واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچے امام اور قائد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-06-08, 11:12 PM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچے امام اور قائد

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچے امام اور قائد

اللہ ذوالجلال والاکرام نے اس کائنات کارہنمااورلیڈر اپنے آخرالزماں پیغمبرجناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوقرار دیاہے۔
قُلْ یٰاَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاًo
اے لوگو!میں تم سب انسانوں کی طرف اللہ کارسول بنا کر بھیجا گیاہوں۔

”وَمَااَرْسَلْنَکٰ اِلَّاکَآفَّۃ لِّلنَّاسِo“
ہم نے تمام انسانیت کے لئے آپ کورسول بناکرمبعوث کیاہے۔

محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس عالمگیراور عالمی قیادت کوتسلیم کرنے اور کروانے کاعہد گذشتہ انبیاء سے جو اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی قوموں کے راہنما تھے لیا گیا۔ان کی کتابوں میں ان کی قوموں کوپیشین گوئی کے طورپریہ باور کروایا گیا کہ جب وہ قائد انسانیت تشریف لے آئیں تواپنی قیادتیں چھوڑ کر اس کے حکم کی اتباع میں آجانا۔

وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیین لَمَآاٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَامَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہ وَلَتَنْصُرُنَّہ طo(اٰل عمران81-)
”جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے وعدہ لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں (تمہارے نظام چل رہے ہوں)پھر تمہارے پاس وہ رسول آجائے جوتمہاری شریعتوں کی تصدیق کرنے والاہو تو تم نے اس پر ایمان لاناہے اور(اس کی لیڈری وقیادت کوساری دنیا پر غالب کرنے کے لئے)اس کی مدد کرناہے۔“

سیدناعمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ شریعت موسوی کی کتاب توراۃ کا ورق پڑھ رہے تھے تونبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں آگئے۔ چہرے کارنگ غصے سے سرخ ہوگیا۔ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کی توجہ ادھر کروائی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا
”رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا“
میں اللہ کے ربّ ہونے ‘اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسول وراہنماہونے پرراضی ہوں توآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پرفرمایا۔
لَوْکَانَ مُوْسیٰ حَیًّا مَاوَسَعَہ الاَّاِتّبَاعِی
”اگرصاحب توراۃ جناب موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی صرف میری اتباع کی ہی اجازت ہوتی۔“

اللہ تعالیٰ کی پسند اور مرضی یہ ہے کہ ساری دنیا کے لوگ چاہے مغرب کے ہوں یا مشر ق کے‘ شمال میں رہنے والے ہوں یا جنوب میں ‘کسی بھی رنگ کے ہوں‘ کوئی بھی بولی بولتے ہوں‘ سب کے سب پیروی اورفرمانبرداری صرف اورصرف محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کریں۔ حکم انہی کامانیں‘ سب کی تہذیب‘ سب کی ثقافت ‘ سب کا حلیہ اور رنگ ڈھنگ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والاہو۔
اسی عظیم منصب ورسالت کومنوانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مخاطب کروا کرفرمایا:
”قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللّٰہَ“
کہہ دے کہ اگرتم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو‘اس کو اپنا خالق ومالک سمجھتے ہو ‘اسے اپنارازق مانتے ہو‘ اگراللہ تعالیٰ کاکوئی حق سمجھتے ہو توپھر اس کاحکم مانو اورمیری اتباع کرلو پھر اللہ تم سے محبت کریں گے۔(ال عمران31-)

یہودونصاریٰ کاکردار:
یہودونصاریٰ جو اپنے علاقے میں اپنی سرکشیوں کی وجہ سے دشمنوں سے ماریں کھاتے رہے اور عراق وبابل سے ہجرتیں کرکے ارض عرب میں آباد ہوئے توان کی سنت وارادہ صرف یہی تھا کہ یہ سرزمین اس پیغمبر کے مبعوث کئے جانے والی زمین ہے۔ جب وہ آئے گا توہم اس پر ایمان لائیں گے ۔مخالفوں سے مقابلے کے وقت اس ارادہ کی بناء پر اللہ سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ اپنی کتابوں میں ان کی نشانیاں پڑھ پڑھ کر آپ کو اس طرح پہچان چکے تھے جس طرح کوئی باپ اپنے سگے بیٹے کو پہچانتاہے۔اپنے بچوں کو بھی یہ وصیتیں کیا کرتے تھے۔ ان کی بدبختی کی سیاہ رات کا خاتمہ بھی اس راہنما پر ایمان کے ساتھ مشروط تھا مگرجب وہ مبعوث کردئیے گئے‘ فاران کی چوٹیوں سے اور صفا کی بلندیوں سے انسانیت کے اس راہنما کی آواز بلند ہوئی توان لوگوں نے تحقیق وتصدیق کے بعد صرف اس بنیاد پر کہ یہ ہمارے خاندان بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ ہمارے تایا کے خاندان بنو اسماعیل سے ہے‘صرف اسی بنیادپر صرف اسی شریک برادری اورنسلی
وخاندانی تعصب ورقابت میں اپنے ربّ کے انتخاب اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیادت ورسالت کاانکار کردیا۔ اللہ سے دشمنی مول لے لی اور جنہیں اللہ تعالیٰ دنیا کارہنما بناناچاہتا تھا‘ یہ اسے دنیا کا معاذاللہ حقیروادنیٰ شخص بلکہ جھوٹا شخص ثابت کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔جن کی چالیس سالہ طویل زندگی پر کوئی حرف نہ رکھ سکا اور جو سب کاسرمایہٴ فخر ‘ہمدرد وخیرخواہ صادق وامین سمجھاجاتاتھا‘ اسے معاذاللہ دہشت گرد‘ انتہا پسند اور کیسے کیسے جھوٹے پراپیگنڈوں سے بدنام کرنے لگے جس کی قیادت ورسالت کاجھنڈا عالم پر لہرانا تھا‘ اس کو جھٹلانا اورلوگوں کو اس کی مخالفت پر اکسانا شروع کردیا۔ جس اللہ کی محبت میں اس کے انتخاب وحکم کو قبول کرنا تھا‘ اسی ربّ پر طعن زنی شروع کردی اور بغاوت وتکبرکی حد یہ کہ کہنا شروع کردیا‘ اللہ نے اپنی مرضی سے جسے چاہا دنیا کا قائد بنادیا‘ہمیں کیوں نہیں پوچھا
” بغیاً ان ینزل اللہ من فضلہ علی من یشآء من عبادہ o“
بغاوت وسرکشی کی بنیاد یہ کہ اللہ نے جس پر چاہا اپنا فضل کر دیا

ہاں اگربنی اسرائیل سے یہ رسول ہوتا توپھر اس پر ایمان لاتے۔ اس کی قیادت کودنیا سے منواتے اس کاحکم دنیا پر چلاتے۔ مشرق ومغرب میں اس کانظام چلاتے مگر یہ توبنی اسرائیل کی توہین ہے‘ اس کے خاندان کی عظمت کاخاتمہ ہے کہ اللہ نے بنو اسماعیل کو اس عزت سے سرفراز کردیاہے…یہ توجاہل تھے۔ ہم اللہ کے محبوب ‘ یہ ان پڑھ امیین‘ ہم اہل کتاب‘ ہمارے آباؤاجداد میں سینکڑوں انبیاء ورسل ‘ہم جنت کے ٹھیکیدار‘ یہودونصاریٰ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب۔اللہ نے ہمیں کیوں نہیں پوچھا۔ ہم میں سے رسول کیوں نہیں بھیجا۔ لہٰذا ہم نہیں مانتے۔ ہمیں اللہ کیدشمنی منظور‘جہنم کی آگ منظور مگر دنیاکاقائد بنی اسماعیل خاندان کاچشم وچراغ ‘ابراہیم کا ذبیح بیٹا اور اس کا پوتا‘ اس کاخاندان دنیا پرقیادت کرے‘ دنیا میں اعلیٰ سمجھاجائے‘ یہ ہمیں منظورنہیں…اللہ اکبر
یہ نہ سوچا کہ ہزاروں انبیاء کے قاتل‘آسمانی شریعتوں کومسخ کرنے والے‘آسمانی کتابوں میں تحریف کرنے والے‘ قدم قدم پر اللہ کے احکامات کوپامال کرنے والے‘ اپنے سودی نظاموں میں جکڑ جکڑ کر انسانیت کاخون چوسنے والے اورحیرانی ہے کہ دریاؤں سے خشک راستے دئیے جانے والے‘ بادلوں کاسایہ دئیے جانے والے‘ من وسلویٰ کھانے والے ‘ ربّ کوچھوڑ کر بچھڑے کی پوجاکرنے والے ‘ مجرم بھی توہم ہی ہیں۔ ان جرائم کی معافی کاخیال نہ کیا۔ اپنے آپ کو بندے سمجھ کر اوراللہ ذوالجلال کو ربّ تسلیم کرکے اس کوبڑا ماننا اور اپنے آپ کو فرمانبردار ثابت کرنے کاخیال نہ آیا…اللہ کو اس کائنات کارب‘ خالق ومالک تسلیم کرکے اور خود کواس کابندہ ومخلوق تسلیم کرکے اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ اپنی خواہش ‘اپنی پسند‘اپنا خاندان‘ اپنی نسل ان چکروں میں اللہ کے حق کو…حق حاکمیت کو…ہی ختم کردیا اور اپنے تمرد وتکبر کوہی سامنے رکھا۔
سوچنے کی بات:
آج گہری سنجیدگی سے سوچئے۔یہودونصاریٰ نبوت سے ناآشنا نہیں تھے۔ توحیدورسالت اورجنت ودوزخ ‘قیامت اوراللہ اور انسانوں کے حق سے غافل نہیں تھے۔ ان میں بے شمار نبی آئے‘ موسیٰ نبی کووہ آج تک مانتے ہیں۔ عیسیٰ کوبھی مانتے ہیں ‘آسمانی شریعتیں تو رات وانجیل اگرچہ انہیں مسخ کردیاگیا تاہم آسمانی ہدایت کوتسلیم کرتے ہیں۔ پھرمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت ورسالت کوکیوں تسلیم نہیں کیا؟ کیا وہ ان سے بے خبر تھے؟کیا ان کی نبوت کوئی نئی چیز تھی؟ نہیں بلکہ وہ توعرب میں آباد ہی اس غرض سے ہوئے تھے‘ انکار صرف اسی خاندان اورنسلی امتیاز اور غرورکی وجہ سے کیا۔
یہودونصاریٰ کل اورآج:
کل بھی یہودونصاریٰ نے صرف اسی وجہ سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاانکار کیا اور ان کی راہنمائی کاانکار کیا‘ اللہ سے دشمنی شروع کرلی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کو اس دنیا سے ختم کرنے کے لئے دسیسہ کاریاں کیں اورآج بھی یہودونصاریٰ کی دشمنی کی بنیادوہی ہے۔ سوا چودہ صدیاں ہوچکی ہیں‘ یہ دنیا بھر سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انسانیت کو ان کی راہنمائی سے روکنا چاہتے ہیں۔ ان کے حکم سے ان کی سنت سے ‘ان کی فرمانبرداری سے دوررکھنا چاہتے ہیں…محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاحکم ہے‘ مشرق ومغرب‘شمال وجنوب میں ان کی اطاعت وفرمانبرداری نظر آئے‘ان کی قیادت کاسکہ چلے۔ لوگ ان کانام لیں ‘ ان کے حکم کے مطابق کاروبار کریں‘ ان کی سنت و شریعت پڑھیں پڑھائیں‘ اس پر بچوں کی تربیت کریں ‘ ان کی تہذیب وثقافت ان کادین ہو‘ آج بھی یہودونصاریٰ کو یہ سب ایک نظر نہیں بھاتا۔ان کے سینے جل رہے ہیں۔ ان کاسارا زور صرف اسی بات پرہے کہ کاش!ساری دنیاکے لوگ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیادت وامامت اورراہنمائی ولیڈری کاانکارکردیں۔مسلمان اگرڈاڑھی رکھے‘ شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھے‘ عورت پردہ کرے‘ مرد اپنا کاروبار اسلام کے مطابق سودسے‘ جوابازی سے پاک رکھیں‘ زناسے پاک ہوں‘ بے حیائی سے دور رہیں‘نماز پڑھیں ‘روزہ رکھیں‘ حج کریں‘ زکوۃ دیں‘ اسلام کے مطابق اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں‘ اس میں ان کو کیاتکلیف ہے؟ تکلیف صرف اورصرف یہ ہے کہ اس طرح محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لیڈری اورامامت تسلیم ہوتی ہے اور یہ انہیں گوارا نہیں ہے۔
اے اہل اسلام!محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی راہنمائی اور لیڈری کا یہ مسئلہ امت مسلمہ اورکفرکے درمیان واضح فرق ہے۔ اسی فرق کی بنیاد پر اہل اسلام کاایک بنیادی عقیدہ ہے کہ اس دنیا کے امام محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ ان کاحکم اوران کی لائی ہوئی شریعت اس دنیا پر چلے اور یہ اللہ کاحق ہے کہ اس کی بات مان کر اس کا دیا ہوا قائد وراہنما تسلیم کرکے اس کی راہنمائی میں چلاجائے اوراس کے مقابلے میں کفر کانظریہ ہے کہ دنیا کالیڈر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں ہونا چاہئے ۔وہ اللہ کاحق نہیں مانتے کہ اس کی فرمانبرداری میں یہ سب قبول کیاجائے۔ وہ اپنی مرضی‘ اپنے طریقے اوراپنے نظام چاہتے ہیں۔ اسی کو انہوں نے جمہوریت کا خوشنما نام دے کر اپناکفرکانظریہ اپنا رکھاہے۔ ان کی سرتوڑ کوشش ہے کہ دنیا پرمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاسکہ نہ چلے۔ باقی جومرضی ہوتا رہے۔
”الکفرملۃ واحدۃ“
"سارا کفر ایک ملت ہے" (حدیث)
سارے کفرکایہی نظریہ اوریہی عقیدہ ہے۔دنیا کے کافر ٹونی‘بش‘شیرون‘واجپائی اور دیگرسب یہی چاہتے ہیں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاطریقہ وراہنمائی اس دنیا میں نہیں ہونا چاہئے۔
عالم کفرکااپنے نظریے پر اتحاد:
آپ ذراغورکریں کہ یہودی‘ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کونہیں مانتے۔ سیدہ مریم علیہاالسلام کوگالیاں دیتے اور ان کی عفت وعصمت پر حملے کرتے ہیں۔ ان کے مذہب آپس میں جدا جدا‘ اس مذہبی دشمنی کے باوجود یہ دونوں نسلیں اس مسئلہ میں( نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی راہنمائی کو ختم کرنے کے لئے)ایک ہیں۔ ہندوجوکسی بھی آسمانی شریعت کونہیں مانتے‘ نہ کسی نبی پران کا ایمان ‘نہ اللہ پر ‘نہ جنت دوزخ پر‘ بندروں کی پوجاکرنے والے‘ دنیا کے گندے ترین مشرک‘ پھربھی اس مسئلہ پر اہل کتاب کے ساتھ ملے ہوئے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے راہنما نہیں ہونے چاہئیں اور آج ساری دنیا کے مختلف کفر اس نظریہ پر متحد ہوچکے ہیں۔ سب اس دنیا سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حکمرانی کو‘ ان کی راہنمائی کو‘ سنت وحدیث اور اسلام کومٹانے کے درپے ہیں۔
”محمد فرق بین الناس“
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیادت ورسالت کے مسئلہ نے واضح طور پر لوگوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہواہے۔ یہ دونظریے اور اس کے تحت ماننے والے اور نہ ماننے والے دوقومیں ہیں۔
امت مسلمہ کے لئے انتباہ:
اے اہل اسلام!آپ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاکر اپنے آپ کو اللہ کے حکم اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی راہنمائی کے مطابق زندگی گزارنے کے عہدوپیمان میں داخل ہوچکے ہیں۔ آپ اس کائنات کاخالق ومالک اور اپنا خالق ومالک اللہ کو سمجھتے ہیں۔ خالق و مالک اور رازق ہونے کی وجہ سے اللہ کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ اس کی بات مانی جائے اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرایاجائے توپھر یاد رکھیں اس اللہ نے واضح طورپر فرمادیاہے کہ
لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَسْوَۃ حَسَنَۃ
تمہارے لئے رورل ماڈل ‘آئیڈیل شخصیت اورنمونہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ ہرمعاملہ میں ان کانمونہ اختیار کرو۔

اس اللہ نے واضح طورپر فرمایا
وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْاo(نور۔54)
اگرتم اس قائدورہنما کی اطاعت کروگے تو ہدایت یافتہ قرار پاؤ گے۔

قسم اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا
”فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُواْ فِی اَنفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا o“
ہمیں آپ کاربّ ہونے کی قسم!جب تک یہ لوگ اپنے اختلافی مسائل میں(اپنی ضدبازیاں چھوڑ کر)آپ کے ہر ہرحکم کو خوشدلی سے تسلیم نہ کرلیں اور اس سے جان چھڑانے کی کوشش ترک نہ کریں۔ یہ مومن نہیں ہوسکتے۔

اللہ نے برملا طورپر فرمایا۔
وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَائتْ مَصِیرًا
جوشخص رسول کی نافرمانی کرے گا ‘ہدایت واضح ہوجانے یعنی رسول کاحکم معلوم ہوجانے کے بعدبھی اور مومنوں والا راستہ ( اطاعت )چھوڑ کرکوئی اورطریقہ اختیار کرے گا تو جدھر وہ جاتاہے‘ جائے(ہمیں اس کے ایمان اور اسلام کی ضرورت نہیں)ہم اسے جہنم میں پھینکیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
بیسیوں مرتبہ”اَطِیْعُوْاللّٰہَ وَاَطِیْعُوالرَّسُوْلَ“ فرماکر خبردار کیا کہ اللہ کی بات مانو اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔ یہاں تک فرمایاکہ”ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم“اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری( رسول) کی پیروی کرو۔ پھر اللہ تم سے محبت کریں گے اور تمہارے گناہوں کو معاف کریں گے…یہ اور اس طرح کی دیگرآیات اچھی طرح سمجھ کر اپنے نظریے پرپختگی اپنائیں۔ ساری دنیا کے طور طریقے اور رسم ورواج جوتے کی نوک پر رکھ کر ٹھکرا دیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے کو اختیار کریں۔ڈاڑھی ‘شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنا‘ عورت کے لئے پردہ کرنا اور دیگر اعمال کوچھوٹا موٹا سمجھ کر چھوڑدیں ‘ہر عمل کو اس انداز سے لیں کہ اگر میں اسے اختیار کرتاہوں تومیں دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیادت و راہنمائی کوماننا منوانا چاہتاہوں اور ثابت کررہاہوں کہ میں تو انہی کو رہنما مانتاہوں اور اگر یہ اعمال نہیں کرتا تودنیا میں یہودونصاریٰ اور کفار کا کردار اختیار کرکے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کو توڑ رہاہوں۔ ان کی رسالت وقیادت سے انکار کررہاہوں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ چہرے پر کفر کے جھنڈے ‘ لباس کفروالا‘گھر کاماحول ‘کاروبار‘ شادی غمی کے معاملات سب پرمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی راہنمائی سے انکار اورکفر کی گہری چھاپ غرض ہمارے اندر دنیا کے ہر کفر کاطریقہ مل جائے گا۔ کاروبار یہودیوں جیسا ‘شادی ہندؤوں جیسی‘ شکل‘ لباس صلیبیوں جیسا‘ نماز‘قرآن سے چھٹی‘غیرمسلم دہرئیے‘کیمونسٹ سوشلسٹ جیساکردار۔ نہیں نظر آئے گی تومحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت وحدیث نہیں نظر آئے گی مگردعویٰ پھر بھی یہ کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑی عقیدت ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاپروانہ وعاشق ہوں۔ ان جھوٹی محبتوں ‘عقیدتوں کو چھوڑیں اور اس پیغمبر کی اس حدیث پر غور کریں جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا
”من احب سنتی فقد احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ
”جس نے میری سنت سے محبت کی‘ اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی ‘وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔“
(از ابوسعداحسان الحق شہباز)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (20-06-08), مون لائیٹ آفریدی (27-07-08), طارق افضل (21-06-08), عادل سہیل (08-08-08)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
25-08-08 میاں شاہد http://pak.net/showthread.php?t=17371 200
19-06-08 for a such a great post 200
پرانا 19-06-08, 11:37 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,485
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,845 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچے امام اور قائد

بے شک بھائی بہت بہت شکریہ آپ کا اتنی اچھی پوسٹ لکھنے پر میں ساری کمائی آپ کو دے رہا ہوں
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (20-06-08), عادل سہیل (08-08-08), عبداللہ حیدر (20-06-08)
پرانا 20-06-08, 01:59 AM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچے امام اور قائد

آپ کی محبت اور جذبے کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ دعا ہے کہ ہمارے اچھے اعمال اس کی بارگاہ میں بھی شرف قبولیت پا جائیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (08-08-08)
پرانا 08-08-08, 05:50 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ کی محبت اور جذبے کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ دعا ہے کہ ہمارے اچھے اعمال اس کی بارگاہ میں بھی شرف قبولیت پا جائیں۔
السلام علیکم و رحمہ‌ اللہ و برکاتہ ، اللہ تعالی آپ سب کو بہترین اجر عطا فرمائے ، والسلام علیکم ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (08-08-08)
پرانا 25-08-08, 04:08 PM   #5
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: الکمونیا
مراسلات: 10,353
کمائي: 147,631
شکریہ: 8,384
4,504 مراسلہ میں 9,635 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچ


ماشا اللہ، سبحان اللہ

آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
آپ کا بہت بہت شکریہ
__________________
میاں شاہد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پہچان, پاک, پسند, قدم, نظر, موسیٰ علیہ السلام, محبت, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, انتباہ, اعلیٰ, بچوں, ترک, حکم, حدیث, خبر, رات, راستہ, زندگی, عیسیٰ, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 16 23-08-11 01:39 AM
بھروسہ فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 10 28-04-11 06:39 PM
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین آبی ٹوکول عمومی بحث 2 31-03-11 08:11 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 6 11-03-09 12:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger