| عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 21 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (26-10-09), پاکستانی لڑکی (27-10-09), یاسر عمران مرزا (28-10-09), مہر (26-10-09), ملک بھائی (27-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), آبی ٹوکول (02-06-11), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (12-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (11-06-09), راشد احمد (14-06-09), رضی (11-06-09), شاہ جی 90 (13-06-09), علی....Ali (11-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#16 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کو اپناتے بھی ہیں اور اس کے خلاف کو ئی بات سننا گوارہ بھی نہیں کرتے ۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (12-06-09), ام غزل (13-06-09), احمد نذیر (06-06-11), رضی (13-06-09) |
|
|
#17 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میری بات یا تو آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی یا سمجھنا چاہتے نہیں
والدین کی خدمت کرنے کے خلاف کوئی نہیں ہے ۔ اگر کسی کے والدین اتنے ضعیف اور بیمار ہیں کہ اکیلے نہیں رہ سکتے ۔ ان کو اگر بیٹا اپنے گھر میں رکھتا ہے اور خدمت کرتا ہے تو وہ مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں آتا ہے ۔ لیکن ہر گھر میں ایسا نہیں ہوتا ہے اکثر گھروں کا نظام والدین کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور شادی شدہ بیٹا اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ہے ۔ یہ اسلام کے اس قانون کی خلاف ورزی ہے کہ شوہر گھر کا سربراہ ہے اور پھر کہوں گی کہ مشترکہ خاندانی نظام میں پردہ کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے ۔ ہمارے جاننے والوں میں شوہر نے اپنی بیوی سے پانچ سال اپنی ماں کی ذاتی خدمت کرائی اور جیسے ہی اس کی ماں کا انتقال ہوا اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے گھروں میں شوہر اپنی بیویوں کو اپنے ماں باپ کی ملازمہ سمجھتے ہیں ۔ اور اپنے ماں باپ کی خدمت کی غرض سے ہی شادی کرتے ہیں ۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | مہر (26-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (12-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), رضی (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#18 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
باقی باتوںکا جواب تو سحر جی دے رہی ہیں ، یہاں حج کا ذکر ہوا تو میرے ذہن میںایک خیال آیا، سوچا ذکر کردوں شاید مفید ہو۔ ایک اصول ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنےکے حوالے سے، بالخصوص جب دینی تعلیمات کا مسئلہ ہو۔ ہم دین سمجھ کر جو کام کرتے ہیںیا جس کام سے باز رہتے ہیں اس کی بنیاد شریعت ہے۔ اللہ تعالی نے جو بھی احکامات دیئے ہیں ، بذریعہ قرآن کریم یا بذریعہ بنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم، وہ ہمارے لئے معیار اور کسوٹی ہیں۔ اگر ایک جگہ اللہ ایک کام کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس پر عمل کرنا فرض ہے ، اور دوسری جگہ اگر اسی کام سے روکا گیا ہے تو رکنا فرض ہے۔ مثال کے طور پر ، غیر اللہ کو سجدہ کرنا منع ہے، اگر کریں تو دائرہ اسلام سے خارج، لیکن اگر خود اللہ تعالی حکم دے دیں، فرشتوں سے کہیں کہ آدم کو سجدہ کرو، تو اب سجدہ کرنا فرض ہے۔ اگر نہ کیا تو ابلیس کہلائے۔ یہی حال یہاں بھی ہے۔ مرد و زن کا اختلاط ممنوع ہے۔ لیکن حج کے موقع پر چونکہ شریعت کا حکم ہے کہ ایسا کرنا ہے تو وہاں ممنوع نہیں ہے۔ ہم پابند شریعت ہیں۔ امید ہے کہ بات کسی حد تک واضح ہو چکی ہو گی۔ مزید تصحیح کے لئے اہل علم کی رہنمائی کا محتاج ہوں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پردے کے حوالے سے میں آپ کی بات مانتا ہوں ، میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے غیر اسلامی افعال رسوم و رواج کے نام سے پل رہے ہیں ۔ میں آپ کو ایک بات بتائوں ، کالج کے دور سے لے کر آج تک میری کسی سے بحث چھڑ جائے کسی بات پر تو میں دلائل ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے نکالتا کہ جن سے مقابل لا جواب ہو جاتا اور مجھے بہت مزا آتا تھا ، آہستہ آہستہ یہ میری عادت بنتی گئی اور جب میری بات نہ مانی جا رہی ہوتی تو مجھے ایسا لگتا کہ میری شکست ہو رہی ہے ، میں آج ایک مسئلے کی وجہ سے پچھلے 40 گھنٹوں سے جاگ رہا ہوں اور ابھی دور دور تک اگلے چوبیس گھنٹے بھی نیند لینے کا موقع ملتا نظر نہیں آتا ، اس صورت حال میں میرا ذہن اس جانب چل پڑا کہ تو ، جو اپنے آپ کو بہت Civilized سمجھتا ہے ۔ تو جو بڑا شاعر بنا پھرتا ہے ۔ اپنے تئیں گناہوں سے بچ کر بہت اتراتا پھرتا ہے ، اپنے اندر کے ایک ہٹ دھرم انسان کو تو مار نہیںسکتا ، اور بہت بہادر بنا پھرتا ہے ، شاید تحلیل نفسی اسی کو کہتے ہیں ۔ جی ہاں میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ کی تمام باتیں درست ہیں ، میں جو اتنی مخالفت کر رہا تھا تو صرف اور صرف اپنے اندر کے ہٹ دھرم انسان کو مطمعن کرنے کے لیے ۔ میں دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ جو کچھہ بھی آپ کا کہنا ہے وہی فطرت کے زیادہ قریب ہے ، کاش اللہ مجھے اتنی ہمت دے کہ میں اپنے گھر میں ان اصولوں کو رواج دے سکوں ۔ میرے حق میں دعا کیجئیے گا ۔ اللہ تعالی آپ کو بہت سی خوشیاں اور سکون کی دولت عطا فرمائے آمین
|
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (26-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), مسٹر شیف (16-06-11), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), راجہ اکرام (13-06-09), رضی (13-06-09), سحر (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#20 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ذاتی خدمت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھہ سمجھہ نہیں آئی ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ایک مریض کو دوا وقت پر کھلا دینا جب وہ بستر سے اٹھنے کے قابل نہ ہو کہیں یہ بھی ذاتی خدمت میں تو نہیں آ جاتا یہ آخری جو سوال ہے یہ بحث برائے بحث نہیں بلکہ میں حقیقت میں جاننا چاہتا ہوں ۔ |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), راجہ اکرام (13-06-09), رضی (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#21 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,775
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,001 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
دوسرے میرا ذاتی خیال یہ ہے ک بوڑھے والدین کا سب سے اہم مسئلہ ان کی باتوں کو سنننا اور ان کو وقت دینا ہوتا ہے ہم میں سے اکثر لوگ والدین کی دوا دارو اور کھانے پینے کی ضروریات کا تو خوب خیال رکھتے ہیں لیکن آجکل کے مصروف دور میں وقت کی کمی سب کا ہی پرابلم ہے ایک ہی گھر میں ہونے سے کم از کم کچھ وقت تو والدین کو مل ہی جاتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
||
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), منتظمین (14-06-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), راجہ اکرام (13-06-09), رضی (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#22 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس لیے کہ والدین اپنی اولاد کے ان کے بچپن میں یہ سارے کام بڑے احسن طریقے سے کر چکے ہوتے ہیں اور بہو سے ان کاموں کو کرانا اگر وہ نہ کرنا چاہتی ہو صحیح نہیں لیکن اگر بہو خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتی ہے تو بھی صرف والدہ کے لیے یہ کام بہو کرسکتی ہے آپ کو شائد یہ بات معلوم نہیں ہمارے یہاں بہت سے گھرانوں میں خدمت کے نام پر یہ کام سسر کے بھی بہو کرتی ہیں ۔ |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (14-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#23 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
گھر لیا جائے اور آنے جانے میں ہی وقت نکل جائے آپ کا گھر اپنے والدین کے گھر کے برابر میں ہو اور یا اوپر نیچے ہو اس کو الگ گھر تصور کیا جائے گا ۔ بس بیوی کی پرائیویسی کا اور اس کے پردہ کا خیال رکھا جائے۔ |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (14-06-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#24 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (14-06-09), ام غزل (14-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), سحر (26-10-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#25 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 6
کمائي: 338
شکریہ: 42
5 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے بالکل ٹھیک کہا سحر۔یہ ہندوؤں کے ساتھ رہنے سے ہم میں بھی رواج آیا ہے۔اور یہاں بھی بہو سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ آ کر سارا کام سنبھالے،ساس سسر،دیور نند کی خدمت کرے۔اور جو نہ کرے یا کام نہ آئے تو اس کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔یہ 98 فیصد گھروں میں ہوتا ہے جہاں مشترکہ نظام ہے۔اس کی وجہ لاعلمی بھی ہے اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ اسلام میں تو مشترکہ نظام کا تصور نہیں ہے۔
|
|
|
|
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() |
چونکہ بنیادی تصور اسلام میںیہی ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو اپنے الگ گھر میں رکھے گا۔ لہذا قرآن حکیم کی آیات بھی اسی تناظر میں دیکھی جاتی ہیں۔
بغور دیکھئے کہ اگر ایک ہی گھر میںسب لوگوںکے رہنے کا رواج ہوتا یا اللہ تعالی کی منشاء ہوتی تو کسی شخص وفات کی صورت میں اس کے اثاثہ تقسیم کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اثاثوں کی تقسیم سے مقصد ہے کہ لوگ آزادانہ اپنے طور پر اپنے حصے کا استعمال کریں۔ اس میںناسمجھوں یعنی جو لوگ بالغ نہیںہوئے ہیں ان کو اپنے ساتھ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ دیکھئے کہ ناسمجھوںکے سپرد ان کا مال نہ کئے جانے کی ہدایت۔: 4:5 وَلاَ تُؤْتُواْ السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ قِيَاماً وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُواْ لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوفًا اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو اب دیکھئے کہ جب وہ سمجھدار ہوگئے اور نکاح کی عمر کو پہنچ گئے تو ان کا مال ان کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ اپنے طور پر رہ سکیں۔ 4:6 وَابْتَلُواْ الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُواْ النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُواْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُواْ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُواْ عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللّهِ حَسِيبًا اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے مشترکہ خاندان سے الگ مرد و عورت دونوں کو ہونا چاہئیے، یہ اس بات سے ظاہر ہے کہ مردوں اور عورتوںدونوں کا اس مال میںسے حصہ ہے جو ایک مرنے والا چھوڑ جائے۔ 4:7 لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے اسی نظریہ کو آپ طلاق کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں کہ جس عورت کو طلاق دی جائے اس عورت کو اس کے گھر سے نکالا نہ جائے۔ یہاں چونکہ مالو دولت و جائیداد جانے کا معاملہ ہے ، اس لئے کچھ فرقوں کا اس پر زبردست اختلاف ہے۔ اس اختلاف کو ایک طرف کرکے دیکھئے تو صاف نطر آتا ہے کہ ایک طلاق یافتہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالا جائے۔ کب تک ، اس پر مکتلف آراءہیں۔ اب اگر اس عورت کا کوئی گھر ہی نہیںتو پھر اس کو رکھنے نکالنے کی صورت حال ہی پیدا نہیں ہوتی ۔۔ لہذا اس نکتہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کر کے ایک عورت کو الگ گھر میں رکھا جائے تاکہ طلاق کی صورت میں وہ اس گھر میںرہ سکے۔ چاہے وہ مدت اس کی عدت کی ہو یا آپسی رضامندی یا عدالت کے فیصلہ سے تا حیات ہو۔ 65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دےمزید یہ واضح حکم دیکھئے: 65:6 أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى رکھو تم ان عورتوں کو اسی جگہ جہان تم خود رہتے ہو جیسی جگہ تمھیں میسر ہو اور نہ ستاؤ تم تنگ کرنے کے لیے انھیں۔ اور اگر ہوں وہ حاملہ تو خرچ کرتے رہو تم ان پر یہاں تک کہ ان کے ہاں بچہ ہو جائے۔ پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمھارے لیے (بچے کو) تو دو تم انھیں ان کی اجرت۔ اور (اجرت کا) معاملہ طے کرو مشورے سے آپس میں بھلے طریقے سے اور اگر تم نے ایک دوسرے کو تنگ کیا تو دودھ پلائے اس کی خاطر دوسری عورت۔ ان آیات سے مختصراً یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شادی شدہ جوڑے کو ایک الگ گھر میں رہنا چاہئیے۔ اس سلسلے میں روایات پہلے پیش کی جاچکی ہیں۔ قرآن حکیم سے حوالہ جات حاضر ہیں۔ چونکہ ایک الگ گھر یا جائیداد کافی اہمیت رکھتا ہے اس لئے بہت سے فرقہ عورت کے اس حق کو تسلیم نہیںکرتے لیکن اگر آپ عورت کو اس کے گھر سے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے تو وہ کبھی بھی اپنے خاندان کی تربیت نہیں کرسکے گی۔ ماںکی تربیت کے بغیر خاندانوں سے بننے والی قوم مناسب تربیت یافتہ نہیں ہوسکتی ۔ لہذا ایک عورت کو اس کے خاندان کے لئے گھر کی فراہمی نہ صرف ایک مرد کی ذمہ داری ہے بلکہ اسلامی معاشرہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ مرد کو اس ذمہ داری کے پورا کرنے میں مدد کرے والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 26-10-09 at 09:40 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#27 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی
ان آیات سے مشترکہ خاندانی نظام کی ممانعت یا مخالفت کا حکم کیسے مستنبط کیا گیا ہے۔۔ اگر تھوڑی وضاحت فرما دیں تو ہمارے لئے بھی بہتر ہوگا۔۔ اثاثوں کی تقسیم سے یہ حکم اخذ کرنا مجھے تو سمجھ نہیں آیا۔۔ اثاثے تو میاں اور بیوی کے بھی الگ الگ ہوتے ہیں تو ان کو بھی الگ الگ گھر میں رکھا جائے؟؟؟ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), ھارون اعظم (04-11-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), شاہ جی 90 (03-11-09) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() |
میاں بیوی کے اثاثے مشترکہ اثاثے شمار کئے جاتے ہیں۔ اثاثوں کی تقسیم بنیاد ہے مشترکہ گھر کی تقسیم کی۔ ایک مشترکہ گھر کے تصور میں اثاثوں کی تقسیم کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اگر سب نے ایک ہی جگہ سے کھانا پینا ہے تو پھر اثاثوں کی تقسیم کے کیا معانی ہوئے؟
|
|
|
|
|
|
#29 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), شاہ جی 90 (03-11-09), عامرشہزاد (27-10-09) |
|
|
#30 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کی بات درست ہے کہ سسر محرم ہوتے ہیں جیسے باپ ہوتے ہیں ۔ میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ کیا محرم مردوں سے جیسے بھائی یا باپ سے پردہ نہیں ہوتا ہے ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فرض, پاک, لوگ, نظر, موت, ممکن, ماں, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, جواب, حسن, خواتین, خلاف, روزہ, رات, زندگی, شخص, عورت, عبادت, صبح, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیلاب زدگان کیلئے کمیشن کا تصور72گھنٹے کے اندر ہوا میں تحلیل | گلاب خان | خبریں | 0 | 18-08-10 03:13 AM |
| اردو تصور میں پاک سائٹ کو کروں | wajee | تجاویز اور شکایات | 18 | 21-09-08 11:39 PM |
| قومی حکومت کا قیام ممکن ہے نہ آئین میں اس کا تصور ،ق لیگ | ابو کاشان | خبریں | 0 | 16-01-08 11:29 AM |
| 2 وزراء الیکشن لڑ رہے ہیں، عام انتخابات شفاف تصور نہیں ہونگے، عالمی مبصر | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-12-07 03:39 PM |