واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


دوستوں كا انتخاب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-10-08, 05:53 AM   #1
Senior Member
 
Atia jamali's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,734
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دوستوں كا انتخاب

دوستوں كا انتخاب

ہم جانتے ہیں کہ بچوں کی عمر کا ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جسمیں دوست انکے لئے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں, انكى باتوں سے متأثر ہوتے هيں, انہیں اپنا آئيڈيل بنا ليتے ہیں, ان جيسا بننے كى كوشش كرتے ہیں , انكى غلطيوں كو نہیں ديكھتے اور انكى توجہ حاصل كرنے كى بھرپور كوشش كرتے هيں , ايك غلط دوست كے انتخاب سے ماں باپ كى محنت سے كى گئ تربيت پر پانی پھر سكتا ہے
ماں باپ چھوٹی عمر سے ہی دوستوں كے انتخاب ميں بچوں كی مدد كر سكتے ہیں وہ كس طرح, مثلا

1 دوستى كے شروعات سے ہی آپ بچوں سے اس خواہش کا اظہار کریں کہ آپ انکے دوستوں سے ملنا چاہتے ہں

2 انكے دوستوں كے نا مناسب رويہ پر اظہار خيال كريں مگر دوستوں كا نام لئے بغير, آپ يہ بتائيں كہ آپ نامناسب افكار و اعمال كے خلاف ہیں انكے دوستوں كے نہیں

3 اگر غلطى سے غلط دوست بن گئے تو شروع ميں ہی كوشش كر كے انكے لئے اچھے دوست كا انتخاب كرنا اور اس مقصد كے لئے انكے گھروں ميں آنا جانا شروع كريں تاكہ خراب دوستوں كى جگہ لے سكيں

4 انكے لئے قصہ و كهانياں بيان كى جائيں جس سے وہ جان جائيں كہ برے دوستوں كى صحبت سے كيا مسائل پیدا ہو سكتے ہیں

5 باقائدگى سے دعا و مناجات كريں اور اللہ سے اپنے بچوں كى حفاظت اور رہنمائ كى مدد مانگیں

6 برے دوستوں سے بچانے كے لئے انكو زيادہ سے زيادہ دوسرے كاموں ميں مصروف ركہيں, كوئ ہنر سكھائیں,

7 بچوں کو زيادہ سے زيادہ وقت ديں, مثلا انكے ساتھ سائكلنگ پر جائيں و انكے ساتھ سينما جائيں, انكے ساتھ كمپیوٹر كھيلیں , ليكن اس بات كا خيال ركھیں كہ جب انكے ساتھ ہوں تو دنیا كو انكى نظر سے ديكھیں , نكتہ چینی سے پرہیز كريں اور خود كو خوش ظاہر کریں
Atia jamali آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Atia jamali کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (22-10-08), ھارون اعظم (24-02-11), منتظمین (19-10-08), محمد یاسرعلی (19-10-08), ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 06:45 AM   #2
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,142
شکریہ: 889
720 مراسلہ میں 1,430 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

سلام،

دوستوں کے سلسلے میں تو آپکا بچہ خود مختار ہوتا ہے پھر وہ یہ کیسے پسند کرے گا کہ آپ اسکو دوستوں کو اسکے لیے پسند کریں؟؟؟

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (19-10-08), ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 01:09 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

اپ نے بہت ہی عمدہ سوال آٹھایا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے عطیہ جی اس کا کوئی مناسب جواب ضرور دیں گئیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 02:53 PM   #4
Senior Member
 
Atia jamali's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,734
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

بچے كى تربیت آپ کی ذمہ داری ہے جسکے لئے آپ خدا کے سامنے جواب دہ ہیں,بچے آپ کے پاس خدا کی امانت ہیں, بچے خدا کے باغ کے وہ پودے ہیں جنکی دیکھ بھال آپکے ذمہ ہے,اتنی اہم ذمہ داری سے غفلت خطرناک ہوسکتی ہے آپکو دوستوں کے انتخاب کا کام اس وقت شروع نہیں کرنا جب وہ فیصلہ کرنے کی عمر کا ہوجائے آپ کو یہ کام اس وقت کرنا ہے جب وہ دوست اور دوستی کے مطلب سے بھی آشنا نہیں ہوتا ,پودے کی سہی سمت اس وقت تك ہی بن سکتی ہے جب وہ نرم ہوتا ہے تنے کے مضبوط ہونے کے بعد آپ کچھ نہیں کر سکتے زیادہ سے زیادہ اسکی شاخوں کی کانٹ چھانٹ ہی ممکن ہے ،اس لئے پہلے دس سال بہت اہم ہیں
پہلے تقریبا دس سال ایسے ہوتے ہیں کہ بچے خود چاہتے ہیں کہ ماں باپ انکے دوستوں سے ملیں , اور اگر آپ اس وقت بچوں کے دوستوں کے دوست بننے میں کامياب ہوگئے تو وہ باقی عمر بھی جتنے دوست بنائیں گے آپ کو خوشی سے ملوائیں گے
پہلے دس سال - کبھی بچوں کو تنہا دوستوں کے یا رشتہ داروں کے گھروں میں نہ بھجیں,
بچوں کے کھیل کے دوران بھی انھیں اکیلا نہ چھوڑیں اتنے فاصلے پر بیٹھیں کہ جہاں سے آپ انھیں دیکھ بھی سکیں اور سن بھی سکیں
سب سے کامیاب طریقہ تو یہ ہے کہ آپ انکے ساتھ کھلیں،انھیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں، تاکہ انھیں دوستوں کی کم ضرورت پڑے اور جب دوستوں کے انتخاب كاوقت آئےگا اس وقت تک وہ اچھے اور برے دوست کا فرق جان چکا ھوگا
آپ سے زیادہ بہتر دوست کوئ نہیں ہوسکتا
Atia jamali آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Atia jamali کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (19-10-08), محمدعدنان (21-10-08), ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 03:19 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,621
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

ابھی میں خود بچہ ہو تو اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہاہاہاہاہاہاہا
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 03:28 PM   #6
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,142
شکریہ: 889
720 مراسلہ میں 1,430 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: دوستوں كا انتخاب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Atia jamali مراسلہ دیکھیں
بچے كى تربیت آپ کی ذمہ داری ہے جسکے لئے آپ خدا کے سامنے جواب دہ ہیں,بچے آپ کے پاس خدا کی امانت ہیں, بچے خدا کے باغ کے وہ پودے ہیں جنکی دیکھ بھال آپکے ذمہ ہے,اتنی اہم ذمہ داری سے غفلت خطرناک ہوسکتی ہے آپکو دوستوں کے انتخاب کا کام اس وقت شروع نہیں کرنا جب وہ فیصلہ کرنے کی عمر کا ہوجائے آپ کو یہ کام اس وقت کرنا ہے جب وہ دوست اور دوستی کے مطلب سے بھی آشنا نہیں ہوتا ,پودے کی سہی سمت اس وقت تك ہی بن سکتی ہے جب وہ نرم ہوتا ہے تنے کے مضبوط ہونے کے بعد آپ کچھ نہیں کر سکتے زیادہ سے زیادہ اسکی شاخوں کی کانٹ چھانٹ ہی ممکن ہے ،اس لئے پہلے دس سال بہت اہم ہیں
پہلے تقریبا دس سال ایسے ہوتے ہیں کہ بچے خود چاہتے ہیں کہ ماں باپ انکے دوستوں سے ملیں , اور اگر آپ اس وقت بچوں کے دوستوں کے دوست بننے میں کامياب ہوگئے تو وہ باقی عمر بھی جتنے دوست بنائیں گے آپ کو خوشی سے ملوائیں گے
پہلے دس سال - کبھی بچوں کو تنہا دوستوں کے یا رشتہ داروں کے گھروں میں نہ بھجیں,
بچوں کے کھیل کے دوران بھی انھیں اکیلا نہ چھوڑیں اتنے فاصلے پر بیٹھیں کہ جہاں سے آپ انھیں دیکھ بھی سکیں اور سن بھی سکیں
سب سے کامیاب طریقہ تو یہ ہے کہ آپ انکے ساتھ کھلیں،انھیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں، تاکہ انھیں دوستوں کی کم ضرورت پڑے اور جب دوستوں کے انتخاب كاوقت آئےگا اس وقت تک وہ اچھے اور برے دوست کا فرق جان چکا ھوگا
آپ سے زیادہ بہتر دوست کوئ نہیں ہوسکتا
سلام،

مانا کہ بچوں کی تربیت ماں باپ کے انتہائی اہم فرائض میں شامل ہے لیکن کیا اس تربیت کو بہانہ بنا کر ہم اپنے بچوں کی ایسی جاسوسی کرنے لگیں جس سے بچہ ماں باپ سے دور ہونے لگے۔ ایک انتہائی ایم بات میں آپکو بتاتا چلوں کہ جب بھی خلیج بنتی ہے تو آپکو پتہ بھی نہیں لگتا جب تک رخنہ بالکل واضع نہ ہوجائے۔ اسکی مثال سورج کی ہے کہ جب وہ اپنی منزل طے کررہا ہوتا ہے تو کیا آپکو پتہ چلتا ہے؟ ہمیں تو خیال اسوقت آتا ہے جب صبح، دوپہر، سہ پہر یا پھر شام ہوچکی ہوتی ہے۔ تو ایسے میں یہ سوچ لینا کہ جناب جو ہم کررہے ہیں بالکل صحیح اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھنے والی بات ہے۔

آپکے بقول بچے چاہتے ہیں کہ ماں باپ انکے دوستوں سے ملیں تو یہاں آپنے میری بات کی خود ہی تصدیق کردی کہ وہ اس معاملہ میں خود مختار ہے کیوں کہ جب تک ماں باپ اسکے دوستوں سے ملیں گے تب تک وہ اسکے دوست بن چکے ہوں گے تبھی تووہ انکوملنے کو کہہ رہا ہوتا ہے۔

جہاں تک آپکی یہ بات کہ بچوں کو کبھی تنہا نہ چھوڑیں ہے تو میں اس بارے میں یہی کہوں کہ بار بار آپکو ایک بات کہی جائے تو غصہ آہی جاتا ہے۔ ہر بچہ کا مزاج قطعا مختلف ہوتا ہے ایک خاموش گو، دوسرا شیطانی طبعیت کا، ایک باتونی تو چوتھاشرمیلا۔ یہ میں ایک ہی گھر کی بات کررہا ہوں محلہ کے بچوں کی نہیں۔ تو اس صورت میں انپر کیسے نظر رکھی جائے؟ میں ایسے کئی بچے دیکھیں ہیں اور نتیجہ احساس کمتری میں نکلا ہے۔

یہاں مجھے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ایک قول یاد آرہا ہے "کہ سات سال تک بچہ کو شہنشاہ کی طرح رکھو اسکے بعد کے سات سال اس سے ہر طرح کے کام لو اور اسکے بعد اسکو ہمیشہ کے لیے اپنا مشیر (یعنی مشورہ لینا شروع کردو) بنالو"۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (21-10-08), ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 03:33 PM   #7
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,142
شکریہ: 889
720 مراسلہ میں 1,430 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

سلام،

میں یہاں ایک انتہائی تلخ بات کہنے جارہا ہوں جو شاید ماں باپ کو پسند نہ آئے کہ "اگر بچہ کبھی ماں باپ کی کسی غلطی کو سامنے لے کر آئے" تو اس صورت میں بچہ کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انتہائی شرمناک ہوتا ہے اسے بےوقوف، لاپرواہ اور پھر اسکی ان کرتوتوں کا پنڈورا کھل جاتا ہے جو ہمیشہ سے بند ہوتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے بقول چودہ سال سے اسکو اپنا مشیر بنالو مگر ہم تو اپنے بچہ کی بات تب بھی نہیں سنتے جب تک وہ پچیس 25 سال کاہوجاتا ہے۔ اسکی مثال خود آپکے گھر میں موجود ہوگی اسلیے باہر سے دینا بےکار ہے۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 04:57 PM   #8
Senior Member
 
Atia jamali's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,734
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

میں نے اب تک جو بھی لکھا ہے اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں لکھا ہے، آپ سب کا متفق ہونا ضروری نہیں، میرے دو بیٹے ہیں ،می نے ان باتوں کا خیال رکھا ہے ،بڑا بیٹا تیرہ سال کا ہے اسکے دوست اسی کی طرح ہیں انہیں میں نے انتخاب نہیں کیا، میں ان سب کو جانتی ھوں ، انکی فیملیز کو جانتی ہوں،اسکے دوستوں کے سہی انتخاب پر میں نے کئ بار اسکی تعریف کی ہے،چھوٹے بیٹے کا مزاج بڑے بیٹے سے کافی مختلف ہے،وه 6 سال كا ه, مگر مجھے تو اپنا کام پوری ایمانت داری سے کرنا ہے ،سخت ہو یا آسان، ماں کی حیثیت سے میں سیکھنے کے عمل سے گزر رھی ھوں جب تک زندہ ہوں یہ عمل جاری رہے گا
Atia jamali آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Atia jamali کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (21-10-08), ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 05:00 PM   #9
Senior Member
 
Atia jamali's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,734
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عرفان حیدر مراسلہ دیکھیں
سلام،

میں یہاں ایک انتہائی تلخ بات کہنے جارہا ہوں جو شاید ماں باپ کو پسند نہ آئے کہ "اگر بچہ کبھی ماں باپ کی کسی غلطی کو سامنے لے کر آئے" تو اس صورت میں بچہ کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انتہائی شرمناک ہوتا ہے اسے بےوقوف، لاپرواہ اور پھر اسکی ان کرتوتوں کا پنڈورا کھل جاتا ہے جو ہمیشہ سے بند ہوتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے بقول چودہ سال سے اسکو اپنا مشیر بنالو مگر ہم تو اپنے بچہ کی بات تب بھی نہیں سنتے جب تک وہ پچیس 25 سال کاہوجاتا ہے۔ اسکی مثال خود آپکے گھر میں موجود ہوگی اسلیے باہر سے دینا بےکار ہے۔

وسلام
---------------------------
Atia jamali آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Atia jamali کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 09:36 PM   #10
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

دوستوں ابھی عطیہ جی کا مضمون دوستوں کا انتخاب پڑھ رہی تھی۔ بہت اچھا اور توجہ طلب مضمون ھے۔ جن جن دوستوں نے اپنی راے کا اظہار کیا وہ بھی کسی حد تک درست ھے۔ ھر ایک کو اپنی رائے دینے کا حق ھے۔ اسی طرح بچوں کے بارے میں ذیادہ سختی کی جائے تو بھی درست نہیں ،آج کا بچہ بہت عقلمند اور کمپیوٹر دور کا بچہ ھے ۔ھم اپنے بچے کے لیے ایک ماڈل ھیں ،جیسا ھم کرتے ھیں تو بچہ بھی وہی کچھ سیکھتا ھے۔ اگر اس کے گھر میں آنے والے لوگ جو کہ اس کے والدین کے دوست ھوں گیے ۔ جب وہ ان کے درمیاں بیٹھے گا گفتگو سنے گا۔تو اپنے دماغ میں ایک امیج بنا لیے گا۔ چاہئے وہ اچھا ھے یا برا۔ جب بچہ گھر سے باھر اکیلا جاتا ھے ۔ مطلب اسکول جانے کے قابل ھوتا ھے ۔ تب والدین اسکے ساتھ نہیں ھوتے ۔وہاں اس کو اپنی مرضی کا دوست چاہئے ھوتا ھے۔ اگرگھر سے وہ اچھی تربیت لے کر جائے گا تو وہی امیج جو والدین کی دوستی کا اس کے دماغ میں ھو گا وہی اس کو اپنی دوستی میں یاد رہئے گا۔ھم کو بچے پر نظر ضرور رکھنی چاہئے لیکن اس حد تک کہ وہ اپنی بےعزتی محسوس نا کرئے ۔ اور اس کا یقین نا ٹوٹنے پائے۔ پھر آپ کا بچہ کس جگہ رہ رہا ھے یہ بھی دیکھنا ھو گا ۔ اگر آپ پاکستان کی بات کرتے ھو تو وہاں کا الگ ماحول ھے۔ جبکہ یورپ میں رہنے والے بچے الگ ھوتے ھیں
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (21-10-08), ابن جلال (19-10-08), عرفان حیدر (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 09:38 PM   #11
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,142
شکریہ: 889
720 مراسلہ میں 1,430 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: دوستوں كا انتخاب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Atia jamali مراسلہ دیکھیں
میں نے اب تک جو بھی لکھا ہے اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں لکھا ہے، آپ سب کا متفق ہونا ضروری نہیں، میرے دو بیٹے ہیں ،می نے ان باتوں کا خیال رکھا ہے ،بڑا بیٹا تیرہ سال کا ہے اسکے دوست اسی کی طرح ہیں انہیں میں نے انتخاب نہیں کیا، میں ان سب کو جانتی ھوں ، انکی فیملیز کو جانتی ہوں،اسکے دوستوں کے سہی انتخاب پر میں نے کئ بار اسکی تعریف کی ہے،چھوٹے بیٹے کا مزاج بڑے بیٹے سے کافی مختلف ہے،وه 6 سال كا ه, مگر مجھے تو اپنا کام پوری ایمانت داری سے کرنا ہے ،سخت ہو یا آسان، ماں کی حیثیت سے میں سیکھنے کے عمل سے گزر رھی ھوں جب تک زندہ ہوں یہ عمل جاری رہے گا
سلام،

جی میں بھی اپنے زاتی تجربہ کی بنیادپر ہی لکھ رہا ہوں ہاں فرق ہے تو انتاکہ مین مرد ہوں اور باپ بنوں گا(ویسے بھی روحانی باپ تو ہوں ہی) جبکہ آپ ماں ہیں۔

میرا تعلق ایک ایسی فیملی سے جس میں بچوں کی سخت نگرانی ہوتی ہے مغرب کی ازان کے بعد ہمارا مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد گھر پر ہونا ضروری ہوتا تھا اور اگر کبھی نکلے بھی تو والد بزگوار کو ہمیشہ سے بتایا (وہ خود ہی سختی سے پوچھتے تھے اسلیے ہمیشہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں پتہ چل گیا تو کمبختی آجائے گی) کتنے وقت کے لیے جارہے ہیں۔ والدہ نے تو کبھی پوچھا ہی نہیں۔

وہ خود کبھی ہمارے دوستوں سےنہیں ملے بلکہ وہ ہماری رپورٹ محلہ والوں سے لیا کرتے تھے انکو محلہ کے ایک ایک بچہ کا پتہ ہوتا تھا کہ کون ہے کیسا ہے کہاں رہتا ہے کیا کام کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور خاص بات کہ انہوں نے کبھی بھی ہمیں اپنے سے بڑی عمر کے لڑکوں سے دوستی نہیں کرنے دی۔ وہ ہمیشہ سے ہی اسکی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے۔

آج جبکہ میری عمر ستائیس سال ہے اپنے فیصلے خود کرتا ہوں اور مکمل طور پر آزاد ہوں کیوں کہ والد کو مکمل یقین ہے کہ انکی تربیت میں کہیں کھوٹ نہیں۔ انسان کچھ بھی کرلے وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو کبھی نہیں چھپا سکتا اور پھر وہ تو میرے والد ہیں۔

