واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




توہین رسالت۔۔قانون۔۔اور الطاف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 04:04 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default توہین رسالت۔۔قانون۔۔اور الطاف

توہین رسالت۔۔قانون۔۔اور الطاف

ایک مخصوص طبقہ وقتاً فوقتاً توہین رسالت کے قانون کے خلاف آواز اٹھاتا رہتا ہے۔اس مخصوص طبقے کا موقف ہے کہ یہ ایک امتیازی قانون ہے جو کہ اقلیتوں کے خلاف بنایا گیا ہے اور پاکستان میں مذہبی طبقہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔یہ بات کہنے والے دراصل اپنی کم عقلی یا پھر دین بیزار ی کا ثبوت دیتے ہیں کیونکہ یہ قانون پاکستان نے نہیں بنایا بلکہ یہ قانون تو برٹش دور میں بنایا گیا ہے اور 1922ءسے رائج ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ قانون اقلیتیوں کے خلاف نہیں بنایا گیا کیونکہ برٹش دور اور غیر منقسم ہندوستان میں ہندو سب سے بڑی اکثریت تھے اور مسلمان انکی نسبت اقلیت میں تھے اس لئے یہ کہنا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف بنایا گیا ہے درست نہیں ہے۔جبکہ ان کا دوسرا اعتراض بھی کوئی وزن نہیں رکھتا ہے کیونکہ اس قانون کی رو سے صرف نبی اکرم کی ذات گرامی کی توہین ہی جرم نہیں ہے بلکہ تمام انبیاءکرام میں سے کسی کی بھی ذات کو توہین کا نشانہ بنانا جرم ہے ۔




اس بات کو یوں سمجھ لیں کہ اگر کوئی عاقبت نا اندیش مسلمان بھی نعوذ باللہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا کسی اور پیغمبر کی شان میں گستاخی کرے گاتو جرم ثابت ہونے پر وہ بھی اسی طرح سزا کا حقدار ہوگا جس طرح کوئی غیر مسلم فرد سزا کا حقدار ہوگا۔اس لئے یہ کہنا کہ مذہبی طبقہ اس قانون کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے یہ بھی درست نہیں ہے۔


تیسری بات بھی غور طلب ہے کہ اگر سروے کرایا جائے اور اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی باسٹھ سالہ تاریخ میں اس قانون کے تحت اب تک کتنے لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہے؟؟ اس کا جواب بڑا دل چسپ ہے کہ اس قانون کے تحت آج تک کسی ایک بھی فرد کو سزا نہیں دی گئی ہے ۔چند ماہ قبل گوجرہ میں ایک افسوس ناک واقعہ کے بعد مسلم عیسائی تصادم ہوگیا تھا فریقین کی جانب سے اسلحہ کا استعمال کیا گیا اور عیسائیوں کے کئی گھر بھی نزر آتش کئے گئے۔اس واقعے کی بنیاد بھی یہی تھی کہ ایک مقامی عیسائی فرد کی بیٹی کی شادی میں نوٹوں کے ساتھ قرآن پاک کے اوراق بھی اچھالے جارہے تھے جس کے بعد یہ بات بڑھ گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بھی توہین رسالت کے قانون کو نشانہ بنایا گیا اور اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ سیالکوٹ کے ایک علاقے سمبڑیا ل میں پیش آیا جس میں ملزم ایک عیسائی نوجوان تھا بعد ازا ں وہ نوجوان مقامی تھانے میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگیا، جس کے بارے میں پولیس کا موقف ہے کہ اس نے مبینہ طور پر خودکشی کی ہے جبکہ اس کے لواحقین کا کہنا ہے اس کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ہے اور اس کی لاش پر تشدد کے نمایاں نشانات تھے۔قبل اس کے کہ ہم مزید آگے بڑھیں یہاں یہ بات واضح کرتے چلیں کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ ہمارے میڈیا تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اور اگر پہنچ بھی جائیں تو ان کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جاتا ہے۔اس واقعے میں بھی یہی ہوا تھا۔ واقعہ کی پوری تفصیلات کے مطابق سمبڑیا ل کی ایک سات آٹھ سالہ بچی اپنے گھر سے مدرسہ کی جانب روانہ ہوئی ،راستے میں ملزم ( جس کی شہرت اچھی نہیں تھی ) نے بچی کو بہلا کر اپنے ساتھ لیجانے کی کوشش کی ،بچی سہم گئی اور اس نے ایک اجنبی کے ساتھ جانے سے انکار کردیا ،جس کے بعد اس نوجوان نے بچی کے ہاتھ سے سیپارہ لیکر قریبی نالے میں پھینک دیا اور بچی کو زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی ،بچی کچھ سمجھدار تھی اس نے شور مچا دیا شور سن کر لوگ اس جانب متوجہ ہوئے جس پر یہ نوجوان گھبرا کر بھاگ اٹھا،لوگوںنے بچی سے معاملہ پوچھا تو بچی نے روتے ہوئے ان کو پورا معاملہ بتایا اور نالے میں پڑا ہوا سیپارہ بھی دکھایا ،جس پر موقع پر موجود لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اس نوجوان نے کا پیچھا کیا،اور عیسائی آبادی پہنچ گئے وہاں یہ افسوسناک واقعہ بھی ہوا کہ کچھ جذباتی اور عاقبت نا اندیش لوگوں نے ایک چرچ کو آگ لگادی۔( یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے اور انتظامیہ کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے کہ چرچ کو آگ لگانے والے مجرمان کو بھی گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ اسے واقعات رونما نہ ہوں)قصہ مختصر کہ پولیس مذکورہ عیسائی نوجوان کو گرفتار کرلیا ،اور اس کے بعد یہ نوجوان حوالات میں مردہ پایا گیا جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے اس نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی ہے۔

اب زرا غور کریں اور فیصلہ کریں، یہ ٹھیک ہے کہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کا احترام کرنا چاہئے اور جنہوں نے بھی اس کے تقدس کو پامال کیا ہے ان مجرمان کو گرفتار کرکے سزا دینی چایئے،اس واقعہ میں ملوث ملزم کی پولیس کی حراست میں ہلاکت بھی تشویش ناک ہے اور اس کی تحقیقات بھی ہونی چاہیے کہ آیا اس نے خودکشی کی ہے یا اس کو قتل کیا گیا ہے،اس حوالے سے ملزم کے ورثاءکا احتجاج کرنا بھی جائز ہے لیکن ! کیا ایک کمسن بچی کو بری نیت سے اغوا کی کوشش کرنا کوئی جرم نہیں ہے؟؟ کیا قرآن پاک کی توہین کرنا اتنا ہی آسان ہے کہ کوئی بھی فرد اٹھے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کردے؟کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ اس واقعہ کی مکمل تفصیلات ظاہر کرتا تاکہ دنیا کو پوری بات کا علم ہوتا؟ ادھوری بات ،آدھا سچ دنیا کے سامنے ظاہر کیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شائد پاکستان میں لوگ اقلیتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اوپر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔جبکہ الحمد للہ ہمارے ملک پاکستان میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کی جائے،یا ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے۔لیکن اس بات کو ظاہر کرنے کے بجائے اس کے برعکس تاثر اجاگر کیا جاتا ہے۔اب ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ ملزم کے ورثاءاور کمیونٹی ،محترمہ عاصمہ جہانگر صاحبہ اور گورنر پنجاب کی جانب سے ملزم کی ہلاکت کے بعد توہین رسالت کے قانون کی منسوخی کا مطالبہ دوبارہ اٹھایا گیا ہے۔اس مطالبے کے حق میں جو دلائل دئے جاتے ہیں اس کا جواب ہم اوپر دے چکے ہیں۔موجودہ کیس میں بھی دیکھا جائے تو یہ مطالبہ بالکل ہی بے جا بلکہ بچکانہ ہے۔

دیکھیں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ پاکستان میں کوئی ملزم پولیس کی حراست میں یا حوالات میں ہلاک ہوا ہو۔یہ ایسے افسوس ناک واقعات پہلے بھی ہمارے معاشرے میں ہوتے رہے ہیں۔کیا اس سے پہلے جو بھی واقعہ ہوا ہے اس میں پولیس اور انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے یا کسی قانون کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے؟ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس سے پہلے بھی جو واقعات ہوئے ہیں تو اس میں انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور کسی بھی واقعے میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ جس قانون کے تحت ملزم کو گرفتار کیا گیا ہو ا س قانون کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہو۔پھر توہین رسالت کے معاملے ،میں اس قانون کو ہی ہدف تنقید کیوں بنایا جاتا ہے۔

دراصل یہ معاملہ اتنا سیدھا اور آسان نہیں ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے بلکہ اس قانون کو منسوخ کرنے کی کوششوں میں قادیانی لابی ملوث ہے کیوںکہ یہ قانون ان کی اسلام مخالف سرگرمیوں کے خلاف ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔دیکھیں اسلام کی بنیادی تعلیمات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد اب کوئی نبی آئے گا۔یہ ایک ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے جس پر کبھی بھی دو رائے نہیں رہی ہیں۔ماضی بعید میں جب بھی کسی فرد نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو مسلم معاشرے اور حکمرانوں نے اس کا سدبا ب کیا یہی صورتحال قادیانی فتنہ کی ہے۔ یہ فتنہ اسلام کے بنیادی عقیدے کے ہی خلاف ہے جو فرد اب نبی آخری زمان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا،ملعون اور واجب القتل ہے۔
ماضی بعید میں جب بھی ایسے فتنوںنے سر اٹھایا تو کچھ عرصے کے بعد وہ اپنی موت آپ مرگئے، لیکن قادیانی فتنہ چونکہ انگریزوں کا کاشت کردہ پودا ہے اور اس کو بڑی محنت اور منصوبہ بندی کے ساتھ پروان چڑھایا گیا ہے اس لئے یہ فتنہ کم و بیش ایک صدی سے موجود ہے اور اس کی پشت پر برطانوی اور یہودی قوتیں ہیں جنہوںنے اس فتنے کو ختم نہیں ہونے دیا ہے۔

چونکہ یہ قانون (توہین رسالت) ایسی کسی بھی خلاف اسلام سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا ہے اس لئے قادیانی لابی کی پوری کوشش ہے کہ اس قانون کو ختم کردیا جائے تاکہ ان کو پوری طرح پاکستان میں کُھل کھیلنے کا موقع ملے۔ گزشتہ دنوں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف نے بھی منکرین نبوت ،قادیانی فتنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کو بھی پاکستان میںآزادانہ طور پر اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہونی چایئے۔ الطاف اس سے پہلے بھی اس فتنے کی حمایت کرتا رہا ہے اور بالخصوص اس فتنے کے خلیفہ کی موت پر پورے عالم اسلام سے سوائے الطاف کے کسی نے بھی تعزیت نہیں کی۔ لیکن الطاف نے نہ صرف قادیانیوں کے خلیفہ کی موت ر تعزیت کی بلکہ اس کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار بھی کیا اور اس کے لئے مغفرت کی دعا بھی کی۔
اُس وقت بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ الطاف اپنے عقیدے کی وضاحت کرے کہ وہ ایک گستاخ رسول کی حمایت کررہا ھے تو اس کا عقیدہ کیا ہے؟ اب دوبارہ یہی سوال اٹھا ہے کہ محترم الطاف حسین صاحب قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت دینے کی بات کررہے ہیں تو ان کا عقیدہ کیا ہے؟

ویسے جب بھی محترم الطاف حسین صاحب نے کسی مذہبی مسئلے پر کوئی متنازعہ بیان دیا ہے اور اس پر اعتراض کیا گیا ہے تو انہوں نے یہ دلیل دی ہے کہ ” میں مفتیءآگرہ کا پوتا ہوں“ ہم معذرت کے ساتھ یہ بات کہیں گے کہ ان کی یہ دلیل بالکل ہی بودی ہے۔آگرہ کے مفتی ان کے داد تھے ان کے علم و تقویٰ پر ہم کوئی بات نہیں کرسکتے ہیں لیکن دادا کے عالم ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پوتا مذہبی معاملات میں اپنی رائے دیتا پھرے۔اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ قرآن کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ حسب و نسب کی کوئی اہمیت نہیں ہے اصل اہمیت انسان کے ذاتی علم و تقویٰ اور پرہز گاری کی ہے۔ اور قرآن کا مطالعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان کافروں میں سے تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنی قوم کے ظالموں اور کافروں کے ساتھ تھی اور انہی کےساتھ اس کا انجام بھی ہوا ہے، خود نبی کا چچا ابو لہب جہنمی تھا۔ جب کہ اس کے برعکس مثالیں بھی موجود ہیں کہ منافق اعظم عبدا للہ بن ابی کے بیٹے ایک سچے مسلمان اور صحابی رسول تھے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی معاملات میں متنازعہ بات کی یہ دلیل دینا کہ میں مفتی کا پوتا ہوں تو یہ محترم الطاف حسین صاحب کی کم علمی کی علامت ہے یا اپنے عقائد کو چھاپنے کی کوشش ہے ۔ا ن کو اس پر غور کرنا چاہیئے۔اور ان کے معتقدین کو بھی اس پر غور کرنا چایئے کہ وہ کس فرد کی حمایت کررہے ہیں،کیا حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے؟ کیا منکرین نبوت کی اتنی واضح حمایت کے باوجود بھی مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہے کہ ان کا عقیدہ کیا ہے؟ یہاں یہ بات بھی ہم واضح کرتے چلیں کہ بات صرف اتنی نہیںہے کہ منکرین نبوت کی حمایت کی گئی ہے بلکہ جب اس پر پورے پاکستان سے احتجاج کیا گیا تو انہوںنے بجائے اس پر کسی شرمندگی کا اظہار کرنے کے ،الٹا یہ جرم کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے ایک خودساختہ اعلان کیا گیا کہ جس کا لب لباب یہ تھا کہ ” الطاف حسین کی وضاحت کے بعد یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو محترم الطاف حسین صاحب نے نہ تو اس پر کوئی وضاحت کی ہے اور نہ ہی علماءنے ان کی کسی وضاحت کو قبول کیا ہے ،لیکن عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے یہ سارا ناٹک کیا گیا۔

اب ہم قارئین کی معلومات کے لئے یہ بات عرض کردیں کہ قادیانی فتنہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس مذہب کی بنیاد ہی توہین رسالت پر ہے۔دسری بات یہ ہے کہ فتنے نے نہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے بلکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام،اور حضرت مریم علیہ السلام کی بھی توہین کے مرتکب ہیں۔اس کے علاوہ وہ جملہ مسلمانوں کو جو کہ اس فتنے کو نہیں مانتے انکے بارے میں بہت ہی غلظ زبان استعمال کرتے ہیں اور ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ہم یہاں تحریر نہیں کرسکتے ہیں صرف ایک نمونہ پیش کرتے ہیں

کہ

”بے شک میرے دشمن جنگلوں کے سور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں
(نجم الھدیٰ صفحہ 10از مرزا غلام احمد قادیانی)


۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ یعنی قادیانی مسلمان ہیں اور دوسرے یعنی ہم مسلمان کافر ہیں

” کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود( مرزا غلام احمد قادیانی)کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے،خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیںاور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“
(آئینہ صداقت صفحہ 35از مرزا محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

۔ان کو تبلیغ کی اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس بات کو مان لیں کہ پوری دنیاکے ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمان دراصل کافر ہیں اور یہ ایک انتہائی اقلیتی گروہ دراصل مسلمان ہے۔

جب تک قادیانی اس بات نہیں تسلیم کرتے کہ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس وقت تک ان سے کوئی بات نہیں کی جاسکتی اور بالفرض اگر وہ یہ بات تسلیم بھی کرلیں تو بھی ان کو توہین رسالت کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔نقل کفر کفر نہ باشد ہم قادیانیوں کے عقائد اور گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چند نمونے یہاں پیش کررہے ہیں تاکہ وہ لوگ جو کہ اس فتنے کے بارے میں نہیں جانتے وہ بھی جان لیں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو بھی پہچان لیں اور ایسے لوگوں سے اعلان برائت کریں۔


” پھر اس کتاب میں مکالمہ کے قریب یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار و رحمہ بینھم اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا “
( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ نمبر4)
نعوذ باللہ


”روضہ اطہر مصطفیٰﷺ نہایت متعفن(بدبو دار)اور حشرات الارض کی جگہ ہے“۔(تحفہ گولڑویہ صفحہ 112) استغفر اللہ


” جو شخص مجھ میں اور نبی ﷺ میں فرق محسوس کرتا ہے ،اس نے مجھے نہیں پہچانا“( خطاب الہامیہ صفحہ 200)نعوذ باللہ

” یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے “۔(الفضل 17/7/1922)نعوذ باللہ


یہ باتیں میں نے مجبوراً یہاں نقل کی ہیں تاکہ لوگوں کو قادیانیوں کے عقائد کا علم ہوسکے اور یہ تو صرف ایک نمونہ ہے ایسی کئی باتیں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ نے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کہی ہیں اور ان کی کتابیں ایسی باتوں سے بھری پڑی ہیں۔
اور جناب مرزا الطاف حسین قادیانی کو مسلمان کہتے ہیں واہ۔

اللہ تمام مسلمانوں کو اس فتنے کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اس فتنے کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے حامی گروہوں کے شر بھی ہمیں محفوظ رکھے۔آمین
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
حسنین ایوب (22-10-09), عامرشہزاد (23-10-09)
جواب

Tags
کنعان, پہچان, پولیس, پاکستان, واقعات, قرآن, قصہ, نظر, موت, منافق, منصوبہ, معذرت, آئینہ, آبادی, آج, اجنبی, احتجاج, اغوا, جرم, خودکشی, ختم نبوت, دعا, عیسیٰ, عبادت, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان ابن جلال خبریں 21 06-06-11 08:45 PM
جن باٹوں سے تول كر دوگے، تمہيں بھی تو اُن ہی باٹوں سے تول كر ملے گا ناں! ابو عمار گپ شپ 3 13-01-11 09:31 AM
wajee ذیلی ناظم کی ملک توڑنے کی بات "ہندوستان کو توڑ دیا یہ کیا چیز ہے" اویسی تھانہ 27 23-04-10 04:41 PM
پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک ھارون اعظم سیاست 15 12-04-10 01:34 PM
تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں The Great شعر و شاعری 0 26-08-09 12:20 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger