واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری



شعر و شاعری شعر و شاعری


دیوان ناصر کاظمی (حصہ اول)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-07-07, 12:39 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دیوان ناصر کاظمی (حصہ اول)

دیوان ناصر کاظمی (حصہ اول)

[ترمیم] آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو




یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید

اس رنجِ بے خمار کی اب انتہا بھی ہو




یہ کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر

جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو




ٹوٹے کبھی تو خوابِ شب و روز کا طلسم

اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو




دیوانگئِ شوق کو یہ دھن ہے کہ ان دِنوں

گھر بھی ہو اور بے درودیوارسا بھی ہو




جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں

رہزن کا خوف بھی نہ رہے درکھلا بھی ہو




ہر ذرہ ایک محملِ عبرت ہے دشت کا

لیکن کسے دکھاؤں کوئی دیکھتا بھی ہو




ہر شے پکارتی ہے پس پردۂ سکوت

لیکن کسے سناؤں کوئی ہم نوا بھی ہو




فرصت میں سن شگفتگئِ غنچہ کی صدا

یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو




بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے

کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو




بزم سخن بھی ہو سخنِ گرم کے لیے

طاؤس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو










[ترمیم] نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں




آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں




نہ ملا کر اداس لوگوں سے

حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں




آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں




جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں

رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں




آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر

پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں













[ترمیم] ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے
گو باغباں یہ کنجِ چمن مجھ سے سے چھین لے




گر احترام رسمِ وفا ہے تو اے خدا

یہ احترامِ رسمِ کہن مجھ سے چھین لے




منظر دل و نگاہ کے جب ہو گئے اداس

یہ بے فضا علاقۂ تن مجھ سے چھین لے




گل ریز میری نالہ کشی سے ہے شاخ شاخ

گل چیں کا بس چلے تو یہ فن مجھ سے چھین لے




سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں

کس کی مجال میرا چمن مجھ سے چھین لے!













[ترمیم] پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے




پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں

رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے




پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں

پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے




پہلے تو میں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا

بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے




دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا

جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے










[ترمیم] مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے




میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا

یہ بستی چین سے کیوں سور رہی ہے




چلے دل سے امیدوں کے مسافر

یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے




نہ سمجھو تم اسے شور ِبہاراں

خزاں پتوں میں چھپ کے رو رہی ہے




ہمارے گھر کی دیواروں پر ناصر

اداسی بال کھولے سو رہی ہے










[ترمیم] ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے




کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے وہ کل مٹ جائے گا

روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے




کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا لہو

نامِ خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے




کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں

اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے




کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے

رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے










[ترمیم] سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
مہکتے میٹھے دریاوں کا پانی




یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے

سنا ہے میں نے لوگوں‌کی زبانی




یہاں اک شہر تھا شہرِ نگاراں

نہ چھوڑی وقت نے اس کی نشانی




میں وہ دل ہوں دبستانِ الم کا

جسے روئے گی صدیوں شادمانی




تصور نے اُسے دیکھا ہے اکثر

خرد کہتی ہے جس کو لا مکانی




خیالوں ہی میں‌اکثر بیٹھے بیٹھے

بسا لیتا ہوں اک دنیا سہانی




ہجومِ نشّۂ فکرِ سخن میں

بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی




بتا اے ظلمتِ صحرائے امکاں

کہاں ہوگا مرے خوابوں‌کا ثانی




اندھیری شام کے پردوں میں‌ چھپ کر

کسے روتی ہے چشموں کی روانی




کرن پریاں اترتی ہیں کہاں سے

کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی




پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی

اُڑے جائے ہیں اوراقِ خزانی




نئی دنیا کے ہنگاموں میں‌ ناصر

دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی










[ترمیم] رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر




بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر

آرہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر




تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک

کوئی دن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر




تیرے قدموں سے جاگیں گے اُجڑے دلوں کے ختن

پا شکستہ غزالِ حرم صبر کر صبر کر




شہر اجڑے تو کیا ہے کشادہ زمینِ خدا

اک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر




یہ محلاّتِ شاہی تباہی کے ہیں منتظر

گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر




دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف

خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر




لہلہا ئیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں

کھل کے برسے گا ابر کرم صبر کر صبر کر




کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے

دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر




پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل

کوئی دم اے صریر قلم صبر کر صبر کر




درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے

ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر




دیکھ ناصر زمانے میں کوئی کسی کا نہیں

بھول جا اُس کے قول و قسم صبر کر صبر کر










[ترمیم] دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
یاد نے کنکر پھینکا ہوگا




آج تو میرا دل کہتا ہے

تو اس وقت اکیلا ہوگا




میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے

اوروں کو خط لکھتا ہوگا




بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں

تو اب تھک کے سویا ہوگا




ریل کی گہری سیٹی سن کر

رات کا جنگل گونجا ہوگا




شہر کے خالی اسٹیشن پر

کوئی مسافر اترا ہوگا




آنگن میں پھر چڑیاں بولیں

تو اب سو کر اٹھا ہوگا




یادوں کی جلتی شبنم سے

پھول سا مکھڑا دھویا ہوگا




موتی جیسی شکل بنا کر

آئینے کو تکتا ہوگا




شام ہوئی اب تو بھی شاید

اپنے گھر کو لوٹا ہوگا




نیلی دھندلی خاموشی میں

تاروں کی دھن سنتا ہوگا




میرا ساتھی شام کا تارا

تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا




شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو

میرا سلام تو بھیجا ہوگا







پیاسی کرلاتی کونجوں نے




میرا دکھ تو سنایا ہوگا










میں تو آج بہت رویا ہوں




تو بھی شاید رویا ہوگا










ناصر تیرا میت پرانا




تجھ کو یاد تو آتا ہوگا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (15-11-08)
جواب

Tags
فن, وفا, چین, ممکن, آبادی, ترمیم, خون, خدا, دل, سفر, شہر, شور, شام, شخص, غم, غزل, صف, صنم, صبر, صدیوں, صدا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایوانِ وزیراعلیٰ پنجاب کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی بنادیا گیا عبدالقدوس خبریں 4 03-05-11 10:06 AM
ہاورڈ یونیورسٹی کے نمائندے کو معزول چیف جسٹس کو ایوارڈ دینے سے روک دیا گیا عبدالقدوس خبریں 1 01-03-11 08:30 PM
ایوان صدر اور وزیراعظم کے سکیورٹی اہلکاروں کی مکمل چھان بین شروع گلاب خان خبریں 1 01-03-11 08:25 PM
”آئیفا ایوارڈزکاؤنٹ ڈاؤن“ اور ”آئیفا ایوارڈزویک اینڈ ود اسٹارز“آج جیو سے پ عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 09:51 PM
یورو کپ فٹبال:روس، ہالینڈکو3-1شکست دے کرسیمی فائنل میں پہنچ گیا بیسل … یور عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 09:32 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger