واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > صحافت




افسوس ناک دوغلا پن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسی صحافت ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-04-09, 06:42 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default افسوس ناک دوغلا پن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسی صحافت ہے؟

افسوس ناک دوغلا پن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسی صحافت ہے؟

کہتے ہیں کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، جس میں انسان تمام اغراض سے بالا تر ہو کر سچائی جاننے اور لوگوں کو باخبر رکھنے کی ذمہ داری سے عہدہ براء ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن آج کے اس مادہ پرستانہ دور نے جہاں اور تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں صحافت بھی اس کی زد میں ہے۔ شہرت کے حصول کی دوڑ میں تمام حدود کی پامالی ایک معمول بن چکا ہے۔ ذاتی جذبات و احساسات کی تسکین کے لئے دوسروں کی عزت اچھالنا بلکہ مذاہب و ادایان کی توہین کرنا شیوا بنتا جا رہا ہے۔
مغرب میں تو آزادئ اظہار کے نام پر جو ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن خود ہمارےہاں کی صورتحال بھی ان سے کسی طور کم نہیں۔
صرف اشارۃ ذکر کر رہا ہوں تفصیلات سے آپ بخوبی آگاہ ہونے گے۔
(1) پاکستان میں آزادیء اظہارکا سب سے بڑا علمبردار اور حق اور سچ کا دعویدار ’’جیو‘‘ ہے۔
اس دوڑ میں بعض اوقات ملکی مفاد تک کو داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔
ممبئی حملے ہوئے، انڈیا نے حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا، بغیر تحقیق کے چند مفروضے پیش کئے۔
جیو نے حق تک رسائی اور دنیا کے سامنے اس کو آشکار کرنے کا اپنا فرض نبھانے کے لئے فورا اپنے ہرکارے روانہ کئے اور ثابت کر دیا کہ اجمل قصاب پاکستانی ہے۔
اس نے انڈیا اور شہ دی اور وہ پروپیگنڈا ہوا کہ پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیا۔ سفارتی سطح پر۔۔ جنگ کے بادل منڈلانے لگے اور وطن عزیز چاروں جانب سے خطرے میں گھر گیا۔

(2) ہزاروں افراد اور بے پناہ وسائل کے ضیاع کے بعد سوات میں امن معاہدہ ہوا اور نتیجتا نظام عدل نافذ ہو گیا۔ ہر محب وطن کی خواہش تھی کہ معاہدہ کامیاب ہو، قومی اسمبلی نے اسے منظور کیا، صدر پاکستان نے دستخط کئے۔
لیکن چند عاقبت نا اندیشوں سے یہ ہضم نہیں ہوا اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا۔ خدا کا کرنا اسی دوران ایک وڈیو منظر عام پر آئی۔ جس کی تحقیق کرنے کی زحمت گوارا کئے بغیر عوام کو باخبر رکھنے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اسے نشر کر دیا گیا۔ نہ صرف نشر کیا گیا بلکہ بار بار نشر کر کے عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی۔
اسی دوران اسلامی نظام حدود کے لئے نہ جانے کیسے کیسے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے۔ کوڑوں کو وحشیانہ سزا کہہ کر اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔
لیکن بھلا ہو ان اہل نظر کا جنہوں نے اس وڈیو کی اصلیت کو چیلنج کر دیا۔۔۔
یہ سب جو میڈیا نے کیا اس میں یہ بات بار بار دہرائی جاتی رہی کہ اس سے دنیا میں اسلام کا غلط تصور جاتا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جب کوئی اس غلطی کا ارتکاب کرے ، غلطی ثابت ہوجائے تو اس کو یہ سزا دینا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے، تا کہ لوگ آئندہ اس طرح کی غلطی سرزد نہ کریں۔ قطع نظر اس کے کہ اس سے کیا پیغام جاتا ہے۔
دوم یہ کہ اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے، تو کتنے لوگوں کا اس کاپتہ تھا؟ شاید ان کی تعداد 100 سے بھی کم ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ ان 100 افراد کو پتہ چلنے سے دنیا میں اسلام غلط تصور جاتا ہے یا میڈیا میں ہر منٹ بعد اسے نشر کرنے سے؟ ؟؟/
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کر دیں تو چرچا نہیں ہوتا۔
اس موقع پر بھی میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا، جس سے نہ صرف پاکستان پر دباؤ بڑھا بلکہ امن معاہدہ بھی خطرے میں پڑ گیا۔

(3) تیسرا اہم واقعہ جس نے اظہار رائے کی آزادی اور غیر جانبداری کے تمام دعوے خاک میں ملا دیئے وہ افسوس ناک واقعہ ہے جب دو روز قبل انڈیا میں پاکستانی صحافیوں پر وہاں کی ایک انتہا پسند ہندو تنظیم نے دن دہاڑے سیکیورٹی کی موجودگی میں حملہ کر دیا۔
پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف سب سے زادہ زہر اگلنے والے اور انتہا پسندی کے طعنے دینے والے ملک میں اگر اتنا گھناؤنا فعل ہوتا ہے تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر پاکستان میں یہ ہوتا تو کہرام مچ جاتا۔
پاکستان کی جانب سے معذرت خواہانہ مزمت کے سوا کچھ نہیں‌ہوا حالانکہ ممبئی حملوں میں انڈیا نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے تھا۔
اس نازک موقع پر جیو نے ایک بار پھر سب کو سکون سے جینے دیا اور وہ کوریج نہ دی جس کی ضرورت تھی۔ اجمل قصاب والے معاملے یا کوڑوں والی وڈیو کے معاملے میں جو واویلا مچایا گیا اس کا نصف بھی سفارتی سطح پر پاکستان کو بہت مدد دے سکتا تھا۔
لیکن ایک مخصوص ایجنڈا ہے ، جس کے تحت اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے دن رات کوششیں ہو رہی ہیں ۔

اگر یہی صورت حال رہی تو ۔۔۔۔

یہ میری رائے ہے اس سے اختلاف ہر کسی کا حق ہے ۔۔۔


اللہ وطن عزیز کو اسلام کا قلعہ بنائے اور اس کی حفاظت کرے۔۔ آمین

۔۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (04-04-11), Real_Light (15-11-09), فیصل ناصر (17-04-09), ملک بھائی (13-11-09), محمد کاشف حبیب (12-11-09), معظم (03-09-09), Zullu230 (18-04-09), ایس اے نقوی (17-04-09), ام طلحہ (19-06-09), ام غزل (17-04-09), ابن آدم (17-04-09), احمد بلال (11-11-09), حسنین ایوب (03-09-09), رضی (18-04-09), سحر (17-04-09), شاہ جی 90 (19-06-09), طارق راحیل (11-11-09)
پرانا 17-04-09, 07:21 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,733
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے ایک تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔
ہمارے ملک میں صحافت سمیت ہر شعبے میں پاکستان کے غدار موجود ہیں ۔
میں اس کو غداری کہوں گی شائد کسی کو برا لگے لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-04-09), Zullu230 (18-04-09), ایس اے نقوی (17-04-09), ام طلحہ (19-06-09), ام غزل (17-04-09), احمد بلال (11-11-09), حسنین ایوب (03-09-09), راجہ اکرام (18-04-09), رضی (18-04-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 17-04-09, 08:18 PM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,166
کمائي: 74,758
شکریہ: 8,792
2,970 مراسلہ میں 10,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسی قسم کی خباثت کا مظاہرہ بی بی سی کرتی ہے۔ طالبان پر پہلے الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔ زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے گی وغیرہ۔ اب انہوں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کی تفصیل یوں بتائی گئی ہے:
"سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ رشتوں کے لیے الگ شعبہ کچھ عرصےقبل قائم کیاگیا ہے جس کی سربراہی ابو عماد نامی ایک طالب کمانڈر کررہے ہیں۔ ان کے بقول اسے ’شعبہ عروسات‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ان مردوں اور خواتین کے رشتے کروانے ہیں جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں مگر خاندان والے کسی نہ کسی حوالے سے انہیں ایسا کرنا نہیں دے رہے ہیں۔

ان کے بقول انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک فون نمبر مختص کیا ہوا ہے جس پر لڑکے یا لڑکیاں رابطہ کرکے اپنی مرضی سے شادی کے خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور طالبان ان کے کوائف اپنے پاس درج کرنے کے بعد ان کے خاندان والوں سے رابط کرتے ہیں۔ان کے بقول اپنی مرضی سے شادی کرنا ہر مسلمان کا شرعی حق ہے۔"
اس پر کیے گئے اعتراضات اور خبث باطن کا مظاہرہ یہاں دیکھیے:
امید کرنی چاہیے کہ چاچا کمال اور ہمنوا جلد ہی شور مچانے کو آ رہے ہوں گے، تیار رہیے۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 18-04-09 at 04:28 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-04-09), محمدخلیل (17-04-09), ایس اے نقوی (17-04-09), ام طلحہ (19-06-09), ام غزل (17-04-09), حسنین ایوب (03-09-09), راجہ اکرام (18-04-09), رضی (18-04-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 17-04-09, 08:39 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,623
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جیو نے بھی یہ کیا ہے یقین نہیں ہو رہا ہے
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (17-04-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 17-04-09, 09:33 PM   #5
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دو گھنٹے کا VOA چلاتا ہے جیو
اور جیو پر کیا محدود دسرے میڈیا بھی کچھ کم نہیں ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (17-04-09), حسنین ایوب (03-09-09), راجہ اکرام (18-04-09), رضی (18-04-09), شاہ جی 90 (19-06-09), عبداللہ حیدر (18-04-09)
پرانا 17-04-09, 10:35 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چلیئیے کچھ دنوں بعد ہی اس نظام کے "ثمرات" نظر آنے لگیں گے، تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

تالی بان کی مخالفت کو اسلام کی مخالفت قرار دینے والے لوگ، تالی بان مخالف افراد کو مومن تو کیا مسلمان سمجھنے کے بھی قائل نہیں۔
نوٹ: یہ رائے ایک صاحب کی ہے،

دراصل واقعہ یہ ہے کے ایک خاص فرقے اور خاص معاشرتی و قبائلی ماحول کے حامل چند افراد نے روسی کلاشنکوفوں اور کفار کے بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ایک اسلامی مملکت کے آئین کو چیلینج کرکے وقتی فتح حاصل کی ہے، چند دنوں بعد ان ہی میں‌سے ان کے اپنے لوگ ہی ان کی مخالف ہوجائیں گے۔ اور امارت کے حصول کے لیئے ہونے والی ایک ایسی بھگدڑ ہوگی کے الامان الحفیظ۔

اللہ تعالیٰ سے عرض ہے کے میرے یہ تمام اندیشے غلط ثابت ہوں، آمین
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (22-11-09), محمدخلیل (17-04-09), ایس اے نقوی (12-06-09), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 18-04-09, 09:51 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
چلیئیے کچھ دنوں بعد ہی اس نظام کے "ثمرات" نظر آنے لگیں گے، تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

تالی بان کی مخالفت کو اسلام کی مخالفت قرار دینے والے لوگ، تالی بان مخالف افراد کو مومن تو کیا مسلمان سمجھنے کے بھی قائل نہیں۔
نوٹ: یہ رائے ایک صاحب کی ہے،

دراصل واقعہ یہ ہے کے ایک خاص فرقے اور خاص معاشرتی و قبائلی ماحول کے حامل چند افراد نے روسی کلاشنکوفوں اور کفار کے بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ایک اسلامی مملکت کے آئین کو چیلینج کرکے وقتی فتح حاصل کی ہے، چند دنوں بعد ان ہی میں‌سے ان کے اپنے لوگ ہی ان کی مخالف ہوجائیں گے۔ اور امارت کے حصول کے لیئے ہونے والی ایک ایسی بھگدڑ ہوگی کے الامان الحفیظ۔
اللہ تعالیٰ سے عرض ہے کے میرے یہ تمام اندیشے غلط ثابت ہوں، آمین
برادرم آپ کی بات بجا۔ یہ نظام اسلامی ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔
لیکن اہل سوات کو اس کی بدولت جن مصائب اور مشکلات سے نجات ملی ہے، افواج پاکستان اور وسائل پاکستان کا ضیاع ختم ہوا ہے۔۔ اور عوام کو جو امن نصیب ہوا ہے جس کا اظہار انہوں نے مٹھائیاں تقسیم کر کے کیا ہے،
یہ ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ان پر خوش ہوا جائے اور اس معاہدے کی کامیابی کے لئے دعا کی جائے۔
کم از کم وہ لوگ جو ملکی سالمیت کے خواہاں ہوں، پاکستان کی معاشی تباہی سے آگاہ ہوں، عوام کی مشکلات اور پریشانیوں سے با خبر ہوں۔ اور سب سے بڑھ کر ملک دشمن عناصر کی سازشوں سے واقف ہوں ۔۔۔۔۔ انہیں اس طرح کے معاہدوں کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
اگرچہ بظاہر ان کے خیال میں یہ معاہدے طویل المیعاد اور ثمر آور نہیں ہو سکتے لیکن فی الوقت اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔
دو ہی صورتیں ہیں‌
1( فوج کشی۔۔۔۔ ہر چیز کو تہس نہس کر دو
2( امن معاہدہ کرو اگرچہ بظاہر وہ آپ کے لئے زیادہ مفید نظر نہ آرہا ہو ۔۔ جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی تمام شرائط تسلیم کر لیں،

جب کوئی صورت بن نہ پائے تو اس طرح کے معاہدے کئے جاتے ہیں۔۔
’’یہ ستم اس لئے کر لیا گوارا ، کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا‘‘
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (22-11-09), منتظمین (18-04-09), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (19-06-09), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 18-04-09, 10:01 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اسی قسم کی خباثت کا مظاہرہ بی بی سی کرتی ہے۔ طالبان پر پہلے الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔ زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے گی وغیرہ۔ اب انہوں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کی تفصیل یوں بتائی گئی ہے:
"سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ رشتوں کے لیے الگ شعبہ کچھ عرصےقبل قائم کیاگیا ہے جس کی سربراہی ابو عماد نامی ایک طالب کمانڈر کررہے ہیں۔ ان کے بقول اسے ’شعبہ عروسات‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ان مردوں اور خواتین کے رشتے کروانے ہیں جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں مگر خاندان والے کسی نہ کسی حوالے سے انہیں ایسا کرنا نہیں دے رہے ہیں۔

ان کے بقول انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک فون نمبر مختص کیا ہوا ہے جس پر لڑکے یا لڑکیاں رابطہ کرکے اپنی مرضی سے شادی کے خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور طالبان ان کے کوائف اپنے پاس درج کرنے کے بعد ان کے خاندان والوں سے رابط کرتے ہیں۔ان کے بقول اپنی مرضی سے شادی کرنا ہر مسلمان کا شرعی حق ہے۔"
اس پر کیے گئے اعتراضات اور خبث باطن کا مظاہرہ یہاں دیکھیے:
امید کرنی چاہیے کہ چاچا کمال اور ہمنوا جلد ہی شور مچانے کو آ رہے ہوں گے، تیار رہیے۔
برادر آپ نے بالکل درست فرمایا۔
اسی کو دوغلا پن کہتے ہیں
اگر طالبان پسند کی شادی پر پابندی لگا دیتے تو بی بی سی والوں نے کہنا تھا کہ زبردستی کر رہے ہیں اور بنیادی حق سے محروم کر رہے ہیں۔
اب اگر یہ سہولت دے رہے ہیں کہ اپنی پسند کی شادی کر لیں تو دوسرے شوشے نکال رہے ہیں۔

اصل میں ان کا مقصد صرف اسلام اور اس سے وابستہ ہر چیز کو بدنام کرنا ہے۔
اگرچہ بعض دوست کہیں گے کہ یہ اسلام تو نہیں ہے۔۔
لیکن جو کچھ بھی ہے اسلام کے نام پر ہے اور میڈیا کو صرف موقع ملنا چاہیے کہ اسلام پر الزام تراشی کے لئے کوئی موقع ملے۔
ہمیں اس موقع پر اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر اپنے دین اور اپنے ملک کی حفاظت اور دفاع کرنا ہو گا۔

۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (18-04-09), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (19-06-09), احمد بلال (11-11-09), رضی (13-06-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 18-04-09, 12:22 PM   #9
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کل ایک خبر پڑھی تھی
صدر براک اوباما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی سی آئی کے اہلکار پر تفتیشی پروگرام "دہشت گردی کی جنگ میں تشدد کرنے پر "میں حصہ لینے کی وجہ سے مقدمہ نہیں چلے گا

کچھ یار لوگوں کا بارے اس کے بھی بیان ہو جائے
آجکل تو فیشن نکلا ہوا ہے "طالبان " کا
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (18-04-09), ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (19-06-09), رضی (13-06-09)
پرانا 18-04-09, 12:37 PM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک الگ سے موضوع شروع کریں اس بارے میں
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (12-06-09), رضی (13-06-09)
پرانا 18-04-09, 03:23 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اسی قسم کی خباثت کا مظاہرہ بی بی سی کرتی ہے۔ طالبان پر پہلے الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔ زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے گی وغیرہ۔ اب انہوں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کی تفصیل یوں بتائی گئی ہے:
"سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ رشتوں کے لیے الگ شعبہ کچھ عرصےقبل قائم کیاگیا ہے جس کی سربراہی ابو عماد نامی ایک طالب کمانڈر کررہے ہیں۔ ان کے بقول اسے ’شعبہ عروسات‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ان مردوں اور خواتین کے رشتے کروانے ہیں جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں مگر خاندان والے کسی نہ کسی حوالے سے انہیں ایسا کرنا نہیں دے رہے ہیں۔

ان کے بقول انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک فون نمبر مختص کیا ہوا ہے جس پر لڑکے یا لڑکیاں رابطہ کرکے اپنی مرضی سے شادی کے خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور طالبان ان کے کوائف اپنے پاس درج کرنے کے بعد ان کے خاندان والوں سے رابط کرتے ہیں۔ان کے بقول اپنی مرضی سے شادی کرنا ہر مسلمان کا شرعی حق ہے۔"
اس پر کیے گئے اعتراضات اور خبث باطن کا مظاہرہ یہاں دیکھیے:
امید کرنی چاہیے کہ چاچا کمال اور ہمنوا جلد ہی شور مچانے کو آ رہے ہوں گے، تیار رہیے۔
برادر آپ نے بالکل درست فرمایا۔
اسی کو دوغلا پن کہتے ہیں
اگر طالبان پسند کی شادی پر پابندی لگا دیتے تو بی بی سی والوں نے کہنا تھا کہ زبردستی کر رہے ہیں اور بنیادی حق سے محروم کر رہے ہیں۔
اب اگر یہ سہولت دے رہے ہیں کہ اپنی پسند کی شادی کر لیں تو دوسرے شوشے نکال رہے ہیں۔

اصل میں ان کا مقصد صرف اسلام اور اس سے وابستہ ہر چیز کو بدنام کرنا ہے۔
اگرچہ بعض دوست کہیں گے کہ یہ اسلام تو نہیں ہے۔۔
لیکن جو کچھ بھی ہے اسلام کے نام پر ہے اور میڈیا کو صرف موقع ملنا چاہیے کہ اسلام پر الزام تراشی کے لئے کوئی موقع ملے۔
ہمیں اس موقع پر اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر اپنے دین اور اپنے ملک کی حفاظت اور دفاع کرنا ہو گا۔

۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (12-06-09), رضی (13-06-09)
پرانا 18-04-09, 03:25 PM   #12
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میڈیا اپنے فرائض انجام تو دے رہا ہے مگر کچھ بے لگام بھی ہوتا جا رہا ہے ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (12-06-09), راجہ اکرام (18-04-09)
پرانا 12-06-09, 06:39 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جیو کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ مغرب نواز، بھارت نواز چینل ہے۔
حامد میر، کامران خان، نذیرناجی کا کردار کافی مشکوک ہوگیا ہے

جیو کی ایک‌خوبی یہ بھی ہے کہ یہ بھارتی گانوں اور فلمی ڈائیلاگز کو اپنے پروگرامز میں بہت استعمال کرتا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جیو بھارتی ثقافت کو ترقی دے رہا ہے

پرویز مشرف اگر کہتا تھا کہ میڈیا بے لگام ہوگیا ہے تو غلط نہیں کہتا تھا لیکن ہم لوگ ایک شخص کی مخالفت میں اس حد تک جاچکے تھے کہ اگر وہ غلطی سے کوئی صحیح کام بھی کرے تو ہم اس کو بھی غلط سمجھ لیتے تھے۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (12-06-09), ام طلحہ (19-06-09), احمد بلال (11-11-09), راجہ اکرام (12-06-09), رضی (13-06-09), سحر (15-06-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 13-06-09, 10:06 AM   #14
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میڈیا حد سے زیادہ تجاوز کرتا جارہا ہے اور ملکی مفاد کا بھی پاس نہیں کر رہا
برانڈنگ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اپیل
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (13-06-09), ام طلحہ (19-06-09), شاہ جی 90 (19-06-09)
پرانا 19-06-09, 10:38 AM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج پاکستان میں ہر طرف کنفیوژن ہے۔ ہم کو نہیں معلوم کہ کون ہمارا مخلص ہے اور کون دشمن۔ایک دن ہم کسی کو مخلص کہہ رہے ہونتے ہیں اور دوسرے دن کسی اور کام پر اس کو غدار ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں سے لے کر میڈیا تک ،اور میڈیا سے لے کر ہماری اپنی زندگیوں تک ہم من حیث القوم اسی کنفیوژن کا ژکار ہیں کہ کون مخلص اور کون دشمن۔
آج کا میڈیا پاکستان کے معاشرے میں مثبت کردار بھی ادا کر رہا ہے اور منفی بھی۔ سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا کس حد تک مثبت کردار ادا کرتا ہے اور کس حد تک منفی۔ اور منفی کردار ادا کرنے کے پیچھے کیا اغراض و مقاصد ہو سکتے ہیں۔
یہی جیو تھا جس نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے لمبی اور جان فشان تحریک "عدلیہ آزادی تحریک" کی خاطر قربانیاں دیں۔اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ جیو کی وجہ سے ہی ہماری قوم کو اس تحریک سے آگاہی ملی اور ہم نے اس کی مدد کی۔
اسی طرح جیو اور دیگر چینلز نے حکمرانوں یا طبقہ اشرافیہ کی کالی بھیڑوں اور انکے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مشرف کا چک شہزاد کا فارم ہاوس ہو یا، فرح ڈوگر کیس، با اثر شخصیات کی طرف سے بجلی چوری ہو یا وڈیرے کی طرف سے کسی غریب پر ظلم کا معاملہ ۔۔۔۔میڈیا نے ہمشی حتی المکان حق کا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے ہم اس سے انکار بھی نہیں کر سکتے کہ میڈیا کے آنے کے بعد کئی اعتبار سے معاشرے میں بہتری آئی ہے۔ اور جس وقت میڈیا کالی بھیڑوں کو بے نقاب کر رہا ہوتا تھا تب بھی میڈیا پر اعتراضات اٹھتے تھے کہ میڈیا معاشرے میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔
(جاری ہے)
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (15-11-09), منتظمین (19-06-09), احمد بلال (11-11-09), رضی (19-06-09)
جواب

Tags
color, pakistan, کمال, پاکستان, پسند, لوگ, چینل, چاچا, نظر, آج, الزام, اسلام, اسلامی, جلد, خواتین, خان, خبر, رشتے, زندگی, شور, شخص, طالبان, صحیح, صحافت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
روغن جوش جاویداسد باورچی خانہ 1 19-10-10 02:40 AM
ANP کی بدمعاشی ،، دوغلہ بازی شریف خبریں 1 19-05-10 09:22 PM
ایٹمی ٹیکنولوجی کے بارے میں دوغلی پالیسیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے عارف اقبال خبریں 0 01-04-10 11:23 AM
دوغلا پن ‘‘پاکستان کے مقابلے میں بھارت محفوظ، کپتان آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ابن جلال خبریں 0 18-09-08 11:52 PM
حکومت کی ’دوغلی‘ پالیسی چاچا کمال خبریں 0 06-11-07 12:33 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger