واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


اسلام میں مشترکہ خاندانی نظام کا تصور

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-06-09, 03:21 PM  
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اسلام میں مشترکہ خاندانی نظام کا تصور

مشترکہ خاندانی نظام اس نظام کو کہتے ہیں جس میں پورا خاندان جن میں دو یا تین فیملیز ایک چھت کے نیچے رہتے ہوں ۔ اس نظام کا سربراہ اس خاندان کا سب سے بزرگ شخص ہوتا ہے ۔ گھر کے تمام افراد سربراہ کی بات ماننے کے پابند ہوتے ہیں ۔

گھر میں ایک کچن ہوتا ہے جن میں گھر کی تمام خواتین مل کر کام کرتیں ہیں ۔ ایک لاؤنچ ہوتا ہے اس میں سب فیمیلیز کے لوگ ساتھ بیٹھتے ہیں اور تمام فیمیلیز کے لیے سونے کے کمرے علیحدہ ہوتے ہیں ۔

یہ نظام اسلامی تاریخ میں ہم کو کہیں نہیں ملتا ہے ۔ اس کی بنیاد ہندؤں کی تہذیب سے ملتی ہے ۔ اور پاک و ہند کے مسلمانوں نے اس نظام کو ہندؤ ں سے لیا اور اس کو اپنی یا اسلامی تہذیب سمجھ بیٹھے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام میں خاندان کا کیا تصور ہے

اسلام میں عورت کے لیے اس کے سسرالی رشتہ دار ، جیٹھ ، دیور، نندوی سے پردہ ہے

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے

دیور موت ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ جیٹھ اور دیور سے اس طرح بچنا چاہیے جس طرح موت سے ڈرا یا بچا جاتا ہے۔
جیٹھ اور دیور یا کسی اور نامحرم کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا صحیح نہیں ۔
ایک عورت کا اپنے گھر میں صبح سے رات تک چادر میں لپٹے رہنا کسی ظلم سے کم نہیں ۔

بیوی کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ذاتی زندگی یا پرائویسی کا خیال رکھا جائے جو مشترکہ خاندانی نظام میں ممکن نہیں ۔

کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بیٹے کو ماں باپ کے ساتھ رہنا چاہیے ۔ اسلام میں ماں باپ کے بہت حقوق ہیں
بے شک اسلام میں والدین کے بہت حقوق ہیں لیکن اسلام نے ہر معاملے میں توازن رکھا ہے

اسلام نے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کو کہا ان کی خدمت کو اولاد پر فرض کیا ۔ ان کے سامنے اُف تک کرنے کو منع فرمایا
لیکن کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ تم لوگوں کو اپنے والدین کے ساتھ رہنا ہے
صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کا گھر اپنے والدین سے الگ ہوتا تھا اور وہ اپنے والدین کے گھر جاکر ان کی خدمت کیا کرتے تھے ۔
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، جس کا مفہوم ہے
اپنی ماں کے گھر اجازت لے کر داخل ہو

اولاد کے اوپر فرض ہے کہ اپنے والدین کی ضروریات کا خیال رکھیں

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا مفہوم ہے

تمھاری اولاد کا مال تمھارا ہے

اس لیے اولاد کے مال کو ماں باپ اپنے مال کی طرح خرچ کرسکتے ہیں

جہاں تک بیوی کا تعلق ہے اس کا پہلا حق شوہر کے اوپر یہ ہے کہ شوہر اس کے ساتھ رہے ۔
بیوی کو ایسا گھر مہیا کرے جہاں وہ بے فکری کے ساتھ بے پردہ گھوم سکے ۔ اس کے گھر میں کوئی اس کی بغیر اجازت کے نہ آسکے ۔ یہاں تک کہ شوہر کے ماں باپ بھی۔
حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر آئی کہ
میرے شوہر کا معمول ہے کہ وہ دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے ۔ اور اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کرتا ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ اس کا شوہر تین دن اللہ کی عبادت کرسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر چوتھا دن اور رات اپنی بیوی کے لیے مختص
کرے ۔

اس سے ثابت ہوا کہ شوہر اور بیوی ایک الگ گھر میں ساتھ رہیں جو ماں باپ کے گھر سے قریب ہو تاکہ بیٹا جاکر اپنے ماں باپ کی خدمت کرسکے ۔

Last edited by سحر; 26-07-10 at 08:18 PM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
21 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (26-10-09), پاکستانی لڑکی (27-10-09), یاسر عمران مرزا (28-10-09), مہر (26-10-09), ملک بھائی (27-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), آبی ٹوکول (02-06-11), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (12-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (11-06-09), راشد احمد (14-06-09), رضی (11-06-09), شاہ جی 90 (13-06-09), علی....Ali (11-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 29-10-09, 12:49 PM   #46
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بنیادی طور پر مال کی تقسیم علیحدگی کا تصور پیش کرتی ہے۔ یہ کسی قسم کا حکم نہیں ہے بلکہ وہ آزادی ہے کہ اگر آپ کے پاس اپنا مال ہوگا تو آپ علیحدہ ہونے کے قابل ہونگے۔ دوسرا نکتہ یہ پیش کیا تھا کہ طلاق یافتہ عورت کو اس کے گھر میں‌ رہنے دیا جائے۔ اگر اس کا کوئی گھر ہی نہیں تو کیا وہ طلاق کے بعد کیا کسی دوسرے کی سرپرستی میں رہے گی ۔

بنیادی طور پر ایک شخص کو کما کر وہ صلاحیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ اپنے خاندان کی سرپرستی کرسکے۔ جہاں‌ تک اپنے یا لڑکی کے والدین کی خدمت کا سوال ہے تو اس ضمن میں اللہ تعالی نے ہمت افزائی فرمائی ہے کہ والدین کی خدمت کی جائے لیکن یہ ضروری نہیں‌کہ والدین کے ساتھ ہی رہا جائے۔

کیا خاندان کے ساتھ رہنا کسی سنت رسول سے ثابت ہے، کیا رسول اکرم نے اپنی ازواج کرام کو الگ الگ حجرہ یا مکان فراہم کیا یا ان کو کسی مشترکہ خاندان کی صورت میں‌ خاندان کے کسی ایسے بزرگ کی سرپرستی میں رکھا جو اس وقت حیات تھے ؟‌ یا اپنی شادی کے بعد وہ خود اپنے کسی سسر محترم کے خاندان میں ان پر بوجھ بنے؟

سنت رسول اکرم میں ایسے اعمال موجود ہیں جن کو مزید پڑھ کر آپ اپنے لئے مناسب طریقہ کا تعین کرسکتے ہیں ۔ ان نکات کا مقصد ایسے اصول بنانا نہیں ہے جو سیاہ و سفید ہوں بلکہ ایسے نظریات کی ہمت افزائی کرنا ہے جو ایک صحت مند معاشرہ کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ بنیادی طور پر آپ پر دوسرے لوگوں‌کے کام آنا فرض‌ ہے (‌جی فرض) یہ ایک اچھا کام ہے، تو پھر آپ والدین کے کام کیوں‌نہ آئیں؟ یقیناً ان کی خدمت آپ پر فرض ہے۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ آپ اپنا خاندان الگ نہیں بنا سکتے درست نہیں۔
میانہ روی، اپنے خاندان کی بہبود، والدین کی بہبود اور احسن سلوک ہم پر فرض‌ہے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اس طرح کیجئے کہ کل وہ اپنے خاندان خود بنا سکیں نہ کہ وہ آپ پر تمام عمر بوجھ بنے رہیں۔ اسی طرح اپنا بھی انتظام کیجئے کہ آپ بڑھاپے میں اپنی اولاد پر بوجھ نہ ہوں۔

ساتھ رہنا کوئی گناہ نہیں لیکن ساتھ رہنے کو فرض سمجھنا اور الگ ہونے کو برا سمجھنا ایک ہندوانہ رواج ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی نکتہ جو سحر صاحبہ واضح کرنا چاہتی تھیں۔

جن آیات کو آپ پیش کیا ان کو آپ دوبارہ دیکھئے۔ ایک بات تو مسلم ہے کہ خاندان کے سربراہ کی وفات کی صورت میں سب بالغوں کو ان کا حق دے دیا جائے تاکہ دوسرے لوگ مال کے ذریعہ عمر میں چھوٹوں پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈال سکیں۔

دوسرا نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک گھر ایک شادی شدہ عورت کا حق ہے ۔ کہ اگر اس کو کبھی طلاق ہوتی ہے تو کوئی اس کو اپنے دباؤ میں نہ رکھ سکے۔ خواتین کو مکمل حقوق کسی دباؤ کے بغیر، اسلام کا پیغام ہے۔ اسلام خواتین کے معاشرہ میں مساوی مقام کا علمبردار ہے۔ کوئی آیت خواتین کو معاشرہ میں کسی طور ایک چھوٹا مقام نہیں‌دیتی۔ جو خاتون ایک خاندان بنانے میں ایک عظیم کردار ادا کرتی ہے، اس کو کسی بھی طور اس طرح‌ کیوں رکھا جائے کہ وہ کسی کی محتاج یا دباؤ کا شکار ہو؟ یہ طلاق کی آیات کے سیٹ سے واضح کیا کہ ایک عورت کو ایسے لوازمات فراہم کئے جائیں کہ طلاق کی صورت میں اس کے پاس اپنے بچوں کے لئے سر چھپانے کا ٹھکانا ہو۔

یہ بھی سنت رسول اکرم ہے کہ انہوں‌ نے حضرت خدیجہ کی وفات تک ان کے کاروبار میں مدد دی۔ گویا ایک خاتون کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنا کاروبار چلا سکے اور اپنی کفالت خود کرسکے تاکہ وہ معاشرہ میں ایک مظبوط مقام کی حامل ہو۔ مناسب وقت پر ایک الگ گھر ایک عورت کو ایسی مظبوطی عطا کرتا ہے۔ ایسی مظبوطی کے بغیر، ایک عورت ، ظلم ہونے کی صورت میں علیحدگی حاصل کرنے کے بارے میں خوف میں‌ہی مبتلا رہے گی۔ ان تمام نکات پر غور کیجئے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), سحر (29-10-09), طاھر (30-10-09)
پرانا 29-10-09, 12:50 PM   #47
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate Dupicate
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-11-09, 12:00 PM   #48
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
بدر بھائی
یہ سستم سب نے مل کر بنانا ہے ،
والدین کو بھی سوچنا ہے اور بچوں کو بھی
والدین کو اپنی اولاد کی خوشی اور سکون دیکھنا ہے اور بچوں کو والدین کا خیال رکھنا ۔
اگر والدین گلشن میں رہتے ہیں اور اپنے بیٹے کی شادی کررہے ہیں اور آس پاس کو گھر نہیں ہے
اور والدین 500 گز کے سنگل سٹوری میں ہیں تو اس گھر کو پیچ کر
250 گز کے ڈبل سٹوری میں چلیں جائیں
اور اوپر کا پورا فلور اپنے اکلوتے بیٹے کو دیں دیں جہاں ایک عدد کچن ، بیڈ روم اور لاونچ ہو ۔ اس کو الگ گھر ہی کہا جائے گا ۔

لیکن ہوتا کیا ہے
اگر ڈبل سٹوری گھر پہلے سے موجود بھی ہو اور بیٹے کی شادی کی جائے اور بیڈ روم اوپر والے فلور ہر ہے تو چاہے کچھ ہوجائے اوپر والے فلور پر بہو کے لیے کچن نہیں بننے دیا جاتا
چاہے پورے دن بہو کو اوپر نیچے کے دس چکر ہی کیوں نہ لگانے پریں ۔

شکریہ
در اصل یہ سارا جھگڑا اقتدار اور اختیار کا ہوتا ہے ، ساس چاہتی ہے کہ کچن جو کہ گھریلو اختیار کی علامت ہے اس پر اس کا قبضہ برقرار رہے اور بہو کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کچن اگر الگ مل جائےتو کیا ہی بات ہے ،
لیکن یہ سب معمولی باتیں ہیں ،اصل خرابیاں تو وہاں جنم لیتی ہیں جہاںبہو کا سامنا اپنے سسر اور دیور جیٹھہ وغیرہ سے ہر وقت ہوتا ہے ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-11-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), سحر (23-11-09)
پرانا 23-11-09, 12:48 PM   #49
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی بھائی
یہ بھی معمولی واقعات نہیں ۔ اس ایک کچن کی وجہ سے میں نے گھر ٹوٹتے اور طلاقیں ہوتی دیکھیں ہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (25-11-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), شاہ جی 90 (23-11-09)
پرانا 02-06-11, 01:21 AM   #50
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 37
مراسلات: 531
کمائي: 7,242
شکریہ: 1,192
349 مراسلہ میں 872 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ايک اور سوال بهى اس موضوع كى وضاحت ميں ممد اور معاون هوسكتا ہے إسلام ميں مرد اور عورت كے مابين جائز قريبى تعلق(نكاح)كى غرض و غايت كيا ہے ؟
mama_shalla آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد نذیر (06-06-11)
پرانا 02-06-11, 05:07 AM   #51
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم !
آج یہ دھاگا نظر سے گزرا کچھ مقامات کا اجمالا اور کچھ کا تفصیلا مطالعہ کیا میں بنیادی طور پر مشترکہ خاندانی نظام کا حامی ہوں لیکن میرا یہ نظریہ ہے کہ نظام خواہ کوئی بھی ہو فی نفسہ برا نہیں ہوتا برا اسے ہم لوگ کہ جن پر وہ نطام لاگو ہوتا ہے بنا دیتے ہیں ۔ لہزا ضروری ہے کہ کسی بھی نظام سے بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری عنصر ہے اس پر قائم رہا جائے اور وہ عنصر (ایلیمنٹ) ہوتا ہے اعتدال پسندی اگر کسی بھی نظام کو اعتدال پسندی کے ساتھ اپنایا جائے تو پھر اس کے فوائد یقینا بڑھ جاتے ہیں اور نقصانات کم سے کم رہ جاتے ہیں لہزا چاہے مشترکہ خاندانی نظام ہو یا سیپرٹ فیملی سسٹم دونوں کے اپنی اپنی جگہ جگہ اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں ۔

یہاں یہ بات بار بار دہرائی گئی کہ برصغیر پاک و ہند کی تہذیب و تمدن میں رائج مشترکہ خاندانی سسٹم ہندؤں کی میراث یا رہین منت ہے میں اس بات سے شدید اختلاف کروں گا اول تو کسی بھی تہذیب یا تمدن میں رائج کسی بھی روایت کو اگر وہ کسی خاص مذہب کی ایجاد نہ ہو کسی بھی مذہب یا اس کہ پیروکاروں سے جوڑنا ہرگز درست نہیں یہان تک کہ روایت یا ریت کسی بھی خاص قوم یا مذہب کا ملی یا دینی شعار نہ ہو لہذا مشترکہ خاندانی نظام کو مذہبی اعتبار سے کسی قوم یا ملت کہ ساتھ جوڑنا درست نہیں یہ برصغیر کہ قدیم باسشندوں کا طرزش بودو باش و رہائش ہے اور صدیوں سے ہے جہاں تک اسلامی اقدار روایات و تہذیب کا تعلق ہے تو اسلام فقط خطہ عرب کہ لیے نہیں آیا بلکہ پورے عالم انسانیت کہ لیے آیا ہے چاہے کوئی عرب کا رہنے والا ہو یا کہ عجم کا اور اس کا تعلق کسی بھی تہذیب یا تمدن سے ہو لہذا ایسے میں ان کا طرز رہائش رہن سہن بود و باش اور لباس وغیرہ اور ہول کلچر اور تہذیب اگر اسلام کہ کسی واضح اصول سے نہ ٹکرائیں تو اسلام ان پر کوئی قدغن نہیں لگاتا بلکہ ان کا شمار اسلامی اصولوں کہ مطابق دائرہ اباحت میں ہوگا۔

جیسا کہ صحاح کی مختلف روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ انصار کہ مختلف قبائل کی بابت مختلف الفاظ نقل ہوئے ہیں بالخصوص انکی شادیوں کہ مواقعوں پر انکو اپنے قبائلی ٹریڈیشنز کی اجازت دی گئی جیسا کہ ایک روایت کہ الفاظ ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "میرے پاس ایک انصاری لڑکی تھی میں اس کی شادی کی رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا 'عائشہ گانا نہیں؟ یہ قبیلہ انصار گانے پسند کرتا ہے۔
[مشکوۃ' ص ۲۷۲]
اسی طرح دوسری روایات میں آیا کہ انصار کھیل کو پسند کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ
گو کہ احادیث میں شادیوں کی موقع پر غنا کی ایک جائز صورتحال کا بیان ہے مگر ہمارا استدلال احادیث کہ ان الفاظ پر ہے جو کہ انصاری قبائل کو انکے قبائلی ٹریڈشینز کی اعتدال میں رہ کہ اپنانے کی اجازت دے رہے ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ فلاں انصاری قبیلہ کی یہ روایت ہے کہ وہ اپنی شادیوں پر کھیل وغیرہ پسند کرتے ہیں ایک طرف تو ان انصار کے اس ٹریڈیشنز کو وجوب جواز بخش رہے ہیں تو دوسری طرف مطلقا کسی بھی قوم کہ تہذیبی کلچر کو اعتدال میں رہتے ہوئے اپنانے پر ایک اسلامی اصول وضع فرمارہے ہیں ۔لہذا یہی وجہ ہے کہ اگر برصغیر پاک و ہند کہ لوگوں کی تہذیب جوائنٹ فیملی سسٹم کو اپروچ کرتی ہے تو اسلام بھی اس کلچر کو حدود اعتدال میں رہتے ہوئے اپنانے کی اجازت دیتا ہے اگرچہ یہ عربوں کی تہذیب یا کلچر نہیں تھی۔

دوسرے یہاں بار بار ایک بات کو دہرایا گیا کہ بہو اپنی مرضی سے اگر چاہے تو فقط ساس کی خدمت کرسکتی ہے مگر سسر کی خدمت پر اسے ترغیب دینا منافی اسلام ہے۔اول تو یہ قول محتاج دلیل ہے اور ثانیا بہو کے لیے ساس سسر دونوں کا مرتبہ اسلام میں بمنزلہ ماں اور باپ کہ بیان کیا گیا ہے لہذا اخلاقی اعتبار سے ان دونوں کی خدمت عورت پر بالکل اسی طرح ہی لازم ہے کہ جیسے اپنے سگے والدین کی، اگر چہ شریعت نے اس ضمن میں کوئی عائلی قانون بنا کر عورت پر جبرا مسلط نہیں کیا مگر یہ بھی منشاء شریعت نہیں کہ ایک عورت شادی کہ بعد اس قدر آزاد ہوجائے کہ وہ اپنے خاوند سے اپنے حقوق کی ضمن میں الگ گھر ہی کا مطالبہ کرئے خصوصا ایسے وقت میں کہ اس کا خاوند الگ گھر کا متحمل نہ ہوسکتا ہو یا پھر وہ واحد کفیل اور زمہ دار ہو اپنے والدین کا ۔ لہذا شریعت کی رو سے حد اعتدال میں رہتے ہوئے عورت کو اپنے خاوند کہ ساتھ ساتھ اسکے والدین کی بھی خدمت کا اخلاقی فریضہ انجام دینا چاہیے اسلام اس کہ اس عمل کی تحسین ہی کرئے گا نہ کہ قدغن لگائے گا ۔۔۔۔۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (02-06-11), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (06-06-11), ابن جمال (02-06-11), احمد نذیر (06-06-11), حیدر (02-06-11), رضی (18-07-11)
پرانا 02-06-11, 10:07 AM   #52
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,044
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 488 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جوائنٹ فیملی یانیوکلیرفیملی جسے اردو میں مشترکہ خاندان یاغیرمشترکہ خاندان کہہ سکتے ہیں ایک حساس موضوع ہے۔جس پر بہت کچھ بحث پوری دنیا میں ہورہی ہے۔خود ہماری ٹیچر نے ایک مرتبہ اسی موضوع پر طلباء کے درمیان ڈیبٹ کرایاتھا۔جس میں میں نے تو مشترکہ خاندان کے حق میں وکالت کی تھی لیکن خود ہماری ٹیچر غیرمشترکہ خاندان کے حق میں تھی کیونکہ انہوں نے لو میرج کیاہواتھا۔اورخود ہی کہتی تھی کہ لومیرج کرناآسان ہے لیکن اسے نباہنابہت مشکل ہے۔
محترم سحر صاحبہ نے کہاہے کہ والدین کیلئے ملازم رکھاجائے وہ اس کے نقصانات سے شاید آگاہ نہیں ہیں۔ یہاں بنگلور میں ایک پوش علاقہ "ڈالرس کالونی" ہیں اوربلامبالغہ ہرگھر سے لوگ امریکہ اوریوروپ میں بغرض ملازمت گئے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں ایسے گھر کثیرتعداد میں مل جائیں گے جہاں صرف بوڑھے والدین ،ایک ملازم اورکتاہے ۔ان کی تنہائی اور اداسی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے جس جتن سے بچہ کو پڑھایالکھایاتھا وہ تو شادی کرکے بیوی اوربال بچوں کو لے کر یوروپ سدھار گیا اورنتیجہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچے اورپوتوں کی تصویر دیکھ دیکھ کر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہیں۔
دوسری مشکل یہ ہوتی ہے کہ بسااوقات ملازمین کی نیت خراب ہوجاتی ہے اورضعیف والدین کو دیکھ کر وہ انہیں قتل کرکے قیمتی سامان لوٹ کر بھاگ جاتے ہیں بنگلور اوردہلی میں ایسے واقعات بکثرت ہورہے ہیں بالخصوص بنگلورمیں اس کا زور زیادہ ہے کیونکہ یہاں خوشحالی بھی کچھ زیادہ ہے۔
ایک آخری بات بھی عرض کردوں۔ اسی ڈالرس کالونی کی۔جہاں میں نے بھی ایک عرصہ گزاراہے۔ ایک خاتون کا انتقال ہوا۔ تین دن بعد جب نعش سے تعفن اٹھنے لگاتوپڑوسیوں کو پتہ چلا ۔ان کے بھی بال بچے تھے لیکن وہ نیوکلیر فیملی کے تحت الگ تھے اوریوروپ یاامریکہ میں ڈالر اورپونڈ کمارہے تھے۔ والسلام
ابن جمال آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (14-06-11), آبی ٹوکول (02-06-11), احمد نذیر (06-06-11)
پرانا 06-06-11, 07:03 AM   #53
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بوڑھے لوگوں‌کے لئے جن کی اولادیں نہیں‌ہوتی ہیں یا اولادیں دور ہجرت کرجاتی ہیں۔ ایسے اداروں کے قیام کی ضرورت ہے جہان‌وہ رہ سکیں اور ان کی ضروریات پوری کی جاسکے۔ ایسا کرنا کوئی بہت مشکل کام نہیں‌ہے۔ ایسے لوگوں‌کی تعداد کم ہوتی ہے۔ حکومتی سطح پر ٹٰکس میں‌اضاہ کرکے بوٍڑھے لوگوں‌ کی فلاح‌کا کام کیا جاسکتا ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (06-06-11), احمد نذیر (06-06-11)
پرانا 06-06-11, 02:40 PM   #54
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کوئی نظام بھی مقدس گائےنہیی ۔مشترکہ نظام میں اگر کوئی خوش ہےتوبڑی اچھی بات ہےلیکن اکٹھے رہ کرنفرتیں پالنےسےبہترہےکہ بندہ کبھی کبھارملے اورپیارسےملے ۔اس نظام کےفوائدیقیناًہیں کہ صبراورایثارکاجذبہ پروان چڑھتاہے،بزرگوں کےتجربات سےسیکھنےکا موقع ملتاہے،بچوں کو سب کاپیارملتا ہے۔نقصانات؛میاں بیوی کےدرمیان بسااوقات غلط فہمیاں اسی کی دین ہیں۔ماں اور بیوی اپنی ذہنی توانائیاں ،مردکواپنی طرف کیسےکھینچناہے،اس کوشش میں صرف کردیتی ہیں۔مرداگر افراط و تفریط سےکام لینے والا ھوتومعاملات اور بگڑجاتے ہیں۔ننیجہ حق تلفیاں،جلن نفرتیں
سام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (14-06-11), فاروق سرورخان (24-06-11), ننھا بچہ (14-06-11), آبی ٹوکول (06-06-11), احمد نذیر (06-06-11)
پرانا 14-06-11, 03:02 PM   #55
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 10
کمائي: 393
شکریہ: 3
9 مراسلہ میں 28 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ بہت دلچسپ اور معلوماتی سیر حاصل بحث ہورہی ہے ۔۔۔
مشترکہ خاندانی نظام کے حق اور مخالفت پر دونوں طرف سے دلائل خوب خوب ہے لہٰذا کسی ایک نقطہ پر پہنچنا فی الحال مشکل نظر آرہا ہے ضروری ہے کہ
"علمائے دین" بھی اس پر کچھ روشی ڈالے ۔۔۔

بہرکیف کچھ نقات مجھ ناچیز کے بھی ہیں جس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں کہ بشر خطا کا پتلا ہے


1-برصغیر کا معاشرہ زیادہ ترغریب آبادیوں پر مشتمل ہوتا ہے ، جس میں عموماَ ایک کمانے والاجبکہ دس کھانے والے ہوتے ہیں اس پر طرہ جبکہ مہنگائی بھی اپنے عروج پر ہو ہر ایک کے لیے علیحدہ گھر کا انتظام کرنا تقریباَ ناممکن ہے

2- اگر والدین علیحدہ گھر میں ہو اور وہ بوڑھے بھی ہو جبکہ بچے علیحدہ گھر میںرہے ، تو ایسی صورت میں انکی خدمت کرنا جو کہ فرض ہے اس وقت مشکل ہوجائے جب انکے گھر دور دور ہو نیز نوکری کے اوقات ایسے نہیں کہ وہ ضروت کے وقت دستاب ہو پھر آجکل جیسے ماحول میں ویسی ہی دنیاوی ہوس زیادہ ہوتی ہے ایسے میں والدین کی خدمت کا جذبہ سرد پڑتا جارہا ہے جبکہ وہ پاس بھی نہ ہو
بلکہ علیحدہ گھر “اولڈ ہاؤس“ بن کر رہ جائے گا جہاں وہ اپنے بوڑھاپے کے دن گزارینگے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں اور آجکل اسکی مثال بھی ملتی ہے


3-رہ گئی عورت کے گھر میں پردہ اور پرائیویسی کی تو یقینا یہ ضروری ہے ، پر اس کے لیے علیحدہ گھر ہی اسکا حل نہیں ، گھر کا ماحول اور گھر کے بڑے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ “پردہ و پرائویسی“ کا مناسب انتظام کرے ، اتنی صلاحیت پیدا کرے کہ وہ ایک ہی چھت کے نیچے عورت کو آزادی بھی دے اور
پردے کی غرض و غایت کو بھی پورا کرسکے ۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ علیحدہ گھر میں عورت مکمل تحفظ میں ہے، ہو سکتا ہے اکیلے گھر میں اسکو سیکوریٹی کا خدشہ ہو یا پھر شوہر کی غیر موجودگی میں وہ ان لوگوں سے مکمل پردہ نہ کرتی ہو جو نامحرم اسکے پاس آئے ۔۔وغیرہ
سو یہ “گھر کے بڑے اور ذمہ دار“ کی تربیت و صلاحیتوں پر منحصر ہے کہ وہ کیسے گھر کا ماحول رکھتا ہے اور گھر چلاتا ہے ۔



4-مشترکہ خاندانی نظام کو چلانے والے گھر کا بڑا ایک زیرک ، تدبر اور قوت ارادی میں مظبوط والا ہے تو اس کی سرپرستی میں گھر کا نظام بہترین طریقہ سے چل سکتا ہے اور جو اس کے زیر کفالت ہیں انکو زندگی کے مختلف مراحل میں بہترین مشورہ دے سکتا ہے ۔۔۔اگر کوئی بگڑ رہا ہے تو اس پر نظر رکھی جائے گی اور اسکی اصلاح بھی ممکن ہوسکے گی



ضرورت اس امر کی ہے کہ “مشترکہ خاندانی نظام“ کو “مسلمان“ یا اسلامائز کیا جائے تاکہ شرعیت کی پاسداری بھی ہوسکے اور مل جل کر رہنے میں اتفاق و محبت بھی قائم رہے اور مثالی معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے


والسلام
عقاب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عقاب کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (14-06-11), منتظمین (14-06-11), آبی ٹوکول (15-06-11), رضی (18-07-11)
پرانا 14-06-11, 05:45 PM   #56
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 37
مراسلات: 531
کمائي: 7,242
شکریہ: 1,192
349 مراسلہ میں 872 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گھر ميں كسى بهى نظام(مشتركه يا الگ)كے قيام كا سوال اس وقت هوتا ہے جب گهر كے بيٹے كى شادى هوجائے اور إس كى بيوى كى صورت ميں ايک نئے فرد كا اضافه هوجائے. سؤال تو اس بياه كے آنے والى عورت كى ذمه دارى كے تعين كا ہے.
اگر والدين كى خدمت فرض ہے تو جيسے مرد پہ اپنے والدين كى خدمت واجب ہے ، عورت پہ اپنے ماں باپ كى خدمت فرض ہے.
كوئى دليل نہيں پائى جاتى جو يه ثابت كرے كه شادى كے بعد عورت پر سے ماں باپ كے حقوق ساقط هوجاتے هيں اور اس كے شوہر كے نه صرف والدين بلكه بہن بهائى جو گھر ميں رہتے هوں، وه بهى فرض عين هوجاتے ہيں-
أمر واقعه يه ہے كه عورت شوہر كے اكثر كام ساس يا سسر كے كاموں كے بعد پر مؤخر كرديتى ہے كيونكه اسےشوہر كى طرف سے يہى ہدايات هوتى هيں، رفته رفته اس كے دل سے وه شوق ختم هوجاتا ہے جو بحيثيت مجازى خدا اپنے شوہر كے لئے هونا چاہئے.
اور پھر وه صورت حال پيدا ہوتى هے جب شاكى اور نالاں مرد توجہ كى كمى كا مورد إلزام بيويوں كو قرار ديتے پھرتے هيں-
اس بات سے پورے گھرانے كا توازن خراب هوتا ہے-بچے كبهى دل سے ايسے والدين كى عزت نهيں كرتے جو خود باہم ايک اكائى كى طرح گندھے ہوئے نہ ہوں- بات بے بات الجهنے كا سبب كم هى كوئى بڑا اختلاف هوتا ہے. وجه يه هوتى ہے كه الفت كو پنپنے كےلئے وقت اور ماحول نهيں ملتا-
بہت كم جوڑے ايسے ميں اپنے درميان محبت كى چاشنى برقرار ركهنے ميں كامياب رهتے هيں-
خيال رہے كہ إسلام ميں شادى كى غايت مرد اور عورت كا ايسا تعلق قائم كرنا ہے جس سے معاشرے ميں عفاف هو اور باہمى مؤدت اور رحمت كا حصول ، جو اولاد كى تربيت ميں كردار ادا كرے.....
mama_shalla آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (24-06-11), آبی ٹوکول (15-06-11), سام (14-06-11), سحر (17-11-11)
پرانا 15-06-11, 06:16 PM   #57
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE=mama_shalla;427181]گھر ميں كسى بهى نظام(مشتركه يا الگ)كے قيام كا سوال اس وقت هوتا ہے جب گهر كے بيٹے كى شادى هوجائے اور إس كى بيوى كى صورت ميں ايک نئے فرد كا اضافه هوجائے. سؤال تو اس بياه كے آنے والى عورت كى ذمه دارى كے تعين كا ہے.
اگر والدين كى خدمت فرض ہے تو جيسے مرد پہ اپنے والدين كى خدمت واجب ہے ، عورت پہ اپنے ماں باپ كى خدمت فرض ہے.
كوئى دليل نہيں پائى جاتى جو يه ثابت كرے كه شادى كے بعد عورت پر سے ماں باپ كے حقوق ساقط هوجاتے هيں اور اس كے شوہر كے نه صرف والدين بلكه بہن بهائى جو گھر ميں رہتے هوں، وه بهى فرض عين هوجاتے ہيں-
أمر واقعه يه ہے كه عورت شوہر كے اكثر كام ساس يا سسر كے كاموں كے بعد پر مؤخر كرديتى ہے كيونكه اسےشوہر كى طرف سے يہى ہدايات هوتى هيں، رفته رفته اس كے دل سے وه شوق ختم هوجاتا ہے جو بحيثيت مجازى خدا اپنے شوہر كے لئے هونا چاہئے.
اور پھر وه صورت حال پيدا ہوتى هے جب شاكى اور نالاں مرد توجہ كى كمى كا مورد إلزام بيويوں كو قرار ديتے پھرتے هيں-
اس بات سے پورے گھرانے كا توازن خراب هوتا ہے-بچے كبهى دل سے ايسے والدين كى عزت نهيں كرتے جو خود باہم ايک اكائى كى طرح گندھے ہوئے نہ ہوں- بات بے بات الجهنے كا سبب كم هى كوئى بڑا اختلاف هوتا ہے. وجه يه هوتى ہے كه الفت كو پنپنے كےلئے وقت اور ماحول نهيں ملتا-
بہت كم جوڑے ايسے ميں اپنے درميان محبت كى چاشنى برقرار ركهنے ميں كامياب رهتے هيں-
خيال رہے كہ إسلام ميں شادى كى غايت مرد اور عورت كا ايسا تعلق قائم كرنا ہے جس سے معاشرے ميں عفاف هو اور باہمى مؤدت اور رحمت كا حصول ، جو اولاد كى تربيت ميں كردار ادا كرے.....[/QUOTE





آپ نےتوہرگھرکی کہانی بیان کردی۔ایساہی ہوتاہے۔خوب لکھا،زبردست
سام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
سام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 23-06-11, 05:19 PM   #58
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مشترکہ خاندانی نظام کے موضوع پر باقی لوگوں کی رائے پڑھ کر چند سوالات ذہن میں آئے ہیں
1۔ کیا صرف ماں باپ یعنی شوہر کے ماں باپ کے ساتھ رہنا بھی مشترکہ خاندانی نظام ہے ۔
2 ۔ بوڑھے ماں باپ کی کیا تعریف ہے ۔ مطلب میں نے بہت سے ماں باپ ایسے دیکھیں ہیں جو انڈیپنڈنٹ لائف گزار رہے ہوتے ہیں مطلب شوہر کماتے ہیں اور بیوی بھی ہر لحاظ سے انڈیپنڈنٹ اور صحت مند ہوتی ہیں ۔
لیکن جب بیٹے کی شادی کرتی ہیں تو ساتھ رہنے پر پابند کرتے ہیں ۔
3 کیا گھر کا نظام سسر کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا شوہر کے
4 گھریلو معاملات ساس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا بیوی کے ۔
ساس سسر اگر انڈیپنڈنٹ ہیں لیکن ایک گھر میں رہتے ہیں تو ساس سسر اور بیٹا بہو الگ الگ فیمیلیز تصور کیے جائیں گے یا ایک ۔
5 اگر بیوی کے ماں باپ بوڑھے اور مجبور ہون تو کیا بیٹی کا فرض نہیں کہ وہ ان کے ساتھ رہے اور ان کی خدمت کرے اس وقت شوہر کا رویہ کیا ہونا چاہیے ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (23-06-11), فیصل ناصر (23-06-11), فاروق سرورخان (24-06-11), آبی ٹوکول (23-06-11), راجہ اکرام (23-06-11), سام (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 06:25 PM   #59
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
1۔ کیا صرف ماں باپ یعنی شوہر کے ماں باپ کے ساتھ رہنا بھی مشترکہ خاندانی نظام ہے ۔
شرعی اعتبار سے کوئی ممانعت نہیں اگر بیوی کہ والدین کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں اور زوجین میں اس قدر ہم آہنگی ہوجائے کہ بیوی کو اپنے والدین کو شوہر کہ والدین کہ ساتھ ایک چھت تلے رکھنا منظور ہو تو اسے بھی مشترکہ خاندانی نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے مگر یہ سب ڈیپنڈ کرتا ہے زوجین کی باہمی انڈراسٹینڈنگ پر ۔

اقتباس:
2 ۔ بوڑھے ماں باپ کی کیا تعریف ہے ۔ مطلب میں نے بہت سے ماں باپ ایسے دیکھیں ہیں جو انڈیپنڈنٹ لائف گزار رہے ہوتے ہیں مطلب شوہر کماتے ہیں اور بیوی بھی ہر لحاظ سے انڈیپنڈنٹ اور صحت مند ہوتی ہیں ۔ لیکن جب بیٹے کی شادی کرتی ہیں تو ساتھ رہنے پر پابند کرتے ہیں ۔
والدین کی خدمت فرض ہے مرد و عورت دونوں پر اور ایک جوان مرد کا کفیل ہونے کہ اعتبار سے زیادہ فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت بصورت دینی و دنیوی ضروریات کہ اعتبار سے بھی کرے باقی والدین کہ خدمت کے لیے ان کا بوڑھا ہونا کوئی شرط نہیں ہر حال میں انکی خدمت و اطاعت فرض ہے الا کہ کوئی خلاف شریعت حکم نہ دیں مگر بوڑھا ہوجانے کی صورت میں بچوں پر والدین کہ زمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں بالکل اسی طرح جب وہ شیر خوار تھے انکے والدین نے زمہ داری سے انکو پالا تھا ۔۔۔


اقتباس:
3 کیا گھر کا نظام سسر کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا شوہر کے
گھر کا نظام باہمی مشاورت پر مبنی ہونا چاہیے زوجین کہ نجی معاملات یعنی انکی اولاد و تربیت و دیگر معاملات میں حتمی فیصلہ زوجین کو مگر ان میں بڑھوں کی مشاورت کو دخل ہونا چاہیے گھر میں اگر شوہر کی غیر شادی شدہ بہن بھائی موجود ہیں تو انکے معاملات میں بھی مشاورت کا دخل ہونا چاہیے مگر حتمی فیصلہ شوہر کہ والدین کا ہوگا اسی طرح دیگر گھریلو اور فنانشل معاملات کو بھی قیاس کرلیں ۔

اقتباس:
4 گھریلو معاملات ساس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا بیوی کے ۔
گھریلو معاملات سے مراد اگر زوجین کہ بچوں کی تربیت اور زمہ داریاں ہیں تو وہ بلاشبہ زوجین پر ہی ہونگی اور تربیت میں زیادہ حق بچوں کی والدہ یعنی بہو کا ہوگا جب کہ دیگر گھریلو معاملات کہ جن میں گھر کا بجٹ وغیرہ کا تعلق ہے تو اس میں جن چیزوں کا تعلق زوجین کہ ساتھ ہے اور انکے زاتی پرسنل اخراجات ہیں وہ بلاشبہ بہو کہ ہاتھ میں ہونگے اور جن معاملات کا تعلق گھر کہ بجٹ کہ اجتماعی معاملات سے وہ ساس کہ ہاتھ میں ہوگا ۔

اقتباس:
ساس سسر اگر انڈیپنڈنٹ ہیں لیکن ایک گھر میں رہتے ہیں تو ساس سسر اور بیٹا بہو الگ الگ فیمیلیز تصور کیے جائیں گے یا ایک ۔
ایک ہی فیملی تصور کی جاسکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ۔ ۔

اقتباس:
5 اگر بیوی کے ماں باپ بوڑھے اور مجبور ہون تو کیا بیٹی کا فرض نہیں کہ وہ ان کے ساتھ رہے اور ان کی خدمت کرے اس وقت شوہر کا رویہ کیا ہونا چاہیے
بلاشبہ بیٹی کا فرض ہے مگر بیٹی کا یہ فرض شادی کہ بعد نفلی اعتبار سے ہوگا کیونکہ اس پر شوہر کی خدمت اور اپنے بچوں کی تربیت بطریق اولٰی فرض ہے جبکہ والدین کی خدمت مردوں پر الرجال قوامون کی نص کہ عموم کہ اعتبار سے زیادہ عائد ہوتی ہے لہزا بیوی کہ بھائی اپنے والدین کی خدمت بطور فرض کریں گے جبکہ بیوی اپنے والدین کی خدمت بطور نفل کہ انجام دے گی اگر بیوی کا کوئی بھائی نہ ہو اور اسکے والدین اکیلے ہوں کہ تو پھر سوال انمبر ایک کا جو جواب ہے وہی یہاں بھی اپلائی ہوسکتا ہے فقط واللہ اعلم

Last edited by آبی ٹوکول; 23-06-11 at 06:28 PM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-06-11), فاروق سرورخان (24-06-11), احمد نذیر (23-06-11), سام (23-06-11)
جواب

Tags
فرض, پاک, لوگ, نظر, موت, ممکن, ماں, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, جواب, حسن, خواتین, خلاف, روزہ, رات, زندگی, شخص, عورت, عبادت, صبح, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیلاب زدگان کیلئے کمیشن کا تصور72گھنٹے کے اندر ہوا میں تحلیل گلاب خان خبریں 0 18-08-10 03:13 AM
اردو تصور میں پاک سائٹ کو کروں wajee تجاویز اور شکایات 18 21-09-08 11:39 PM
قومی حکومت کا قیام ممکن ہے نہ آئین میں اس کا تصور ،ق لیگ ابو کاشان خبریں 0 16-01-08 11:29 AM
2 وزراء الیکشن لڑ رہے ہیں، عام انتخابات شفاف تصور نہیں ہونگے، عالمی مبصر عبدالقدوس خبریں 0 17-12-07 03:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger