|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
کبھی موم بن کے پگھل گیا
کبھی گرتے گرتے سنبھل گیا وہ بن کہ لمحہ گزر گیا میرے پاس سے وہ نکل گیا اسے روکتا تو کس طرح کہ ہو شخص اتنا عجیب تھا کبھی تڑپ اٹھا میری آہ سے کبھی اشک سے نہ پگھل سکا سرِ راہ ملا تھا وہ ، اگر کبھی تو نظر چرا کے گزر گیا وہ اتر گیا میری آنکھ سے میرے دل سے کیوں نہ اتر سکا وہ چلا گیا دیس چھوڑکے میں وہاں سے پھر نہ پلٹ سکا وہ سنبھل گیا یاور مگر میں بکھر کے پھر نا سنبھل سکا |
|
|
|
| وجدان کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (13-10-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اشکوں سےنہ پگھلنے والے آہ پر نہیں تڑپا کرتے۔
|
|
|
|