واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-03-08, 03:35 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں :::

::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں :::



::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں :::::::
الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت کی کچھ نشانیاں ہیں جِن کی موجودگی میں یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کون واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے مُحبت کرتا ہے اور کون مجرد دعویٰ مُحبت رکھتا ہے ،
پہلی نشانی ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اپنی جان و مال فِدا کرنا ::: جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کیا کرتے تھے ، اور اِس کی کئی مثالیں ہیں ، جِن میں سے ایک مثال ''' مثالی شخصیات ''' والے سلسلے میں سے پہلی شخصیت ''' خبیب بن عدی رضی اللہ عنہُ''' کے واقعہ میں ذِکرکی گئی ہے ، اور ایک ''' اُم عمارۃ نسیبۃ بنت کعب رضی اللہ عنہا ''' کے واقعہ میں ہے ،
اور یہ دیکھیئے ، یہ ابو دجانہ رضی اللہ عنہُ ہیں ، کافروں اور مشرکوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر تیر برسائے جا رہے ہیں اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہُ اپنا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف کیے ہوئے اُنہیں چھپائے کھڑے ہیں اور سارے تیر اپنی پُشت پر کھائے چلے جا رہے ہیں ، اور کوئی حرکت بھی نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کوئی اذیت نہ ہو، یہ ہے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،
اور یہ بھی دیکھیئے ، یوم اُحد میں یہ ابو طلحہ الانصاری ہیں ، رضی اللہ عنہُ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر دشمنوں پر تیر برسائے چلے جارہے ہیں اور کہے جا رہے ہیں ''' یا نَبِیَّ اللَّہِ بِابِی اَنت وَاُمِّی لَا تُشرِف لَا یُصِبکَ سَہمٌ من سِہَامِ القَومِ نَحرِی دُونَ نَحرِکَ ::: اے اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ پر قُربان ہوں آپ اُدھر توجہ مت فرمائیے آپ کو دُشمنوں کے تیروں میں کوئی تیر نہیں لگے گا ، میری شہ رگ آپ کی شہ رگ سے کم تر ہے ''' یعنی اُن کے تیر میری شہ رگ پر آئیں گے آپ پر نہیں آنے دوں گا ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،
اور یہ دیکھیئے ، طلحہ بن عبید اللہ ، عشرہ مبشرہ میں سے ایک ، اِسی یوم اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف آنے والے تیروں کو اپنے ننگے ہاتھوں پر روک رہے ہیں ، زحم کھا رہے ہیں ، یہاں تک اِن زخموں کی وجہ سے اُن کا ہاتھ شل ہو گیا ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،
اور یہ دیکھیئے ، اِسی یوم اُحد میں یہ ہیں سعد ابن الربیع رضی اللہ عنہُ ، آخری سانسیں ہیں ، زید ابن ثابت رضی اللہ عنہُ اِن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا سلام لے کر پہنچے ہیں جواب میں کہتے ہیں ''' اللہ کی سلامتی ہو اللہ کے رسول پر ، اور تُم پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کہنا مجھے جنّت کی خوشبو آ رہی ہے ، اور میری قوم انصار کو کہہ دینا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچی تو اللہ کے سامنے تُم لوگوں کے لیے کوئی عُذر نہ ہو گا ''' اور روح پرواز کر جاتی ہے ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم،
دوسری نشانی ::: کِسی ڈر اور خوف کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی خِلاف ورزی کا قلع قمع کرنا ::: جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وفاتِ پُر ملال کے بعد ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ نے زکوۃ دینے سے اِنکار کرنے والوں کے خِلاف اُسامہ ابن زید رضی اللہ عنہما کے لشکر کو روانہ کر کے کِیا ،
تیسری نشانی ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر فورا عمل کرنا ::: جیسا کہ جِہاد اُحد سے فارغ ہو کر آتے ہی اگلے دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ابو سُفیان کی فوجوں کے تعاقب میں حمراء الاسد کی طرف روانگی کا حُکم فرمایا ، تو اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ ابھی کل ہی تو ہم واپس آئے ہیں ، اپنے مرنے والوں کی یاد ابھی بالکل تازہ ہے ، ابھی ہمارے زخموں سے خون بھی نہیںرُکا ، وغیرہ وغیرہ ، بلکہ حُکم ملتے ہی تیار ہو گئے اور نکل کھڑے ہوئے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، اور اللہ تعالیٰ اُن کی اِس عمل کی تعریف فرماتے ہوئے اور اُن کے لیے عظیم کامیابی کی خبر دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( الَّذِینَ استَجَابُوا لِلّہِ وَالرَّسُولِ مِن بَعدِ مَا اصَابَہُمُ القَرحُ لِلَّذِینَ احسَنُوا مِنہُم وَاتَّقَوا اجرٌ عَظِیمٌ O الَّذِینَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَد جَمَعُوا لَکُم فَاخشَوہُم فَزَادَہُم اِیمَاناً وَقَالُوا حَسبُنَا اللّہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ O فَانقَلَبُوا بِنِعمَۃٍ مِّنَ اللّہِ وَفَضلٍ لَّم یَمسَسہُم سُوء ٌ وَاتَّبَعُوا رِضوَانَ اللّہِ وَاللّہُ ذُو فَضلٍ عَظِیمٍ ) ( جِنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مانی اِس کے بعد بھی کہ اُنہیں زخم لگے ہوئے تھے اُن میں سے جِنہوں نے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے (یہ) وہ لوگ (ہیں) کہ جب اِن سے (مُنافق) لوگوں نے کہا کہ (کافر) لوگوں نے تُمہارے مُقابلے میں (لشکر) جمع کر لیے ہیں ، تُم اُن سے ڈرو ، تو (منافقوں کی ) اِس بات نے اِن کو اِیمان میں اور زیادہ کر دِیا اور اِنہوں نے کہا ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ سب سے اچھا کار ساز ہے ( اِس کا انعام اللہ نے یہ دِیا کہ ) یہ (اِیمان والے ) اللہ کی نعمت اور فضل (میں سے کچھ ) حاصل کر کے واپس پلٹے اور اُنہیں کِسی پریشانی نے چُھوا نہیں اُنہوں نے اللہ کی رضامندی کی پیروی کی اور اللہ بہت زیادہ فصل (کرنے) والا ہے ) سورت آل عِمران / آیات ١٧٢ تا ١٧٤ ،
پس اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے ، اُن کی تاویلیں کرتا ہے ، یا بغیر کِسی شرعی عذر کے عمل میں دیر کرتا ہے تو اگر ہم اُس کی مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِنکار نہ کریں تو بھی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اُس کی مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مطلوب درجہ تک نہیں پہنچتی۔

مندرجہ ذیل مضمون کا بھی مطالعہ فرمائیے
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کا تقاضا :::
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by عادل سہیل; 28-03-08 at 06:34 PM.
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (03-12-10), skjatala (28-04-11), مرزا عامر (29-06-10), ابن افضل (30-03-08), ارشد کمبوہ (07-12-10), ضِرار Derar (22-06-10)
پرانا 22-06-10, 12:50 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
عادل صاحب
اگر یہ نشانیان نہ ہوں
تو محبت نہ ہوئی
پر جناب کوئی کوئی نشانی میرے میں نہین
پر میرے کو محبت کتنی ہے وہ میرے کو ہی پتہ ہے
آپ کیسے کہہ سکتے ہو کہ اگر یہ نشانیان نہ ہوں
تو محبت نہیں ہو گی
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-10, 04:15 PM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں


::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں :::::::
الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت کی کچھ نشانیاں ہیں جِن کی موجودگی میں یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کون واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے مُحبت کرتا ہے اور کون مجرد دعویٰ مُحبت رکھتا ہے ،
پہلی نشانی ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اپنی جان و مال فِدا کرنا ::: جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کیا کرتے تھے ، اور اِس کی کئی مثالیں ہیں ، جِن میں سے ایک مثال ''' مثالی شخصیات ''' والے سلسلے میں سے پہلی شخصیت ''' خبیب بن عدی رضی اللہ عنہُ''' کے واقعہ میں ذِکرکی گئی ہے ، اور ایک ''' اُم عمارۃ نسیبۃ بنت کعب رضی اللہ عنہا ''' کے واقعہ میں ہے ،
اور یہ دیکھیئے ، یہ ابو دجانہ رضی اللہ عنہُ ہیں ، کافروں اور مشرکوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر تیر برسائے جا رہے ہیں اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہُ اپنا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف کیے ہوئے اُنہیں چھپائے کھڑے ہیں اور سارے تیر اپنی پُشت پر کھائے چلے جا رہے ہیں ، اور کوئی حرکت بھی نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کوئی اذیت نہ ہو، یہ ہے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،
اور یہ بھی دیکھیئے ، یوم اُحد میں یہ ابو طلحہ الانصاری ہیں ، رضی اللہ عنہُ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر دشمنوں پر تیر برسائے چلے جارہے ہیں اور کہے جا رہے ہیں ''' یا نَبِیَّ اللَّہِ بِابِی اَنت وَاُمِّی لَا تُشرِف لَا یُصِبکَ سَہمٌ من سِہَامِ القَومِ نَحرِی دُونَ نَحرِکَ ::: اے اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ پر قُربان ہوں آپ اُدھر توجہ مت فرمائیے آپ کو دُشمنوں کے تیروں میں کوئی تیر نہیں لگے گا ، میری شہ رگ آپ کی شہ رگ سے کم تر ہے ''' یعنی اُن کے تیر میری شہ رگ پر آئیں گے آپ پر نہیں آنے دوں گا ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،
اور یہ دیکھیئے ، طلحہ بن عبید اللہ ، عشرہ مبشرہ میں سے ایک ، اِسی یوم اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف آنے والے تیروں کو اپنے ننگے ہاتھوں پر روک رہے ہیں ، زحم کھا رہے ہیں ، یہاں تک اِن زخموں کی وجہ سے اُن کا ہاتھ شل ہو گیا ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،
اور یہ دیکھیئے ، اِسی یوم اُحد میں یہ ہیں سعد ابن الربیع رضی اللہ عنہُ ، آخری سانسیں ہیں ، زید ابن ثابت رضی اللہ عنہُ اِن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا سلام لے کر پہنچے ہیں جواب میں کہتے ہیں ''' اللہ کی سلامتی ہو اللہ کے رسول پر ، اور تُم پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کہنا مجھے جنّت کی خوشبو آ رہی ہے ، اور میری قوم انصار کو کہہ دینا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچی تو اللہ کے سامنے تُم لوگوں کے لیے کوئی عُذر نہ ہو گا ''' اور روح پرواز کر جاتی ہے ، یہ ہے مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم،
دوسری نشانی ::: کِسی ڈر اور خوف کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی خِلاف ورزی کا قلع قمع کرنا ::: جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وفاتِ پُر ملال کے بعد ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ نے زکوۃ دینے سے اِنکار کرنے والوں کے خِلاف اُسامہ ابن زید رضی اللہ عنہما کے لشکر کو روانہ کر کے کِیا ،
تیسری نشانی ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر فورا عمل کرنا ::: جیسا کہ جِہاد اُحد سے فارغ ہو کر آتے ہی اگلے دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ابو سُفیان کی فوجوں کے تعاقب میں حمراء الاسد کی طرف روانگی کا حُکم فرمایا ، تو اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ ابھی کل ہی تو ہم واپس آئے ہیں ، اپنے مرنے والوں کی یاد ابھی بالکل تازہ ہے ، ابھی ہمارے زخموں سے خون بھی نہیںرُکا ، وغیرہ وغیرہ ، بلکہ حُکم ملتے ہی تیار ہو گئے اور نکل کھڑے ہوئے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، اور اللہ تعالیٰ اُن کی اِس عمل کی تعریف فرماتے ہوئے اور اُن کے لیے عظیم کامیابی کی خبر دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( الَّذِینَ استَجَابُوا لِلّہِ وَالرَّسُولِ مِن بَعدِ مَا اصَابَہُمُ القَرحُ لِلَّذِینَ احسَنُوا مِنہُم وَاتَّقَوا اجرٌ عَظِیمٌ O الَّذِینَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَد جَمَعُوا لَکُم فَاخشَوہُم فَزَادَہُم اِیمَاناً وَقَالُوا حَسبُنَا اللّہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ O فَانقَلَبُوا بِنِعمَۃٍ مِّنَ اللّہِ وَفَضلٍ لَّم یَمسَسہُم سُوء ٌ وَاتَّبَعُوا رِضوَانَ اللّہِ وَاللّہُ ذُو فَضلٍ عَظِیمٍ ) ( جِنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مانی اِس کے بعد بھی کہ اُنہیں زخم لگے ہوئے تھے اُن میں سے جِنہوں نے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے (یہ) وہ لوگ (ہیں) کہ جب اِن سے (مُنافق) لوگوں نے کہا کہ (کافر) لوگوں نے تُمہارے مُقابلے میں (لشکر) جمع کر لیے ہیں ، تُم اُن سے ڈرو ، تو (منافقوں کی ) اِس بات نے اِن کو اِیمان میں اور زیادہ کر دِیا اور اِنہوں نے کہا ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ سب سے اچھا کار ساز ہے ( اِس کا انعام اللہ نے یہ دِیا کہ ) یہ (اِیمان والے ) اللہ کی نعمت اور فضل (میں سے کچھ ) حاصل کر کے واپس پلٹے اور اُنہیں کِسی پریشانی نے چُھوا نہیں اُنہوں نے اللہ کی رضامندی کی پیروی کی اور اللہ بہت زیادہ فصل (کرنے) والا ہے ) سورت آل عِمران / آیات ١٧٢ تا ١٧٤ ،
پس اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے ، اُن کی تاویلیں کرتا ہے ، یا بغیر کِسی شرعی عذر کے عمل میں دیر کرتا ہے تو اگر ہم اُس کی مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِنکار نہ کریں تو بھی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اُس کی مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مطلوب درجہ تک نہیں پہنچتی۔

مندرجہ ذیل مضمون کا بھی مطالعہ فرمائیے
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کا تقاضا :::
جزاک اللہ خیرا بھائی عادل سہیل
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (28-04-11)
پرانا 03-12-10, 04:31 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 8,482
کمائي: 264,343
شکریہ: 397
5,337 مراسلہ میں 12,174 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

جزاک اللہ خیر
زارا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-12-10, 01:25 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے ، زارا بہن ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, php, کہہ, کیسے, کوئی, کتنی, گی, پتہ, مکمل, ماں, محبت, اللہ, السلام, انعام, بہن, بہترین, تعالیٰ, جواب, خیر, خون, خبر, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ثنا خوانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظفر وارثی انتقال کر گئے Ajmal Anjum خبریں 4 31-01-11 11:30 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
تکمیل اِیمان کی شرط ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 3 15-05-10 09:55 AM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں طارق راحیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 25-02-09 10:35 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger