|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں یہ پوسٹس افسوس ناک دوغلا پن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسی صحافت ہے؟ میں بھی کر چکا ہوں لیکن محسوس کرتا ہوں کہ اس کو علحدہ سے ٹاپک کی صورت میں بھی دے دوں۔
آج پاکستان میں ہر طرف کنفیوژن ہے۔ ہم کو نہیں معلوم کہ کون ہمارا مخلص ہے اور کون دشمن۔ایک دن ہم کسی کو مخلص کہہ رہے ہونتے ہیں اور دوسرے دن کسی اور کام پر اس کو غدار ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں سے لے کر میڈیا تک ،اور میڈیا سے لے کر ہماری اپنی زندگیوں تک ہم من حیث القوم اسی کنفیوژن کا ژکار ہیں کہ کون مخلص اور کون دشمن۔ آج کا میڈیا پاکستان کے معاشرے میں مثبت کردار بھی ادا کر رہا ہے اور منفی بھی۔ سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا کس حد تک مثبت کردار ادا کرتا ہے اور کس حد تک منفی۔ اور منفی کردار ادا کرنے کے پیچھے کیا اغراض و مقاصد ہو سکتے ہیں۔ یہی جیو تھا جس نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے لمبی اور جان فشان تحریک "عدلیہ آزادی تحریک" کی خاطر قربانیاں دیں۔اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ جیو کی وجہ سے ہی ہماری قوم کو اس تحریک سے آگاہی ملی اور ہم نے اس کی مدد کی۔ اسی طرح جیو اور دیگر چینلز نے حکمرانوں یا طبقہ اشرافیہ کی کالی بھیڑوں اور انکے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مشرف کا چک شہزاد کا فارم ہاوس ہو یا، فرح ڈوگر کیس، با اثر شخصیات کی طرف سے بجلی چوری ہو یا وڈیرے کی طرف سے کسی غریب پر ظلم کا معاملہ ۔۔۔۔میڈیا نے ہمشی حتی المکان حق کا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے ہم اس سے انکار بھی نہیں کر سکتے کہ میڈیا کے آنے کے بعد کئی اعتبار سے معاشرے میں بہتری آئی ہے۔ اور جس وقت میڈیا کالی بھیڑوں کو بے نقاب کر رہا ہوتا تھا تب بھی میڈیا پر اعتراضات اٹھتے تھے کہ میڈیا معاشرے میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن یہ تصویر کا محض ایک رخ ہے۔ میڈیا اس کے ساتھ ساتھ اپنا ایک اور روپ بھی رکھتا ہے۔ جو میڈیا کے مندرجہ بالا کردار کے سامنے ہونے کی وجہ سے چھپا ہوا ہے اور اس پر انگلیاں اس شدت سے نہیں اٹھتیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا کئی نا معلوم وجوہات اور چند معلوم وجوہات کی بنا پر پاکستان میں طاقت کا ایک اور ستون بن گیا ہے۔ اب میڈیا اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ کہ کسی بھی حکومت کو چیلنج کر سکتا ہے۔طاقتور مشرف کے زوال میں اس کے اپنے کرتوتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی اہک کردار ہے۔میڈیا کا یہ کردار مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ منفی اس وقت تک کہ جب تک میڈیا پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ پاکستانی عوام میں اپنے سیاستدانوں،افواج و دیگر اداروں کے خلاف اس قدر بد اعتمادی ہے کہ میڈیا پر نشر ہونے والی کسی بھی خبر پر من و عن ایمان لے آتے ہیں۔خواہ وہ خبر جھوٹی ہو یا سچی۔ اس طرح میڈیا کی طرف سے کردار کشی کا خطرہ یا اپنے من پسند افراد کو آگے لانے کا خطرہ اب سر پر موجود ہے۔ آج پیپلز پارٹی بھی اپنی کارناموں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی نا پاسندیدہ لسٹ میں ہونے کی وجہ سے عوام میں اپنا گراف گراتی جا رہی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ نون اپنے گنتی کے اچھے کاموں اور اس بڑھ کر میڈیا کی گڈ بک میں ہونے کی وجہ سے پاپولر ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں دی جا سکتی ہے کہ عدلیہ بحالی مہم میں پاکستان تحریک انصاف/عمران خان کا کردار اور جماعت اسلامی کا کاردار سامنے کی بات ہے۔کہ ان لوگوں نے غیر مشروط طور پر اس تحریک کی حمایت کی تھی اور اس کی خاطر 2 سال سے زائد Struggleکی۔ لانگ مارچ والے دن لاہور ہاکورٹ کے باہر محض درجنوں افراد تھے چیف جسٹس کو بحال کروانے کے لیے۔لانگ مارچ والے دن جب نواز شریف صاحب نہ جانے کس چیز کی انتظار میں گھر سے باہر آتے اور پھر واپس چلے جاتے تھے۔ اس وقت پہلا پتھر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے ہی پھینکا تھا جب جماعت کے دفتر منصورہ سے ہزاروں افراد کا جلوس ہایئکورٹ کی طرف تمام تر رکاوٹیں توڑتا ہو چلا گیا۔اور اس کے بعد ہی نواز شریف صاحب کا جلوس روانہ ہو سکا۔ لیکن میڈیا نے تمام تر ان کہے الفاظ میں نواز شریف کو دیا، تو میرا مقصد کہنے کا یہ ہے کہ میڈیا اب اس طاقتور پوزیشن میں آ گیا ہے کہ اس کی حالت ایک ایٹم بم کی سی ہو گئی ہے۔کہ جیسے بندے کے ہاتھ میں ہو گا ویسا ہی استعمال کرے گا۔ لیکن اس کردار سے بڑھ کر ایک اور خوفناک کردار جو میڈیا اور خاص طور سے جیو نیٹ ورک، آج ٹیلی وژن، اے آر وائی اور دیگر انٹرتٰنمنت چینلز ادا کر رہے ہیں وہ ہے معاشرے مییں مغربی طرز کی تبدیلیاں لانا۔ نیم عریاں ڈانس، لڑکا لڑکی کا حد سے زیادہ قریب آ جانا اور بسا اوقات یک دوسرے کے گلے لگنا، اصل موضوعات پر بات کرنے کے بجائے محض عشق محبت کی باتیں کرنا، لاڑکا لڑکی کو تنہا ملنے پر اکسانا (ڈیٹنگ)،ذومعنی الفاظ اور باتیں اور بہت کچھ ہمارے معاشرے میں انتہائی تباہ کن اثرات ڈال رہے ہیں۔ یہ میڈیا کے اثرات ہی ہیں کہ جو ہم آج اپنے معاشرے میں ،انٹرنیٹ کیفے سکینڈل، پنجاب کالج تصاویر سکینڈل، خفیہ کیمرہ فلمز سکینڈلز ، پاکستانی یونیورسٹیز میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی ۔۔۔ہماری نوجون نسل کو جس راہ پر بہائے لے جا رہی ہے اس کے اختتام پر وہ خوفناک گڑہا ہے جس سے ہماری قوم نے کبھی نہیں نکل سکنا۔ میڈیا اس فحاشی و عریانی کے طوفان کو جان بوجھ کر ہمارے ذہنوں میں ڈال رہا ہے جس کا نتیجہ شاید ہماری آنے والی نسلین بھگتیں اور جس تباہی کے آثار ابھی سے نظر آنا بھی شروع ہو گئے ہیں/ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ذاتی حیثیت میں میرا یہ خیال ہے کہ میڈیا ایک ایٹم بم بن چکا ہے جو کسی بھی وقت ہمارے معاشرے میں پھٹ سکتا ہے۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے والے افراد اس طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کا غیرت و حمیت ،شرافت و نجابت، حیا و بے حیائی ، فحاشی و عریانی کا Conceptہماری عوام سے بعد المشرقین کا فاصلہ رکھتا ہے۔ ہماری طبقہ اشرافیہ کے تمام معیارات مغربی سانچوں سے بن کر آتے ہیں۔ ۔ ۔ اور انکا اور ہماری عوام کے نظریات کا میل ۔۔۔بالکل آگ اور پانی کے ملاپ کے برابر ہے۔آگ اور پانی کے ملاپ میں بھی کسی ایک کو مٹنا ہوتا ہے۔ ان دونوں میں سے جو طاقتور ہو گا وہ دوسرے کا مٹا دے گا۔ اسی طرح آج جس کا ایمان طاقتور ہو گا وہ کامیاب ہو گا۔ خواہ وہ ایمان مغربی تہذیب و تمدن پر ہو یا مشرقی اطوار پر۔
چناچہ مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں پاکستانی میڈیا پاکستان میں انصاف اور امن کی تلاش میں ہے اور اس سلسلے میں مخلصانہ کوششیں کرتا ہے ۔۔۔لیکن آج مجھے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ میڈیا ہمارے معاشرے پر مغربی نظریات اور اقدار کے مطابق تبدیلی بھی چاہتا ہے/۔ میڈیا کے انصاف اور امن کے نظریات بھی مغرب سے ادھار مانگے ہوئے ہیں (جیسے مغرب میں انصاف کی فراہمی پر کسی کو کوئی شک نہیں اور مغرب میں امن بھی ہے اس پر بھی کسی کو کوئی کلام نہیں )اور معاشرتی اقدار ،تہذیب و تمدن کے معیار بھی مغرب سے امپورٹڈ ہیں۔ جو بالآخر ہماری قوم کو اسی تباہی کے گڑہے میں لا کر پھینک دیں گی جس کا شکار مغربی قومیں ہو چکی ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میڈیا کی اچھایاں اپنی جگہ لیکن اگر اس کے کردار سے مطمئن ہونے کی بات ہے تو
میڈیا کے کردار سے صرف وہی بندہ کلی طور پر خوش ہو سکتا ہے جو سوچنے سمجھنے پر توجہ کم دیتا ہے۔معذرت کے ساتھ کہ الفاظ کچھ سخت ہو گئے ہیں ۔ ہر وہ بندہ جو جزئیات پر نظر رکھتا ہے وہ مندرجہ ذیل نکات سے خوب آگاہ ہو گا 1) میڈیا اپنے من پسند افراد کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔خواہ انکی باتوں میں کوئی جان ہو ہی نہ۔ اسکی مثال الطاف حسین کی دی جا سکتی ہے۔ کہ آج کا میڈیا وزیر اعظم کا بیان تو شاید محض خبر کی صورت میں دے دے لیکن جب الطاف حسین رحیم یار خان میًں 50 -60افراد کے گروہ سے ٹیلی فونک خطاب کرتا ہے تو سبھی چینلز اسکو Live پیش کرتے ہیں۔ اور تقریر میں بھی کوئی خاص بات نہیں ہوتی، 2) میڈیا اپنے نا پسند افراد کو نظر انداز کرتا ہے۔اس کی مثال عمران خان اور جامعت اسلامی کی ہے۔جب تک میڈیا کو ان سے کام تھا عدلیہ بحالی تحریک کے لیے تو انکو ہر پروگرام میں عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔آج جب آپریشن کا معاملہ ہے تو جماعت اسلامی اور عمران خان کے بیانات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جاتے ہیں اور تو اور جس طرح اوپر کی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ٹی وی شو میں بے عزت کروایا گیا ہے۔ 3) میڈیا کا ایک مخصوص ہتھکنڈا اگلے بندے کو پریشان اور کنفیوز کر کے اس کے منہ سے اپنے مطلب کی بات نکلوانا ہے۔ 4۔۔ میڈیا جان بوجھ کر خبر کو ایسے نشر کرتا ہے کہ وہ چارج شیٹ بن جاتی ہے۔ صوفی محمد نے سوات میں جمہوریت کے بارے میں جو کہا وہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ سے انہی نظریات کا علمبردار رہا ہے۔لیکن میڈیا نے ایسا ظاہر کیا جیسے اس کے خیالات میں شہرت کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہے اور وہ پاکستان کو ختم کر دینے کے در پے ہو گیا ہے۔ حالانکہ صرف صوفی محمد ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی تنظیمیں جمہوریت کو کفر سمجھتی ہیں مثال کے طور پر جماعت الدعوہ،تبلیغی جماعت وغیرہ۔ تو کیا ان سب کو پھانسی پر چڑھا دینا چاہیےِ؟ بھائی ہر کسی کو اپنا نظریہ رکھنے کا حق ہوتا ہے، انکی باری میں بولنے کی آزادی کا حق کدھر چلا جاتا ہے؟ اگر کوئی میڈیا پر آ کر یہ کہ دے کہ سود کے نظام کئے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے تو سب خیریت ہے۔لیکن اگر کوئی جمہوریت پر انگلی اٹھا دے تو غدارکیوں؟ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Member
اجنبی
|
بدر بھائی کچھ ہمارے کہنے کے لئے بھی چھوڑا ہوتا
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 11
کمائي: 348
شکریہ: 1
9 مراسلہ میں 17 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب سے بڑی ذمہ داری صحافت پر ہے ۔صحافت قوم کی سب سے بڑی امانت ہے جس کے لیے بڑی خدا ترسی اور تربیت واہلیت اور فنی قابلیت شرط ہے ۔گزشتہ دور میں مصاحبوں اور ندیموں ،مشیروں اور وزیروں ،شاعروں اور بذلہ سنجوں ،ہمدم ودم ساز رفیقوں اور دوستوں کو مزاجوں میں وہ درکور اور دل ودماغ پر وہ دسترس حاصل نہیں تھی جو اس وقت اخبار نویسوں کو قوم کے مزاج اور مذاق پر ھاصل ہے ۔شاعری ،ادب وخطابت ،وعظ واحتساب کی ساری طاقتیں صحافت کی طرف منتقل ہوگئی ہیں ۔اگر یہ صحیح ہاتھوں میں ہے تو پوری قوم کے مزاج اور مذاق کی اصلاح ،تصورات کی تصحیح اور اخلاقی تربیت اور ذہنی ترقی کے لیے اس سے زیادہ موثر ومفید اور اس سے زیادہ وسیع اور عمومی راستہ نہیں اور اگر غلط ہاتھوں میں ہے تو وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں ۔بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کرلیا ہے جن میں نہ دینی واخلاقی اہلیت ہے ،نہ فنی استعداد ۔اصول وکردار کے لحاظ سے قطعا غیر ذمہ دار ،جن کے لحاظ سے خام ،نومشق اور نا آزمودہ کا ر ۔ زبان وادب کا معاملہ اہل زبان کے لیے بھی اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جارہاہے ۔محض الفاظ کو مناسب محل پر استعمال کرنا اور الفاظ کا انتخاب بڑی مشق اور زبان کی مہارت کا طالب ہے ہر زبان میں الفاظ کے لیے بھی مدارج اور گویا درجہ حرارت وبرودت ہے ۔بعض الفاظ روزانہ اور ہر موقع پر استعمال ہوسکتے ہیں ۔بعض الفاظ کے صحیح استعمال کی برسوں میں نوبت آنی مشکل ہے ۔وہ ایسے مواقع کے لیے وضع ہوئے ہیں جو شاذ ونادر آتے ہیں ۔اور ایسا اثر پیدا کرتے ہیں جو اہم نتائج پیدا کرتا ہے ۔عام اور معتدل حالات کے لیے علیحدہ الفاظ ہیں ۔غیر معمولی اور انتہائی اہم صورت حال کے لیے علیحدہ الفاظ ہیں ۔نومشق اخبار نویس یا مشتعل مزاج ادیب پہلے ہی موقع پر وہ آخری الفاظ استعمال کردیتاہے جس کو واضعین لغت نے خاص مواقع کے لیے وضع کیا تھا اور ایک ایسی غلط اور غیر واقعی فضا پیداکردیتاہے جس کا وہ شخص یا صورت حال ہرگز مستحق نہیں جس کے لیے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔معمولی غلطی یامعمولی اختلافات کے موقع پر بے زاری اور لغت کے آخری الفاظ، مدح کے موقع پر عقیدت وعظمت کے وہ القاب جو پیشواوں اور اولیائے امت کے متعلق استعمال ہوتے ہیں ،سیاسی مسلک سے معمولی اختلاف رکھنے والوں کے لیے وہ الفاظ وکلمات جو یزید وشمر کے لیے بھی اس امت کے محتاط لوگوں نے استعمال نہیں کیے ،ان اخبارات کا دن رات کا کھیل ہے ۔ اس کانتیجہ یہ ہے کہ الفاظ اہمیت اور قوت کھوتے جارہے ہیں اور کم علم ناظرین کا خزانہ معلومات ایسے ہی الفاظ سے بھرتا جارہاہے اور وہ اپنی تقریروں ،تحریروں اورزبانی گفتگو میں ان کو بے تکلف استعمال کرتے ہیں۔اور روزانہ زندگی میں ابتذال واشتعال کا عنصر بڑھتا جارہاہے ۔اس غیر ذمہ دارانہ ک،غیر ثقہ اور ناقص صحافت کی وجہ سے بہت بڑی مقدار میں آنکھوں کے راستے لاکھوں مسلمان ناظرین کے ذہن ودماغ میں پھر قلب میں اور مزاج ومذاق میں روزانہ اور صبح وشام ایسا زہر اترجاتا ہے جس کا کوئی تریاق نہیں ہوتا ۔ گنتی کے چند اخبارات اورسائل اس زہر کا تریاق بہم پہنچاتے ہیں تو قوم کی بدمذاقی ،ابتذال پسندی اور تفریح طلبی کی وجہ سے ان کو وہ مقبولیت وعمومیت حاصل نہیں ہوتی جس کے وہ مستحق ہیں ۔یہ مسموم اور بیمارصحافت قلب ونظر کو رفتہ رفتہ ایسا ماوف کردیتی ہے کہ کسی سنجیدہ ،معتدل اور صحیح چیز کو وہ پسند نہیں کرسکتی اور اس کے قبول کرنے اورہضم کرنے سے وہ مستقل طور پر معذور ہوجاتی ہے۔ بعض اخبارات ورسائل کو اس بارے میں کمال حاصل ہے کہ کچھ مدت تک ان کو پڑھتے رہنے سے دماغ میں ایک خاص قسم کی ایسی کجی پیدا ہوجاتی ہے کہ کسی صحیح اور متوازن چیز کے نفوذکرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی ۔سیدھا سادہ اخبار بین دنیا کو ،واقعات کو اور اشخاص کو اور دینی مسائل واحکام کو اخبار نویسی ہی کی نظر سے دیکھنے لگتاہے ۔
ادبی رسائل کا حال ان اخبارات سے براہے ۔چند سنجیدہ علمی وادبی رسائل کو چھوڑ کر سستے قسم کے کثیرالاشاعت رسائل جو نوجونوں کے اخلاق اورزندگیوں کو اس سے زیادہ تباہ کررہےہیں جتنا طاعون اور وبائی امراض کسی ملک یا بستی میں پھیل کر انسانی نفوس کو تباہ کرتے ہیں یا چنگیز وہلاکو اپنے مفتوحہ ممالک میں تباہی وہلاکت پھیلاتے تھے ۔دنیانے شاید کبھی ایسا مجرمانہ اور ذلیل تجارت کا تجربہ نہیں کیا ہوگا جیسا کہ اس کاغذی تجارت کا ہورہا ہے جس کی قیمت قوم کو ماہوار یا ہفتہ وار نوجوانوں کے اخلاق ،جذبات اور صحت وزندگی سے ادا کرنی پڑتی ہے ۔بد اخلاقی ،بد ذوقی ،عریانی وبے حیائی اور فسق ومصیبت کے یہ جراثیم گھر گھر پھیلے ہوئے ہیں۔ کوئی شہر ،قصبہ حتی کہ دیہات ،پہاڑوں کی چوٹیاں اور چلتی ہوئی گاڑیاں بھی ان سے محفوظ نہیں ۔یہ رسائل وجرائد بے حیائی کی اشاعت ،حیوانی خواہشات وبرہنگی کا جوش اور جنون پیداکرتے اور فسق وفجور کو خوش نما اور دل فریب بناتے اور سنجیدگی و معقولیت وشرافت اور اخلاق کو بے وقعت اور قابل تضحیک قرار دیتے ہیں ۔ان رسائل نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ آج تک کسی تحریک وقوت کو حاصل نہیں ہوئی ۔اگر قوم میں اخلاقی شعور ہوتا تو وہ ان نامہ سیاہ سوداگروں سے وہ سخت سے سخت محاسبہ کرتی جو سب سے بڑے قومی مجرمین سے کیاجانا چاہیے ۔لیکن وہ الٹی ان کی سرپرستی یا اپنی غفلت سے ان سے چشم پوشی کررہی ہے ۔اگر کچھ عرصے تک یہی حال رہا تو قوم اخلاق کی اس سطح پر پہنچ جائے گی جس پر فرانس اور یورپ کی بعض دوسری قومیں پہنچ گئی ہیں اور پھر اسلام کی دعوت ونمایندگی تو الگ رہی ،وہ کسی سنجیدہ اور تعمیری کام اور کسی جد وجہد کے قابل بھی نہیں رہے گی ۔(از مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔صحافت کی حقیقت کی وضاحت سے اس سے زیادہ بلیغ انداز میں میری نظر سے نہیں گزرا اس لیے اس کو قارئین کے سامنے پیش کیا اللہ ہم اس سیاہ صحافت سے نجات دلائے آمین |
|
|
|
| شرف الدین کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (29-12-11) |
![]() |
| Tags |
| AAj, ARY, Geo, MEDIA, pakistan, فارم, کالج, پاکستان, پاکستانی, پسند, لڑکی, نواز شریف, نظر, محبت, معلوم, معاشرہ, آج, ایٹم بم, ایمان, اسلامی, تصویر, تصاویر, خلاف, خان, خبر, سیاست, شہزاد, عمران خان, عشق, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ہمارا میڈیا | ھارون اعظم | میرا پاکستان | 0 | 27-04-10 12:22 AM |
| چار بیویاں | چاچا کمال | مزاحیہ شاعری | 1 | 10-12-09 10:30 PM |
| جیو کی بندش اورمیڈیا پر پابندیوں کیخلاف لندن ، ٹیکساس ، نیویارک ، ٹورنٹو، بارسلونا،برمنگھم اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 19-11-07 06:34 PM |
| پرنٹ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ،کچھ مشکلات الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ہیں،طارق عظیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 14-11-07 03:03 PM |