![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں ::::::: الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین، خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت کی کچھ نشانیاں ہیں جِن کی موجودگی میں یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کون واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے مُحبت کرتا ہے اور کون مجرد دعویٰ مُحبت رکھتا ہے ، پہلی نشانی ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اپنی جان و مال فِدا کرنا ::: جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کیا کرتے تھے ، اور اِس کی کئی مثالیں ہیں ، جِن میں سے ایک مثال ''' مثالی شخصیات ''' والے سلسلے میں سے پہلی شخصیت ''' خبیب بن عدی رضی اللہ عنہُ''' کے واقعہ میں ذِکرکی گئی ہے ، اور ایک ''' اُم عمارۃ نسیبۃ بنت کعب رضی اللہ عنہا ''' کے واقعہ میں ہے ، اور یہ دیکھیئے ، یہ ابو دجانہ رضی اللہ عنہُ ہیں ، کافروں اور مشرکوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر تیر برسائے جا رہے ہیں اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہُ اپنا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف کیے ہوئے اُنہیں چھپائے کھڑے ہیں اور سارے تیر اپنی پُشت پر کھائے چلے جا رہے ہیں ، اور کوئی حرکت بھی نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کوئی اذیت نہ ہو، یہ ہے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور یہ بھی دیکھیئے ، یوم اُحد میں یہ ابو طلحہ الانصاری ہیں ، رضی اللہ عنہُ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر دشمنوں پر تیر برسائے چلے جارہے ہیں اور کہے جا رہے ہیں ''' یا نَبِیَّ اللَّہِ بِابِی اَنت وَاُمِّی لَا تُشرِف لَا یُصِبکَ سَہمٌ من سِہَامِ القَومِ نَحرِی دُونَ نَحرِکَ ::: اے اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ پر قُربان ہوں آپ اُدھر توجہ مت فرمائیے آپ کو دُشمنوں کے تیروں میں کوئی تیر نہیں لگے گا ، میری شہ رگ آپ کی شہ رگ سے کم تر ہے ''' یعنی اُن کے تیر میری شہ رگ پر آئیں گے آپ پر نہیں آنے دوں گا ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور یہ دیکھیئے ، طلحہ بن عبید اللہ ، عشرہ مبشرہ میں سے ایک ، اِسی یوم اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف آنے والے تیروں کو اپنے ننگے ہاتھوں پر روک رہے ہیں ، زحم کھا رہے ہیں ، یہاں تک اِن زخموں کی وجہ سے اُن کا ہاتھ شل ہو گیا ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور یہ دیکھیئے ، اِسی یوم اُحد میں یہ ہیں سعد ابن الربیع رضی اللہ عنہُ ، آخری سانسیں ہیں ، زید ابن ثابت رضی اللہ عنہُ اِن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا سلام لے کر پہنچے ہیں جواب میں کہتے ہیں ''' اللہ کی سلامتی ہو اللہ کے رسول پر ، اور تُم پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کہنا مجھے جنّت کی خوشبو آ رہی ہے ، اور میری قوم انصار کو کہہ دینا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچی تو اللہ کے سامنے تُم لوگوں کے لیے کوئی عُذر نہ ہو گا ''' اور روح پرواز کر جاتی ہے ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، دوسری نشانی ::: کِسی ڈر اور خوف کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی خِلاف ورزی کا قلع قمع کرنا ::: جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وفاتِ پُر ملال کے بعد ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ نے زکوۃ دینے سے اِنکار کرنے والوں کے خِلاف اُسامہ ابن زید رضی اللہ عنہما کے لشکر کو روانہ کر کے کِیا ، تیسری نشانی ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر فورا عمل کرنا ::: جیسا کہ جِہاد اُحد سے فارغ ہو کر آتے ہی اگلے دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ابو سُفیان کی فوجوں کے تعاقب میں حمراء الاسد کی طرف روانگی کا حُکم فرمایا ، تو اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ ابھی کل ہی تو ہم واپس آئے ہیں ، اپنے مرنے والوں کی یاد ابھی بالکل تازہ ہے ، ابھی ہمارے زخموں سے خون بھی نہیںرُکا ، وغیرہ وغیرہ ، بلکہ حُکم ملتے ہی تیار ہو گئے اور نکل کھڑے ہوئے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، اور اللہ تعالیٰ اُن کی اِس عمل کی تعریف فرماتے ہوئے اور اُن کے لیے عظیم کامیابی کی خبر دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( الَّذِینَ استَجَابُوا لِلّہِ وَالرَّسُولِ مِن بَعدِ مَا اصَابَہُمُ القَرحُ لِلَّذِینَ احسَنُوا مِنہُم وَاتَّقَوا اجرٌ عَظِیمٌ O الَّذِینَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَد جَمَعُوا لَکُم فَاخشَوہُم فَزَادَہُم اِیمَاناً وَقَالُوا حَسبُنَا اللّہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ O فَانقَلَبُوا بِنِعمَۃٍ مِّنَ اللّہِ وَفَضلٍ لَّم یَمسَسہُم سُوء ٌ وَاتَّبَعُوا رِضوَانَ اللّہِ وَاللّہُ ذُو فَضلٍ عَظِیمٍ ) ( جِنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مانی اِس کے بعد بھی کہ اُنہیں زخم لگے ہوئے تھے اُن میں سے جِنہوں نے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے (یہ) وہ لوگ (ہیں) کہ جب اِن سے (مُنافق) لوگوں نے کہا کہ (کافر) لوگوں نے تُمہارے مُقابلے میں (لشکر) جمع کر لیے ہیں ، تُم اُن سے ڈرو ، تو (منافقوں کی ) اِس بات نے اِن کو اِیمان میں اور زیادہ کر دِیا اور اِنہوں نے کہا ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ سب سے اچھا کار ساز ہے ( اِس کا انعام اللہ نے یہ دِیا کہ ) یہ (اِیمان والے ) اللہ کی نعمت اور فضل (میں سے کچھ ) حاصل کر کے واپس پلٹے اور اُنہیں کِسی پریشانی نے چُھوا نہیں اُنہوں نے اللہ کی رضامندی کی پیروی کی اور اللہ بہت زیادہ فصل (کرنے) والا ہے ) سورت آل عِمران / آیات ١٧٢ تا ١٧٤ ، پس اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے ، اُن کی تاویلیں کرتا ہے ، یا بغیر کِسی شرعی عذر کے عمل میں دیر کرتا ہے تو اگر ہم اُس کی مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِنکار نہ کریں تو بھی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اُس کی مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مطلوب درجہ تک نہیں پہنچتی۔ مندرجہ ذیل مضمون کا بھی مطالعہ فرمائیے ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کا تقاضا :::
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 28-03-08 at 06:34 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-12-10), skjatala (28-04-11), مرزا عامر (29-06-10), ابن افضل (30-03-08), ارشد کمبوہ (07-12-10), ضِرار Derar (22-06-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عادل صاحب اگر یہ نشانیان نہ ہوں تو محبت نہ ہوئی پر جناب کوئی کوئی نشانی میرے میں نہین پر میرے کو محبت کتنی ہے وہ میرے کو ہی پتہ ہے آپ کیسے کہہ سکتے ہو کہ اگر یہ نشانیان نہ ہوں تو محبت نہیں ہو گی |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | skjatala (28-04-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 8,482
کمائي: 264,343
شکریہ: 397
5,337 مراسلہ میں 12,174 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
جزاک اللہ خیر |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے ، زارا بہن ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, php, کہہ, کیسے, کوئی, کتنی, گی, پتہ, مکمل, ماں, محبت, اللہ, السلام, انعام, بہن, بہترین, تعالیٰ, جواب, خیر, خون, خبر, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ثنا خوانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظفر وارثی انتقال کر گئے | Ajmal Anjum | خبریں | 4 | 31-01-11 11:30 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| تکمیل اِیمان کی شرط ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ::: | عادل سہیل | عقیدہ رسالت | 3 | 15-05-10 09:55 AM |
| رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں | طارق راحیل | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 25-02-09 10:35 PM |