| علوم حدیث علوم حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
مزید گفتگو کرنے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حدیث کی "سند" سے کیا مراد ہے۔ لمحہ بھر کے لیے فرض کریں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مجلس میں کوئی بات ارشاد فرمائی۔ اس بات کو حاضرین نے سنا اور اس کو جزوِ ایمان بنا لیا۔ ان میں سے پانچ افراد ایسے تھے جنہوں نے عمل کرنے ساتھ ساتھ اس بات کو آگے بھی پہنچایا۔ جن تک وہ بات پہنچی ان میں سے پانچ افراد نے اس بات کو اچھی طرح حفظ کر لیا اور پھر وہ پانچوں اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے۔ کوئی مکہ چلا گیا، کوئی دمشق چلا گیا،کوئی مدینہ میں قیام پذیر ہوا۔ ان پانچوں نے اپنے اپنے شہر میں اس حدیث کو بیان کر دیا۔ اب محدثین (مثلًا امام بخاری) نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان سننے کے لیے بغداد کا سفر کیا۔ وہاں مذکورہ آدمی سے ملاقات کی، حدیث سنی، سنانے والے نے کہا "میں نے بغداد کے فلاں آدمی سے اس حدیث کو سنا اور اس نے مدینہ کے فلاں شخص سے سنا اور اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا"۔ اس طرح امام بخاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان چار آدمیوں کا واسطہ بن گیا۔ یہ وہ لڑی ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سامنے آئی۔ اس لڑی کو سند کہتے ہیں۔ کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس کا مکمل ریکارڈ موجود نہ ہو کہ اسے کس آدمی نے روایت کیا تھا اور اس نے اِسے کس سے سنا یہاں تک کہ یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ جو لوگ روایت بیان کرنے والے ہیں انہیں راوی کہا جاتا ہے۔
سند اور متن کو دیکھتے ہوئےحدیث کے بہت سے درجے مقرر کیے گئے ہیں۔ حدیث کی مشہور قسمیں یہ ہیں۔ صحیح، حسن، ضعیف، مسنَد، متّصل، مرفوع، موقوف، مقطوع، مرسل، منقطع، معضَل، مدلّس، شاذ، منکر، الافراد، المعلّل، المضطرب، المُدرج، المقلوب، الغریب، المشھور، العزیز وغیرہ۔ حدیث کے صحیح ہونے کے لیے لیے بنیادی شرائط بیان کرنے سے پہلے میں یہ وضاحت کر دوں کہ علمِ حدیث میں "صحیح حدیث" ایک اصطلاح (Term) ہے اس لیے "صحیح حدیث" کو "غلط حدیث" کے متضاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک اصطلاح کے طور پر لیا جاتا ہے۔ کسی حدیث کے "صحیح" ہونے کے لیے اس میں مندرجہ ذیل بنیادی شرطیں پائی جانی ضروری ہیں۔ ۱۔ حدیث کے سلسلہ سند میں کوئی راوی جھوٹا نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ اس شرط پر اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ ایک آدمی کے بارے میں انہیں معلوم ہوا کہ اس کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث موجود ہے۔ ایک لمبا سفر طے کر کے اس کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ خالی جھولی لیے اپنے گھوڑے کو چمکار رہا ہے۔ امام صاحب وہیں سے واپس ہو گئے اور اس سے حدیث سننا بھی گوارا نہ کیا۔ اور فرمایا کہ میرا یہ سفر رائیگاں نہیں گیا کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ ۲۔ دوسری بنیادی شرط یہ ہے کہ راویوں کے حالاتِ زندگی معلوم ہوں۔ علم الرجال کے ماہرین نے ان لوگوں کے حالاتِ زندگی کتب الرجال میں لکھے ہیں جنہوں نے کبھی حدیث بیان کی ہے۔ کتب الرجال میں لاکھوں لوگوں کے حالاتِ زندگی درج ہیں جو محدثین کی محنت اور جانفشانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اگر کسی راوی کے حالاتِ زندگی کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوں تو محدثین اس کی بیان کی ہوئی حدیث کو "صحیح" کے درجے میں نہیں رکھتے۔ ۳۔ تیسری شرط یہ ہے کہ سلسلہ سند کے تمام لوگ نیک ہوں۔ فاسق شخص کی بیان کی ہوئی حدیث "صحیح" نہیں ہو گی۔ ۴۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ راویوں کی ملاقاتیں ایک دوسرے سے ثابت ہوں اور ان کا زمانہ ایک ہی ہو۔ مثلًا زید نے کہا کہ میں نے بکر سے یہ حدیث سنی تو زید کی ملاقات بکر سے ثابت ہونی چاہیے یا کم از کم ان کا زمانہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں وہی حدیثیں درج کی ہیں جن کے راویوں کی ملاقات ایکدوسرے سے ثابت تھی۔ امام مسلم نے اس کڑی شرط میں کچھ نرمی کرتے ہوئے یہ اصول رکھا ہے کہ راویوں کا زمانہ ایک ہونا چاہیے، اگر وہ سچے اور کھرے لوگ ہیں تو ملاقات ثابت ہونا ضروری نہیں فقط ان کا اقرارِ سماعت کافی ہے۔ اس طرح بہت سی وہ حدیثیں جو امام بخاری نے چھوڑ دی تھی امام مسلم نے اپنی صحیح میں انہیں اکٹھا کر لیا۔ ۵۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ راوی کا حافظہ ٹھیک ہو۔ وہ نسیان یا بھول چوک کے مرض سے پاک ہو۔ اگر کسی راوی نے حدیث اس وقت بیان کی جب کہ اس کا حافظہ بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے کمزور ہو چکا تھا تو اس کی بیان کی ہوئی حدیث "صحیح" نہیں سمجھی جاتی۔ صحیح البخاری کی سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرنے والا پہلا راوی کوئی صحابی ہوتا ہے۔ اس کے بعد تابعی اور پھر تبع تابعین میں سے کوئی۔ ان مبارک ہستیوں کے تقوٰی اور للٰہیت کی گواہی خود قرآن پاک نے دی ہے۔ صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا گیا ہے: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِينَ مَعَہ اَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَھُمْ تَرَاھُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا سِيمَاھُمْ فِي وُجُوھھِم مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُھُمْ فِي التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُھُمْ فِي الْاِنجِيلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِھِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْھُم مَّغْفِرَۃً وَاَجْرًا عَظِيمًا (الفتح۔29) "محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجُود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس گروہ کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔" سورۃ التوبۃ آیت 100 میں فرمایا: وَالسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ الْمُھَاجِرِينَ وَالاَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوھُم بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّہُ عَنْھُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَھَا الاَنْھٰرُ خَالِدِينَ فِيھَا اَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ "وہ مہاجرین اورانصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوتِ ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ لوگ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ اُن کے پیچھے چلے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔" صحابہ کے بعد تابعین کا دور آتا ہے۔ سورۃ الحشر میں مہاجرین اور انصار کا ذکرِ خیر کرنے کے بعد ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو ان کے بعد آئیں گے۔ آیت 10 میں فرمایا: وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِھِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْاِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا اِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ " وہ لوگ جو ان (مہاجرین اور انصار کے) بعد آئے ، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔" تابعین کے بعد تبع تابعین کا دور آتا ہے۔ ان کے بارے میں وارد کوئی قرآنی آیت مجھے نہیں مل سکی۔ اگر کسی بھائی کےعلم میں ہو تو وہ آگاہ فرمائیں۔ لیکن قرآن کریم کی عمومی تعلیمات یہ ہیں کہ اگر ایک صاحبِ ایمان اور صاحبِ کردار شخص کوئی بات بیان کرتا ہے تو اس کی بات تسلیم کر لینی چاہیے الا کہ نہ ماننے کی معقول وجوہات موجود ہوں۔ سورۃ الحجرات آیت 6 میں فرمایا: يَا َيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا اِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اہم خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔ ۔ ۔ ۔" اس آیت سے یہ مطلب نکل رہا ہے کہ اگر خبر لانے والا فاسق نہیں ہے، یعنی صاحبِ ایمان ہے، اسلام کے اوامر و نواہی کو بجا لاتا ہے، جھوٹ نہیں بولتا، بددیانتی نہیں کرتا وغیرہ تو اس کی بات کا اعتبار کرنا چاہیے۔ ہاں اگر ایسا شخص خبر لاتا ہے جس میں فسق کی علامات پائی جاتی ہوں تو اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسوہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ یؤمن باللہ و یومن للمؤمنین (التوبۃ۔61) " (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں پر اعتماد کرتے ہیں۔" اب بتائیے کہ ایک آدمی کبھی جھوٹ نہیں بولتا، جان بوجھ کر قرآن و سنت کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا، اسلام کے اوامر و نواہی کو بجا لاتا ہے، معاملات میں کھرا ہے، اچھے حافظے کا مالک ہے۔ وہ ہم سے کہتا ہے کہ میں نے فلاں آدمی سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں فرمایا تو آخر کون سی معقول وجہ ہے کہ ہم اس کے قول کو رد کر دیں۔ خصوصًا جبکہ سامع اور مسموع کی ملاقات بھی ثابت ہو جائے۔ کیا عقلی طور پر ایسا ممکن ہے کہ کوئی مسلمان باقی تمام معاملات میں تو کھرا ہو لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات منسوب کرتے وقت جھوٹ سے کام لے؟ پھر دیکھیے کہ جو حدیث ایک سچا اور صادق آدمی مدینہ یا بصرہ میں بیٹھ کر بیان کرتا ہے، وہی حدیث کسی دوسری سند کے ساتھ مدینہ اور شام میں بھی بیان کی جا رہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلی پوسٹ میں لکھا تھا کہ انما الاعمال بالنیات والی حدیث سات سو مختلف سندوں کے ساتھ روایت ہوئی ہے۔ کیا کوئی عقلمند آدمی تصور کر سکتا ہے کہ اتنے سارے لوگ بیک وقت جھوٹ بولنے پر اکٹھے ہو گئے ہوں جبکہ ان کے علاقوں کے درمیان سینکڑوں میل کا بھی فاصلہ ہو؟ کتب ستہ کے مولفین میں سے بخاری اور مسلم کے سوا کسی نے یہ دعٰوی نہیں کیا کہ اس نے اپنی کتاب میں صرف صحیح احادیث لکھی ہیں (ان کے ضعیف احادیث لکھنے کی وجہ کسی دوسرے وقت بیان کروں گا ان شاء اللہ)۔ امام بخاری کی کتاب کا نام الجامع الصحیح ۔ ۔ ۔ ۔ ہے۔ مختصرًا انہیں صحیح البخاری اور صحیح المسلم کہا جاتا ہے۔ باقی چار کتابیں "سنن" ہیں جیسے سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابو داؤد وغیرہ جن میں صحیح اور ضعیف دونوں قسم کی روایات ہیں۔بعض دفعہ امام ترمذی اور ابوداؤد خود ہی بیان کر دیتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ سنن میں دونوں قسم کی حدیثوں کی موجودگی کی وجہ سے علماء ہی ان میں فرق کر سکتے تھے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ضعیف اور صحیح احادیث کے الگ الگ مجموعے مرتب کر دیے ہیں۔ مثلًا سنن ابنِ ماجہ کو دو مجموعوں میں تقسیم کر دیا ہے "صحیح ابنِ ماجہ" جس میں صحیح حدیثیں جمع کی ہیں اور "ضعیف ابنِ ماجہ" جس میں ابن ماجہ کی ضعیف حدیثوں کا تذکرہ ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے ابنِ ماجہ کی 3638 حدیثوں کو صحیح اور 948 حدیثوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔انہوں نے سلسلۃ الاحایث الصحیحۃ کے نام سے صحیح اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ کے نام سے ضعیف حدیثوں کے مجموعے بھی مرتب کیے ہیں۔افسوس کہ یہ سارا کام ابھی تک عربی میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کام کو جلد سے جلد اردو میں منتقل کیا جائے۔ بار بار کیا جانے والا یہ سوال باقی رہ گیا ہے کہ کیا کتب ستہ پر من و عن ایمان لایا جائے؟ جواب یہ ہے کہ جن حدیثوں کو محدثین نے صحیح قرار دیا ہے ان پر ہمارا ایمان ہے لیکن سنن ابنِ ماجہ، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، اور سنن ترمذی کی تمام روایات کو ہم کل صحیح کہتے تھے نہ آج کہتے ہیں۔ مشہور محدث الحافظ ابنِ کثیر کی کتاب "الباعث الحثیث" دیکھ لیجیے۔ لہٰذا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے کہ پہلے عام لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ علماء سنن کی کتابوں کو حرف بحرف درست مانتے ہیں اور پھر ضعیف روایتیں پیش کر کے حدیث پر اعتراض شروع کر دیے جائیں۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حدیث کی کتابیں صرف چھے نہیں ہیں۔ میں اہم کتابوں کے نام اوپر گنوا چکا ہوں۔ ایک نظر دوبارہ دیکھ لیجیے۔ صحیح البخاری، مسلم، ترمذی، النسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند احمد، موطا امام مالک،سنن دارمی، مستدرک حاکم، سنن بیہقی، سنن دار قطنی، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ، مسند ابی یعلی، مسند اسحاق، مسند عبداللہ بن مبارک، مسند شافعی، مسند ابن الجعد اور مصنف ابن ابی شیبہ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشااللہ بہت ہی محنت سے اچھی اور معلوماتی تحریریں لکھی ہیں آپ نے۔
کیا میں آپ سے مختصر تعارف کی درخواست کر سکتا ہوں اور آپ کے تعلیمی بیگ گواونڈ کے معتلق تفصیلی جان سکتا ہوں؟؟؟؟ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کتابوں, پوسٹ, پاک, قرآن, قرآنی, لوگ, نظر, مکہ, مکمل, منتقل, ممکن, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اردو, اسلام, جواب, حدیث, دیکھو, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں | محمدعدنان | شعر و شاعری | 5 | 04-09-11 02:33 AM |
| پاکستان میں ڈرون حملوں اور یورپ میں ٹی بی سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں:شہباز شریف | جاویداسد | خبریں | 6 | 08-11-10 08:46 PM |
| یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | راجہ اکرام | شعر و شاعری | 15 | 29-10-10 04:06 PM |
| لڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنا ہوگا،الطاف حسینلڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مین | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 26-02-08 03:27 AM |