| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیض اور فیض کے غم کے نام
موسمِ گل کے قدم جانے کہاں کون سے رستے پہ مڑے اس طرف تو نہیں آۓ شاید موسمِ گل کے قدم راستہ گھر کا مرے بھول گۓ ہیں شاید (جو کوئی مشکل تو نہ تھا ) ابتدا سے مری تقدیرمیں لکھّے ہیں وہی دشتِ امکاں کے سراب جو مرے خون میں شامل ہیں بصارت میں، سماعت میں گھُلے گفتگو ۔ لمس۔ نظر میں شامل اور یہ عالم ہے مرا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا مجھ کو کب ہوئیں ، جلوہ گہِ وصل کی شمعیں روشن کب کسی مہرِ جدائی سے اندھیرے پھوٹے خواہشِ ہجر ہو کب عرضِ وصال پھول مہکیں تو ہنسا جاۓ کہ رویا جاۓ دل جو خوں ہو تو میں روؤں کہ ہنسوں جشن کا غم ہو کہ ماتم کی خوشی اب تو کچھ بھی مجھے احساس نہیں ہوتا ہے موسمِ گل کےقدم جانے کب آئیں مرے گھر کی طرف کب مٹیں گے یہ سراب کس طرف جاکے رکے ’’ قافلۂ نکہت غم‘‘ |
|
|
|