| عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارے معاشرے میں جب بھی لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے تو سب ملنے والوں میں کئی ایسے ضرور ہوتے ہیں جو افسوس کرنے کے انداز میں مبارکباد دیتے ہیں۔ یہ جملہ تو ہے ہی عام کہ " چلو اللہ قسمت اچھی کرے۔ اور مائیں وہیں انکی قسمت کا سوچ کر ہولنے لگتی ہیں۔ بچیاں جب چھ سات سال کی ہوتی ہیں تو غریب اور اوسط طبقے کی مائیں جمع جوڑ شروع کر دیتی ہیں۔ باپ کی ریٹائرمنٹ کے پیسے سے بھی جو خیالی بجٹ بنتا ہے اس کا اہم شعبہ لڑکی کا جہیز ہوتا ہے۔
ہم جہیز کیوں دیتے ہیں؟ شاید ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جہیذ لڑکی کا رتبہ اونچا کرے گا یا اسے آرام دے گا، کیا حقیقت یہی ہے؟ شاید نہیں۔ ہونی کو تو بڑے سے بڑا جہیز بھی نہیں ٹال سکتا اگر رشتہ سوچ سمجھ کر نہ طے کیا جائے۔میں اس ضمن میں چند مثالیں اپکے سامنے لانا چاہتی ہوں۔ درست یا غلط کا فیصلہ اپ خود ہی کر لیں گے۔ ایک بڑے گھرانے کے والد صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے طے کی۔شادی طے ہوتے ہی بھتیجا اپنے سسر/چچا کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اسے جہیز کے نام پر ایک سوئی بھی نہ دی جائے۔بزرگوار حیران ہو گئے اور کہا کہ یہ میری اکلوتی بیٹی ہے۔ اسے نہیں دوں گا تو پیسے کا کیا کروں گالڑکے نے دست بستہ عرض کی، "میرے والد نے مجھے حق حلال کی کمائی سے پڑھایا لکھایا ہے اور اپنے زور بازو سے زندگی گزارنے کی عادت ڈالی ہے۔ میری غیرت یہ برداشت ہی نہیں کرتی کہ میں اپنی نئی زندگی کی شروعات اپنی بیوی کے سہارے، اسکے لائے ہوئے سامان پر کروں۔ اسے جس چیز کی بھی ضرورت ہو گی میں خود اسے اپنی کمائی سے بنا کر دوں گا۔ اس بات نے اس کی بیوی کے دل میں اسکے لئے جو احترام جگایا وہ کوئی وضاحت طلب بات نہیں۔ یعنی دونوں نے بہت مثالی زندگی گزاری اور گزار رہے ہیں۔ ایک اور فیملی میں رشتہ طے ہوا۔ لڑکی والے تیاریوں کے وسائل کی کمی کی وجہ سے تاریخ نہیں دے پا رہے تھے۔اچانک ایک دن لڑکے نے اعلان کیا کہ فوری نکاح کر دیا جائے اور رخصتی دو سال بعد کر دی جائے۔ لڑکی والے اپنے مسائل کے باعث سادگی سے نکاح پر راضی ہو گئے اور صرف گھر کے چند افراد بلا کر نکاح پڑھا دیا گیا۔ جب لڑکے والے گھر واپسی کیلئے کھڑے ہوئے تو لڑکے نے کہا، لائیں میری امانت میرے ساتھ کر دیں۔سب حیران پریشان رہ گئے تو لڑکے نے کہا کہ اگر اب بھی نکاح نہ کرتا تو آپ لوگ جہیز کی تیاریوں اور اصراف میں ہی لگے رہتے۔اب نکاح ہو چکا ہے تو اس اصراف کی ضرورت نہیں۔ میری بیوی کو دو کپڑوں میں رخصت کر دیں۔ یہ عمل بھی کسقدر احترام کا موجب بنا ہو گا۔ متوسط خاندان نے امیر ترین خاندان کی لڑکی سے بیٹے کی شادی کی۔ شادی کے بعد بہو کو اپنے انداز میں کچن کی باندی بنا کر رکھنے کی کوشش کی جس کی وہ لڑکی عادی نہ تھی جس کے باعث فساد بڑھتا گیا۔اسکا جہیز کا سامان اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنایا گیا اور لڑکی کو ان میں سے کوئی چیز استعمال کی اجازت نہ دی گئی۔حتیٰ کہ اس میں سے کچن کی مشینری،برتن وغیرہ اپنی بیٹی کے جہیز میں دے دی گئی۔لڑکی کے گھر والوں کو جب ان حالات کا احساس ہوا تو انہوں نے بات چیت کی کوشش کی تو بات بن ہی نہیں سکی،اسی میں کہیں جہیز کا معاملہ بھی آگیا تو لڑکے والوں نے اسے طعنہ اور اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہ شادی سال کے اندر اندر ختم ہو گئی۔جہیز کا مقدمہ آج تک چل رہا ہے۔ متوسط گھرانے نےبیٹی کو قرضے لے لے کر جہیز بنا کر دیا مگر بیٹی اسی زعم میں سسرال والوں پر رعب ڈالنے لگی جو کہ انہی کے لیول کا خاندان تھا۔ ماں باپ نے قرضے کیسے اتارے یہ الگ کہانی ہے لیکن لڑکی پھر بھی گھر میں خوشی سے نہیں بس سکی اور کچھ عرصے میںمیکے آبیٹھی۔ چھ ماہ کی منت سماجت کے بعد بیٹی کو واپس بھیجا گیا تو یہ بتانا ضروری نہیں لگتا کہ اسکے رعب داب کا کیا حال ہوا ہو گا۔ سب کچھ کہنے کا مقصد یہی ہے کہ بیٹی کو کچھ اور دیں نہ دیں اچھی تعلیم وتربیت ضرور دیں،جس سے بہتر جہیز کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ میرا پیغام بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کے والدین کیلئے ہے۔ تبدیلی کا آغاز اپنے گھر سے کریں۔ آج جو آپ اپنی بیٹیوں کو دیں گے کل دوسرے آپکی بہوؤں یعنی اپنی بیٹیوں کو دیں گے۔میرا اشارہ تربیت کی طرف ہے۔ اسی طرح آج جو کچھ آپ دوسروں کی بیٹیوں کے لئے بوئیں گے، اسکا پھل آپ ہی کی بیٹیاں کھائیں گے۔ یقین کیجئے کہ اس عمل سے آپ کے بچوں کمی زندگی میں جتنا سکون بھر آئے گا اسکا تصوربھی محال ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (05-03-10), shafresha (21-03-10), فاروق سرورخان (25-11-09), کنعان (24-11-09), ھارون اعظم (09-03-10), نورالدین (05-03-10), مہر (20-03-10), مسٹر شیف (08-03-10), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-03-10), راجہ اکرام (11-12-09), سائرہ علی (25-11-09), سحر (24-11-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,383
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ام طلحہ آپ نے بہت اچھے انداز میں آج کے دور کی ایک معاشرتی برائی کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ عام طور پہ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر گھروں میں ایسا ہوتا ہے کہ بچی کی پیدائش پہ سب کے منہ لٹک جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ یا گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں پہ بچیوں کی پیدائش پہ بھی ویسی ہی خوشیا ں منائیں جاتی ہیں جیسا کہ بچوں کی یا بیٹوں کی پیدائش پہ ۔
اور جہیز کے حوالے سے میں یہ کہوں گی کہ کم ظرف لوگ ایسا کرتے ہیں
__________________
مجھے تم سے محبت ہے ! |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), نورالدین (05-03-10), ام طلحہ (25-11-09), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-03-10), راجہ اکرام (11-12-09), سحر (25-11-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بہت ہی بہترین ام طلحہ بہن ۔۔ اللہ مزید توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین اتنا اہم مضمون گوشہ گمنامی میں کیوں پڑا ہے ؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا لکھا ہے، جہیز اچھی زندگی کی بنیاد نہیں ہو سکتا ، اچھی زندگی کی بنیاد اعتماد، انڈرسٹینڈنگ، کمپرومائز اور محبت دینے کا نام ہے ، لینے کا نہیں
__________________
خوشخبری! تفسیر ابن کثیر کی سی ڈی کو بالکل مفت حاصل کیجئے، http://pak.net/%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%DB%81-%D9%88-%D8%AA%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%B1-6-7253/ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
مقبول
|
جہیز ایک ایسا فیشن ہوگیا ہے کہ دین دار گھرانے بھی اب اس کے چکر میں پھنس رہے ہیں
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور سہارا بنایا جاتا ہے اس جہیز کو جو حضرت محمد صلیّ اللہ علیہ وسلم نے حضرت بی بی فاطمہ کو دیا۔ میں نے اکثر لوگوں کو یہ مثال دیتے سنا ہے کہ حضور صلیّ اللہ علیہ وسلم نے تو خود جہیز دیا تھا، اس سے منع نہیں فرمایا تھا۔اللہ رحم فرمائے ہم پر،۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
|
اور جتنا کچھ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا اسے یہ لوگ بیان ہی نہیں کرتے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, green, کوشش, لوگ, لڑکی, ماں, مسائل, آج, اللہ, امیر, بیوی, بچوں, تعلیم, دل, درخواست, زندگی, سال, شادی, عادی, عادت, عرض, غیرت, غلط, غریب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا آپ نے کبھی ایسا خبرنامہ سُنا ہے؟؟؟ | محمد عاصم | قہقہے ہی قہقے | 9 | 19-10-11 06:29 PM |
| عید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کس چیز کی قربانی دے رھے ھیں ؟؟؟ | Haya 786 | گپ شپ | 12 | 17-11-10 07:32 AM |
| اگر آپ کو اپنی سب سے پسندیدہ چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے؟؟؟/ | راجہ اکرام | گپ شپ | 8 | 19-09-09 09:11 PM |
| عشق کا اظہار بھی کیا چیز ہے | The Great | مزاحیہ شاعری | 0 | 14-09-09 12:50 PM |
| یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی آٹا مہنگا؟؟؟ | میاں شاہد | دلچسپ اور عجیب | 2 | 06-05-08 08:50 AM |