|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,564
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک تلخ نظم
مجھے بچپن کی یادیں آ رہی ہیں جب بڑوں کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے ڈھیر سی میٹھی دعائیں لے کے خوش ہوتا تھا ’’ تمہارا جسم کڑوے نیم کے پیڑوں سا لمبا ہو‘‘ مگر اب مجھ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں لمبا سہی پر نیم کے ُیڑوں کے اتنا تو نہیں ہوں نیم کے پتّوں کی تلخی میری ساری زندگی میں گھل گئی ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,469
شکریہ: 50,033
10,118 مراسلہ میں 32,003 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بچپن کی یادیں آ رہی ہیں
جب بڑوں کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے ڈھیر سی میٹھی دعائیں لے کے خوش ہوتا تھا اللے کرے تمہاری شادی ہو اور بچے ہزار ہوں مگر اب مجھ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں بوڑھا ہوتا جا رہا ہوں اور ہزاروں بچے نہ سہی ایک آدھ بیوی ہی مجھے اپنی زندگی میں مل جائے شاعر : بدر الزمان |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (10-12-10) |
![]() |
| Tags |
| ہوتا, ہزار, کرے, ھے, یادیں, لے, چھوٹے, مگر, مل, اپنی, اسکا, بیوی, بچپن, بچے, بدر, تمہاری, خوش, دعا, دعائیں, زندگی, شادی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|