|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,598
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,249 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے
اور وہ بھی یوں سرِ عام؟ خُدا خیر کرے لب پہ آیا ہے ترا نام، خُدا خیر کرے ہو نہ جائیں کہیں بدنام، خُدا خیر کرے جب بھی ہاتھوں کی لکیروں پہ نظر ڈالی ہے میں نے دیکھا ہے ترا نام، خُدا خیر کرے آہ اربابِ خرد کی یہ سبک سامانی خود شناسی ہوئی الزام، خُدا خیر کرے آزمائش ہے یہ آدابِ جنوں کی شاید کوئی آیا ہے لبِ بام، خُدا خیر کرے جب کبھی زیست میں ہم حدِ یقیں سے گزرے بن گئے بندۂ اوہام، خُدا خیر کرے سر جھکائے ہوئے چلتا ہوں مگر اہلِ خرد اس کو کہتے نہیں اسلام، خُدا خیر کرے یاد ہے کون ہے یہ سرورِ آوارہ خصال آپ کا بندۂ بے دام! خُدا خیر کرے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (10-07-09) |