میں نے مار بھی کھائی ہے، سختی بھی دیکھی ہے، محبت بھی، اور گھر میں بہن بھائیوں میں بڑا بھی ہوں اسلیے مجھ پر فرائض بھی ہیں۔ والد نے ہمیں قرآن کریم مکمل سکھوایا (تین مرتبہ ختم کرچکا ہوں آجکل تفسیر نمونہ اور تفسیر راہنما پڑھ رہا ہوں)، نماز، روزہ، دین کے معاملات، توضع المسائل جس میں تمام فروغی مسائل کے حل موجود ہیں یاد کروائے۔ یہ انکا فرض تھا جو انہوں نے پورا کیا۔ اب ہمارے باری ہے کہ ہم اپنا فرض پورا کریں اور والدین کے حقوق پر مکمل عمل کریں۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (21-10-08), ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 09:58 PM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

میری رائے میں والدین کو اپنے بچوں کے دوستوں سے ملنا چاہیے ۔ اس سے بچوں میں خود اعتمادی اور اچھے دوست بنانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ کہ ایسے دوست بنائے جائیں‌ جن کو میں اپنے والدین سے ملواتے ہوئے فخر محسوس کر سکوں۔ والدین کو اپنے بچوں کے دوستوں‌کی عزت نفس اور شخصی خوبیوں کا خیال رکھتے ہوئے ملنا چاہیے اور اچھے دوستوں‌کی اور اچھی دوستیوں‌کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 10:22 PM   #13
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

بہت اچھی اور سیر حاصل باتیں ہوئیں۔
عطیہ باجی، ستارہ باجی، عرفان حیدر بھائی اور منتظمین بھائی سب کا بہت شکریہ۔
ابن جلال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-10-08, 12:17 AM   #14
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

عرفان جی میں آپ کی بات سے بلکئل اتفاق کرتی ھوں ۔ نا جانے ھمارے والدین کو یہ کیوں لگتا ھے کہ وہ غلط نہیں ھو سکتے ۔ ھم اگر چپ ھوتے ھیں تو ان کے احترام میں ۔ اور اگر کوئی بات جو وہ غلط کہہ دیں تو پھر خیر نہیں ۔ میرا خیال ھے کہ والدین کو بھی یہ بات سوچنی چاہئے کہ ان کا بچہ اچھی بات بھی کہہ سکتا ھے ۔ اور کہتا ھے۔ دل میں وہ مانتے ھیں لیکن کہہ دینے میں وہ اپنے ہتک محسوس کرتے ھیں۔ جبکہ میرا خیال ھے ۔آج کے دور میں 18 سال سے اوپر کا بچہ نہیں ھوتا ۔اسکے ساتھ بچوں کی طرح پیش نہیں آنا چاہئے۔ اس کو اس بات کا احساس دلانا چاہئے کہاب وہ بڑا ھو گیا ھے اپنی زمداردی سمجھے۔
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
ابن جلال (20-10-08), عرفان حیدر (20-10-08)
پرانا 20-10-08, 12:19 AM   #15
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوستوں كا انتخاب

اقتباس:
۔آج کے دور میں 18 سال سے اوپر کا بچہ نہیں ھوتا ۔اسکے ساتھ بچوں کی طرح پیش نہیں آنا چاہئے۔
میں تو 18 سال کا ہو پھر مجھے کیوں ادھر بچہ کہہ کر بلایا جارہا ہے ؟؟؟
ابن جلال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, پسند, قرآن, نماز, نظر, مکمل, ممکن, ماں, مسجد, اچھا کام, بھائی, بچوں, جواب, خون, خوش, خدا, دوست, دل, دعائیں, زندگی, سال, علی, عدنان, عزت, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گھر کا ایک ایک کونہ دوستوں کو دکھایا The Great قہقہے ہی قہقے 2 20-12-10 08:27 PM
تارکین وطن دوستوں سے راہنمائی درکار ہے عبدالقدوس کیرئر کی راہنمائی 65 14-10-10 07:38 PM
صبح بخیر دوستوں ایس اے نقوی عمومی بحث 112 17-09-09 01:46 PM
ننھے منھے دوستوں کے لیئے تحفہ رضی بچوں کے گیمز 2 05-07-09 03:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger