| عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 21 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (26-10-09), پاکستانی لڑکی (27-10-09), یاسر عمران مرزا (28-10-09), مہر (26-10-09), ملک بھائی (27-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), آبی ٹوکول (02-06-11), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (12-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (11-06-09), راشد احمد (14-06-09), رضی (11-06-09), شاہ جی 90 (13-06-09), علی....Ali (11-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#46 |
|
Senior Member
![]() |
بنیادی طور پر مال کی تقسیم علیحدگی کا تصور پیش کرتی ہے۔ یہ کسی قسم کا حکم نہیں ہے بلکہ وہ آزادی ہے کہ اگر آپ کے پاس اپنا مال ہوگا تو آپ علیحدہ ہونے کے قابل ہونگے۔ دوسرا نکتہ یہ پیش کیا تھا کہ طلاق یافتہ عورت کو اس کے گھر میں رہنے دیا جائے۔ اگر اس کا کوئی گھر ہی نہیں تو کیا وہ طلاق کے بعد کیا کسی دوسرے کی سرپرستی میں رہے گی ۔
بنیادی طور پر ایک شخص کو کما کر وہ صلاحیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ اپنے خاندان کی سرپرستی کرسکے۔ جہاں تک اپنے یا لڑکی کے والدین کی خدمت کا سوال ہے تو اس ضمن میں اللہ تعالی نے ہمت افزائی فرمائی ہے کہ والدین کی خدمت کی جائے لیکن یہ ضروری نہیںکہ والدین کے ساتھ ہی رہا جائے۔ کیا خاندان کے ساتھ رہنا کسی سنت رسول سے ثابت ہے، کیا رسول اکرم نے اپنی ازواج کرام کو الگ الگ حجرہ یا مکان فراہم کیا یا ان کو کسی مشترکہ خاندان کی صورت میں خاندان کے کسی ایسے بزرگ کی سرپرستی میں رکھا جو اس وقت حیات تھے ؟ یا اپنی شادی کے بعد وہ خود اپنے کسی سسر محترم کے خاندان میں ان پر بوجھ بنے؟ سنت رسول اکرم میں ایسے اعمال موجود ہیں جن کو مزید پڑھ کر آپ اپنے لئے مناسب طریقہ کا تعین کرسکتے ہیں ۔ ان نکات کا مقصد ایسے اصول بنانا نہیں ہے جو سیاہ و سفید ہوں بلکہ ایسے نظریات کی ہمت افزائی کرنا ہے جو ایک صحت مند معاشرہ کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ بنیادی طور پر آپ پر دوسرے لوگوںکے کام آنا فرض ہے (جی فرض) یہ ایک اچھا کام ہے، تو پھر آپ والدین کے کام کیوںنہ آئیں؟ یقیناً ان کی خدمت آپ پر فرض ہے۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ آپ اپنا خاندان الگ نہیں بنا سکتے درست نہیں۔ میانہ روی، اپنے خاندان کی بہبود، والدین کی بہبود اور احسن سلوک ہم پر فرضہے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اس طرح کیجئے کہ کل وہ اپنے خاندان خود بنا سکیں نہ کہ وہ آپ پر تمام عمر بوجھ بنے رہیں۔ اسی طرح اپنا بھی انتظام کیجئے کہ آپ بڑھاپے میں اپنی اولاد پر بوجھ نہ ہوں۔ ساتھ رہنا کوئی گناہ نہیں لیکن ساتھ رہنے کو فرض سمجھنا اور الگ ہونے کو برا سمجھنا ایک ہندوانہ رواج ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی نکتہ جو سحر صاحبہ واضح کرنا چاہتی تھیں۔ جن آیات کو آپ پیش کیا ان کو آپ دوبارہ دیکھئے۔ ایک بات تو مسلم ہے کہ خاندان کے سربراہ کی وفات کی صورت میں سب بالغوں کو ان کا حق دے دیا جائے تاکہ دوسرے لوگ مال کے ذریعہ عمر میں چھوٹوں پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈال سکیں۔ دوسرا نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک گھر ایک شادی شدہ عورت کا حق ہے ۔ کہ اگر اس کو کبھی طلاق ہوتی ہے تو کوئی اس کو اپنے دباؤ میں نہ رکھ سکے۔ خواتین کو مکمل حقوق کسی دباؤ کے بغیر، اسلام کا پیغام ہے۔ اسلام خواتین کے معاشرہ میں مساوی مقام کا علمبردار ہے۔ کوئی آیت خواتین کو معاشرہ میں کسی طور ایک چھوٹا مقام نہیںدیتی۔ جو خاتون ایک خاندان بنانے میں ایک عظیم کردار ادا کرتی ہے، اس کو کسی بھی طور اس طرح کیوں رکھا جائے کہ وہ کسی کی محتاج یا دباؤ کا شکار ہو؟ یہ طلاق کی آیات کے سیٹ سے واضح کیا کہ ایک عورت کو ایسے لوازمات فراہم کئے جائیں کہ طلاق کی صورت میں اس کے پاس اپنے بچوں کے لئے سر چھپانے کا ٹھکانا ہو۔ یہ بھی سنت رسول اکرم ہے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ کی وفات تک ان کے کاروبار میں مدد دی۔ گویا ایک خاتون کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنا کاروبار چلا سکے اور اپنی کفالت خود کرسکے تاکہ وہ معاشرہ میں ایک مظبوط مقام کی حامل ہو۔ مناسب وقت پر ایک الگ گھر ایک عورت کو ایسی مظبوطی عطا کرتا ہے۔ ایسی مظبوطی کے بغیر، ایک عورت ، ظلم ہونے کی صورت میں علیحدگی حاصل کرنے کے بارے میں خوف میںہی مبتلا رہے گی۔ ان تمام نکات پر غور کیجئے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#47 |
|
Senior Member
![]() |
Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate
|
|
|
|
|
|
#48 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن یہ سب معمولی باتیں ہیں ،اصل خرابیاں تو وہاں جنم لیتی ہیں جہاںبہو کا سامنا اپنے سسر اور دیور جیٹھہ وغیرہ سے ہر وقت ہوتا ہے ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#49 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی بھائی
یہ بھی معمولی واقعات نہیں ۔ اس ایک کچن کی وجہ سے میں نے گھر ٹوٹتے اور طلاقیں ہوتی دیکھیں ہیں ۔ شکریہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (25-11-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), شاہ جی 90 (23-11-09) |
|
|
#50 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 37
مراسلات: 531
کمائي: 7,242
شکریہ: 1,192
349 مراسلہ میں 872 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ايک اور سوال بهى اس موضوع كى وضاحت ميں ممد اور معاون هوسكتا ہے إسلام ميں مرد اور عورت كے مابين جائز قريبى تعلق(نكاح)كى غرض و غايت كيا ہے ؟
|
|
|
|
| mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد نذیر (06-06-11) |
|
|
#51 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم !
آج یہ دھاگا نظر سے گزرا کچھ مقامات کا اجمالا اور کچھ کا تفصیلا مطالعہ کیا میں بنیادی طور پر مشترکہ خاندانی نظام کا حامی ہوں لیکن میرا یہ نظریہ ہے کہ نظام خواہ کوئی بھی ہو فی نفسہ برا نہیں ہوتا برا اسے ہم لوگ کہ جن پر وہ نطام لاگو ہوتا ہے بنا دیتے ہیں ۔ لہزا ضروری ہے کہ کسی بھی نظام سے بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری عنصر ہے اس پر قائم رہا جائے اور وہ عنصر (ایلیمنٹ) ہوتا ہے اعتدال پسندی اگر کسی بھی نظام کو اعتدال پسندی کے ساتھ اپنایا جائے تو پھر اس کے فوائد یقینا بڑھ جاتے ہیں اور نقصانات کم سے کم رہ جاتے ہیں لہزا چاہے مشترکہ خاندانی نظام ہو یا سیپرٹ فیملی سسٹم دونوں کے اپنی اپنی جگہ جگہ اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں ۔ یہاں یہ بات بار بار دہرائی گئی کہ برصغیر پاک و ہند کی تہذیب و تمدن میں رائج مشترکہ خاندانی سسٹم ہندؤں کی میراث یا رہین منت ہے میں اس بات سے شدید اختلاف کروں گا اول تو کسی بھی تہذیب یا تمدن میں رائج کسی بھی روایت کو اگر وہ کسی خاص مذہب کی ایجاد نہ ہو کسی بھی مذہب یا اس کہ پیروکاروں سے جوڑنا ہرگز درست نہیں یہان تک کہ روایت یا ریت کسی بھی خاص قوم یا مذہب کا ملی یا دینی شعار نہ ہو لہذا مشترکہ خاندانی نظام کو مذہبی اعتبار سے کسی قوم یا ملت کہ ساتھ جوڑنا درست نہیں یہ برصغیر کہ قدیم باسشندوں کا طرزش بودو باش و رہائش ہے اور صدیوں سے ہے جہاں تک اسلامی اقدار روایات و تہذیب کا تعلق ہے تو اسلام فقط خطہ عرب کہ لیے نہیں آیا بلکہ پورے عالم انسانیت کہ لیے آیا ہے چاہے کوئی عرب کا رہنے والا ہو یا کہ عجم کا اور اس کا تعلق کسی بھی تہذیب یا تمدن سے ہو لہذا ایسے میں ان کا طرز رہائش رہن سہن بود و باش اور لباس وغیرہ اور ہول کلچر اور تہذیب اگر اسلام کہ کسی واضح اصول سے نہ ٹکرائیں تو اسلام ان پر کوئی قدغن نہیں لگاتا بلکہ ان کا شمار اسلامی اصولوں کہ مطابق دائرہ اباحت میں ہوگا۔ جیسا کہ صحاح کی مختلف روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ انصار کہ مختلف قبائل کی بابت مختلف الفاظ نقل ہوئے ہیں بالخصوص انکی شادیوں کہ مواقعوں پر انکو اپنے قبائلی ٹریڈیشنز کی اجازت دی گئی جیسا کہ ایک روایت کہ الفاظ ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "میرے پاس ایک انصاری لڑکی تھی میں اس کی شادی کی رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا 'عائشہ گانا نہیں؟ یہ قبیلہ انصار گانے پسند کرتا ہے۔ [مشکوۃ' ص ۲۷۲] اسی طرح دوسری روایات میں آیا کہ انصار کھیل کو پسند کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ گو کہ احادیث میں شادیوں کی موقع پر غنا کی ایک جائز صورتحال کا بیان ہے مگر ہمارا استدلال احادیث کہ ان الفاظ پر ہے جو کہ انصاری قبائل کو انکے قبائلی ٹریڈشینز کی اعتدال میں رہ کہ اپنانے کی اجازت دے رہے ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ فلاں انصاری قبیلہ کی یہ روایت ہے کہ وہ اپنی شادیوں پر کھیل وغیرہ پسند کرتے ہیں ایک طرف تو ان انصار کے اس ٹریڈیشنز کو وجوب جواز بخش رہے ہیں تو دوسری طرف مطلقا کسی بھی قوم کہ تہذیبی کلچر کو اعتدال میں رہتے ہوئے اپنانے پر ایک اسلامی اصول وضع فرمارہے ہیں ۔لہذا یہی وجہ ہے کہ اگر برصغیر پاک و ہند کہ لوگوں کی تہذیب جوائنٹ فیملی سسٹم کو اپروچ کرتی ہے تو اسلام بھی اس کلچر کو حدود اعتدال میں رہتے ہوئے اپنانے کی اجازت دیتا ہے اگرچہ یہ عربوں کی تہذیب یا کلچر نہیں تھی۔ دوسرے یہاں بار بار ایک بات کو دہرایا گیا کہ بہو اپنی مرضی سے اگر چاہے تو فقط ساس کی خدمت کرسکتی ہے مگر سسر کی خدمت پر اسے ترغیب دینا منافی اسلام ہے۔اول تو یہ قول محتاج دلیل ہے اور ثانیا بہو کے لیے ساس سسر دونوں کا مرتبہ اسلام میں بمنزلہ ماں اور باپ کہ بیان کیا گیا ہے لہذا اخلاقی اعتبار سے ان دونوں کی خدمت عورت پر بالکل اسی طرح ہی لازم ہے کہ جیسے اپنے سگے والدین کی، اگر چہ شریعت نے اس ضمن میں کوئی عائلی قانون بنا کر عورت پر جبرا مسلط نہیں کیا مگر یہ بھی منشاء شریعت نہیں کہ ایک عورت شادی کہ بعد اس قدر آزاد ہوجائے کہ وہ اپنے خاوند سے اپنے حقوق کی ضمن میں الگ گھر ہی کا مطالبہ کرئے خصوصا ایسے وقت میں کہ اس کا خاوند الگ گھر کا متحمل نہ ہوسکتا ہو یا پھر وہ واحد کفیل اور زمہ دار ہو اپنے والدین کا ۔ لہذا شریعت کی رو سے حد اعتدال میں رہتے ہوئے عورت کو اپنے خاوند کہ ساتھ ساتھ اسکے والدین کی بھی خدمت کا اخلاقی فریضہ انجام دینا چاہیے اسلام اس کہ اس عمل کی تحسین ہی کرئے گا نہ کہ قدغن لگائے گا ۔۔۔۔۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
|
|
#52 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,044
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 488 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جوائنٹ فیملی یانیوکلیرفیملی جسے اردو میں مشترکہ خاندان یاغیرمشترکہ خاندان کہہ سکتے ہیں ایک حساس موضوع ہے۔جس پر بہت کچھ بحث پوری دنیا میں ہورہی ہے۔خود ہماری ٹیچر نے ایک مرتبہ اسی موضوع پر طلباء کے درمیان ڈیبٹ کرایاتھا۔جس میں میں نے تو مشترکہ خاندان کے حق میں وکالت کی تھی لیکن خود ہماری ٹیچر غیرمشترکہ خاندان کے حق میں تھی کیونکہ انہوں نے لو میرج کیاہواتھا۔اورخود ہی کہتی تھی کہ لومیرج کرناآسان ہے لیکن اسے نباہنابہت مشکل ہے۔
محترم سحر صاحبہ نے کہاہے کہ والدین کیلئے ملازم رکھاجائے وہ اس کے نقصانات سے شاید آگاہ نہیں ہیں۔ یہاں بنگلور میں ایک پوش علاقہ "ڈالرس کالونی" ہیں اوربلامبالغہ ہرگھر سے لوگ امریکہ اوریوروپ میں بغرض ملازمت گئے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں ایسے گھر کثیرتعداد میں مل جائیں گے جہاں صرف بوڑھے والدین ،ایک ملازم اورکتاہے ۔ان کی تنہائی اور اداسی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے جس جتن سے بچہ کو پڑھایالکھایاتھا وہ تو شادی کرکے بیوی اوربال بچوں کو لے کر یوروپ سدھار گیا اورنتیجہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچے اورپوتوں کی تصویر دیکھ دیکھ کر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہیں۔ دوسری مشکل یہ ہوتی ہے کہ بسااوقات ملازمین کی نیت خراب ہوجاتی ہے اورضعیف والدین کو دیکھ کر وہ انہیں قتل کرکے قیمتی سامان لوٹ کر بھاگ جاتے ہیں بنگلور اوردہلی میں ایسے واقعات بکثرت ہورہے ہیں بالخصوص بنگلورمیں اس کا زور زیادہ ہے کیونکہ یہاں خوشحالی بھی کچھ زیادہ ہے۔ ایک آخری بات بھی عرض کردوں۔ اسی ڈالرس کالونی کی۔جہاں میں نے بھی ایک عرصہ گزاراہے۔ ایک خاتون کا انتقال ہوا۔ تین دن بعد جب نعش سے تعفن اٹھنے لگاتوپڑوسیوں کو پتہ چلا ۔ان کے بھی بال بچے تھے لیکن وہ نیوکلیر فیملی کے تحت الگ تھے اوریوروپ یاامریکہ میں ڈالر اورپونڈ کمارہے تھے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#53 |
|
Senior Member
![]() |
بوڑھے لوگوںکے لئے جن کی اولادیں نہیںہوتی ہیں یا اولادیں دور ہجرت کرجاتی ہیں۔ ایسے اداروں کے قیام کی ضرورت ہے جہانوہ رہ سکیں اور ان کی ضروریات پوری کی جاسکے۔ ایسا کرنا کوئی بہت مشکل کام نہیںہے۔ ایسے لوگوںکی تعداد کم ہوتی ہے۔ حکومتی سطح پر ٹٰکس میںاضاہ کرکے بوٍڑھے لوگوں کی فلاحکا کام کیا جاسکتا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#54 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی نظام بھی مقدس گائےنہیی ۔مشترکہ نظام میں اگر کوئی خوش ہےتوبڑی اچھی بات ہےلیکن اکٹھے رہ کرنفرتیں پالنےسےبہترہےکہ بندہ کبھی کبھارملے اورپیارسےملے ۔اس نظام کےفوائدیقیناًہیں کہ صبراورایثارکاجذبہ پروان چڑھتاہے،بزرگوں کےتجربات سےسیکھنےکا موقع ملتاہے،بچوں کو سب کاپیارملتا ہے۔نقصانات؛میاں بیوی کےدرمیان بسااوقات غلط فہمیاں اسی کی دین ہیں۔ماں اور بیوی اپنی ذہنی توانائیاں ،مردکواپنی طرف کیسےکھینچناہے،اس کوشش میں صرف کردیتی ہیں۔مرداگر افراط و تفریط سےکام لینے والا ھوتومعاملات اور بگڑجاتے ہیں۔ننیجہ حق تلفیاں،جلن نفرتیں
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (14-06-11), فاروق سرورخان (24-06-11), ننھا بچہ (14-06-11), آبی ٹوکول (06-06-11), احمد نذیر (06-06-11) |
|
|
#55 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 10
کمائي: 393
شکریہ: 3
9 مراسلہ میں 28 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہ بہت دلچسپ اور معلوماتی سیر حاصل بحث ہورہی ہے ۔۔۔
مشترکہ خاندانی نظام کے حق اور مخالفت پر دونوں طرف سے دلائل خوب خوب ہے لہٰذا کسی ایک نقطہ پر پہنچنا فی الحال مشکل نظر آرہا ہے ضروری ہے کہ "علمائے دین" بھی اس پر کچھ روشی ڈالے ۔۔۔ بہرکیف کچھ نقات مجھ ناچیز کے بھی ہیں جس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں کہ بشر خطا کا پتلا ہے 1-برصغیر کا معاشرہ زیادہ ترغریب آبادیوں پر مشتمل ہوتا ہے ، جس میں عموماَ ایک کمانے والاجبکہ دس کھانے والے ہوتے ہیں اس پر طرہ جبکہ مہنگائی بھی اپنے عروج پر ہو ہر ایک کے لیے علیحدہ گھر کا انتظام کرنا تقریباَ ناممکن ہے 2- اگر والدین علیحدہ گھر میں ہو اور وہ بوڑھے بھی ہو جبکہ بچے علیحدہ گھر میںرہے ، تو ایسی صورت میں انکی خدمت کرنا جو کہ فرض ہے اس وقت مشکل ہوجائے جب انکے گھر دور دور ہو نیز نوکری کے اوقات ایسے نہیں کہ وہ ضروت کے وقت دستاب ہو پھر آجکل جیسے ماحول میں ویسی ہی دنیاوی ہوس زیادہ ہوتی ہے ایسے میں والدین کی خدمت کا جذبہ سرد پڑتا جارہا ہے جبکہ وہ پاس بھی نہ ہو بلکہ علیحدہ گھر “اولڈ ہاؤس“ بن کر رہ جائے گا جہاں وہ اپنے بوڑھاپے کے دن گزارینگے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں اور آجکل اسکی مثال بھی ملتی ہے 3-رہ گئی عورت کے گھر میں پردہ اور پرائیویسی کی تو یقینا یہ ضروری ہے ، پر اس کے لیے علیحدہ گھر ہی اسکا حل نہیں ، گھر کا ماحول اور گھر کے بڑے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ “پردہ و پرائویسی“ کا مناسب انتظام کرے ، اتنی صلاحیت پیدا کرے کہ وہ ایک ہی چھت کے نیچے عورت کو آزادی بھی دے اور پردے کی غرض و غایت کو بھی پورا کرسکے ۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ علیحدہ گھر میں عورت مکمل تحفظ میں ہے، ہو سکتا ہے اکیلے گھر میں اسکو سیکوریٹی کا خدشہ ہو یا پھر شوہر کی غیر موجودگی میں وہ ان لوگوں سے مکمل پردہ نہ کرتی ہو جو نامحرم اسکے پاس آئے ۔۔وغیرہ سو یہ “گھر کے بڑے اور ذمہ دار“ کی تربیت و صلاحیتوں پر منحصر ہے کہ وہ کیسے گھر کا ماحول رکھتا ہے اور گھر چلاتا ہے ۔ 4-مشترکہ خاندانی نظام کو چلانے والے گھر کا بڑا ایک زیرک ، تدبر اور قوت ارادی میں مظبوط والا ہے تو اس کی سرپرستی میں گھر کا نظام بہترین طریقہ سے چل سکتا ہے اور جو اس کے زیر کفالت ہیں انکو زندگی کے مختلف مراحل میں بہترین مشورہ دے سکتا ہے ۔۔۔اگر کوئی بگڑ رہا ہے تو اس پر نظر رکھی جائے گی اور اسکی اصلاح بھی ممکن ہوسکے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ “مشترکہ خاندانی نظام“ کو “مسلمان“ یا اسلامائز کیا جائے تاکہ شرعیت کی پاسداری بھی ہوسکے اور مل جل کر رہنے میں اتفاق و محبت بھی قائم رہے اور مثالی معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے والسلام |
|
|
|
|
|
#56 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 37
مراسلات: 531
کمائي: 7,242
شکریہ: 1,192
349 مراسلہ میں 872 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گھر ميں كسى بهى نظام(مشتركه يا الگ)كے قيام كا سوال اس وقت هوتا ہے جب گهر كے بيٹے كى شادى هوجائے اور إس كى بيوى كى صورت ميں ايک نئے فرد كا اضافه هوجائے. سؤال تو اس بياه كے آنے والى عورت كى ذمه دارى كے تعين كا ہے.
اگر والدين كى خدمت فرض ہے تو جيسے مرد پہ اپنے والدين كى خدمت واجب ہے ، عورت پہ اپنے ماں باپ كى خدمت فرض ہے. كوئى دليل نہيں پائى جاتى جو يه ثابت كرے كه شادى كے بعد عورت پر سے ماں باپ كے حقوق ساقط هوجاتے هيں اور اس كے شوہر كے نه صرف والدين بلكه بہن بهائى جو گھر ميں رہتے هوں، وه بهى فرض عين هوجاتے ہيں- أمر واقعه يه ہے كه عورت شوہر كے اكثر كام ساس يا سسر كے كاموں كے بعد پر مؤخر كرديتى ہے كيونكه اسےشوہر كى طرف سے يہى ہدايات هوتى هيں، رفته رفته اس كے دل سے وه شوق ختم هوجاتا ہے جو بحيثيت مجازى خدا اپنے شوہر كے لئے هونا چاہئے. اور پھر وه صورت حال پيدا ہوتى هے جب شاكى اور نالاں مرد توجہ كى كمى كا مورد إلزام بيويوں كو قرار ديتے پھرتے هيں- اس بات سے پورے گھرانے كا توازن خراب هوتا ہے-بچے كبهى دل سے ايسے والدين كى عزت نهيں كرتے جو خود باہم ايک اكائى كى طرح گندھے ہوئے نہ ہوں- بات بے بات الجهنے كا سبب كم هى كوئى بڑا اختلاف هوتا ہے. وجه يه هوتى ہے كه الفت كو پنپنے كےلئے وقت اور ماحول نهيں ملتا- بہت كم جوڑے ايسے ميں اپنے درميان محبت كى چاشنى برقرار ركهنے ميں كامياب رهتے هيں- خيال رہے كہ إسلام ميں شادى كى غايت مرد اور عورت كا ايسا تعلق قائم كرنا ہے جس سے معاشرے ميں عفاف هو اور باہمى مؤدت اور رحمت كا حصول ، جو اولاد كى تربيت ميں كردار ادا كرے..... |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#57 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=mama_shalla;427181]گھر ميں كسى بهى نظام(مشتركه يا الگ)كے قيام كا سوال اس وقت هوتا ہے جب گهر كے بيٹے كى شادى هوجائے اور إس كى بيوى كى صورت ميں ايک نئے فرد كا اضافه هوجائے. سؤال تو اس بياه كے آنے والى عورت كى ذمه دارى كے تعين كا ہے.
اگر والدين كى خدمت فرض ہے تو جيسے مرد پہ اپنے والدين كى خدمت واجب ہے ، عورت پہ اپنے ماں باپ كى خدمت فرض ہے. كوئى دليل نہيں پائى جاتى جو يه ثابت كرے كه شادى كے بعد عورت پر سے ماں باپ كے حقوق ساقط هوجاتے هيں اور اس كے شوہر كے نه صرف والدين بلكه بہن بهائى جو گھر ميں رہتے هوں، وه بهى فرض عين هوجاتے ہيں- أمر واقعه يه ہے كه عورت شوہر كے اكثر كام ساس يا سسر كے كاموں كے بعد پر مؤخر كرديتى ہے كيونكه اسےشوہر كى طرف سے يہى ہدايات هوتى هيں، رفته رفته اس كے دل سے وه شوق ختم هوجاتا ہے جو بحيثيت مجازى خدا اپنے شوہر كے لئے هونا چاہئے. اور پھر وه صورت حال پيدا ہوتى هے جب شاكى اور نالاں مرد توجہ كى كمى كا مورد إلزام بيويوں كو قرار ديتے پھرتے هيں- اس بات سے پورے گھرانے كا توازن خراب هوتا ہے-بچے كبهى دل سے ايسے والدين كى عزت نهيں كرتے جو خود باہم ايک اكائى كى طرح گندھے ہوئے نہ ہوں- بات بے بات الجهنے كا سبب كم هى كوئى بڑا اختلاف هوتا ہے. وجه يه هوتى ہے كه الفت كو پنپنے كےلئے وقت اور ماحول نهيں ملتا- بہت كم جوڑے ايسے ميں اپنے درميان محبت كى چاشنى برقرار ركهنے ميں كامياب رهتے هيں- خيال رہے كہ إسلام ميں شادى كى غايت مرد اور عورت كا ايسا تعلق قائم كرنا ہے جس سے معاشرے ميں عفاف هو اور باہمى مؤدت اور رحمت كا حصول ، جو اولاد كى تربيت ميں كردار ادا كرے.....[/QUOTE آپ نےتوہرگھرکی کہانی بیان کردی۔ایساہی ہوتاہے۔خوب لکھا،زبردست
|
|
|
|
| سام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (24-06-11) |
|
|
#58 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مشترکہ خاندانی نظام کے موضوع پر باقی لوگوں کی رائے پڑھ کر چند سوالات ذہن میں آئے ہیں
1۔ کیا صرف ماں باپ یعنی شوہر کے ماں باپ کے ساتھ رہنا بھی مشترکہ خاندانی نظام ہے ۔ 2 ۔ بوڑھے ماں باپ کی کیا تعریف ہے ۔ مطلب میں نے بہت سے ماں باپ ایسے دیکھیں ہیں جو انڈیپنڈنٹ لائف گزار رہے ہوتے ہیں مطلب شوہر کماتے ہیں اور بیوی بھی ہر لحاظ سے انڈیپنڈنٹ اور صحت مند ہوتی ہیں ۔ لیکن جب بیٹے کی شادی کرتی ہیں تو ساتھ رہنے پر پابند کرتے ہیں ۔ 3 کیا گھر کا نظام سسر کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا شوہر کے 4 گھریلو معاملات ساس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا بیوی کے ۔ ساس سسر اگر انڈیپنڈنٹ ہیں لیکن ایک گھر میں رہتے ہیں تو ساس سسر اور بیٹا بہو الگ الگ فیمیلیز تصور کیے جائیں گے یا ایک ۔ 5 اگر بیوی کے ماں باپ بوڑھے اور مجبور ہون تو کیا بیٹی کا فرض نہیں کہ وہ ان کے ساتھ رہے اور ان کی خدمت کرے اس وقت شوہر کا رویہ کیا ہونا چاہیے ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (23-06-11), فیصل ناصر (23-06-11), فاروق سرورخان (24-06-11), آبی ٹوکول (23-06-11), راجہ اکرام (23-06-11), سام (23-06-11) |
|
|
#59 | ||||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
Last edited by آبی ٹوکول; 23-06-11 at 06:28 PM. |
||||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فرض, پاک, لوگ, نظر, موت, ممکن, ماں, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, جواب, حسن, خواتین, خلاف, روزہ, رات, زندگی, شخص, عورت, عبادت, صبح, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیلاب زدگان کیلئے کمیشن کا تصور72گھنٹے کے اندر ہوا میں تحلیل | گلاب خان | خبریں | 0 | 18-08-10 03:13 AM |
| اردو تصور میں پاک سائٹ کو کروں | wajee | تجاویز اور شکایات | 18 | 21-09-08 11:39 PM |
| قومی حکومت کا قیام ممکن ہے نہ آئین میں اس کا تصور ،ق لیگ | ابو کاشان | خبریں | 0 | 16-01-08 11:29 AM |
| 2 وزراء الیکشن لڑ رہے ہیں، عام انتخابات شفاف تصور نہیں ہونگے، عالمی مبصر | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-12-07 03:39 PM |