| شعبہ طب شعبہ طب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,524
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے کسی شخص کے قد پر اثر انداز ہونے والے ابتدائی جین کو دریافت کر لیا ہے۔
وہ لوگ جن میں دو لمبے ایچ ایم جی ٹو جین پائے جاتے ہیں ان کے قد ان افراد سے ایک سینٹی میٹر بڑے ہوتے ہیں جن میں ایچ ایم جی ٹو جین چھوٹے ہوتے ہیں۔ محقیقین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس دریافت کی مدد سے قد اور بیماری کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ ’نیچر جینیٹکس‘ نامی رسالے میں شائع ہونےوالی اس تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب قد کو کنٹرول کرنے والے بہت سے دیگر جینز بھی مخفی نہیں رہیں گے۔ اگرچہ اس بات کی کافی عرصہ قبل وضاحت کی جا چکی ہے کہ جینیات کسی شحص کے قد کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم اس عمل میں حصہ لینے والے جینز کے بارے میں ابھی تک ایک اسرار پایا جاتا تھا۔ حالیہ تحقیق ہارڈورڈ یونیورسٹی، چلڈرنز ہاسپٹل بوسٹن، آکسفرڈ یونیورسٹی اور پینینسولا میڈیکل سکول کی مشترکہ کاوش ہے۔ انہوں نے سفید رنگت کے حامل پانچ ہزار یورپی مریضوں کے جینومز کا تجزیہ کیا جنہوں نے انہیں ذیابطیس اور دل کی بیماریوں کی طبی تحقیق کے لیے اپنے ڈی این اے کے نمونے، قد اور وزن کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔ دوران تحقیق سائنسدانوں نے یہ پتہ لگایا کہ ایچ ایم جی ٹو نامی جین میں محض ایک معمولی سی تبدیلی نے کسی شخص کے قد پر اثر ڈالا۔ نتائج کی تصدیق مزید تیس ہزار مریضوں میں اس جین کے دو اہم یکساں ورژنز کی تلاش کے بعد کی گئی۔ سفید رنگت کے حامل تقریباً پچیس فیصد یورپینز میں دو لمبے ایچ ایم جی ٹو جین پائے جاتے ہیں جبکہ ایک چھوٹے تناسب میں دو چھوٹے ایچ ایم جی ٹو جین موجود ہوتے ہیں۔ کسی شخص میں ایک لمبے ایچ ایم جی ٹو جین کی موجودگی سے اس کے قد میں صفر اعشاریہ پانچ سینٹی مینٹر جبکہ دو لمبے ایچ ایم جی ٹو جین کی موجودگی سے قد میں تقریباً ایک سینٹی میٹر تک اضافہ ہوتا ہے۔ پچھلی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایچ ایم جی ٹو جین انسانی جسم کی بڑھوتی میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس جین میں غیرمعمولی اور شدید تبدیلیاں انسانوں اور چوہوں کی جسامت میں ڈرامائی ردوبدل کا سبب بنتی ہیں۔ اعداد و شمار کے اعتبار سے لمبی قامت کے افراد میں پروسٹیٹ گلینڈز، مثانے اور پھیپھڑے کے سرطان کا خطرہ جبکہ اس کے برخلاف کوتاہ قامت افراد میں دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حالیہ تحقیق سے حاصل نتائج کے بارے میں ہارڈورڈ یونیورسٹی میں جینیاتی سائنس کے ایک ماہر پروفیسر جوئل ہرشہارن کا کہنا تھا کہ’یہ پہلے قابل قبول نتائج ہیں جو اس بات کی وضاحت کرتے ہیں ڈی این اے انسان کے قد میں معمولی تبدیلیاں پر کس طرح سے اثر انداز ہو سکتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’قد ایک پیچیدہ امتیازی خصوصیت ہے جس کے پیچھے کئی قسم کے جنیاتی اور غیر جنیاتی عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ ان نتائج سے ہمیں سرطان، ذیابطیس اور دوسری انسانی بیماریوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔‘ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مراسلات: 40
کمائي: 35
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہن بہت خوب بھائی جان کیا بات ہی۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| لوگ, بھائی, تلاش, دل, دریافت, شخص, صفر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہم گناہ گار بھی ہیںتیرے پرستاروں میں | ابوسعد | شعر و شاعری | 3 | 04-03-11 12:09 AM |
| چاکلیٹ سے اپنی عمر معلوم کریں! | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 3 | 05-11-08 02:34 AM |
| کم از کم پنشن 2 ہزار مزدوروں کےلئے 80 ہزار فلیٹ بنائے جائیںگے | محمدعدنان | خبریں | 2 | 03-05-08 04:09 PM |
| اب انٹرنیٹ بند نہیںہوگا | عبدالقدوس | آئیں کمپیوٹر سیکھیں | 7 | 28-12-07 07:45 AM |