واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری



شعر و شاعری شعر و شاعری


ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-03-08, 05:43 AM   #1
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,156
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

اجمل نیازی کی ایک غزل پیش خدمت ہے۔
Attached Thumbnails
ajmal-gif072-gif  
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
شہر, غزل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پرازفرحت اشتیاق زارا ناول 2 20-01-11 02:33 PM
ایک صاحب خود کو بہت زیادہ عقلمند سمجھتے تھے The Great قہقہے ہی قہقے 7 15-11-09 06:31 PM
اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے wajee شعر و شاعری 1 22-10-09 09:48 PM
باپ بیٹے سے: تم کب تک پڑھتے رہے تھے؟ The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-09-09 04:56 PM
کتابوں میں گلاب رکھتے تھے اسد لطیف شعر و شاعری 4 13-03-09 03:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger