واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > صحافت




زرداری : ایک حادثاتی رہنما

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-08-09, 03:14 PM   #1
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default زرداری : ایک حادثاتی رہنما

زرداری : ایک حادثاتی رہنما

از محمد بن قاسم



موجودہ صورتِ حال میں، جب کہ پاکستان کے ایک حادثاتی رہنما، جناب آصف زرداری، صدر پاکستان کے عہدہ ءعالیہ پر براجمان ہونے جارہے ہیں، عقل دنگ ہے کہ یہ کیسا منظر نامہ ترتیب پا گیا ہے۔ تمام آزادانہ کام کرنے والے صحافتی ادارے ان کے اثاثہ جات کے بارے میں ہوش ربا، اور طلسمِ سامری جیسی رپورٹیں شائع کررہے ہیں۔ یہ امر روز روشن کی طرح یقینی ہے کہ اگر یہ تمام اثاثے ، جن کی مالیت ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، واقعی زرداری اور بھٹوخاندان کی میراث کے زمرہ میں ہیں، تو اس قدر بڑی رقمیں تو کسی بھی دیانت دار پاکستانی کی قسمت میں نہیں۔ خود ہمارے تازہ تازہ' سابق' ہوئے صدر صاحب پریشان ہیں کہ وہ کس طرح اپنی زندگی ٹھاٹ باٹ ، اور سیر وسفر میں گزاریں گے! وہ پاکستانی زرداروں میں ہری جن (خدا کے بچے) سے زیادہ نہیں لگتے۔ ہم اپنے کم عمر اور کم مطالعہ قارئین پریہ واضح کردیں کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں جو طبقاتی نظام ہے، اس میں برہمن سب سے اوپر، اور دلِت سب سے نچلے درجہ پر سمجھے جاتے ہیں۔ ہندوستانی رہنماآنجہانی موہن داس کرم چند گاندھی نے دلتوں کو "خدا کے بچوں" کا لقب دے دیا تھا، جو عیسائی تعلیمات سے زیادہ قریب، اور مغرب کے لیے زیادہ دل کش نعرہ ہے۔ یہ خدا کے بچے اپنی تمام ضرورتوں کے لیے خدا کے ہی محتاج ہیں، کیونکہ بھارتی متعصب معاشرہ ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھتا ہے۔ آپ یہ جان کر شاید حیران ہوں گے کہ حالیہ مون سون کے سیلابوں میں کی جانے والی امدادی کارروائیوں میں بھی یہی طبقاتی نظام کارفرما رہا، اور بے چارے مسکین ہری جنوں کی بستیوں کو امدادی کشتیاں اور سازوسامان فراہم نہیں کیا گیا، اور انہیں سیلابی موجوں کے تھپیڑے کھانے پر مجبور کردیا گیا۔

آپ میں سے جو دو چار ذہین قاری ہیں، وہ یقینا یہ سوال کریں گے کہ ہم نے بھارتی طبقاتی نظام کا موضوع کیوں چھیڑ دیا! تو پیارے دوستو، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اور آپ اس آزادی کا شکر ادا کریں جوہمیں ہندو بالا دستی سے فی الوقت نجات دلائے ہوئے ہے۔ اور وقتاْ فوقتاْ اپنے قومی آزادی کے سفر کی یادیں تازہ کرتے رہیں، اور ان عظیم رہنماﺅں کی زندگی کو اپنے کردار کے لیے ایک سانچہ بنانے کی کوشش کریں، جن کی ذہانت ، فراست، تدبر، اور رہنمائی کی بناءپر آج ہم ایک آزاد پاکستان کی فضاﺅں میں سانس لے سکتے ہیں۔ ورنہ خاکم بدہن، ہم اور آپ بھی 'خدا کے بچے' بنے ہوتے۔ اس امر کی نشاندہی کرنے کے لیے ہم اس لیے بھی بے چین تھے کہ گزشتہ دنوں، جب جناب آصف زرداری صاحب نے تمام پاکستانی دوردرشنوں کو ایک جیسا ہی انٹرویو دیا تھا، جن میں بہترین فٹنگ کے نئے نئے سوٹ البتہ مختلف تھے، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ ہم تو بات چیت پر ہی یقین رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح قائد اعظم نے پاکستان صرف بات چیت کے ذریعہ بنا لیا تھا۔ اگرچہ ان کا یہ جواب قائد اعظم کی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کررہا تھا، مگر اس سرسری سے بیان سے یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ انہیں تحریکِ پاکستان کے بارے میں مکمل اور ضروری تاریخی معلومات شاید حاصل نہیں، یا پھر وہ اسے بھول گئے تھے، کم ازکم اپنے انٹرویوز کے وقت۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز ہونے کے خواہشمند پاکستانی کے لیے یہ ایک مثالی صورتِ حال نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ جلد از جلد تحریکِ پاکستان کے بارے میں ایک 'حادثاتی کورس' کرلیں۔ تاکہ وہ سرسید احمد خان، علامہ اقبال، چوہدری رحمت علی، مولانا محمد علی جوہر، مولوی عبدالحق، قائد اعظم محمد علی جناح، نواب زادہ لیاقت علی خاں کی جدوجہد، اور مسلم لیگ کے قیام، اور دیگر تاریخی حقائق جان لیں، جن میں لاکھوں مسلمانوں کی بے لوث قربانیاں شامل ہیں۔ وہ مسلمان، جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ 1947 میں قائم ہونے والے پاکستان میں منتقل نہ ہوسکیں گے، صرف اسلام کے نام پر اپنی جانیں، مال وآن قربان کرگئے۔ یہ ان کا عطیہ کیا ہوا لہو ہی ہے، جو آج بھی پاکستان کی رگوں میں دوڑ رہا، اور اسے زندگی عطا کیے ہوئے ہے۔ اگر آج بھی قربانی اور خدمت کا وہی جذبہ ہو تو پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہواباوقار مقام پھر حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے نامی وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب نے بھی حال ہی میں اپنے ایک بیان میں یہ فرمایا ہے کہ اگر قائدِ اعظم بیک وقت مسلم لیگ کے صدر اور گورنر جنرل بھی ہوسکتے ہیں، تو جناب آصف زرداری بھی بیک بینی اور دو گوش اپنی سیاسی پارٹی کے چیف، اور صدرِ پاکستان کیوں نہیں ہوسکتے؟ ہمارا بھی وہی خیال ہے جو آپ کا ہوگا۔۔۔۔۔ کہاں قائد اعظم، اور کہاں ہمارے موجودہ رہنما۔ بہتر ہوگا کہ وہ اس قسم کے موازنے کرنے کی کوششیں نہ کیا کریں۔ تعلیم، عمل، کردار، امانت، دیانت، عمیق مطالعہ، قانون پر گرفت، مستقبل پر ایک صاف اور واضح نظر، یہ سب وہ صفات ہیں جن پر آج کا کوئی بھی پاکستانی لیڈر پورا نہیں اترتا۔ ایک مقبول امریکی ویب سائٹ ابائوٹ ڈاٹ کام پر ایک لبنانی عرب امریکی لکھاری پیرے ٹرسٹام نے ایک نہایت ہی پرمغز مقالہ پاکستان کی موجودہ صورتِ حال پر تحریر کیا ہے۔ وہ پاکستانیوں پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ساڑھے سولہ کروڑ کی آبادی میں سے ایک بھی صاف و شفاف رہنما اس قوم کو دست یاب نہ ہوسکا، اور پاکستانی صدارت بھی خورد برد کا شکار ہوگئی۔ ہمارا بھی خیال ہے کہ یہ بہتر ہوگا کہ تمام تینوں کے تینوں صدارتی امیدوار کھلے عام دور درشنوں پر آکر پاکستانی مسائل پر بحث و مباحثہ کریں، اور اپنے اپنے وژن اور منصوبہ بندی سے عوام کو آگاہ کریں۔ جب امریکی ایسا کرسکتے ہیں تو پاکستانی کیوں نہیں؟

رہنماﺅں کی بات کرتے ہوئے، یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ بلوچستان میں جب کچھ عرصہ قبل ایک ساتھ پانچ خواتین کو زخمی کرکے زندہ ہی دفنادیا گیا، تو یہ خبر کسی بھی پاکستانی صحافی یا اخبار نے نہ پائی۔ یہ تو ہانگ کانگ کے ایک انسانی حقوق کا ایک ادارہ تھا جس نے یہ وحشت ناک خبر تمام دنیا کو سنائی۔ پھر ہم بھی اسے راز میں نہ رکھ سکے۔ ان زخمو ں پر نمک چھڑکتے ہوئے ہمارے سینیٹ میں تخت نشین بلوچی رہنماﺅں نے جو ابتدائی بیانات دیئے وہ عذر گناہ، بد تر از گناہ ہیں۔ انسانی جانوں کی ان کے نزدیک کوئی قیمت ہی نہیں، اور اس پر احتجاج انہیں بہت برا لگ رہا ہے۔ مسلمانوں جیسے نام رکھنے والے ایسے اشخاص، قرآن الکریم کی سورہ ءنور کی ابتدائی آیات کا مطالعہ کرلیں، اور اپنے گریبانوں میں جھانک کر توبہ کریں، اور انصاف کی فراہمی کے لیے کام کریں تو ان کی عاقبت سدھر سکتی ہے۔ بہر حال، ایسے رہنماﺅں سے اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے، اس قسم کے ذہنی مریض افراد کی عدل کے ایوانوں میں موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح رہے گی۔ ہماری مذہبی جماعتوں کا اس معاملہ پر خاطر خواہ اقدامات نہ اٹھانا بڑا معنی خیز ہے۔ کراچی میں لاشوں کی سیاست کرنے والے ذرا بلوچستان میں بھی تو نمازِ جنازہ پڑھانے کی ہمت کریں۔

پیارے قارئین، اگر یہ تحریر آپ کو بے وقت کی راگنی محسوس ہورہی ہے تو اس میں آپ کا چنداں قصور نہیں۔ بین الاقوامی ریشہ دوانیوں کے سازوں کی آواز و جھنکار اس وقت اس قدر بلند ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ امریکہ اور برطانیہ نے اپنی مرضی کے پاکستانی رہنماﺅں کا انتخاب کیوں کیا، اور وہ ایسے کون سے کام ہیں جو محترمہ بے نظیربھٹوزرداری شہید، اور جناب سابق صدر سے نہیں نکلوائے جاسکتے تھے۔ غور کیجیے، اور سر دھنیے، اس کے سوا پاکستانی کر بھی کیا سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ 6 ستمبر 2008 بھی سنہ 1965 کی طرح ہی ایک یوم دفاع کا تقاضہ کررہا ہے۔ مگر اس مرتبہ دفاع پاکستان کی اخلاقی اور نظریاتی سرحدوں کا ہے، جن کے بغیر پاکستان کوئی ٹھوس حیثیت نہیں رکھتا۔

چلتے، چلتے، ہم جناب ظریف لکھنوی (انیسویں صدی عیسوی)کے چندمزے دار اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، جو صدارتی انتخابات کے موقع پر پاکستانی سیاست کے ایک مخصوص طبقہ کی لوٹا بازی اور مفاد پرستی کی دل چسپ عکاّسی کرتے ہیں:

ووٹ دوں گا عوض میں آپ کو خمسین *کے
اتنے ہی ملتے ہیں مجھ کو وعظ کے، تلقین کے
حضرتِ والا تو خود پابند ہیں آئین کے
اس سے کم لینا مرادف ہے مری توہین کے
ہاں یہ ممکن ہے کہ کچھ تقلیل فرمادیجیے
ہے یہ کارِ خیر، بس تعجیل فرمادیجیے
__________________

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (09-08-09), محمدخلیل (09-08-09), محمدعدنان (09-08-09), حیدر (10-08-09), راجہ اکرام (11-08-09), شاہ جی 90 (11-08-09)
پرانا 09-08-09, 04:03 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (09-08-09), راجہ اکرام (11-08-09), رضی (09-08-09)
پرانا 10-08-09, 12:49 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,620
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

"وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب نے بھی حال ہی میں اپنے ایک بیان میں یہ فرمایا ہے کہ اگر قائدِ اعظم بیک وقت مسلم لیگ کے صدر اور گورنر جنرل بھی ہوسکتے ہیں، تو جناب آصف زرداری بھی بیک بینی اور دو گوش اپنی سیاسی پارٹی کے چیف، اور صدرِ پاکستان کیوں نہیں ہوسکتے؟"

جس طرح مشرف کے احتساب کی مخالفت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پھر آپ سب کا احتساب کریں ضیا الحق کا بھی احتساب کریں اور اسکو بھی پھانسی لگائیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ جب زرداری صاحب کے دو عہدوں پر انکو سزا کا مستحق ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی تو یقیناََ وہ یہی کہیں گے کہ پہلے قائد اعظم کا احتساب کرو۔ انکو ذرا بھی شرم نہ آئی زرداری صاحب کا تقابل قائد اعظم کے ساتھ کرتے

اور رہی بات زرداری صاحب کے حادثاتی رہنما بننے کی۔ تو رہنما اکثر حادثاتی ہی ہوتے ہیں۔ انکو عام طور پر پہلے معلوم نہیں‌ ہوتا۔یہ تو وقت کا پہیا انکے پاس آ کر تھم جاتا ہے اور وہ مجبور ہو جاتے ہیں اپنی چھپی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں۔
وقت کا وہی پہیہ زرداری صاحب کے پاس بھی آیا تھا۔ انکو قدرت نے سنہری موقع دیا تھا خود کو لیڈر ثابت کرنے کا اور اپنے پرانے گناہ دھونے کا۔انکو وقت نے موقع دیا تھا کہ خود کو تاریخ میں امر کر لیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی حکومت کا کوئی بھی مخالف نہ تھا۔ اپوزیشن انکی حامی۔فوج انکی مددگار۔عوام خاموش۔ الغرض اگر تھوڑا سا تدبر کا مظاہرہ کرتے تو شاید یہ بھی قائدین کی فہرست میں ہوتے۔لوگ انکو رہنما مانتے۔ انکی خاطر جانیں قربان کرتے۔
مگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ اللہ کی طرف سے مہلت کو ، وقت کی مدد کو اپنی قابلیت سمجھ بیٹھے۔ اسلامی اقدار کا مذاق اڑا بیٹھے۔ سنہری موقع کو گنوا بیٹھے۔
اور جو کوئی اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ ۔ ۔ اللہ کی سخت پکڑ میں آ جاتا ہے۔ اور ضروری نہیں کہ اللہ کی پکڑ کسی عذاب کی شکل میں ہی ہو۔ضروری نہیں کہ عذاب آسمان سے گرنے والے پٹھروں کی شکل میں ہو۔ اللہ کی پکڑ بہت سی اقسام کی ہوتی ہے۔اور یہ اللہ کی پکڑ ہی ہے کہ انہوں نے جلد از جلد غیر مقبول ہونے کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ یہ بھی پکڑ کی قسم ہی ہے کہ ایس ایم ایس کے ذریعے انکو ہر پل گالیاں ہی پڑتی ہیں۔یہ اللہ کا عذاب ہی ہے کہ ایس ایم ایس پر چیکنگ کے قانون کے بعد بھی انکی بے عزتی کرنے کے نت نئے طریقے ایس ایم ایس تراشے جا رہے ہیں جو قانون کی پکر میں نہیں آتے۔ یہ عذاب نہیں تو اور کیا ہے کہ آہستہ آہستہ وہ خود کو پیچھے کرنے اور اپنی اولاد کے پیچھے چھپنے میں مجبور ہر رہے ہیں یہ بھی تو عذاب ہی ہے کہ میڈیا میں ان سے بڑھ کر کسی کی مخالفت نہیں کی جاتی۔یہ بھی تو اللہ کی ناراضگی ہی ہے کہ این آر او کی شکل کی تلوار ہر دم انکے سر پر لٹک رہی ہے اور انکو خوف میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہ انکے لیے جو عزت کا سبب تھی حکومت آج انکے لیے مسلسل جبر بنی ہوئے ہے۔ابھی تو صرف ایک سال ہوا ہے انکو حکومت میں آئے۔ ابھی تو آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
تاہم اب بھی انکے پاس وقت ہے کہ اپنا قبلہ درست کر لیں۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ جس اللہ نے 18 فروری کو انکوحادثاتی طور پرعزت دی تھی ۔ ۔ ۔ جس اللہ نے وہ عزت واپس لی تھی۔ ۔ ۔ وہی اللہ اپنی رحمت کے صدقے پھر سے انکو معاف کر سکتا ہے۔
لیکن کیا ان میں اس کی بھی جرات ہے؟
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (11-08-09), رضی (10-08-09), شاہ جی 90 (11-08-09)
پرانا 10-08-09, 12:53 AM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
وقت کا وہی پہیہ زرداری صاحب کے پاس بھی آیا تھا۔ انکو قدرت نے سنہری موقع دیا تھا خود کو لیڈر ثابت کرنے کا اور اپنے پرانے گناہ دھونے کا۔انکو وقت نے موقع دیا تھا کہ خود کو تاریخ میں امر کر لیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی حکومت کا کوئی بھی مخالف نہ تھا۔ اپوزیشن انکی حامی۔فوج انکی مددگار۔عوام خاموش۔ الغرض اگر تھوڑا سا تدبر کا مظاہرہ کرتے تو شاید یہ بھی قائدین کی فہرست میں ہوتے۔لوگ انکو رہنما مانتے۔ انکی خاطر جانیں قربان کرتے۔
مگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ اللہ کی طرف سے مہلت کو ، وقت کی مدد کو اپنی قابلیت سمجھ بیٹھے۔ اسلامی اقدار کا مذاق اڑا بیٹھے۔ سنہری موقع کو گنوا بیٹھے۔
کتے کی دم ہمیشہ ٹیڑی ہی رہتی ہے ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (11-08-09), شاہ جی 90 (11-08-09)
پرانا 10-08-09, 12:55 AM   #5
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی کی یہ پوسٹ سرورق کے قابل ہے میں اسے سرورق کے لیئے تجویز کرتا ہوں۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
حیدر (10-08-09), راجہ اکرام (11-08-09), شاہ جی 90 (11-08-09)
پرانا 11-08-09, 07:45 AM   #6
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زبردست بدر بھائی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
اور رضی احتیات سے ، 14 سال یاد رکھو
ویسے بات ٹھیک ہے خم تو رہے گا
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (11-08-09), رضی (11-08-09)
پرانا 11-08-09, 11:54 AM   #7
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,150
شکریہ: 1,693
1,084 مراسلہ میں 2,449 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Razi مراسلہ دیکھیں
کتے کی دم ہمیشہ ٹیڑی ہی رہتی ہے ۔
رضی بات سوچ سمجھ کر کیا کرو۔۔۔۔
کتے کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے ۔۔۔ اورکتے کو بدنام نہ کرو ۔۔۔
کتا جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو ۔۔۔ کتے والا کام کرتا ہے مگر یہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے
؟؟؟؟؟؟ اب مجھ کو اپنی زبان سے لیکر قلم تک سب پاک کرنا پڑے گے
مسافر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مسافر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (11-08-09), رضی (11-08-09)
جواب

Tags
کراچی, پیارے, پاک, پاکستان, پاکستانی, یوم دفاع, ویب, ڈاٹ, وزیراعظم, قرآن, چین, میراث, مسائل, معاشرہ, امریکہ, احتجاج, بچوں, خواتین, خدا, زرداری, سیاست, عقل, عزت, صدارت, صدارتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 07:52 AM
Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ Real_Light شعبہ طب 3 03-05-09 01:52 PM
سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 07-01-08 09:30 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:46 AM
جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 09:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger