![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدقسمتی سے پاکستان کے خلاف لن ترانیاں اور ہرزہ سرائی امریکی انتظامیہ کا معمول بنتا جارہا ہے،آئے روز امریکی پٹاری سے پاکستان کے خلاف ایک نیا الزام برآمد ہوتا ہے، نیا راگ الاپا جاتا ہے اور ایک نیا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ،جس سے ہر محب وطن پاکستانی کیلئے تشویش و پریشانی کے ایسے نئے دروازے کھل جاتے ہیں جن سے آنے والی خطرناک ہوائیں اندیشوں اور واہموں کو حقیقت کا روپ دے کرآنے والی تباہی و بربادی کا پیغام سنارہی ہوتی ہیں،نائن الیون کے بعد سے امریکی انتظامیہ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور الزامات کا سلسلہ بڑی شدت سے جاری ہے اور روز کوئی نہ کوئی امریکی عہدیدار پاکستان کے خلاف الزام تراشی میں مصروف دکھائی دیتا ہے ،گزشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک بھارتی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی امریکی رویئے اور پالیسی کا اعادہ کیا اور پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے ذمہ دارپاکستان میں موجودہیں،اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ،،ہم جانتے ہیں کہ نائن الیون اور ممبئی حملوں جیسے واقعات کے ذمہ دار پاکستان میں موجود ہیں، پاکستان میں موجود القاعدہ قیادت اور طالبان نہ صرف امریکہ اور بھارت بلکہ خود پاکستان کیلئے بھی شدید خطرہ ہیں، ساتھ ہی انہوں نے بھارت امریکہ تعلقات کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کا انحصار پاکستان سے تعلقات پر نہیں ہے۔،،اگرچہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان پر لگایا گیا الزام کوئی نیا نہیں ہے اور نہ ہی ایسا پہلی بار ہوا ہے ، امریکہ اس سے قبل بھی افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے،لیکن موجودہ صورتحال میں یہ سوال بے انتہا توجہ کا حامل ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پھر پور آپریشن اور اس حوالے سے واضح کامیابیوں کے باوجود امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان کے بارے میں اس طرح کے اظہار خیال کا آخر کیا مطلب اور مقصد ہے ؟،کیا امریکہ کو معلوم نہیں کہ اس کی نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے کتنا اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے اور داخلی سطح پر کس قدر نقصان برداشت کیا ہے ،گو کہ ہمارے دفتر خارجہ کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کی مناسب اور بروقت تردید کردی گئی ہے اورپاکستان پر لگائے گئے الزام کو بھی یکسر مسترد کردیا ہے ،تاہم ارباب اقتدار کو اس بات کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے کہ آیا ہیلری کلنٹن کے اس بیان کا مقصد بھارتی حکومت اور حکام کو خوش کرکے اپنے دورے کو کامیاب بنانا ہے یا اس سے امریکہ کی پاکستان کے بارے میں مستقبل کے حوالے سے کسی نئی پالیسی کو واضح کرنا ہے،بہر حال اس بات کا فیصلہ توآنے والا وقت کرے گا، لیکن یہاں ایک بات بالکل واضح ہوکر سامنے آئی ہے کہ ہیلری کلنٹن نے بھارت میں بیٹھ کرپاکستان کے بارے میں جن خطرناک عزائم کا اظہار کیا ہے اس کا صاف اور واضح مطلب اس کے سوا کچھ اور نہیں نکلتا کہ امریکہ افغانستان کے بجائے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔گو کہ امریکی وزیر خارجہ کی اس لن ترانی کے جواب میں ترجمان دفترخارجہ پاکستان عبدالباسط نے ہیلری کلنٹن کے اس بیان کومسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور امریکی وزیر خارجہ کی ہرزہ سرائی پر مبنی قرار دیا ہے،دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ نائن الیون کے ذمہ داروں کے ٹھکانوں کاعلم ہمیں بھی ہو،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں کے ذمہ دار ان کے ٹھکانوں کا علم دنیا کی کسی حکومت کو نہیں ہے،لیکن اس کے باوجود ان کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں دعوے کئے جاتے ہیں جو کہ بلاجواز ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجود رپورٹس کے مطابق نائن الیون کے ذمہ داران افغانستان میں موجودہیں ،جہاں امریکہ اورنیٹو فورسز موجودہیں،انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار حکومت محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کسی علاقے میں کارروائی نہیں کر سکتی۔ہیلری کلنٹن کے اس منافقانہ بیان پردفتر خارجہ کاردعمل عین عوامی توقعات پرمبنی ہے، لیکن پاکستان کو صرف وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے امریکی الزام تراشی کی تردید پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہیلری کلنٹن کے اس منافقانہ بیان کی کھلی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان کوسخت جواب دینے کی ضرورت ہے اور حکومت کو امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کرنا چاہیے کہ اگر نائن الیون کے حملوں کے حوالے سے اس کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ ان حملوں کے ذمہ دار پاکستان میں موجود ہیں تو وہ اس موقف کے حق میں ثبوت اور شواہد پیش کرے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف کاروائی کا جواز پیدا کیا جاسکے،اس کے برعکس بھارت کی سرزمین سے ایسی بیان بازی کے ذریعے اپنے حق میں سیاسی فضا ہموار کرنے کی کوشش کو ہر گز مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا،ان حالات میں اس قسم کی بیان بازی کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی نہیں بلکہ اصل ہدف ہے ،لہٰذا وقت اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں ہمیں اپنا مزیدنقصان کرنے سے بہتر ہے کہ امریکہ کوٹکاساجواب دے دیاجائے،آج دنیاکویہ باورکرانے کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات خود امریکہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے واقعہ کی حقیقت ساری دنیا پر آشکارہ ہوچکی ہے اور اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کی ذمہ دار خود امریکی سی آئی اے اور صہیوبی لابی ہے،جس کا ثبوت وہ تحقیقاتی اور تجزیاتی رپورٹس ہیں جو امریکی جھوٹ اور پروپیگنڈے کی قلعی کھول رہی ہیں،آج امریکہ،فرانس اور یورپ کے کئی ماہرین ہی نہیں بلکہ جاپان کے ایک سینیٹر تک اپنی تحقیقات سے یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ نائن الیون ایک ایسا ڈرامہ ہے جس کو امریکی انتظامیہ اور اس کی خفیہ ایجنسیوں نے اسٹیج کیا تھا،اب تو یہ اطلاعات بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ نائن الیون کے واقعہ سے قبل ٹوئین ٹاور میں کام کرنے والے یہودیوں کو گیارہ ستمبر کی صبح اپنے دفاتر اور کاروباری مراکز میں آنے سے روک دیا گیا تھا جبکہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود بارک نے واقعہ کے فوری بعد القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیا تھا، حالانکہ اس وقت تک امریکی حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا تھا کہ واقعہ کی نوعیت کیا ہے اور جہاز کیسے اور کہاں سے اغوا ہوئے تھے۔لیکن ان حقائق کے باوجودامریکہ نے یہودی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس حادثے کا الزام اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر عائد کیا، مگراس نے کسی بھی غیر جانبدار عالمی فورم پر اس حوالے سے قابل اعتبار حقائق اور ثبوت پیش نہیں کئے ،یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب ملا عمر اور طالبان نے امریکہ سے ثبوت طلب کئے اور اسامہ بن لادن کیخلاف کسی بھی غیر جانبدار ملک میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تو امریکہ نے اس معقول بات کو تسلیم کرنے کے بجائے ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ملک افغانستان پر حملہ کر دیا اور آج تک افغانستان کو تباہ و برباد کرنے اور دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے سوا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا،حد تو یہ ہے کہ ساڑھے آٹھ سالہ جنگ میں نہ تو اسامہ بن لادن اور دیگر القاعدہ قائدین کی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ دوسری اور تیسری صف کے گرفتار لیڈروں اور کارکنوں کیخلاف کسی غیر جانبدار عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ،جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ القاعدہ یا طالبان میں سے کوئی نائن الیون کے واقعات میں ملوث تھا ، ساڑھے آٹھ سالہ جنگ اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکہ افغانستان پرنہ تو اپنا قبضہ مکمل کر سکا ہے اور نہ ہی طالبان اور القاعدہ کے لیڈروں کیخلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت سامنے لاسکا ہے،سب سے زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ تمام تر جدید ٹیکنالوجی اور وسائل سے لیس ہونے کے باوجودامریکہ کے انٹیلی جنس ادارے آج تک القاعدہ اور طالبان لیڈرشپ کی کسی مخصوص علاقے میں موجودگی کی نشاندہی بھی نہیں کرسکے، لیکن اس ناکامی کے باوجود امریکہ کے پاکستان کے قبائلی علاقوں ڈرون حملے جاری ہیں ، سو سے زائد ڈرون حملوں میں اب تک لاتعداد معصوم بچے،خواتین،بوڑھے اور غیر مسلح شہری شہید ہوچکے ہیں، جبکہ خود امریکی ادارے تسلیم کر چکے ہیں کہ ان حملوں سے کل 9 القاعدہ کارکن نشانہ بنے اور سات سو سے زائد عام اور معصوم شہری جاں بحق ہوئے،اسکے باوجود امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی طرف سے نائن الیون کے ذمہ دار افراد کی پاکستان میں موجودگی کا شوشہ ایک طرف جہاں افغانستان میں امریکی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، وہیں یہ پاکستان کیخلاف کسی نئی امریکی حکمت عملی کا پیش خیمہ بھی معلوم ہوتاہے، یہاں ہیلری کلنٹن چند روز قبل دیا گیا وہ بیان کہ ،، لوگ پوچھتے ہیں جب القاعدہ قیادت پاکستان میں چھپی ہوئی ہے تو امریکی فوج افغانستان میں کیا کر رہی ہے،،انتہائی توجہ کا حامل اور امریکہ کے خفیہ ارادوں کو صاف ظاہر کررہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہمیشہ امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کیلئے سوہان روح بنے رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں طالبان کی ایٹمی اثاثوں تک رسائی کا جو منفی پروپیگنڈا امریکہ بھارت اور اسرائیل کی طرف سے اچھالا گیا وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے،لہٰذا موجودہ حالات میں ہیلری کلنٹن کے بے بنیاد الزامات کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور حکومت کی طرف اس کا مدلل اور مسکت جواب آنا چاہئے ،ساتھ ہی حکومت کو ہیلری کلنٹن کے بیان کو غیر دوستانہ بلکہ مخاصمانہ قرار دیکر امریکہ سے باضابطہ احتجاج بھی کرنا چاہئے،کیونکہ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ یہ پاکستان کیخلاف ممکنہ امریکی کارروائی اور پاکستان کا گھیرا تنگ کرنے کی امریکی بھارتی اور اسرائیلی شیطانی اتحاد ثلاثہ کی نئی مذموم منصوبہ بندی نہ ہو، جس سے پاکستان کی حکومت،فوج اور عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے ہیلری کلنٹن نے بھارت میں جو بیان دیا ہے کہ،، ان کے ذمہ داران کوپاکستان انصاف کے کٹہرے تک لائے ،،کے سیاق و سباق پر ارباب اقتدار کیلئے غور فکر کے کئی پہلو موجود ہیں ، اس بیان سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کرپاکستان کے خلاف نیاگیم پلان ترتیب دے رہاہے۔ اگر امریکہ کے پاس نائن الیون کے ذمہ داروں کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے سفارتی ذرائع سے پیش کرے، بھارت میں بیٹھ کر بیان بازی کا مطلب تو یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ صرف اور صرف بھارتی حکمرانوں کو خوش کرنا چاہتی ہیں،آخر یہ دوستی کا کون سا انداز ہے اور ہم امریکہ کی اس ،،دوستی،، کا صلہ کب تک اپنے ہی علاقوں میں فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کو برداشت کرکے چکا تے رہیں گے،امریکی وزیرخارجہ کی اس ہرزہ سرائی سے ایک بات توثابت ہوگئی کہ ہم جن کی دوستی کا دم بھر رہے تھے ،وہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں، نائن الیون کے بعد پاکستان نے ہر اعتبار سے امریکہ کے ہراول دستے کاکرداراداکیااور امریکہ کے اعتماد پرپورا اترنے کی کوشش کی،لیکن اس حقیقت کے باوجود امریکی حلقوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے فوراً بعد ہی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کردیا تھا،اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان کے خلاف اس بے بنیاد الزام تراشی کا اعادہ جاری ہے اور اب ساڑھے آٹھ سال گزرنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے بھارت کی سرزمین سے جو بیان جاری کیا ہے، اس سے امریکہ کی طرف سے پاکستان مخاصمت کھل کر ایک مسلمہ امر کی صورت میں سامنے آگئی ہے ،جہاں ایک طرف امریکی وزیر خارجہ کا موجودہ بیان سفارتی آداب اور تقاضوں کے خلاف ہے وہیں دوسری طرف امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کایہ بیان کہ،، افغانستان میں امریکہ کو شدید مشکلات کا سامناہے ، امریکی فوج اور عوام تھک چکے ہیں، یہ جنگ ایک سال میں نہیں جیتی جاسکتی،، افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کھلی ناکامی پر دلالت کرتا ہے،اس کے باوجود امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے بھارت کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور مضحکہ خیز الزام تراشی کا ہر گز کوئی جواز نہیں ،امریکہ کی طرف سے افغانستان میں اپنی پالیسی کی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا مقصد اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ہیلری کلنٹن کے بیان سے واضح ہے کہ بھارت کے ساتھ امریکہ کاجوہری معاہدہ ہو یاممبئی حملوں کاالزام بھارت ہربات امریکہ سے منواکر پاکستان کوخطے میں تنہاکرنے پرتلاہواہے، نائن الیون کے بعد جس طرح افغانستان پرامریکی یلغارہوئی سنجیدہ حلقوں نے اسی وقت کہہ دیاتھا کہ یہ جنگ پاکستان کواپنی لپیٹ میں لے کررہے گی اور امریکہ القاعدہ کی لیڈر شب کی وزیر ستان یا دیگر قبائلی علاقوں میں موجودگی کا بہانہ کرکے پاکستان کواس جنگ میں کلی طورپر ملوث کردیگا،آج یہی کچھ ہورہاہے، امریکہ اور مغربی ممالک پاکستان پردباو ڈال رہے ہیں کہ القاعدہ اورطالبان لیڈرشپ پاکستان میں موجود ہے، جس کیلئے پاکستان کوموردالزام ٹھہرایا جارہاہے،حالات و قرائن کہہ رہے ہیں امریکہ کااگلا تقاضا یہ ہوگا کہ پاکستانی فوج ان علاقوں میں آپریشن کرے تاکہ پاکستانی مسلح افواج جوجرات اوربہادری میں ساری دنیا کی افواج سے بہتر ہیں،اسے کمزورکرکے پاکستان کو کمزور اور خاکم بدہن بھارت و اسرائیل کیلئے ترنوالہ بنایا جاسکے ، بظاہر امریکی وزیرخارجہ کا حالیہ دورہ بھارت معمول کادورہ نظر آرہاہے، لیکن درحقیقت ہیلری کلنٹن کا پاکستان مخالف بیان بدلتی ہوئی رتوں اور موسموں کی خبر دے رہاہے۔
سوچتا ہوں یہ تیرے قدموں کی آہٹ ہے مگر دل یہ کہتا ہے کوئی سانحہ ہونے کو ہے
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (04-08-09) |
![]() |
| Tags |
| فورم, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیراعظم, لوگ, چینل, مکمل, منصوبہ, معلوم, آپریشن, الزام, انتظامیہ, امریکہ, احتجاج, اسلامی, اغوا, جھوٹ, جواب, خوش, خلاف, خبر, طالبان, عدالت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی غازی کے بعد امریکی غازی (طنزیہ) جارڈ لونر | فاروق سرورخان | خبریں | 0 | 13-01-11 06:53 AM |
| کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال | گوہر | گپ شپ | 3 | 30-05-10 10:36 AM |
| انٹر نیٹ پر جعل سازی سے بچاؤ کے لئے سافٹ ویئرتیار کر لیا گیا | champion_pakistani | خبریں | 0 | 18-07-08 11:00 AM |
| انٹرنیٹ پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے | Real_Light | کمپیوٹر کی باتیں | 2 | 17-06-08 03:02 PM |
| مہمان نوازی اور دستر خوان سجانے کا طریقہ | Real_Light | باورچی خانہ | 2 | 02-06-08 01:35 PM |