واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


اسلام میں مشترکہ خاندانی نظام کا تصور

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-06-09, 03:21 PM  
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اسلام میں مشترکہ خاندانی نظام کا تصور

مشترکہ خاندانی نظام اس نظام کو کہتے ہیں جس میں پورا خاندان جن میں دو یا تین فیملیز ایک چھت کے نیچے رہتے ہوں ۔ اس نظام کا سربراہ اس خاندان کا سب سے بزرگ شخص ہوتا ہے ۔ گھر کے تمام افراد سربراہ کی بات ماننے کے پابند ہوتے ہیں ۔

گھر میں ایک کچن ہوتا ہے جن میں گھر کی تمام خواتین مل کر کام کرتیں ہیں ۔ ایک لاؤنچ ہوتا ہے اس میں سب فیمیلیز کے لوگ ساتھ بیٹھتے ہیں اور تمام فیمیلیز کے لیے سونے کے کمرے علیحدہ ہوتے ہیں ۔

یہ نظام اسلامی تاریخ میں ہم کو کہیں نہیں ملتا ہے ۔ اس کی بنیاد ہندؤں کی تہذیب سے ملتی ہے ۔ اور پاک و ہند کے مسلمانوں نے اس نظام کو ہندؤ ں سے لیا اور اس کو اپنی یا اسلامی تہذیب سمجھ بیٹھے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام میں خاندان کا کیا تصور ہے

اسلام میں عورت کے لیے اس کے سسرالی رشتہ دار ، جیٹھ ، دیور، نندوی سے پردہ ہے

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے

دیور موت ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ جیٹھ اور دیور سے اس طرح بچنا چاہیے جس طرح موت سے ڈرا یا بچا جاتا ہے۔
جیٹھ اور دیور یا کسی اور نامحرم کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا صحیح نہیں ۔
ایک عورت کا اپنے گھر میں صبح سے رات تک چادر میں لپٹے رہنا کسی ظلم سے کم نہیں ۔

بیوی کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ذاتی زندگی یا پرائویسی کا خیال رکھا جائے جو مشترکہ خاندانی نظام میں ممکن نہیں ۔

کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بیٹے کو ماں باپ کے ساتھ رہنا چاہیے ۔ اسلام میں ماں باپ کے بہت حقوق ہیں
بے شک اسلام میں والدین کے بہت حقوق ہیں لیکن اسلام نے ہر معاملے میں توازن رکھا ہے

اسلام نے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کو کہا ان کی خدمت کو اولاد پر فرض کیا ۔ ان کے سامنے اُف تک کرنے کو منع فرمایا
لیکن کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ تم لوگوں کو اپنے والدین کے ساتھ رہنا ہے
صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کا گھر اپنے والدین سے الگ ہوتا تھا اور وہ اپنے والدین کے گھر جاکر ان کی خدمت کیا کرتے تھے ۔
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، جس کا مفہوم ہے
اپنی ماں کے گھر اجازت لے کر داخل ہو

اولاد کے اوپر فرض ہے کہ اپنے والدین کی ضروریات کا خیال رکھیں

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا مفہوم ہے

تمھاری اولاد کا مال تمھارا ہے

اس لیے اولاد کے مال کو ماں باپ اپنے مال کی طرح خرچ کرسکتے ہیں

جہاں تک بیوی کا تعلق ہے اس کا پہلا حق شوہر کے اوپر یہ ہے کہ شوہر اس کے ساتھ رہے ۔
بیوی کو ایسا گھر مہیا کرے جہاں وہ بے فکری کے ساتھ بے پردہ گھوم سکے ۔ اس کے گھر میں کوئی اس کی بغیر اجازت کے نہ آسکے ۔ یہاں تک کہ شوہر کے ماں باپ بھی۔
حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر آئی کہ
میرے شوہر کا معمول ہے کہ وہ دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے ۔ اور اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کرتا ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ اس کا شوہر تین دن اللہ کی عبادت کرسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر چوتھا دن اور رات اپنی بیوی کے لیے مختص
کرے ۔

اس سے ثابت ہوا کہ شوہر اور بیوی ایک الگ گھر میں ساتھ رہیں جو ماں باپ کے گھر سے قریب ہو تاکہ بیٹا جاکر اپنے ماں باپ کی خدمت کرسکے ۔

Last edited by سحر; 26-07-10 at 08:18 PM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
21 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (26-10-09), پاکستانی لڑکی (27-10-09), یاسر عمران مرزا (28-10-09), مہر (26-10-09), ملک بھائی (27-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), آبی ٹوکول (02-06-11), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (12-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (11-06-09), راشد احمد (14-06-09), رضی (11-06-09), شاہ جی 90 (13-06-09), علی....Ali (11-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 12-06-09, 01:06 PM   #16
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
اسلام و علیکم
سحر جی کیسی ہیں آپ
سب سے پہلا سوال کہ کیا آپ نجومی ہیں؟











کیونکہ مذکورہ موضوع پر میں تین دن سے لکھ رہا ہوں اور سوچا تھا کہ اتوار کے روز پاک نیٹ پر پوسٹ کر دوں گا
تاہم آپ کمال کر گئی اور آپ کی تحریر جاندار بھی ہے اور حقائق پر مبنی بھی مگر ہم لوگ اس سے نظر چرا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں اکثریت کی بات کی ہے
کیونکہ کہیں نہ کہیں ہم لوگ قصوروار ہوتے ہیں
ایک اچھےموضوع پر میری جانب سے مبارکباد اور درخواست ہے ام غزل جی سے کہ اس کو سرورق پر پیش کیا جائے شکریہ
آپ بھی لکھیں ، اس سے معلومات میں اضافہ ہوگا ۔ ہمارے ساتھ مسئلہ ہے ہمارے معاشرے میں جو رواج عام ہوتے ہیں چاہے وہ صحیح ہوں یا غلط یہ سوچے بغیر ہم
اس کو اپناتے بھی ہیں اور اس کے خلاف کو ئی بات سننا گوارہ بھی نہیں کرتے ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (12-06-09), ام غزل (13-06-09), احمد نذیر (06-06-11), رضی (13-06-09)
پرانا 12-06-09, 01:17 PM   #17
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری بات یا تو آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی یا سمجھنا چاہتے نہیں
والدین کی خدمت کرنے کے خلاف کوئی نہیں ہے ۔ اگر کسی کے والدین اتنے ضعیف اور بیمار ہیں کہ اکیلے نہیں رہ سکتے ۔ ان کو اگر بیٹا اپنے گھر میں رکھتا ہے اور خدمت کرتا ہے تو وہ مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں آتا ہے ۔ لیکن ہر گھر میں ایسا نہیں ہوتا ہے اکثر گھروں کا نظام والدین کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور شادی شدہ بیٹا اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ہے ۔ یہ اسلام کے اس قانون کی خلاف ورزی ہے کہ شوہر گھر کا سربراہ ہے
اور پھر کہوں گی کہ مشترکہ خاندانی نظام میں پردہ کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے ۔

ہمارے جاننے والوں میں شوہر نے اپنی بیوی سے پانچ سال اپنی ماں کی ذاتی خدمت کرائی اور جیسے ہی اس کی ماں کا انتقال ہوا اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے گھروں میں شوہر اپنی بیویوں کو اپنے ماں باپ کی ملازمہ سمجھتے ہیں ۔ اور اپنے ماں باپ کی خدمت کی غرض سے ہی شادی کرتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مہر (26-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (12-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), رضی (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 12-06-09, 02:11 PM   #18
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
[حج کے دوران مرد و خواتین مل کر عبادت کرتے ہیں اور بعض مواقوں پر جتنا رش ہوتا ہے اور جب نادانستگی میں حاجی آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اس کی بابت اسلام میں کیا حکم ہے ۔ کیا حضور پاک کے دور میں خواتین مساجد میں نماز ادا نہیں کرتی تھیں [/COLOR]

باقی باتوں‌کا جواب تو سحر جی دے رہی ہیں ،
یہاں‌ حج کا ذکر ہوا تو میرے ذہن میں‌ایک خیال آیا، سوچا ذکر کردوں شاید مفید ہو۔
ایک اصول ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنےکے حوالے سے، بالخصوص جب دینی تعلیمات کا مسئلہ ہو۔
ہم دین سمجھ کر جو کام کرتے ہیں‌یا جس کام سے باز رہتے ہیں اس کی بنیاد شریعت ہے۔ اللہ تعالی نے جو بھی احکامات دیئے ہیں ، بذریعہ قرآن کریم یا بذریعہ بنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم، وہ ہمارے لئے معیار اور کسوٹی ہیں۔
اگر ایک جگہ اللہ ایک کام کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس پر عمل کرنا فرض ہے ، اور دوسری جگہ اگر اسی کام سے روکا گیا ہے تو رکنا فرض ہے۔
مثال کے طور پر ، غیر اللہ کو سجدہ کرنا منع ہے، اگر کریں تو دائرہ اسلام سے خارج، لیکن اگر خود اللہ تعالی حکم دے دیں، فرشتوں سے کہیں کہ آدم کو سجدہ کرو، تو اب سجدہ کرنا فرض ہے۔ اگر نہ کیا تو ابلیس کہلائے۔

یہی حال یہاں‌ بھی ہے۔
مرد و زن کا اختلاط ممنوع ہے۔ لیکن حج کے موقع پر چونکہ شریعت کا حکم ہے کہ ایسا کرنا ہے تو وہاں ممنوع نہیں‌ ہے۔
ہم پابند شریعت ہیں۔
امید ہے کہ بات کسی حد تک واضح ہو چکی ہو گی۔

مزید تصحیح کے لئے اہل علم کی رہنمائی کا محتاج ہوں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رضی (13-06-09), سحر (13-06-09)
پرانا 13-06-09, 06:16 AM   #19
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پردے کے حوالے سے میں آپ کی بات مانتا ہوں ، میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے غیر اسلامی افعال رسوم و رواج کے نام سے پل رہے ہیں ۔ میں آپ کو ایک بات بتائوں ، کالج کے دور سے لے کر آج تک میری کسی سے بحث چھڑ جائے کسی بات پر تو میں دلائل ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے نکالتا کہ جن سے مقابل لا جواب ہو جاتا اور مجھے بہت مزا آتا تھا ، آہستہ آہستہ یہ میری عادت بنتی گئی اور جب میری بات نہ مانی جا رہی ہوتی تو مجھے ایسا لگتا کہ میری شکست ہو رہی ہے ، میں آج ایک مسئلے کی وجہ سے پچھلے 40 گھنٹوں سے جاگ رہا ہوں اور ابھی دور دور تک اگلے چوبیس گھنٹے بھی نیند لینے کا موقع ملتا نظر نہیں آتا ، اس صورت حال میں میرا ذہن اس جانب چل پڑا کہ تو ، جو اپنے آپ کو بہت Civilized سمجھتا ہے ۔ تو جو بڑا شاعر بنا پھرتا ہے ۔ اپنے تئیں گناہوں سے بچ کر بہت اتراتا پھرتا ہے ، اپنے اندر کے ایک ہٹ دھرم انسان کو تو مار نہیں‌سکتا ، اور بہت بہادر بنا پھرتا ہے ، شاید تحلیل نفسی اسی کو کہتے ہیں ۔ جی ہاں میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ کی تمام باتیں درست ہیں ، میں جو اتنی مخالفت کر رہا تھا تو صرف اور صرف اپنے اندر کے ہٹ دھرم انسان کو مطمعن کرنے کے لیے ۔ میں دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ جو کچھہ بھی آپ کا کہنا ہے وہی فطرت کے زیادہ قریب ہے ، کاش اللہ مجھے اتنی ہمت دے کہ میں اپنے گھر میں ان اصولوں کو رواج دے سکوں ۔ میرے حق میں دعا کیجئیے گا ۔ اللہ تعالی آپ کو بہت سی خوشیاں اور سکون کی دولت عطا فرمائے آمین
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (02-06-11), فاروق سرورخان (26-10-09), محمدعدنان (14-06-11), مرزا عامر (05-10-10), مسٹر شیف (16-06-11), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), راجہ اکرام (13-06-09), رضی (13-06-09), سحر (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 13-06-09, 06:28 AM   #20
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
۔ مجبوری میں آپ کا اپنی ساس کواُٹھاکر گاڑی میں لے جانا
اور بہو کا اپنے سسر کی ذاتی خدمت کرنا دو مختلف باتیں ہیں ۔

میں ذیادہ تفصیلات میں جانا نہیں چاہتی ۔ آپ بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آجکل گھروں میں کیا ہورہا ہے

اور جہاں تک پردے کی بات ہے ہمارے یہاں مشترکہ خاندانی نظام میں ایک عورت کا بڑوں کے سامنے اپنے شوہر سے ہنسی مذاق کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے
لیکن جیٹھ اور دیور سے ہنس ہنس کر بات کرنے کو کوئی برا نہیں سمجھتا

آپ نے حج کی بات کی وہاں پر بھی اگر غلطی سے ٹکڑ ہوتی ہے تو معاف ہے لیکن جان بوجھ کر نہیں
آپ حج کے معاملے کو قیاس کرکے عام دنوں میں خواتین سے ٹکراؤ کو جائز نہیں کہہ سکتے
حج ہم کو قیامت کی یاد دلاتا ہے جس دن ہم کو ہوش نہیں ہوگا کہ ہمارے آگے مرد چل رہا ہے یا عورت ۔
خواتین سے ٹکرائو سے تو نادانستگی میں بھی اللہ محفوظ رکھے کجا یہ کہ دانستہ ، ہماری لغت میں‌تو ناممکن ہے، ایسے بہت سے گھرانوں سے میں خود بھی واقف ہوں جہاں دیور یا جیٹھہ سے ہنس ہنس کر باتیں کی جاتی ہیں اور بعد میں جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہوتے ہیں ۔
ذاتی خدمت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھہ سمجھہ نہیں آئی ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ایک مریض کو دوا وقت پر کھلا دینا جب وہ بستر سے اٹھنے کے قابل نہ ہو کہیں یہ بھی ذاتی خدمت میں تو نہیں آ جاتا
یہ آخری جو سوال ہے یہ بحث برائے بحث نہیں بلکہ میں حقیقت میں جاننا چاہتا ہوں ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), راجہ اکرام (13-06-09), رضی (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 13-06-09, 07:09 AM   #21
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,775
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,001 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ نے ایسے گھرانے کا ذکر کیا تھا پہلے بھی جہاں زنانہ اور مردانہ حصہ الگ ہو تا ہے ۔ اور میاں بیوی بھی دن بھر آپس میں ملاقعات نہیں کرپاتے ہیں ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ صحیح ہے ۔ میرا تو ایمان ہے کہ ہماری نجات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے طریقے پر چلنے میں ہے ۔ جو نظام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نہیں تھا اور ہم نے کافروں سے لیا ہے اس میں کتنی ہی اچھائیاں ہوں ہمارے لیے بہتر نہیں ہو سکتا ہے
میں اسی جگہ آپ کو لانا چاہ رہا تھا
اقتباس:
والدین کی خدمت کرنے کے خلاف کوئی نہیں ہے ۔ اگر کسی کے والدین اتنے ضعیف اور بیمار ہیں کہ اکیلے نہیں رہ سکتے ۔ ان کو اگر بیٹا اپنے گھر میں رکھتا ہے اور خدمت کرتا ہے تو وہ مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں آتا
میں خود بھی والدین سے علیحدہ ہی رہا ہوں اور میری والدہ نے بھی آخر وقت تک " اپنے گھر " میں ہی رہنے کو فوقیت دی لیکن ان دنوں میں میری شدید خواہش یہی تھی کے ان کو اپنے گھر لے آؤں زیادہ سے زیادہ وقت ان کی خدمت کرسکوں
دوسرے میرا ذاتی خیال یہ ہے ک بوڑھے والدین کا سب سے اہم مسئلہ ان کی باتوں کو سنننا اور ان کو وقت دینا ہوتا ہے ہم میں سے اکثر لوگ والدین کی دوا دارو اور کھانے پینے کی ضروریات کا تو خوب خیال رکھتے ہیں لیکن آجکل کے مصروف دور میں وقت کی کمی سب کا ہی پرابلم ہے
ایک ہی گھر میں ہونے سے کم از کم کچھ وقت تو والدین کو مل ہی جاتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), منتظمین (14-06-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), راجہ اکرام (13-06-09), رضی (13-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 13-06-09, 09:07 AM   #22
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
خواتین سے ٹکرائو سے تو نادانستگی میں بھی اللہ محفوظ رکھے کجا یہ کہ دانستہ ، ہماری لغت میں‌تو ناممکن ہے، ایسے بہت سے گھرانوں سے میں خود بھی واقف ہوں جہاں دیور یا جیٹھہ سے ہنس ہنس کر باتیں کی جاتی ہیں اور بعد میں جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہوتے ہیں ۔
ذاتی خدمت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھہ سمجھہ نہیں آئی ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ایک مریض کو دوا وقت پر کھلا دینا جب وہ بستر سے اٹھنے کے قابل نہ ہو کہیں یہ بھی ذاتی خدمت میں تو نہیں آ جاتا
یہ آخری جو سوال ہے یہ بحث برائے بحث نہیں بلکہ میں حقیقت میں جاننا چاہتا ہوں ۔
ذاتی خدمت کا مطلب ہے ہر وہ کام کرنا جو انسان عام طور پر خود کرتا ہے ۔ بیماری یا ضعف کی وجہ سے باتھ روم نہ جاسکے اور کپڑے تپدیل کرانا اور نہلانا وغیرہ یہ سب کام اولاد پر تو فرض ہیں
اس لیے کہ والدین اپنی اولاد کے ان کے بچپن میں یہ سارے کام بڑے احسن طریقے سے کر چکے ہوتے ہیں
اور بہو سے ان کاموں کو کرانا اگر وہ نہ کرنا چاہتی ہو صحیح نہیں
لیکن اگر بہو خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتی ہے تو بھی صرف والدہ کے لیے یہ کام بہو کرسکتی ہے
آپ کو شائد یہ بات معلوم نہیں ہمارے یہاں بہت سے گھرانوں میں خدمت کے نام پر یہ کام سسر کے بھی بہو کرتی ہیں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (14-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 13-06-09, 09:15 AM   #23
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
میں اسی جگہ آپ کو لانا چاہ رہا تھا


میں خود بھی والدین سے علیحدہ ہی رہا ہوں اور میری والدہ نے بھی آخر وقت تک " اپنے گھر " میں ہی رہنے کو فوقیت دی لیکن ان دنوں میں میری شدید خواہش یہی تھی کے ان کو اپنے گھر لے آؤں زیادہ سے زیادہ وقت ان کی خدمت کرسکوں
دوسرے میرا ذاتی خیال یہ ہے ک بوڑھے والدین کا سب سے اہم مسئلہ ان کی باتوں کو سنننا اور ان کو وقت دینا ہوتا ہے ہم میں سے اکثر لوگ والدین کی دوا دارو اور کھانے پینے کی ضروریات کا تو خوب خیال رکھتے ہیں لیکن آجکل کے مصروف دور میں وقت کی کمی سب کا ہی پرابلم ہے
ایک ہی گھر میں ہونے سے کم از کم کچھ وقت تو والدین کو مل ہی جاتا ہے
آپ کی بات صحیح ہے کہ والدین کی اس خواہش کو کہ ان سے باتیں کی جائیں اولاد کو پورا کرنا ضروری ہے ۔ میں اگر الگ رہنے کی بات کرتی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین سے دور
گھر لیا جائے اور آنے جانے میں ہی وقت نکل جائے
آپ کا گھر اپنے والدین کے گھر کے برابر میں ہو اور یا اوپر نیچے ہو اس کو الگ گھر تصور کیا جائے گا ۔
بس بیوی کی پرائیویسی کا اور اس کے پردہ کا خیال رکھا جائے۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (13-06-09), ام غزل (13-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (14-06-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 14-06-09, 05:00 AM   #24
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
ذاتی خدمت کا مطلب ہے ہر وہ کام کرنا جو انسان عام طور پر خود کرتا ہے ۔ بیماری یا ضعف کی وجہ سے باتھ روم نہ جاسکے اور کپڑے تپدیل کرانا اور نہلانا وغیرہ یہ سب کام اولاد پر تو فرض ہیں
اس لیے کہ والدین اپنی اولاد کے ان کے بچپن میں یہ سارے کام بڑے احسن طریقے سے کر چکے ہوتے ہیں
اور بہو سے ان کاموں کو کرانا اگر وہ نہ کرنا چاہتی ہو صحیح نہیں
لیکن اگر بہو خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتی ہے تو بھی صرف والدہ کے لیے یہ کام بہو کرسکتی ہے
آپ کو شائد یہ بات معلوم نہیں ہمارے یہاں بہت سے گھرانوں میں خدمت کے نام پر یہ کام سسر کے بھی بہو کرتی ہیں ۔
اگر سسر کے بھی یہی کام بہو کو کرنے پڑیں تو شوہر کے لیے تو مر جانے کا مقام ہے لیکن ان کے لیے جو احساس رکھتے ہوں
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (14-06-09), ام غزل (14-06-09), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), سحر (26-10-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 26-10-09, 08:13 AM   #25
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 6
کمائي: 338
شکریہ: 42
5 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے بالکل ٹھیک کہا سحر۔یہ ہندوؤں کے ساتھ رہنے سے ہم میں بھی رواج آیا ہے۔اور یہاں بھی بہو سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ آ کر سارا کام سنبھالے،ساس سسر،دیور نند کی خدمت کرے۔اور جو نہ کرے یا کام نہ آئے تو اس کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔یہ 98 فیصد گھروں میں ہوتا ہے جہاں مشترکہ نظام ہے۔اس کی وجہ لاعلمی بھی ہے اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ اسلام میں تو مشترکہ نظام کا تصور نہیں ہے۔
مہر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مہر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ابوسعد (08-06-11), احمد نذیر (06-06-11), سحر (26-10-09), شاہ جی 90 (03-11-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 26-10-09, 09:09 AM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چونکہ بنیادی تصور اسلام میں‌یہی ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو اپنے الگ گھر میں رکھے گا۔ لہذا قرآن حکیم کی آیات بھی اسی تناظر میں دیکھی جاتی ہیں۔

بغور دیکھئے کہ اگر ایک ہی گھر میں‌سب لوگوں‌کے رہنے کا رواج ہوتا یا اللہ تعالی کی منشاء ہوتی تو کسی شخص وفات کی صورت میں اس کے اثاثہ تقسیم کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اثاثوں کی تقسیم سے مقصد ہے کہ لوگ آزادانہ اپنے طور پر اپنے حصے کا استعمال کریں۔ اس میں‌ناسمجھوں یعنی جو لوگ بالغ نہیں‌ہوئے ہیں ان کو اپنے ساتھ رکھنے میں‌ کوئی قباحت نہیں ۔

دیکھئے کہ ناسمجھوں‌کے سپرد ان کا مال نہ کئے جانے کی ہدایت۔:
4:5 وَلاَ تُؤْتُواْ السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ قِيَاماً وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُواْ لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوفًا
اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو

اب دیکھئے کہ جب وہ سمجھدار ہوگئے اور نکاح کی عمر کو پہنچ گئے تو ان کا مال ان کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ اپنے طور پر رہ سکیں۔

4:6 وَابْتَلُواْ الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُواْ النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُواْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُواْ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُواْ عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللّهِ حَسِيبًا
اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے

مشترکہ خاندان سے الگ مرد و عورت دونوں کو ہونا چاہئیے، یہ اس بات سے ظاہر ہے کہ مردوں اور عورتوں‌دونوں کا اس مال میں‌سے حصہ ہے جو ایک مرنے والا چھوڑ جائے۔
4:7 لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا
مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے

اسی نظریہ کو آپ طلاق کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں کہ جس عورت کو طلاق دی جائے اس عورت کو اس کے گھر سے نکالا نہ جائے۔ یہاں چونکہ مالو دولت و جائیداد جانے کا معاملہ ہے ، اس لئے کچھ فرقوں کا اس پر زبردست اختلاف ہے۔ اس اختلاف کو ایک طرف کرکے دیکھئے تو صاف نطر آتا ہے کہ ایک طلاق یافتہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالا جائے۔ کب تک ، اس پر مکتلف آراء‌ہیں۔ اب اگر اس عورت کا کوئی گھر ہی نہیں‌تو پھر اس کو رکھنے نکالنے کی صورت حال ہی پیدا نہیں ہوتی ۔۔ لہذا اس نکتہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کر کے ایک عورت کو الگ گھر میں رکھا جائے تاکہ طلاق کی صورت میں وہ اس گھر میں‌رہ سکے۔ چاہے وہ مدت اس کی عدت کی ہو یا آپسی رضامندی یا عدالت کے فیصلہ سے تا حیات ہو۔

65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے

مزید یہ واضح حکم دیکھئے:
65:6 أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى
رکھو تم ان عورتوں کو اسی جگہ جہان تم خود رہتے ہو جیسی جگہ تمھیں میسر ہو اور نہ ستاؤ تم تنگ کرنے کے لیے انھیں۔ اور اگر ہوں وہ حاملہ تو خرچ کرتے رہو تم ان پر یہاں تک کہ ان کے ہاں بچہ ہو جائے۔ پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمھارے لیے (بچے کو) تو دو تم انھیں ان کی اجرت۔ اور (اجرت کا) معاملہ طے کرو مشورے سے آپس میں بھلے طریقے سے اور اگر تم نے ایک دوسرے کو تنگ کیا تو دودھ پلائے اس کی خاطر دوسری عورت۔


ان آیات سے مختصراً یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شادی شدہ جوڑے کو ایک الگ گھر میں‌ رہنا چاہئیے۔ اس سلسلے میں روایات پہلے پیش کی جاچکی ہیں۔ قرآن حکیم سے حوالہ جات حاضر ہیں۔ چونکہ ایک الگ گھر یا جائیداد کافی اہمیت رکھتا ہے اس لئے بہت سے فرقہ عورت کے اس حق کو تسلیم نہیں‌کرتے لیکن اگر آپ عورت کو اس کے گھر سے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے تو وہ کبھی بھی اپنے خاندان کی تربیت نہیں کرسکے گی۔ ماں‌کی تربیت کے بغیر خاندانوں سے بننے والی قوم مناسب تربیت یافتہ نہیں ہوسکتی ۔ لہذا ایک عورت کو اس کے خاندان کے لئے گھر کی فراہمی نہ صرف ایک مرد کی ذمہ داری ہے بلکہ اسلامی معاشرہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ مرد کو اس ذمہ داری کے پورا کرنے میں مدد کرے

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 26-10-09 at 09:40 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), شاہ جی 90 (03-11-09)
پرانا 26-10-09, 02:48 PM   #27
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی
ان آیات سے مشترکہ خاندانی نظام کی ممانعت یا مخالفت کا حکم کیسے مستنبط کیا گیا ہے۔۔ اگر تھوڑی وضاحت فرما دیں تو ہمارے لئے بھی بہتر ہوگا۔۔
اثاثوں کی تقسیم سے یہ حکم اخذ کرنا مجھے تو سمجھ نہیں آیا۔۔ اثاثے تو میاں اور بیوی کے بھی الگ الگ ہوتے ہیں تو ان کو بھی الگ الگ گھر میں رکھا جائے؟؟؟
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), ھارون اعظم (04-11-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), شاہ جی 90 (03-11-09)
پرانا 26-10-09, 08:49 PM   #28
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میاں بیوی کے اثاثے مشترکہ اثاثے شمار کئے جاتے ہیں۔ اثاثوں کی تقسیم بنیاد ہے مشترکہ گھر کی تقسیم کی۔ ایک مشترکہ گھر کے تصور میں اثاثوں کی تقسیم کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اگر سب نے ایک ہی جگہ سے کھانا پینا ہے تو پھر اثاثوں کی تقسیم کے کیا معانی ہوئے؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), شاہ جی 90 (03-11-09)
پرانا 26-10-09, 10:30 PM   #29
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ نے تین سوال کیے ہیں
پہلے سوال کا جواب ۔ اگر والدین ضعیف ہوں اور ان کو رانڈ دا کلاک دیکھ بھال کی ضرورت ہو تو کیا مشترکہ خاندانی نظام اس مسئلے کا حل ہے ۔ مشترکہ خاندانی نظام میں والدین کی خدمت بیٹا نہیں بہو کرتی ہے ۔ اور اسلام میں والدین کی خدمت کی ذمہ داری اولاد پر ہے
اگر کوئی شخص والدین کی خدمت کرنا چاہتا تو وہ الگ رہ کر بھی کر سکتا ہے ۔ اس کا گھر ماں باپ کے گھر کے برابر بھی ہو سکتا ہے اور اوپر نیچے بھی ،
اگر ایسا شخص جو اپنی ملازمت کی وجہ سے والدین کی خدمت نہیں کرسکتا اس کو والدین کے لیے کل وقتی ملازم رکھنا چاہیے
وہ اپنی بیوی کو اپنے والدہ کی خدمت کے لیے ذبردستی نہیں کرسکتا ہے ۔ ہاں اگر بیوی اپنی مرضی سے اپنی خدمات پیش کرے تو الگ بات ہے یہ بھی صرف والدہ
کے لیے ۔ والد کے لیے اپنی بیوی سے ذاتی خدمت لینا کسی صورت بھی صحیح نہیں کیوں کہ یہاں پردہ کا معاملہ آجائے گا۔

2 پردہ تمام نامحرم کے لیے یکساں ہے یعنی سر سے لے کر پاؤں تک ۔ اس میں گھر کے اندر اور باہر میں کوئی فرق نہیں
صرف چہرہ اور کلائی تک ہاتھ نظر آسکتے ہیں ۔
3 مجبوری سے آپ کی کیا مراد ذرا وضاحت کردیں ۔
سحرصاحبہ سسرتومحرم ہوتاہے ہاں ذاتی خدمت توبہوسےنہیں کرانی چاہیےآپکی اس بات سے میں متفق ہوں
سام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), شاہ جی 90 (03-11-09), عامرشہزاد (27-10-09)
پرانا 26-10-09, 11:00 PM   #30
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,673
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
سحرصاحبہ سسرتومحرم ہوتاہے ہاں ذاتی خدمت توبہوسےنہیں کرانی چاہیےآپکی اس بات سے میں متفق ہوں
میں نے صرف پردہ کی بات کی تھی ، سسر سے پردہ کی بات نہیں کی تھی ۔
آپ کی بات درست ہے کہ سسر محرم ہوتے ہیں جیسے باپ ہوتے ہیں ۔
میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ کیا محرم مردوں سے جیسے بھائی یا باپ سے پردہ نہیں ہوتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-09), مرزا عامر (05-10-10), احمد نذیر (06-06-11), شاہ جی 90 (03-11-09)
جواب

Tags
فرض, پاک, لوگ, نظر, موت, ممکن, ماں, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, جواب, حسن, خواتین, خلاف, روزہ, رات, زندگی, شخص, عورت, عبادت, صبح, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیلاب زدگان کیلئے کمیشن کا تصور72گھنٹے کے اندر ہوا میں تحلیل گلاب خان خبریں 0 18-08-10 03:13 AM
اردو تصور میں پاک سائٹ کو کروں wajee تجاویز اور شکایات 18 21-09-08 11:39 PM
قومی حکومت کا قیام ممکن ہے نہ آئین میں اس کا تصور ،ق لیگ ابو کاشان خبریں 0 16-01-08 11:29 AM
2 وزراء الیکشن لڑ رہے ہیں، عام انتخابات شفاف تصور نہیں ہونگے، عالمی مبصر عبدالقدوس خبریں 0 17-12-07 03:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger