واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > صحافت




اصلاح فرد میں صحافت کیا کردار ادا کر سکتی ہے ؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-01-09, 04:55 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اصلاح فرد میں صحافت کیا کردار ادا کر سکتی ہے ؟؟

اصلاح فرد میں صحافت کیا کردار ادا کر سکتی ہے ؟؟

صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس کے ذریعے معلومات کو کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اگر اسی ذریعے کو اسلام کی اخلاقی اور عالمگیر تعلیمات کو عام کرنے لئے استعمال کیا جائے تو صالح افراد کی تیاری کا کام لیا جا سکتا ہے ۔
اور معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے جب صالح افراد تیار ہوں گے تو صالح اور فلاحی معاشرے کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائےگا

یہ تمام اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اس کار خیر کو بلا تاخیر شروع کر دینا چاہیئے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (01-09-11), محمداسد (04-01-10), ابن جلال (28-02-09), حیدر (20-09-09), سحر (29-10-09), عامرشہزاد (25-10-09), عبیداللہ عبید (10-02-09)
پرانا 19-09-09, 06:50 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا آج کی صحافت اپنا حقیقی کردار ادا کر رہی ہے؟
کیا مشمولات صحافت ہماری اقدار اور روایات کے حامل ہیں؟

کیا آزادی صحافت کا استعمال حدود میں رہ کر کیا جا رہا ہے؟
کیا ہم اس صحافت سے بہترین معاشرہ تشکیل دینے میں کسی کردار کی توقع رکھ سکتے ہیں؟؟؟

ذرا سوچئے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
ملک بھائی (21-09-09)
پرانا 20-09-09, 03:10 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپکی پہلی پوسٹ کا جواب تو "یقیناََ جی ہان" ہی کہ سکتے ہیں اور اس خواہش پر خوش ہی ہو سکتے ہیں۔
جبکہ
دوسری پوسٹ کے پہلے دو سوالوں کا ایک ہی جواب ہے "نہیں" اور آخری دو سوالوں کا جواب بھی "نہیں" میں ہی ہے
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (20-09-09)
پرانا 25-10-09, 03:59 AM   #4
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,787
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default صحافت اور اصلاح معاشرہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ


سوال یہ ہے کہ اخبارات و رسائل میں اعلٰی اخلاقی اقدار کے حوالے سے اور اسلامی تعلیمات کے بارے جو کچھ شائع ہوتا ہے ہم اس پر کتنا عمل کرتے ہیں اور ان اخبارات و رسائل کی کتنی حفاظت کرتے ہیں۔ ہم سب یقیناً یہ مشاہدہ بھی کرتے رہتے ہیں‌ اور کئی مرتبہ پڑھا بھی ہوگا کہ اخبارات و رسائل کے اسلامی صفحات اور ایسے صفحات جن پر قرآنی آیات شائع ہوتی ہیں کئی مرتبہ کوڑے کے ڈھیروں پر، گلیوں سڑکوں اور ادھر ادھر بکھرے پاتے ہیں۔ ایسی تحریروں سے فیض‌ تو ہم اس صورت میں‌ حاصل کریں‌ گے جب ہم انہیں‌ سنبھال کر رکھیں‌ گے اور ان کا مطالعہ کریں‌ گے۔ جب ہم ان کی حرمت کا ہی خیال نہیں‌ رکھیں‌ گے تو پھر صحافت اس میں‌ کس طرح مفید ثابت ہوسکتی ہے؟؟؟ اور ایک بات یہ کہ اگر اخبارات یا رسائل میں جو کچھ شائع ہوتا ہے ہمیں چاہیئے کہ اس میں‌ اپنا حصہ ضرور ڈالیں اس پر اپنا نقطہ نظر ضرور اخبار اور لکھنے والے تک پہنچائیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہوکہ جو انہوں نے شائع کیا ہے وہ قارئین کو پسند آیا کہ نہیں۔ اور وہ یہ جان سکیں کہ قارئین کس طرح کی تحریر پسند کرتے اور کس طرح کی تحریر نہیں۔ اس سے انہیں بہت مدد ملے گی کہ وہ کس طرح کا تحریری مواد شائع کریں۔
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla (01-09-11)
پرانا 25-10-09, 01:28 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ


سوال یہ ہے کہ اخبارات و رسائل میں اعلٰی اخلاقی اقدار کے حوالے سے اور اسلامی تعلیمات کے بارے جو کچھ شائع ہوتا ہے ہم اس پر کتنا عمل کرتے ہیں اور ان اخبارات و رسائل کی کتنی حفاظت کرتے ہیں۔
میرے خیال میں ہمارے ملکی اخبار دینی اقدار کے حوالے جو مواد شائع کرتے ہیں وہ عمل کے بجائے حفاظت کا تقاضا زیادہ کرتا ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-10-09, 02:04 AM   #6
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,787
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دینی حوالے سے مختلف اخبارات جمعہ کے روز ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ حفاظت تو ہر اچھی چیز کی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ چاہے کسی شکل میں ہو۔
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (29-10-09)
پرانا 29-10-09, 02:15 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,728
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں آپ سے ایک سوال کروں گی
صحافت کیا صرف اخبار اور رسائل تک محدود ہے
اخبار اور رسائل کمیونکیشن یا اپنی بات دوسرے تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہیں ۔ انہی میڈیم میں ایک انٹرنیٹ بھی ہے اور یہ بہت سٹرونگ میڈیم ہے ۔
ہم اس فورم کو اپنا میڈیم بناسکتے ہیں
اور معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (01-09-11), راجہ اکرام (29-10-09)
پرانا 29-10-09, 02:24 AM   #8
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,787
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اخبار اور رسائل آسان ذرائع ہیں، اور ان تک لوگوں کی رسائی بھی زیادہ ہے جبکہ انٹرنیٹ تک بہت زیادہ لوگوں کی رسائی نہیں ہے۔ خاص کر دیہات کے لوگ انٹرنیٹ کو جانتے تو ہیں لیکن وہاں سہولیات کی کمی کی وجہ سے وہ اس سہولت سے فائدہ نہیں‌ اٹھا سکتے، اور دوسری بات یہ کہ ابھی تک انٹرنیٹ پر زیادہ مواد انگریزی زبان میں ہے بہت کم اردو میں جبکہ ہمارے ملک کے زیادہ لوگ انگریزی کم سمجھتے ہیں۔ اخبارات اور رسائل کا لوگ زیادہ مطالعہ کرتے ہیں، گھروں، دکانوں، دفاتر، لائبریریوں، ہوٹلز اور سفر کے دوران ایک دوسرے سے لے کر بھی مطالعہ کرلیتے ہیں۔
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-10-09, 02:27 AM   #9
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,787
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انٹرنیٹ پر کسی بھی چیز کو محفوظ کرنا بہت زیادہ آسان ہے، اور اس میں‌ بے حرمتی کا خدشہ نہیں‌ ہے۔
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla (01-09-11)
پرانا 29-10-09, 10:31 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
میرے خیال میں ہمارے ملکی اخبار دینی اقدار کے حوالے جو مواد شائع کرتے ہیں وہ عمل کے بجائے حفاظت کا تقاضا زیادہ کرتا ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں
دینی حوالے سے مختلف اخبارات جمعہ کے روز ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ حفاظت تو ہر اچھی چیز کی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ چاہے کسی شکل میں ہو۔
آپ شاید میری بات نہیں سمجھے
حفاظت تو لازمی کرنی ہے، اس کے تقدس کا خیال کرنا ہے۔
میرے کہنے کا مقصد ہے کہ اس میں عمل کے لئے اتنا مواد نہیں ہوتا، سوائے فضائل کے کوئی چیز کم ہی ملتی ہے۔ اور پورا ہفتہ شوبز اور کھیل کے لئے صفحات کے صفحات کالے کئے جاتے ہیں اور دینی مسائل کے لئے صرف جمعہ کو ایک صفحہ۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-11-09, 03:09 AM   #11
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,787
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
آپ شاید میری بات نہیں سمجھے
حفاظت تو لازمی کرنی ہے، اس کے تقدس کا خیال کرنا ہے۔
میرے کہنے کا مقصد ہے کہ اس میں عمل کے لئے اتنا مواد نہیں ہوتا، سوائے فضائل کے کوئی چیز کم ہی ملتی ہے۔ اور پورا ہفتہ شوبز اور کھیل کے لئے صفحات کے صفحات کالے کئے جاتے ہیں اور دینی مسائل کے لئے صرف جمعہ کو ایک صفحہ۔
بھائی میں آپ کی بات سمجھ گیا تھا، آپ کا یہ کہنا کہ پورا ہفتہ شوبز اور کھیل اور دینی مسائل کے لئے صرف جمعہ۔ بات آپ کی بھی ٹھیک ہے لیکن ایک دوسری بات یہ ہے کہ آج کل لوگوں کی اکثریت شوبز اور کھیلوں میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے اور دین کو کم لوگ زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ اب تو جمعہ کو دینی ایڈیشن میں بھی پورا صفحہ کئی اخبارات میں نہیں شائع ہوتا بلکہ اس میں بھی کمرشلزم عود کر آئی ہے اس صفحہ پر اشتہارات شائع کئے جاتے ہیں۔ اب اس پر ہم کیا کرسکتے ہیں؟ یقیناً ہم اس اخبار سے احتجاج کےلئے کم از کم ایک خط تو لکھ سکتے ہیں نا! ہمیں بے ضرر احتجاج کی ریت اپنانا ہوگی تاکہ متعلقہ شعبے کے لوگوں کو اندازہ ہو کہ ان کا یہ کام ہمیں پسند نہیں ہے۔
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-11-09, 09:51 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گلاب بھائی
شاید آپ مجھ سے اتفاق کریں کہ لوگوں کی ذہن سازی اور دلچسپی و عدم دلچسپی بنانے میں ذرائع ابلاغ کا کردار سب سے اہم ہے
اور شوبز سے یہ لگاؤ پیدا کس نے کیا؟ گھروں، محلوں، گلیوں میں تو یہ چیزیں نہ دکھائی جاتی ہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے
اسی میڈیا نے عوام کہ شوبز کا دلدادہ و گرویدہ بنا دیا ہے اور اسلامی تعلیمات سے دور کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ آپ کہیں گے کہ سارا قصور میڈیا کا نہیں لیکن میں کہوں گا کہ 70% میڈیا ذمہ دار ہے۔

اصلاح فرد میں صحافت کا کردار تبھی ادا ہوگا کہ جب اخلاقیات کے معیارات کی پابندی کی جائے، اپنی روایات اور اپنے کلچر کو فروغ دیا جائے
لیکن آپ کوئی بھی ملکی چینل کھول کر دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانیت یا اسلام تو ’چراغ رخ زیبا‘ کے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا
ہر طرف انڈیا اور مغربی لائف سٹائل کے نت نئے نمونے پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں وہ ساری چیزیں اس طرح عام ہو گئی ہیں کہ بعض اوقات مارے حیرت کے منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla (01-09-11)
پرانا 04-11-09, 09:52 AM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گلاب بھائی
شاید آپ مجھ سے اتفاق کریں کہ لوگوں کی ذہن سازی اور دلچسپی و عدم دلچسپی بنانے میں ذرائع ابلاغ کا کردار سب سے اہم ہے
اور شوبز سے یہ لگاؤ پیدا کس نے کیا؟ گھروں، محلوں، گلیوں میں تو یہ چیزیں نہ دکھائی جاتی ہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے
اسی میڈیا نے عوام کہ شوبز کا دلدادہ و گرویدہ بنا دیا ہے اور اسلامی تعلیمات سے دور کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ آپ کہیں گے کہ سارا قصور میڈیا کا نہیں لیکن میں کہوں گا کہ 70% میڈیا ذمہ دار ہے۔

اصلاح فرد میں صحافت کا کردار تبھی ادا ہوگا کہ جب اخلاقیات کے معیارات کی پابندی کی جائے، اپنی روایات اور اپنے کلچر کو فروغ دیا جائے
لیکن آپ کوئی بھی ملکی چینل کھول کر دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانیت یا اسلام تو ’چراغ رخ زیبا‘ کے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا
ہر طرف انڈیا اور مغربی لائف سٹائل کے نت نئے نمونے پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں وہ ساری چیزیں اس طرح عام ہو گئی ہیں کہ بعض اوقات مارے حیرت کے منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-11-09, 12:40 AM   #14
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,787
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے بھائی آپ نے بہت درست بات فرمائی۔ میڈیا رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ میڈیا چاہے وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک وہی کچھ پیش کرتا ہے جو عوام چاہتے ہیں۔ میڈیا بذات خود کچھ بھی نہیں وہ تو عوام اور لوگوں سے چلتا ہے، اگر لوگ اس پر جو میڈیا میں‌ پیش کیا جاتا ہے احتجاج کریں اور نہ پڑھیں‌ یا نہ دیکھیں‌ تو میڈیا وہ سب کچھ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگا جو وہ پیش کررہا ہے۔ میرا خیال ہے ہمیں اپنی پسند اور ضرورت کی ڈیمانڈ کرنی چاہیے اور اس کے لئے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
لوگ کرکٹ میچ دیکھنا چاہتے ہیں ہم نے دیکھا کہ بہت سارے ٹی وی چینلز کرکٹ میچ دیکھانا چاہتے ہیں اور نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی پیشکشیں کرتے نظر آتے ہیں اس لئے کہ لوگ کرکٹ میچ دیکھنا چاہتے ہیں اور جو چینل میچ دیکھائے گا لوگ وہ چینل اس دوران زیادہ دیکھیں گے اور اس چینل کو فائدہ ہوگا۔ اکثر نیوز چینلز بھی خبروں‌ کے دوران سکور کارڈ ساتھ ساتھ دیتے ہیں کہ لوگ ان کا چینل چھوڑ کر دوسرا چینل نہ دیکھیں۔
اسی طرح‌ خبروں کے چینلز کو دیکھیں جو ٹی وی زیادہ اچھی کوریج کرتا ہے اور جلد خبر نشر کرتا ہے لوگ اس کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ چینلز یونہی کسی شعبہ پر زیادہ توجہ نہیں دیتے وہاں بھی کام کرنے والے انسان ہیں اور انہیں اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا دیکھنا اور سننا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کے رجحان کے مطابق پروگرام پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح‌ اخبارات اور رسائل کو دیکھ لیں وہاں‌ بھی کچھ ایسی ہی صورتحال آپ کو نظر آئے گی۔
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فورم, پوسٹ, پسند, قرآنی, نظر, مسائل, معلوم, معاشرہ, آج, آزادی, اللہ, انگریزی زبان, انٹرنیٹ, اردو, اسلام, اسلامی, بہترین, تحریری, جواب, خوش, خان, صفحات, صالح, صحافت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے؟؟ proiub دلچسپ اور عجیب 5 10-12-10 08:22 AM
کیا کورل ڈرا 15 میں بھی فوٹو شاپ کی طرح سلائسنگ کی جاسکتی ہے ؟؟ عبیداللہ عبید ویب ڈیزائینگ 4 14-11-10 09:01 PM
ہمیں ماں ایک دن کے لیے یاد آتی ہے؟؟ خرم شہزاد خرم والدین اور بچوں کے حقوق 22 30-05-10 10:36 PM
ہم د و2 بار مریں گئے ؟؟ اور دو2 بار زندہ ہونگے ؟؟ حیدر Rehan علوم قرآن کریم 30 22-12-09 04:08 PM
کیا پارلیمنٹ کیری لوگر بل کو مسترد کر سکتی ہے؟؟/؟؟ راجہ اکرام گپ شپ 9 11-10-09 07:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger