واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


بیوی کے فرائض اور احسانات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-06-09, 03:29 AM   #1
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بیوی کے فرائض اور احسانات

بیوی کے فرائض اور احسانات

اصل موضوع سے پہلے فرض اور احسان کی وضاحت کرنا ضروری ہے
فرض ۔ اللہ کا کوئی واضع حکم قرآن وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے
جس پر عمل کرنے کا ثواب اور نہ کرنے کا گناہ ہو
احسان ۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ عمل لیکن کوئی واضع حکم نہ ہو
جس کے کرنے کا ثواب ہو لیکن نہ کرنے کا کوئی گناہ نہ ہو ۔

بیوی کے فرائض
شوہر کی اطاعت کرنا بیوی کا فرض ہے ۔
انسان کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے تابع ہوتی ہے
یعنی اگر شوہر بیوی سے غیر شرعی بات کا حکم دے تو بیوی اس کو ماننے کی پابند نہیں بلکہ اس کو نہیں ماننا چاہیے ۔ مثلاً شوہر بیوی کو پردہ چھوڑنے کو کہے
شوہر اطاعت کے نام پر ظلم نہیں کرسکتا
کیونکہ اسلام میں ظلم کرنا جائز نہیں
ظلم کی تعریف ہے
کسی انسان سے اس کی مرضی کے بغیر کوئی کام لینا یا کوئی بات منوانا جس میں اس انسان کا اپنا کوئی فائدہ نہ ہو ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اگر عورت اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے اس کے بستر سے الگ تھلگ رات گذارے تو
فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں۔ جب تک وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آجائے۔
بخاری

یعنی اگر شوہر اور بیوی میں ناراضگی ہو جائے تو بیوی کوچاہیے کہ صلح میں پہل کرے ۔ اور
ناراضگی دنوں تک محیط نہ ہو ۔

ایک اور حدیثِ نبوی ہے جس کا مفہوم ہے
عورت کو چاہیے کہ وہ عزت کی حفاظت کرے ۔ شوہر کے مال کی حفاظت کرے اور شوہر کی غیر
موجودگی میں کسی ایسے شخص کو گھر میں داخل نہ ہونے دے جو اس کے شوہر کو ناپسند ہو ۔

عورت اپنی عزت کی حفاظت کرے
اپنے شوہر کی عزت کی حفاظت کرے
شوہر کی کسی کے سامنے بُرائی نہ کرے
شوہر کے عیبوں پر پردہ ڈالے
گھر کی بات کسی کو نہ بتائے
شوہر کے رازوں کی حفاظت کرے
اگر کوئی اس کے شوہر کی بُرائی کرے تو اپنے شوہر کا دفاع کرے

شوہر کے مال کی حفاظت کرے
شوہر کے مال کو برباد نہ کرے یعنی ضائع نہ کرے
فضول خرچی نہ کرے ۔

بیوی کے احسانات

جن باتوں کا واضع حکم موجود نہیں ان کو احسانات کے ذمرے میں رکھا ہے

کھانا پکانا
گھر کے کام صفائی۔ کپڑے دھونا وغیرہ

ان کاموں کو شوہر کو احسان ہی سمجھنا چاہیے ان کو فرائض کے ذمرے میں نہیں ڈالنا چاہیے ۔
اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے گھر کے کام کرنا چاہیے ۔
اور بیوی کو بھی اپنے شوہر کے ساتھ احسان کا معاملہ رکھنا چاہیے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-09), فیصل ناصر (24-06-09), ماسٹر مقسود (27-06-09), ام طلحہ (24-06-09), ابو عمار (24-06-09), راجہ اکرام (24-06-09), رضی (26-06-09), شاہ جی 90 (24-06-09), عبداللہ حیدر (28-06-09)
پرانا 24-06-09, 03:41 AM   #2
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,973
کمائي: 276,822
شکریہ: 33,221
12,660 مراسلہ میں 37,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان سب کو پڑھ کر تو شوہر حضرات چھلانگیں لگارہے ہونگے

کچھ شوہر کے فرائض اور احسانات پر بھی روشنی ہوجائے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (24-06-09), شاہ جی 90 (24-06-09)
پرانا 24-06-09, 03:46 AM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ان سب کو پڑھ کر تو شوہر حضرات چھلانگیں لگارہے ہونگے

کچھ شوہر کے فرائض اور احسانات پر بھی روشنی ہوجائے
اگر آپ غور سے پڑھیں تو اس میں شوہروں کو خوش ہونے والی بات نہیں
ہمارے یہاں یہ بہت عام ہے کہ عورت کا کام کھانا پکانا اور گھر کا کام اس کے فرائض ہیں اور ایسا کوئی حکم اسلام نے عورت کو نہیں دیا ۔
اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-06-09), ام طلحہ (24-06-09), ابو عمار (24-06-09), شاہ جی 90 (24-06-09)
پرانا 24-06-09, 03:54 AM   #4
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,973
کمائي: 276,822
شکریہ: 33,221
12,660 مراسلہ میں 37,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ٹھیک کہتی ہیں آپ

عموما ان باتوں کو ہی بیوی کے فرائض میں شمار کیا جاتا ہے
گھریلو تنازعات کی بنیاد اکثر انہیں وجوہات پر ہوتی ہیں

اور جو واقعتا فرائض ہیں ان پر بیویوں کی توجہ اکثر نہیں ہوتی
اقتباس:
شوہر کی کسی کے سامنے بُرائی نہ کرے
شوہر کے عیبوں پر پردہ ڈالے
گھر کی بات کسی کو نہ بتائے
شوہر کے رازوں کی حفاظت کرے
اگر کوئی اس کے شوہر کی بُرائی کرے تو اپنے شوہر کا دفاع کرے
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-09), ام طلحہ (24-06-09), ابو عمار (24-06-09), سحر (24-06-09), عبداللہ حیدر (28-06-09)
پرانا 24-06-09, 07:55 AM   #5
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شوہر کے فرایض اور احسانات
شوہر کے فرائض
شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی سے بچوں کی دیکھہ بھال نہ کروائے اور اگر کروائے تو اس کا معاوضہ دے
شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی سے شفقت سے پیش آئے
شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو گھر کے کام کاج کے لیے نوکرانی رکھہ کر دے یا اس کام میں اس کا ہاتھہ بٹائے
شوہر کے احسانات
شوہر کا فرض نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی کو پسند نہ کرے ، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اس کا اپنی بیوی پر احسان ہے
شوہر کا بیوی کی تادیب نہ کرنا اس کا احسان ہے
شوہر اگر اپنی بیوی کی تعلیم کا بندوبست کرے تو یہ اس کا احسان ہے
شوہر اگر اپنی بیوی کی بد زبانی برداشت کرے اور خاموشی اختیار کرے تو یہ اس کا احسان ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (24-06-09), راجہ اکرام (24-06-09)
پرانا 24-06-09, 09:27 AM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام مسنون سحر بہنا
بہت اچھی تقسیم ہے فرائض و احسانات کی۔
اگر اسلام کی دی گئی تعلیمات کو مشعل راہ بنایا جائے تو یقینا مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے روشن خیالی
ہائے ’’نام نہاد‘‘ اعتدال پسندی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-06-09), ام طلحہ (24-06-09), ابو عمار (24-06-09), سحر (24-06-09), شاہ جی 90 (25-06-09)
پرانا 24-06-09, 12:58 PM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
شوہر کے فرایض اور احسانات
شوہر کے فرائض
شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی سے بچوں کی دیکھہ بھال نہ کروائے اور اگر کروائے تو اس کا معاوضہ دے
شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی سے شفقت سے پیش آئے
شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو گھر کے کام کاج کے لیے نوکرانی رکھہ کر دے یا اس کام میں اس کا ہاتھہ بٹائے
شوہر کے احسانات
شوہر کا فرض نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی کو پسند نہ کرے ، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اس کا اپنی بیوی پر احسان ہے
شوہر کا بیوی کی تادیب نہ کرنا اس کا احسان ہے
شوہر اگر اپنی بیوی کی تعلیم کا بندوبست کرے تو یہ اس کا احسان ہے
شوہر اگر اپنی بیوی کی بد زبانی برداشت کرے اور خاموشی اختیار کرے تو یہ اس کا احسان ہے
شاہ جی بھائی
میں آپ کی دو باتوں سے متفق نہیں ۔
ایک یہ کہ بیوی کو بچوں کی پرورش کے لیے معاوضہ دینے کا کہیں واضع حکم موجود نہیں ۔
طلاق کے بعد اگر سابقہ بیوی اپنے بچے کو رکھتی ہے اور رضاعت کے معاملے میں معاوضہ کا ذکر ہے

اور شوہر ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی تو کرسکتا ہے ۔ لیکن شادی کے بغیر کسی کو پسند نہیں کر سکتا یا کسی سے دوستی نہیں کرسکتا ہے
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-06-09), ام طلحہ (24-06-09), شاہ جی 90 (25-06-09)
پرانا 24-06-09, 01:55 PM   #8
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,479
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں بس ان کو یہ پتا ہونا چاہیے باقی سب خیر ہے/
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-06-09), ام طلحہ (24-06-09), شاہ جی 90 (25-06-09)
پرانا 24-06-09, 04:56 PM   #9
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
شاہ جی بھائی
میں آپ کی دو باتوں سے متفق نہیں ۔
ایک یہ کہ بیوی کو بچوں کی پرورش کے لیے معاوضہ دینے کا کہیں واضع حکم موجود نہیں ۔
طلاق کے بعد اگر سابقہ بیوی اپنے بچے کو رکھتی ہے اور رضاعت کے معاملے میں معاوضہ کا ذکر ہے

اور شوہر ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی تو کرسکتا ہے ۔ لیکن شادی کے بغیر کسی کو پسند نہیں کر سکتا یا کسی سے دوستی نہیں کرسکتا ہے
شکریہ
وہ تو شادی شدہ کیا غیر شادی شدہ کیلئے بھی ایسے کسی تعلق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اور دوسری بات یہ کہ وہ بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی بھی نہیں کر سکتا۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (25-06-09)
پرانا 24-06-09, 05:18 PM   #10
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
وہ تو شادی شدہ کیا غیر شادی شدہ کیلئے بھی ایسے کسی تعلق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اور دوسری بات یہ کہ وہ بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی بھی نہیں کر سکتا۔
ام طلحہ ہم اسلام کی بات کررہے ہیں ۔ اسلام میں جب مرد کو دوسری شادی کی اجازت ہے تو پہلی بیوی کی اجازت کی ضرورت نہیں چار شادیاں
ہم اسلام کو اپنے حساب سے موڑتے ہیں تو مرد بھی اسلام کو عورت کے خلاف استعمال کرکے ظلم کرکے ہیں
اسلام کے اندر جو ہے اور جیسے ہیں ویسے ہی مانا جائے اور عمل کیا جائے تو سارے مسائل حل ہوجائیں
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 25-06-09, 05:20 AM   #11
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
شاہ جی بھائی
میں آپ کی دو باتوں سے متفق نہیں ۔
ایک یہ کہ بیوی کو بچوں کی پرورش کے لیے معاوضہ دینے کا کہیں واضع حکم موجود نہیں ۔
طلاق کے بعد اگر سابقہ بیوی اپنے بچے کو رکھتی ہے اور رضاعت کے معاملے میں معاوضہ کا ذکر ہے

اور شوہر ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی تو کرسکتا ہے ۔ لیکن شادی کے بغیر کسی کو پسند نہیں کر سکتا یا کسی سے دوستی نہیں کرسکتا ہے
شکریہ
دیکھیں ، اسلام عورت کو کہیں بھی مجبور نہیں کرتا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کا کام خود کرے یا شوہر اسے اس کام کے لیے مجبور کرے، اسلام عورت کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ بچے پالنے کا کام کرے ، اب دو ہی صورتیں ہیں‌کہ یا تو شوہر اس کو ایک خادمہ رکھہ کر دے اگر حیثیت نہیں‌ہے تو خود اس کا برابر ہاتھہ بٹائے ، اور اگر یہ بھی نہیں کرتا تو کم از کم معاوضہ تو دے تا کہ بیوی بیچاری کی کچھہ اشک شوئی ہو سکے ۔
، جی بہن ، میرا بھی دوسری شادی کی جانب سفر کا آغاز جو ہوتا ہے اس کی جانب اشارہ تھا ۔ یہ تو کلئیر ہے نا کہ ہم ووٹ بھی liking , disliking کی بنیاد پر دیتے ہیں ، تو ہم شادی جیسا اہم قدم بغیرliking کے کیسے اٹھا سکتے ہیں ۔ اور دوستی کا تو میں نے زکر نہیں کیا ۔ البتہ پسند کا زکر کیا تھا اور اس کی وضاحت کر دی ہے ۔
ویسے دوستی کی اگر مکمل اور جامع تعریف کی جائے تو ، وہ کچھہ یوں بنتی ہے
ایک ایسا بے غرض تعلق جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو بلا کی دبائو یا لالچ کے خلوص دل سے اچھا سمجھتے ہوں اور ایک دوسرے کے مشکل وقت میں کام آتے ہوں ۔ اپنا دکھہ سکھہ آپس میں بانٹ سکتے ہوں ۔
اس میں کہیں‌بھی جنس ، رنگ ، مذہب کا کوئی زکر نہیں ہے ۔
اب اگر اسی دوستی کو لیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلیں جانے دیں ہماری زاتی زندگی کی کوئی مثال ہم یہاں دینا نہیں چاہتے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-06-09)
پرانا 25-06-09, 05:33 AM   #12
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
وہ تو شادی شدہ کیا غیر شادی شدہ کیلئے بھی ایسے کسی تعلق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اور دوسری بات یہ کہ وہ بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی بھی نہیں کر سکتا۔

تعلق کئی قسم کا ہوتا ہے ۔ میں اس بحث میں‌پڑنا نہیں چاہتا ، صرف یہ عرض کر دوں کہ میرے کلاس فیلوز میں لڑکے بھی ہیں اور لڑکیاں بھی اور ہماری آپس میں ایک بڑی مختلف قسم کی دوستی ہے ، ہم میں‌ سے کوئی بھی کسی پرابلم میں ہو تو دوسرے سب اس کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں ، اور اس کی مدد کی کوشش کرتے ہیں ۔ دراصل ہمارے معاشرے میں عورت اور مرد کے تعلق کو صرف ایک پیمانے سے ناپا جاتا ہے ۔ ہم گھنٹوں اکٹھے بیٹھہ کر Study کرتے اور کبھی شاید کسی کے زہن میں یہ بات نہ آئی ہو کہ یہ لڑکی ہے اور میں لڑکا ہوں ۔ وہی ایک حجاب اور حد ہمارے درمیان موجود رہتی ہے جو ایک بہن اور بھائی کے درمیان ہوتی ہے ۔ اور یقین کریں دیکھنے والی آنکھیں بہت تیز ہوتی ہیں ۔ اگر کسی کے دل میں‌زرا سی بھی بے ایمانی آئے تو فورً محسوس ہو جاتی ہے ۔ لیکن ہمیں دیکھنے والے بھی اس بات کو محسوس کر سکتے ہیں کہ ان میں کوئی wrong around قسم کا تعلق نہیں ہے ۔ اللہ ہم سب کو حیا اور عزت سے جینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اسلام اس بابت کیا کہتا ہے میں نہیں جانتا لیکن یہ جانتا ہوں‌کہ اسلام میں بھی فیصلہ دینے سے پہلے نیت دیکھی جاتی ہے ۔

دوسری شادی کی اجازت والا جواب تو سحر بہن دے چکی ہیں ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-06-09)
پرانا 25-06-09, 06:22 AM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
دیکھیں ، اسلام عورت کو کہیں بھی مجبور نہیں کرتا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کا کام خود کرے یا شوہر اسے اس کام کے لیے مجبور کرے، اسلام عورت کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ بچے پالنے کا کام کرے ، اب دو ہی صورتیں ہیں‌کہ یا تو شوہر اس کو ایک خادمہ رکھہ کر دے اگر حیثیت نہیں‌ہے تو خود اس کا برابر ہاتھہ بٹائے ، اور اگر یہ بھی نہیں کرتا تو کم از کم معاوضہ تو دے تا کہ بیوی بیچاری کی کچھہ اشک شوئی ہو سکے ۔
، جی بہن ، میرا بھی دوسری شادی کی جانب سفر کا آغاز جو ہوتا ہے اس کی جانب اشارہ تھا ۔ یہ تو کلئیر ہے نا کہ ہم ووٹ بھی liking , disliking کی بنیاد پر دیتے ہیں ، تو ہم شادی جیسا اہم قدم بغیرliking کے کیسے اٹھا سکتے ہیں ۔ اور دوستی کا تو میں نے زکر نہیں کیا ۔ البتہ پسند کا زکر کیا تھا اور اس کی وضاحت کر دی ہے ۔
ویسے دوستی کی اگر مکمل اور جامع تعریف کی جائے تو ، وہ کچھہ یوں بنتی ہے
ایک ایسا بے غرض تعلق جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو بلا کی دبائو یا لالچ کے خلوص دل سے اچھا سمجھتے ہوں اور ایک دوسرے کے مشکل وقت میں کام آتے ہوں ۔ اپنا دکھہ سکھہ آپس میں بانٹ سکتے ہوں ۔
اس میں کہیں‌بھی جنس ، رنگ ، مذہب کا کوئی زکر نہیں ہے ۔
اب اگر اسی دوستی کو لیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلیں جانے دیں ہماری زاتی زندگی کی کوئی مثال ہم یہاں دینا نہیں چاہتے
میں نے جس دوستی اور جس پسند کی بات کی آپ بھی اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے ۔ اور ایسی دوستی معاشرے میں آجکل بہت پروان چڑھ رہی ہے ۔
آپ جو دوستی کی تعریف بیان کی ہے وہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتی ہے

میں آپ کے لیے صرف ایک بات کہوں ۔ آپ کے لیے ایسے کسی کام میں عار نہیں اگر وہی کام آپ
کی بیوی کرے تو آپ کو بُرا نہ لگے ۔
آپ جس پاکیزہ دوستی کی بات کررہے ہیں ۔ آپ کی بیوی ایسی پاکیزہ دوستی کرسکتی ہیں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-06-09), فیصل ناصر (25-06-09), راجہ اکرام (25-06-09), شاہ جی 90 (25-06-09), عبداللہ حیدر (28-06-09)
پرانا 25-06-09, 02:23 PM   #14
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE=سحر;181067]میں نے جس دوستی اور جس پسند کی بات کی آپ بھی اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے ۔ اور ایسی دوستی معاشرے میں آجکل بہت پروان چڑھ رہی ہے ۔
آپ جو دوستی کی تعریف بیان کی ہے وہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتی ہے ۔[/
QUOTE]
جی بہن ۔ آپ نے جس دوستی اور پسند کی بات کی اسے ہم سمجھہ گئے لیکن ہم اسے دوستی نہیں کہتے ، گھٹیا قسم کے لوگوں کا گھٹیا ترین شغل کہتے ہیں ۔
[QUOTE=میں آپ کے لیے صرف ایک بات کہوں ۔ آپ کے لیے ایسے کسی کام میں عار نہیں اگر وہی کام آپ
کی بیوی کرے تو آپ کو بُرا نہ لگے ۔
آپ جس پاکیزہ دوستی کی بات کررہے ہیں ۔ آپ کی بیوی ایسی پاکیزہ دوستی کرسکتی ہیں ۔[/QUOTE]
ہا ہا ہا ۔ یہ وہ نقطہ ہے جو ہماری بیگم نے شادی کے کچھہ عرصہ بعد بیان کیا تھا کہ آپ ہر وہ کام کر لینا جو اگر میں کروں تو آپ کی غیرت پر زد نہ آتی ہو ، جی ہاں ، ہم اعتراف کرتے ہیں کہ بہت سے مواقع پر ہم محض یہ سوچ کر قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں کہ یہی کام اگر ہماری بیگم نے کیا ہوتا تو ہمارے کیا محسوسات ہوتے ۔ اور جس ماحول یا تعلق کی بابت یونیورسٹی کے حوالے سے ہم نے ام طلحہ بہن کو جواب دیا تھا ، تو عرض یہ ہے کہ ہم تو ابھی ایک ایم اے سے جان چھڑا نہیں پائے ۔ ہماری بیگم تو ایک ایم اے کرنے کے بعد اب ایم ایس سی کے چکر میں گوڈے گوڈے ڈوبی ہوئی ہیں ، یعنی فرسٹ سیمیسٹر کا امتحان دے رہی ہیں ، اور میں جانتا ہوں کہ ان کی کلاس کا بھی وہی ماحول ہوتا ہے ، جو ہماری کلاس کا ۔ یہاں ایک مزے کی بات آپ کو بتائوں کہ
چونکہ اچھے برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں ، ہماری کلاس میں ایک خاتون کے دماغ میں ایک دن کچھہ خلل آیا تو انہوں نے ہمیں کال کر لی اور لگیں کچھہ انٹ شنٹ کہنے ہمیں تو ایسی باتیں سمجھہ کم آتی ہیں ۔ ہم نے ان سے کہا کہ بھئی اس وقت تو ہم سفر میں ہیں‌اور آپ کی آواز بھی کلئیر نہیں آ رہی آپ ڈھائی تین گھنٹے بعد کال کیجئیے گا ۔ اس وقت تک ہم گھر پہنچ چکے تھے ، جیسے ہی ان محترمہ کی کال آئی ہم نے موبائل اپنی بیگم کے حوالے کر دیا ، کہ آپ سنبھالئیے ۔ اور انہوں نے ایسا سنبھالا کہ اس کے بعد ہمیں ان کی جانب سے کال نہیں آئی ۔ اسی طرح اگر ہماری بیگم کو کوئی کال آ جائے تو وہ ہمارے حوالے کر دیتی ہیں ۔ زندگی اچھی گزر رہی ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
سحر (25-06-09)
پرانا 27-06-09, 02:13 AM   #15
Senior Member
 
ماسٹر مقسود's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام فطرت کا مذہب ہے اس لیے دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں رکھا، کیونکہ اس سے پہلی بیوی کی زندگی جہنم بھی بن سکتی ہے - دوسری شادی کےلیے اگر خاوند پہلی کو تنگ کرنا شروع کر دے تو اس کے لیے دو راہیں ہی رہ جائیں ، یا تو علیحدگی لے لے ، یا مجبوراً دوسری شادی کی اجازت دے دے - دونوں صورتوں میں آئندہ میاں بیوی کی محبت ہمیشہ کے لیے ختم ! !
ماسٹر مقسود آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-06-09), سحر (27-06-09), شاہ جی 90 (27-06-09)
جواب

Tags
color, فرض, پسند, پسندیدہ, قدم, قرآن, مکمل, محبت, مسائل, اللہ, اسلام, بچوں, تعلیم, حکم, حل, حضرات, خوش, خلاف, رات, زندگی, شخص, طلاق, عورت, عزت, صلح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شیر، بکری اور بیوی ڈاکٹرنور قہقہے ہی قہقے 20 18-01-11 08:10 PM
اگلی ملکہ میری بیوی ہو گی: پرنس چارلس جاویداسد خبریں 1 20-11-10 02:48 PM
بیوی سے تنگ شوہر کی خودکشی جاویداسد خبریں 21 13-07-10 10:16 PM
بندر اور بیوی چاچا کمال قہقہے ہی قہقے 1 17-01-09 01:24 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger