| علوم حدیث علوم حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 778
کمائي: 15,189
شکریہ: 1,393
483 مراسلہ میں 1,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عموماً کہا جاتا ہے کہ : اسلام اللہ کے وعدے کے مطابق ، قرآن حکیم میں موجود ہے۔
جبکہ اصولی طور پر یہ بات غلط ہے۔ اسلام ، صرف قرآن حکیم میں موجود نہیں ہے بلکہ اُس “شریعتِ اسلامی” میں موجود ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی تھی اور جس کا حوالہ بھی ابوداؤد کی “مثلہ معہ” والی حدیث سے دیا جا چکا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے : الا اني اوتيت الكتاب و مثلہ لوگو ، یاد رکھو ! قرآن ہی کی طرح ایک اور چیز (حدیث) مجھے اللہ کی طرف سے دی گئی ہے ۔ اب اگر کسی کے حلق سے یہ بات نہیں اترتی تو نہ اس کا کوئی علاج ہے اور نہ ہی اس شرعی حکم کو بدلا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک نرالا ہی مذاق ہے کہ کتبِ حدیث کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ویسے یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ جس طرح قرآن پر ایمان لایا ہے اسی طرح بخاری یا مسلم پر ایمان لایا جائے۔ عمومی طور پر جو بخاری و مسلم کی سو فیصد صداقت پر ایمان لانے کی بات کی جاتی ہے وہ محدثین کے اس اجماع کے تحت کہی جاتی ہے کہ ان دونوں کتب کی تمام احادیث صحیح ہیں۔ اور اُن فرامینِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کا تقاضا کیا جاتا ہے جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے صحیح طور ثابت ہیں ، کسی کتاب کے تمام مواد پر ایمان لانے کو نہیں کہا جاتا۔ ورنہ تو ان دونوں کتب کا ایک معتد بہ حصہ اسناد پر مشتمل ہے اور کسی ایک محدث نے بھی یہ نہیں کہا کہ اسناد پر بھی اسی طرح ایمان لانا ہوگا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قول ، فعل و تقریر پر ۔ (اب اگر آج کے کوئی شیخ الاسلام اٹھ کر ایسا دعویٰ کر دیتے ہیں کہ اسناد پر ایمان لانا بھی ضروری ہے تو یہ ایک علیحدہ بحث ہے)۔ تو درج بالا اقتباس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ قرآن کی طرح صحیح حدیث پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ حدیث بھی شریعت میں شامل ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر دو طرح کی وحی کا نزول ہوا تھا ، ایک وحی جلی (وحی متلو) ، جس کو آج ہم قرآن کا نام دیتے ہیں اور دوسرے وحی خفی (وحی غیر متلو ، کہ جس کی تلاوت قرآن کی طرح نہیں کی جاتی)۔ ویسے وحی جلی و خفی کی بحث ، ایک علحیدہ بحث ہے ۔ چونکہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر حدیث کو قرآن سے پرکھا جائے گا۔ مگر جب قرآن ہی میں کوئی ذکر نہ ہو تب ؟؟ تب کون سی کسوٹی استعمال میں لائی جائے گی ؟ ۔ 1.قرآن میں حلال جانور کے طور پر ، ’بھیمۃ الانعام‘ کی تفسیر میں چند جانوروں کے نام گنائے گئے ہیں مثلاََ اونٹ ، گائے ، بکری ، بھیڑ ، مینڈھا وغیرہ۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا کے دیگر جانور مثلاََ : کتا ، بلی ، چیتا ، شیر ، بندر ، ہرن ، ریچھ ، کوا ، کبوتر ، مینا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہ سب کیا ہیں ؟ حلال یا حرام؟ ان کی حرمت یا حلت کو قرآن سے کیسے پرکھا جائے گا؟ براہ مہربانی ثبوت صرف اور صرف قرآن سے دیا جائے۔ آپ کی عقلی تُک بندیاں نہیں مانی جائیں گی۔ کیونکہ یہ دعویٰ تو آپ ہی کا ہے کہ ہر چیز کو قرآن سے پرکھا جائے گا۔ اگر آپ ثبوت نہ دے سکیں (اور یقیناََ نہیں دے سکیں گے) تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر حدیث کو قرآن سے پرکھا نہیں جا سکتا۔ اور آپ کو ماننا ہوگا کہ ان احادیث کی بھی ضرورت ہے جن کی صحت و صداقت کو قرآن سے پرکھا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ حدیث ہی میں ان جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا وہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے جس سے فوراََ معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سا جانور حلال ہے اور کون سا حرام ؟ ۔2. بےشک قرآن میں نماز کی حالت کا ذکر ہے ، یعنی : کھڑے ہونے ، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا ذکر۔ اب سوال یہ ہے کہ نماز میں کیسے کھڑا ہوا جائے ؟ ہاتھ لٹکا کر یا ہاتھ باندھ کر؟ ایک پاؤں پر کھڑے ہوں یا دونوں پر؟ لغت میں رکوع کے معنی ہیں جھکنا۔ کیسے جھکا جائے ؟ آگے یا دائیں بائیں؟ اور جھک کر ہاتھ ڈنڈے کی طرح لٹکنے دیں یا رانوں پر رکھیں یا رانوں میں گھسا لیں ؟ سجدہ کی حالت میں ہاتھ کہاں رکھیں، کیسے رکھیں ، صرف ہتھیلی زمین پر رکھیں یا پوری کہنی؟ سجدہ ایک کریں یا دو ؟ ذرا بتائیے کی ان تمام چیزوں کو قرآن کی کس آیت یا آیات سے پرکھا جا سکے گا؟؟ چونکہ آپ تشفی بخش جواب دے نہیں سکتے لہذا مان لیجئے کہ : ان احادیث کی بھی ضرورت ہے جن کی صحت و صداقت کو قرآن سے پرکھا نہیں جا سکتا۔ ۔3. قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد و عورت کے ہاتھ کو کاٹ دو۔ ہمیں بتایا جائے کہ آپ قرآن کی کس آیت سے ثابت کریں گے کہ ۔۔۔۔۔۔ دونوں ہاتھ کاٹے جائیں یا ایک ہاتھ ؟ کہاں سے کاٹیں ؟ بغل سے یا کہنی سے یا کلائی سے یا ان کے بیچ سے ؟ قرآن سے کیسے پرکھا جائے گا؟ ۔4. قرآن کہتا ہے : جب تم سفر پر جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کچھ کم کر کے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر تم کو ایذا دیں گے۔ (النساء : 101) یعنی قرآن میں “نمازِ قصر” ایسے سفر کے ساتھ مشروط ہے جس میں کافروں کی ایذا کا خوف بھی ہو۔ اب صرف ایک مثال سعودی عرب سے۔ یہ تو ساری دنیا مانتی ہے کہ یہاں ملک کے مختلف علاقوں سے عمرہ یا حج کی غرض سے مکہ کی طرف سفر کرنے والوں کو “کافروں کی ایذا” کا کوئی خوف نہیں۔ پھر بھی ہر کوئی اس سفر کے دوران “نمازِ قصر” اس لیے ادا کرتا ہے کہ حالتِ امن میں بھی “نمازِ قصر” کی چھوٹ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں : یعلی بن امیہ نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اللہ تو فرماتا ہے کہ کچھ مضائقہ نہیں اگر قصر کرو تم نماز میں اگر تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ ستائیں گے۔ اور اب تو لوگ امن میں ہو گئے ( یعنی اب قصر کیا ضروری ہے ؟ ) تو حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ مجھے بھی یہی تعجب ہوا تھا جیسے تم کو تعجب ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اللہ نے تم کو صدقہ دیا تو اس کا صدقہ قبول کرو (یعنی بغیر خوف کے بھی ، سفر میں قصر کرو)۔ صحیح مسلم ، كتاب صلاة المسافرين وقصرها ، باب : صلاة المسافرين وقصرها ، حدیث : 1605 ذرا بتائیے کہ اس صحیح حدیث کو قرآن سے کیسا پرکھا جائے گا؟ جبکہ یہ حدیث تو اعلانیہ قرآن کی “شرط” کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ ۔ قرآن صاف کہتا ہے کہ : زینت ( و آرائش) کی پاکیزہ چیزیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ۔۔۔ (الاعراف :532) پھر تو سونا مردوں کے لیے حلال ہوا۔ لیکن جامع ترمذی کی ایک مشہور صحیح حدیث بتاتی ہے کہ ۔۔۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ریشم کا لباس اور سونا ، میری امت کے مَردوں پر حرام اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ ترمذی ، كتاب اللباس ، باب : ما جاء في الحرير والذهب ، حدیث : 1824 ترمذی کی اس حدیث کو آپ قرآن سے پرکھیں گے تو اسے جھوٹ کہنا ہوگا اور غالباََ منکرینِ حدیث ساری شریعتِ اسلامیہ کے خلاف ہو کر ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں یا گلے میں سونے کی چین پہنیں گے کہ اس کی اجازت انہیں قرآن سے ملتی ہے ! الحمدللہ ، درج بالا دلائل سے ثابت ہوا کہ ۔۔۔۔ قرآن کی عظمت و جلالت ، بےشک اپنی جگہ ۔۔۔ لیکن ہر حدیث کو بہرحال قرآن سے پرکھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی آج تک کسی نامور مفسر یا محدث نے ایسا بےتکا کلیہ پیش فرمایا ہے۔ |
|
|
|
| چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا گیا | بلال اویسی (27-10-10) |
| کمائي نے چیتا چالباز کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 31-12-08 | میاں شاہد | علوم-حدیث | 100 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ماشا اللہ اچھی تحریر ہے اور اس سے ملتے جلتے عنوانات پر پہلے بھی گفتگو کی کوشش ہوئی ہے مگر نتیجہ خیز نہیں رہی اور اس بار بھی یہی امید ہے۔
میرے نزدیک تو قرآن اور حدیث میں اس لئے کوئی فرق نہیں کہ ان دونوں کلاموں کو ہم نے سرکار مدینہ سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ہی سنا ہے جو کو آقا ﷺ نے کہا یہ قرآن ہے ہم نے اسے قرآن مان لیا اور جس کو آقا ﷺ نے کہا کہ یہ میری حدیث ہے ہم نے اسے حدیث مان لیا اور میرے ان الفاظ کی تائید خود قرآن کریم میں موجود ہے جو کہ ہر قسم کے شک و شبہے سے پاک ہے اللہ پاک نے سورہ النجم میں قسم کھا کر فرمایا ہے وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى یہ تو حکم اللہ ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ پاک کا ہے مگر احادیث مبارکہ اس حفاظت کے دائرے میں نہیں ہیں اس لئے امکان ہوتا ہے کہ نفس پرست لوگ ان میں تغیر و تبدیلی کی کوشش کریں لیکن الحمد اللہ محدثین کرام کی انتھک محنت نے امت کو اس خطرے سے کافی حد تک بے فکر کر دیا ہے اللہ پاک کی ہزاروں رحمتیں نازل ہوں ان محدثین کرام پر جنہوں نے حفاظت حدیث کے لئے وقت لگایا اور اس میں سچ اور جھوٹ کی پہچان کرنے کے اصول وضع کئے جس کی بنا پر آج ہم جیسے جاہل بھی معمولی تگ و دو کے بعد یہ جان لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ بیان کردہ روایت درست ہے یا غلط اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق دے آمین
__________________
![]() |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (03-01-09), چیتا چالباز (01-01-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 778
کمائي: 15,189
شکریہ: 1,393
483 مراسلہ میں 1,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| arabic, پہچان, پاک, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, چین, نماز, مکہ, معلوم, آج, ایمان, اللہ, تلاوت قرآن, تحریر, جھوٹ, جواب, جاہل, حکم, حدیث, عورت, عالم, صحیح, صحت, صدقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|