب آپ کے پاس کوئی دلیل یا ثبوت نہیں‌ہے کہ ایسی روایات کب کتب روایات میں داخل ہوئیں، اصل کتاب موجود نہیں‌، تو ان کتب پر یقین کرنے کی صرف اور صرف ایک وجہ رہ جاتی ہے وہ ہے ۔ ان کتب پر کامل ایمان۔۔۔ خاص‌طور پہ جب کہ یہ کتب خلاف قرآن روایات سے بھرپور ہیں۔

5۔ آپ کی ملکت ایمانکم کی تشریح جو بھی ہو ، قرآن کی تشریح‌ یہ ہے کہ کسی بھی عورت سے جنسی فائیدہ اٹھانے سے قبل نکاح یعنی شادی ضروری ہے۔ چاہے یہ حکومتی یعنی صاحب الامر کی اجازت کی شکل میں‌ہو یا عوام کو اطلاع کی شکل میں‌ہو، جنگ کی صورت یا خرید کی صورت میں ‌مہر کی کیا شکل ہو اس کے احکامات موجود ہیں لیکن زنا کی اجازت نہیں۔ بناء نکاح کے ایک جنگ میں‌ہاتھ آئی ہوئی عورت سے جنسی فائیدہ اٹھانا، یہ صرف اور صرف روایت زدہ حضرات کی اختراع ہے۔ اللہ تعالی قرآن حکیم میں کسی عورت سے بناء نکاح کے جنسی فائیدہ کی اجازت قطعاً نہیں دیتے۔

6۔ اس روایت میں دشمنان اسلام نے یہ تاثر دیا ہے کہ ان اصحابہ نے یہ کام کر ڈالا صرف اور صرف عزل کے بارے میں‌دریافت کیا گیا جس پر رسول اللہ سے ایک مبہم جواب منسوب کیا گیا جس کے کچھ بھی معانی نکل سکتےہیں۔ جان بوجھ کر ایسا کنفیوژن بنایا گیا ہے کہ مسلم پڑھے تو دفاع کرے اور کافر پڑھے تو تھو تھو کرے۔ یہ شان نہیں رسول اکرم کی کہ ایسے مبہم جوابات دیں جو قرآن کے احکام کے خلاف ہوں۔
7۔ یہ ففتھ کالمی پراپیگنڈہ رسول اکرم (‌نکاح‌ کا حکم پہنچانے والے نبی) پر ایک گھڑا ہوا الزام ہے کہ انہوں‌نے اس کریہہ عمل اور عزل کے بارے میں کچھ نہیں‌کہا اور اصحابہ پر ایک گھناؤنا الزام ہے کہ رسول اکرم کی موجودگی میں ان خواتیں سے ناجائز فائیدہ اٹھایا۔
8۔ اس سے بھی بڑھ کر گھناؤنی یہ حرکت ہے کہ عربی کے صیغہ کو بدل کر --- جو کام ہوچکا ہے --- اس کو --- مستقبل کا عمل ---- بنانے کی کوشش کی جائے۔ اپنے ترجمہ کی خامی دیکھئے اور دل سے سوچئیے کہ کیا آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت تھی؟ صرف اس لئے کہ آپ دشمنان اسلام کے ایک گھناؤنے الزام کو روایت بنانے کی کوشش کرسکیں ؟؟؟

9۔ آپ اسے درست سنت کہتے ہیں؟ یہ عمل تو رسول اللہ صلعم اس الزام سے بھرپور روایت میں کر بھی نہیں رہے؟ یہ کام تو کچھ اصھاب سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ وہ بھی خلاف احکام الہی۔ بات وہی ہے کہ ان کتب پر جناب کا ایمان ہے۔ کاش کہ ایسا ایمان قرآن حکیم پر بھی ہوتا۔ تو صاف و شفاف احکامات کو سمجھنے کے لئے ان فارسی و یہودی ٹکسال میں ڈھلی کتب کا سہارا نہ لینا پڑتا۔

10۔ آپ اس روایت کو صحیح سنت رسول سمجھتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ کیا دلیل ہے؟ کیا ثبوت ہے؟ کیا اس لئے کہ یہ آپ کا ایمان ہے کہ یہ روایت ان کتب میں‌ شامل ہے جن پر آپ کا ایمان ہے؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 17-11-09 at 03:55 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 18-11-09, 01:16 AM   #24
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بہت اچھے فاروق بھائی """ حسب دستور """ اپنے جھوٹ ، غلط بیانی ، اور میری طرف سے کیے گئے سوالات کی طرف سے صرف نظر کے لیے اور قرار اختیار کرنے کے لیے وہی باتیں لکھ دیں جن کا کئی دفعہ جواب دیا جا چکا ہے ،
آج میں آپ کی """ اس """ محفل میں ہوں ، ان شاء اللہ وہاں بھی آپ کی طرف سے اللہ کے کلام کی غلط تاویلات کو آشکار کرنے کے بعد ، پھر بھائی عابد عنایت کے کچھ مراسلات کے جوابات ارسال کرنے کے بعد یہاں آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہو جاوں گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 19-11-09, 05:32 AM   #25
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل صاحب،
آپ پر ہزاروں سوال ادھار ہیں ، جن سے آپ کنی کترا کر گذر جاتے ہیں۔ کبھی ادھر کی تو کبھی ادھر کی۔ لگی بندھی کچھ کتب سے اقتباسات کٹ پیسٹ کرنے کو علم نہیں کہتے برادر من۔ کچھ پڑھئے اور وقت خرچ کیجئے۔ مجھے اس دلیل کا انتظار ہے جس سے بعد کی کتب روایات کی ہر ایک روایت سنت رسول ثابت ہوتی ہیں۔ یا دلیل لائیے یا مانئیے کہ ان کتب پر آپ کا ایمان ہے تاکہ اندازہ ہو کہ یہ وکالت کس سمت سے ہورہی ہے

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 19-11-09, 05:33 AM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل صاحب،
آپ پر ہزاروں سوال ادھار ہیں ، جن سے آپ کنی کترا کر گذر جاتے ہیں۔ کبھی ادھر کی تو کبھی ادھر کی۔ لگی بندھی کچھ کتب سے اقتباسات کٹ پیسٹ کرنے کو علم نہیں کہتے برادر من۔ کچھ پڑھئے اور وقت خرچ کیجئے۔ مجھے اس دلیل کا انتظار ہے جس سے بعد کی کتب روایات کی ہر ایک روایت سنت رسول ثابت ہوتی ہیں۔ یا دلیل لائیے یا مانئیے کہ ان کتب پر آپ کا ایمان ہے تاکہ اندازہ ہو کہ یہ وکالت کس سمت سے ہورہی ہے

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 01:22 AM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
عادل سہیل صاحب،
آپ پر ہزاروں سوال ادھار ہیں ، جن سے آپ کنی کترا کر گذر جاتے ہیں۔ کبھی ادھر کی تو کبھی ادھر کی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، جی چاہ رہا ہے کہ آپ کی ان باتوں پر خوب ہنسوں ،
بڑے بھائی ، ہزاروں سوالات تو کیا ان شا اللہ آپ بیسیوں سوال بھی نہیں نکال سکتے جن کا جواب آپ کو نہ دیا گیا ہو ،
حقیت اس کے بر عکس ہے ،بڑے بھائی ،
اھر آپ چاہیں تو یاد دھانی کے لیے سابقہ کئی مقامات میں آپ کے جوابات کے منتظر میرے سوالات کی فہرستوں کے لنک یہاں ڈال دوں ،
اور اس دھاگے میں بھی آپ کے جوابات کے منتظر سوالات کی ایک فہرست تیار کر دوں ،
بھائی جی ، الحمد للہ ، اللہ کے اس حقیر اور کمزور بندے کا نام عادل سہیل ہے ، فاروق سرور خان نہیں، اور کون جواب دینے سے کنی کتراتا ہی چلا آ رہا ہے اور اپنی جہالت ، خود ساختہ فلسفوں کی حقیقت سے صرف نظر کرنے کے لیے دوسروں کے سوالات کو نظر انداز کر کے بات بدلتا ہے ، اس کا اندازہ ہر صاحب عقل میری اور آپ کی ، آپ کی اور دیگر بھائیوں بہنوں کی گفتگو سے خؤب لگا سکتا ہے ، و للہ الحمد ، ((((( فأعتبروا یأولی الأبصار ::: پس عبرت حاصل کرو اے بصیرت والو )))) ۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-12-09), مسٹر شیف (20-11-09)
پرانا 20-11-09, 01:28 AM   #28
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
لگی بندھی کچھ کتب سے اقتباسات کٹ پیسٹ کرنے کو علم نہیں کہتے برادر من۔ کچھ پڑھئے اور وقت خرچ کیجئے۔
بڑے بھائی ، میں خود پر اللہ کی نعمتوں کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا ، الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ عدد خلفہ و رضا نفسہ ،
الحمد للہ ، میں نے تو کبھی اپنے لکھے ہوئے کو بھی کٹ پیسٹ نہیں کیا ، کسی اور کا کیا کروں گا ،
الحمد للہ ، اگر کبھی کاپی پیسٹ کرتا ہوں تو صرف قران کی آیات مبارکہ ، یا احادیث مبارکہ کا متن ، یا اگر کہیں کسی عربی کتاب کی کسی سوفٹ کاپی میں سے کوئی عربی متن ،
الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ عدد خلفہ و رضا نفسہ ،
اللہ نے اگر کبھی چاہا اور کبھی کہیں آپ سے بالمشافہ گفتگو ہوئی تو ان شا اللہ ، اللہ کے اس بندے پر اللہ کی عنایت آپ کو نظر آئے گی ،
یہ سب میں نے ((((( و اما بِنعمۃِ ربّکَ فَحَدّث ))))) کے مطابق کہا ہے ،
آپ سے یا کسی اور سے کچھ شاباشی درکار نہیں ، اور نہ ہی کسی کوئی اور بدلہ ((((( اِن اَجریَّ الا عَلیَ اللہ ))))) ،
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (21-11-09), کنعان (14-12-09), مسٹر شیف (20-11-09)
پرانا 20-11-09, 01:40 AM   #29
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مجھے اس دلیل کا انتظار ہے جس سے بعد کی کتب روایات کی ہر ایک روایت سنت رسول ثابت ہوتی ہیں۔ یا دلیل لائیے یا مانئیے کہ ان کتب پر آپ کا ایمان ہے تاکہ اندازہ ہو کہ یہ وکالت کس سمت سے ہورہی ہے
والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
تدویں حدیث کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے اور بھتیجے عبداللہ حیدر نے آپ کو کافی معلومات مہیا کر رکھی ہیں ،
آپ انہیں ماننا نہیں چاہتے ، علمی حقائق کو اپنی خود ساختہ ، یا آپ جیسے کچھ """ پڑھے لکھے عُلما """ کی سوچوں کی بنا پر اپنائے ہوئے فلسفوں کے ذریعے ان حقائق کو رد کرتے ہیں ، لیکن ان حقائق کے ساتھ کیے جانے والے آپ کے رویے کا کیا شکوہ ، جب اللہ کے کلام کی غلط تاویلات کی جاتی ہیں ، اپنی سوچوں کو درست دکھانے کے لیے واقعات ہی بدل دیے جاتے ہیں ، من گھڑت جھوٹ سنائے جاتے ہیں ، اور دوران ءِ مخمصہ اس قدر ہیں کہ اپنے ہی کلام کی خود مخالفت کی جاتی ہے تو بڑے بھائی آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ،
الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ عدد خلفہ و رضا نفسہ ، اللہ کا یہ ضعیف بندہ ، اللہ کے دین کا ایک چھوٹا سا طالب علم آپ کے ہر سوال کا جواب دیتا رہا ہے ، اور ان شاء اللہ دیتا رہے گا ، تاخیر پر معاف فرمایے گا ، وقت کی کمی اس کا سب سے بڑا سبب ہے ،
بھائی ، اللہ کا واسطہ ہے اپنے ایمان کی خیر منایے ، اور دوسروں کے ایمان کی تفتیشش مت کیا کیجیے ، یقین مانیے کہ اللہ کو جواب نہ دے پائیں گے ، یاد کیجیے اس موضوع پر اللہ کے کلام کے ذریعے بھی آپ کو یاد دہانی کروا چکا ہوں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (21-11-09), کنعان (14-12-09), مسٹر شیف (20-11-09)
پرانا 21-11-09, 02:20 PM   #30
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,764
شکریہ: 6,463
2,600 مراسلہ میں 7,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر من اللہ کو کو جواب اللہ کے وقت پر انشاء‌اللہ دیں گے کہ اسکے حکم کے مطابق اسکی کتاب پر ، اس پر اور اس کے نبی پر ایمان، اس کے فرشتوں پر اور قیامت پر ایمان رکھا۔

میرا سوال اب تک ادھار ہے کہ

اقتباس:
مجھے اس دلیل کا انتظار ہے جس سے بعد کی کتب روایات کی ہر ایک روایت سنت رسول ثابت ہوتی ہیں۔ یا دلیل لائیے یا مانئیے کہ ان کتب پر آپ کا ایمان ہے تاکہ اندازہ ہو کہ یہ وکالت کس سمت سے ہورہی ہے
آپ ان کتب کا حوالہ کیوں دیتے ہیں کیا ان کتب پر آپ کا ایمان ہے؟ اگر ہے تو کیوں؟

الحمدلللہ قرآن کے بعد آنے والی کسی بھی کتاب پر میرا ایمان نہیں‌ہے ۔ سب کتابیں پرکھی جائیں گی ، ان کا متن، ان کی مصنفین۔ ان میں‌ممکنہ ملاوٹ۔ یہ ہے میرا نظریہ۔ آپ نے کبھی بھی صاف صاف جواب نہیں دیا۔ گول مول طریقہ سے کنی کترا جاتے ہیں۔ پھر ہم جیسے کم عقلوں کو جاہلیت سے بھرپور کہتے ہیں ، گویا کتاب سے بات فوراً کردار کشی پر آجاتی ہے۔

آپ اس کا سیدھا سادا ہم کم عقلوں کی سمجھ میں آنے والا جواب کیوں‌نہیں دے سکتے۔ کیا ضروری ہے کے بات کو گھمایا پھرایا جائے۔

بھائی یا تو کسی امر کی دلیل ہوتی ہے اور یا پھر اس امر پر ایمان ہوتا ہے۔ ان کتب روایات کے بارے میں‌ جاننا چاہتا ہوں۔ کہ مجھے بھی اللہ کو جواب دینا ہے، مجھ تک ابھی تک یہ ہدایت نہیں پہنچی کہ ان پر ایمان رکھنے کا حکم کس نے دیا ہے ؟ ان کتابوں کی صحت کی کیا دلیل ہے؟ کیا آپ کا ان کتب پر ایمان ہے؟ آسان اور سیدھے سادے جوابات عنایت کردیجئے تاکہ بات کرنے میں آسانی ہو۔ تواتر کی دلیل کو میں نہیں مانتا ، اس لئے کہ تواتر بھی ثابت نہیں ہے۔ ترقیم بھی درست نہیں ، متن بھی مساوی نہیں، ترتیب میں بھی سقم ۔ ایسی کتب کو کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ بھی کسی طور پر الہامی کتب ہیں؟ سمجھنے میں مدد کیجئے۔ یہی ایک سوال آپ سے کتنے عرصہ سے کررہا ہوں۔ آپ آج تک اس کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے پائے بلکہ کوئی جواب ہی نہیں‌دیتے ہیں۔

جہاں تک بالمشافہ بات چیت کا تعلق ہے ، آپ سے بات کرکے بہت ہی خوشی ہوگی۔ مجھے آپ farooqsarwarkhan@gmail.com پر ای میل کیجئے تو آپ کو معلومات فراہم کردوں گا جس کی مدد سے آپ مجھ سے کسی بھی دشواری کے بغیر بات چیت کرسکیں گے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, فروخت, کوشش, کلام, کتابوں, واقعات, قران, نظر, مکمل, ایمان, امتحان, اسلام, بہترین, حال, خوش, خبر, راستہ, سال, عورت, عقل, عبادت, عربی, عظیم, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:27 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger