|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,563
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک نظم
ہم آج بھی چپ کھڑے ہوۓ ہیں سوچا تھا کہ آج در کھلے گا اور کوئی حسین شاہزادی ہاتھوں میں سنبھالےسچے موتی آتے ہی بکھیر دے گی سارے آنکھوں سے جو اپنی ہم چ)نیں گے مدت سے خزانہ ہے جو خالی بھر جاۓ گا موتیوں سے ....... لیکن .............. دستک کاجواب کچھ نہیں ہے اب تک بھی یہ در کھلا نہیں ہے آنکھوں کی خلا چھپاۓ سب سے ہم آج بھی چپ کھڑے ہوۓ ہیں |
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (17-09-10) |
![]() |
| Tags |
| آج |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|