واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


چار شادیاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-06-09, 06:03 PM  
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default چار شادیاں

جو عورتیں تم کوپسند آئیں اُن میں سے دو دو تین تین ، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو
سورہ النساء

اسلام میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن عدل کی شرط کے ساتھ ۔ اور عدل کی مثال ہم کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ سے ملتی ہے ۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ اسلم کی ایک وقت میں سات ازواج تھیں ۔ ان سب کی برابری کی بنیاد پر باری مقرر تھی ۔ روذانہ عصر کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے گھر تشریف کے جاتے اور ان کی خیریت دریافت فرماتے۔
سفر پر جاتے ہوئے قرعہ نکالی جاتی ۔ جن زوجہ کا نام قرعہ میں نکل آتا ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے ان تمام معاملات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی پسند کا عمل دخل نہ ہوتا تمام ازواج کو برابری کی حیثیت حاصل تھی

ہمارے معاشرے میں اگر کوئی شخص دوسری شادی کرتا ہے تو وہ یکسر پہلی بیوی کو بھلا دیتا ہے
یا دونوں میں برابری نہیں کرتا ۔ اس لیے خواتین اپنے شوہروں کی دوسری شادی سے ڈرتی ہیں

اگر کسی معاملے میں بیوی اپنے شوہر پر اعتماد کرکے ، کہ اس کا شوہر دوسری شادی کے بعد بھی اس کا حق ادا کرے گا اور اپنے شوہر کو دل سے رضا مندی دیتی ہے
تو ایسی عورت کو ہمارا معاشرہ جینے نہیں دیتا یہ کہہ کر کہ تمہی میں کوئی خرابی ہوگی یا تمہارا شوہر تم سے محبت نہیں کرتا جبھی اس نے دوسری شادی کی

لیکن اس کی مثال بھی ہم کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملتی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ تھیں اور ان سے شادی کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو شادیاں کیں۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ اور آخر وقت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام
ازواج کی اجازت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام کرنا پسند فرمایا۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-06-09), فیصل ناصر (14-06-09), چیتا چالباز (14-06-09), منتظمین (14-06-09), محمدخلیل (14-06-09), مرزا محمد فاروق (15-06-09), Zullu230 (15-06-09), ایس اے نقوی (14-06-09), ام طلحہ (05-11-09), ام غزل (15-06-09), ابن آدم (15-06-09), راجہ اکرام (15-06-09), رضی (14-06-09), طاھر (14-06-09), عبداللہ حیدر (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 01:30 PM   #16
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اس تھریڈ پر تبصرہ کرتے وقت پہلا ڈر آپکی بھابھی سے لگا

حقیقت یہی ہے کے اس پر سب سے زیادہ اعتراض خواتین ہی کرتی ہیں اور اعتراض کا یہ کلچر بھی ہمیں ہندو معاشرے سے ملا ہے جس میں سوکن کی کوئی گنجائش نہیں


بس یہی چابی ہے اس عمل کی ، اجازت کے ساتھ ہی اللہ نے عدل کی شرط عائد کردی ہے۔
پہلے اس شرط کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا جو بذات خود ایک مشکل مرحلہ ہے
سوکن کو نہ برداشت کرنے کی دو وجوہات ہیں
شوہر برابری نہ کرے
معاشرہ پہلی بیوی کو قصور وار سمجھے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-06-09), ایس اے نقوی (15-06-09), ام غزل (15-06-09), رضی (15-06-09), علی....Ali (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 02:12 PM   #17
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تفصیلات میں جائے بغیر صرف یہ عرض کروں گا کہ موجودہ حالات ہم سے اس سنت کو زندہ کرنے کے متقاضی ہیں۔
کیوں کہ معاشرے میں لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اور کئی قسمت کی ماریاں ساری عمر اپنے خوابوں کے شہزادے کے انتظار میں چوکھٹ پر نظریں جمائے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیتی ہیں۔

بعض والدین دوسری اور تیسری شادی کے لئے اپنی بیٹی دینے کو تیار نہیں ہوتے، حالانکہ عمر بھر بن بیاہے رہنے سے اپنا گھر بسانا کہیں بہتر ہے چاہے وہ دوسرے یا تیسری ہو۔

ایک اور بات وہ یہ کہ رزق کا انتظام اللہ کے ذمہ ہے، ہر انسان اپنے حصے کا رزق اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص ایک شادی کے ساتھ مشکل حالات سے گزر رہا ہو اور دوسری بیگم کے آنے سے رزق میں اضافہ ہو اور مشکلات دور ہو جائیں۔

اچھا موضوع ہے۔ سحر بہن بہت مبارک ہو ایک اہم موضوع شروع کرنے پر۔

محتاج دعا
راجہ اکرام
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-06-09), ایس اے نقوی (15-06-09), ام طلحہ (05-11-09), ام غزل (15-06-09), رضی (15-06-09), سحر (15-06-09), طاھر (15-06-09), علی....Ali (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 02:40 PM   #18
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,984
کمائي: 56,111
شکریہ: 3,009
1,427 مراسلہ میں 3,186 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع پر کافی کطھ لکھا جا چکا ہے ۔
ایک سے زائد اور چار تک شادیاں کرنا بھی سنت ہے۔ اور مذہب نے اس کی اجازت دی ہے۔ شادی عیاشی کا نام نہیں ہے بلکہ شادی کے بعد مذہبی اور خاندانی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایک بیوی کے ساتھ عدل نہیں کر سکتا تو وہ دوسری شادی کس لئے کرے گا۔ کمر توڑ مہنگائی کے اس دور میں اگر ایک بیوی سے انصاف ہو سکے اور اپنی اولاد کی بہترین تربیت ہو جائے۔ اُنکی شادیاں ہو جائیں اور اور وہ اپنا اپنا گھر بسانے کے قابل ہو جائیں تو میر ے خیال سے ایک ہی شادی کافی ہے۔

جہاں تک سنت کو زندہ کرنے کی بات ہے تو اس کے ساتھ ہی عدل کرنے کی شرط بھی ہے۔ اگر عدل کر سکتے ہو تو کر لو۔
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-06-09), ایس اے نقوی (15-06-09), ام طلحہ (05-11-09), ام غزل (15-06-09), راجہ اکرام (15-06-09), رضی (15-06-09), سحر (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 04:51 PM   #19
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,586
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,624 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور آج ہی میرے پاس ایک کیس آیا ہے جس میں عورت کا کہنا ہے کہ اس نے پسند کی شادی کی اسکے شوہر کے پہلی شادی میں چار بچے ہیں اور وہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ رہتا ہے شادی سے قبل مذکورہ عورت جانتی تھی کہ جس سے شادی کر رہی ہے وہ پہلے بھی شادی شدہ ہے اب اس کے دو بچے ہیں اور اسکا شوہر نے اسے کرایہ کے مکان میں رکھا ہوا ہے اور ہفتے دس دن بعد شکل دکھاتا ہے اور کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا بچے بھوک سے بلکتے ہیں مگر شوہر کو بتانے کے باوجود کوئی پرواہ نہیں کرتا
واضح رہے کہ عورت اور مرد دونوں کی شادہ پسند کی تھی اور مرد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسکے تمام اخراجات پورے کرے گا اور ہفتہ میں دودن اسکے پاس رہا کرے گا تاہم شادی کے دو سال بعد وہ ایسا بدلا کہ اب اسکی اہمیت ہی کوئی نہیں رہی
عورت کا کہنا ہے کہ اسکے والدین وفات پا چکے ہیں بھائی پوچھنے والے نہیں اب وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور میرے اندازے کے مطابق اسکی اپنی عمر 26 سے 28۔29 کے لگ بھگ ہو گی
مجھ سے وہ یہ مدد مانگنے آئی تھی کسی کے ریفرنس پر کہ میں کوئی خبر لگائوں جو کہ میرے اختیار میں نہیں ہے
تاہم اسے کچھ سمجھایا ہے اب دیکھو اس کی قسمت کیا کرتی ہے
اور مذکورہ کیس میں سمجھ نہیں آیا کہ مجھے کیا کہنا چاہیئے تھا اور کیا کرنا چاہیئے
اسلئے آپ تمام کے پیش خدمت کیا جاتا ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (05-11-09), ام غزل (15-06-09), رضی (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 05:00 PM   #20
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
اور آج ہی میرے پاس ایک کیس آیا ہے جس میں عورت کا کہنا ہے کہ اس نے پسند کی شادی کی اسکے شوہر کے پہلی شادی میں چار بچے ہیں اور وہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ رہتا ہے شادی سے قبل مذکورہ عورت جانتی تھی کہ جس سے شادی کر رہی ہے وہ پہلے بھی شادی شدہ ہے اب اس کے دو بچے ہیں اور اسکا شوہر نے اسے کرایہ کے مکان میں رکھا ہوا ہے اور ہفتے دس دن بعد شکل دکھاتا ہے اور کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا بچے بھوک سے بلکتے ہیں مگر شوہر کو بتانے کے باوجود کوئی پرواہ نہیں کرتا
واضح رہے کہ عورت اور مرد دونوں کی شادہ پسند کی تھی اور مرد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسکے تمام اخراجات پورے کرے گا اور ہفتہ میں دودن اسکے پاس رہا کرے گا تاہم شادی کے دو سال بعد وہ ایسا بدلا کہ اب اسکی اہمیت ہی کوئی نہیں رہی
عورت کا کہنا ہے کہ اسکے والدین وفات پا چکے ہیں بھائی پوچھنے والے نہیں اب وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور میرے اندازے کے مطابق اسکی اپنی عمر 26 سے 28۔29 کے لگ بھگ ہو گی
مجھ سے وہ یہ مدد مانگنے آئی تھی کسی کے ریفرنس پر کہ میں کوئی خبر لگائوں جو کہ میرے اختیار میں نہیں ہے
تاہم اسے کچھ سمجھایا ہے اب دیکھو اس کی قسمت کیا کرتی ہے
اور مذکورہ کیس میں سمجھ نہیں آیا کہ مجھے کیا کہنا چاہیئے تھا اور کیا کرنا چاہیئے
اسلئے آپ تمام کے پیش خدمت کیا جاتا ہے
یہ مسئلہ تو بہت سی ایسی خواتین کے ساتھ بھی ہے جو شوہر کی اکلوتی بیوی ہے لیکن شوہر اس کا
اور بچوں کا خرچہ نہین اُٹھاتا ہے
اس کا اسلام میں تو بہت آسان سا حل ہے کہ قاضی کے پاس جائے اور وہ اس کے شوہر سے اس کا حق دلائے
لیکن کیا ہمارے کورٹ سسٹم اسلامی ہیں ۔ یا کیا ہم کسی اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں ۔

قرآن میں عائلی قوانیں کا ذکر آیا ہے تو تقویٰ کا ذکر آیا ہے ۔ اگر انسان میں اللہ کا ڈر ہو
تو وہ سب کے حقوق ادا کرتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا محمد فاروق (15-06-09), ایس اے نقوی (15-06-09), ام غزل (15-06-09), راجہ اکرام (15-06-09), رضی (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 05:45 PM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر جی بہت ہی اہم مسلہ ہے ، مرد کو اللہ اور سنت دونوں اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ عدل کی شرط کو پورا کرتے ہوئے ایک سے ذائد بیویاں کر سکتا ہے ، مگر اس کیلئے موجودہ بیوی میں نقص نکالنا یا اس کو ذدو کوب کرنا کہاں کا مذہب اور کونسی سنت ہے ، ہمارے نبی صلیٰ اللہُ علیہٍ واسلم کی حیاتٍ مبارکہ اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح انہوں ے اپنی ازواج کے ساتھ عدل اور مساوی رشتہ نبھایا ، مگر ہمارے ہاں تو سنت کے نام پر شادی کرنا ٹھیک ہے مگر اس سے آگے سب کچھ حزف کردیا جاتا ہے ، پہلی بیوی یا تو لوگوں کے طنز برداشت کرتی رہتی ہے یا پھر شوہر کی طرف سے بدظن کردی جاتی ہ ے تاکہ دوسری کیلئے راہ ہموار کی جائے جبکہ دوسری یا چوتھی کیلئے تو اللہ اور سنت ویسے ہی اجازت دیتے ہیں ، تو پھر اس عمل کیلئے ایک عورت کو بدنامی کیوں ؟؟ پہلی بیوی یا تو لوگوں کی جوٹھن صاف کرتی نظر آتی ہے یا دنیا کی زلالت کے ہاتھوں خودکشی کرلیتی ہے ۔۔۔۔اور تو اور پہلی سے ہونیوالے بچے تک ذمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ دئے جاتے ہیں ، ان کا بھی کوئی پُرسانٍ حال نہیں ہوتا ۔
اللہ ہمیں عدل کرنے کی توفیق عطا فرمائے شادی تو ہر کوئی کرلیتا ہے ۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (15-06-09), ام طلحہ (05-11-09), راجہ اکرام (15-06-09), سحر (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 05:52 PM   #22
Senior Member
 
دین محمد وطن پال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 409
کمائي: 7,521
شکریہ: 706
323 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
دین محمد وطن پال کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں دین محمد وطن پال کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے ابھی تک اس کا تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مطالعہ کیا

جب شادی کرلوں گا تب بتادوں گا
اُسی سے پوچھ کے
دین محمد وطن پال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے دین محمد وطن پال کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-06-09, 06:09 PM   #23
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : دین محمد وطن پال مراسلہ دیکھیں
مجھے ابھی تک اس کا تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مطالعہ کیا

جب شادی کرلوں گا تب بتادوں گا
اُسی سے پوچھ کے
اس سے پوچھا تو ایک ہی مرتبہ پوچھو گے دین صاحب۔ خود ہی کچھ سوچ لو تو اچھا ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-06-09, 07:11 PM   #24
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,697
شکریہ: 8,788
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اس سے پوچھا تو ایک ہی مرتبہ پوچھو گے دین صاحب۔ خود ہی کچھ سوچ لو تو اچھا ہے۔
مجھے بھی دوسری دفعہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (19-09-09), سحر (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 10:58 PM   #25
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
مجھے بھی دوسری دفعہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
ہمت مردان مدد خدا

ٹرائی کریں شاید ہمت آ ہی جائے

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
color, ہندو, کورٹ, کمر, قرآن, مہنگائی, محبت, معاشرہ, آج, آدمی, اللہ, بہترین, بھائی, بچوں, جواب, حسن, خواتین, خدا, دیکھو, دریافت, زندگی, شخص, عورت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger