واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > عمومی سائنس > شعبہ طب



شعبہ طب شعبہ طب


ہومیو پیتھک اور طب ہونانی- طریقہ علاج کی ایک غلطی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-08-09, 10:09 AM   #16
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[COLOR="Navy"]محترم ممبران
میری نظر آج ہی اس دھاگے پر پڑی ہے۔۔۔
خوشی ہوئی کہ میری ایک فیلڈ سے متعلقہ موضوع پر گفتگو ہو رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کچھ باتیں درست بیان کی گئی ہیں اور کچھ میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
میں اس موضوع پر کافی کچھ لکھ چکا ہوں ۔۔۔ مختلف فورم پر۔۔ تاہم جونکہ اس فورم پر میں ایک مختلف انداز اپنا وقت گذارنا چاہ رہا تھا لہذا یہاں میں نے ایسا کوئی دھا گہ نہیں بنایا۔۔۔جو ہومیو پیتھی سے متعلقہ ہو۔ ہاں یہ الگ بات کچھ ممبران نے مجھ سے جب بھی ذاتی پیغام کے ذریعے مشورہ مانگا میں نے دیا۔۔
بہر حال اب بات چھڑی ہوئی ہے۔ تو میں ضرور اس میں شامل ہونا چاہوں گا۔۔
ہومیو پیتھی واحد شعبہ طب ہے جو با قاعدہ ، منظم اور پائیدار فلاسفی کی بنیا د پر وجود میں آیا۔
سب سے دلچسپ بات یہ کہ اس شعبہ طب کا بانی ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھا جو اپنے شعبے سے مطمئن نہ تھا اور انسانیت کی فلاح کیلئے پائیدار طریقہ طب کا حامی تھا۔

سب سے پہلے تو میں اس دھا گے میں پوچھی گئی با ت کا جواب دیتا ہوں۔
جی ہاں ۔۔۔ بہت سے حکیم اور ڈاکٹر مریض کو نسخہ لکھ کر نہیں دیتے۔۔
اس کی کچھ ممکنہ وجوہا ت درج ذیل ہیں
- مریض کہیں ان دوائیوں کو۔۔ بغیر مشورہ کیے استعمال کرنا شروع نہ کردے۔۔ یا دوسروں کو نہ دینا شروع کردے ۔۔ کیوں کہ ہمارے ہاں یہ بات عام ہے۔۔ ایک مریض اگر کسی دوائی سے ٹھیک ہوجا تا ہے تو وہ ہر ایسے مریض کو اسکے استعمال کا مشورہ دینا فرض سمجھتا ہے۔ جو اس مرض یا ملتی جلتی مرض کا ہو۔
- ہومیو پیتھی میں بعض اوقات ہم ایک دوائی کی صر ف ایک خوراک دے کر اسکے اثرات کا جا ئزہ لیتے ہیں تا ہم مریض کے اطمینا ن کی خاطر اسے سادہ گولیاں دی جا تی ہیں جو وہ روٹین میں لیتا رہتا ہے۔ ۔۔ ۔۔۔۔ ایسے مریض کو دوائی لکھ کر نہیں دی جا سکتی مبادا وہ کسی وجہ سے اگر ڈاکٹر سے رابطہ نہ کرسکے تو کہیں خو د سے وہ دوائی لینا نہ شروع کر دے۔ ۔۔۔ کچھ دوائیا ں زیادہ مقدار یا زیادہ دہرائی سے بہت خطر ناک نتا ئج دے سکتی ہے۔ ۔۔۔ لہذا مریض کی بھلائی کی خاطر دوائی لکھ کر نہیں دی جاتی
۔۔ کچھ ڈاکٹر اپنے نسخوں کو عام نہیں کرنا چا ہتے۔ یا یوں کہیے کہ وہ اپنے علم اور تحقیق کو اپنی ذات تک محدود رکھنا چا ہتے ہیں۔ تا کہ مریض صر ف ان کے پاس آئے۔
یہ غلط سوچ ہے۔ اور عموما حکماء ز میں پا ئی جا تی ہے۔ انتہائی معذرت کیساتھ۔ کیونکہ بہت سارے حکماء اپنے نسخے اپنی اولاد کو ہی دیتے ہیں۔ بعص ہومیو اور ایلو ڈاکٹر بھی ایسا کرتے ہیں جو بہر حال غلط ہے۔
-------------
اب سوال یہ کہ اگر لکھ کر نسخہ دیا جائے تو اس سے مریض کی کیا بھلا ئی ہو سکتی ہے۔؟
جی اس بارے میں مختلف طرز عمل دیکھنے میں آتا ہے۔
بہت کم ڈاکٹر یا حکیم دوسرے ڈاکٹر یا حکیم کی دی گئی دوائی کو درست قرار دیتے ہیں۔ اکثریت سانقہ ڈاکٹر یا حکیم کو اہلیت پر ناروا تبصرہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور یہ بات طب کے پیشے تک ہی محدود نہیں۔ ہمار ا عام زندگی میں عموما رویہ اسی طرح کا ہوتا ہے۔
یقینا سابقہ ہسٹری مریض کی مزید دوائی تجویز کرنے میں ممد و معاون ہوتی ہے۔ تاہم ہومیو پیتھی میں اگر آپ اچھے ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ آپ کی زبانی بیان کردہ تفصیلات ، ہسٹری، جسمانی ساخت، گفتگو، مزاج وغیرہ کی مد د سے درست دوائی دے سکتا ہے ۔ اور اس میں لازم نہیں کہ وہ ہرصورت میں سا بقہ دی گئی دوائیوں کی تفصیل سے آگا ہ ہو- ہاں اگر ایساہو جائے تو بہتر ہو تا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر ڈاکٹر ، حکیم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ انہیں دی گئی ادویات یا اس دوائی کے تجویز کرنے کی وجوہات کا ذکر کر نے میں کیا امر ما نع ہوتا ہے۔؟
کچھ وجوہات تو میں نے اوپر درج کر دی ہیں-
تا ہم ایک اہم نکتہ جس کا ذکر کر نا ضروری ہے ۔ وہ تعلیم کی کمی کا ہے۔
یہاں میرے کسی محترم نے تحر یر کیا ہے کہ ہومیوڈاکٹرز اور حکیم جاہل ہوتے ہیں ( سوری اوپر جو الفا ظ لکھے گئے ہیں میں ان کا مفہوم دے رہا ہوں۔ صحیح فقرہ ابھی ذہن میں نہیں آرہا۔
میں خود بھی چونکہ ہومیوپیتھی کا ادنی سا طالب علم ہوں تو اصولی طور مجھے اس بات پر غصہ آنا چا ہے مگر غصہ نہیں کر رہا ۔ کیوں کہ میں یہ جانتا ہوں ۔ کہ ہمارے ہاں حکمت اورہومیو پیتھی کو دوسرے درجے کی طب جا نا جا تا ہے اور عموما میٹر ک پاس لوگ ہی اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ لہذا تعلیم کی کمی کی وجہ سے اکثر غلط رویے اپنا لیے جا تے ہیں ۔ اور صر ف اپنے والد وغیرہ سے یا کسی رشتہ دار سے حا صل کر دہ نسخوں کو ہی " علم کل " سمجھا جا تا ہے اور جنہیں بہت فخر سے خاندانی نسخے کہ کر مریضوں کی توجہ حا صل کی جا تی ہے۔ یہ رویہ درست نہیں۔ اور علم کی کمی کا غماز ہے۔
جدید علم کسی ایک شعبہ طب کی میراث نہیں۔ جد ید ٹیکنالوجی جو میڈیکل کے شعبے کو سہولت بہم پہچانے کیلئے ایجاد کی گئی ہے۔ وہ کسی ایک شعبے کیلئے نہیں ہے ۔ بلکہ تما م شعبہ ہائے طب اس سے فا ئدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بد قسمتی سے اور ایلوپیتھی ڈاکٹرز اور ان سے متعلقہ ادارے اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں اور حکماء اور ہومیوڈاکٹرز کو اس سے دور رکھا جا تا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں سب لوگ ان کو استعمال کرتے ہیں ۔ ہاں اسکی رائج تعلیم حا صل کرنا ضروری ہے۔
ہمارے ہاں چونکہ ہومیو پیتھی کو ڈرگ مافیا اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتی ہے لہذا اس شعبے کو ذلیل کرنے میں دامے ، درمے ۔ سخنے ہر قدم اٹھا یا جا تا ہے۔میں تفصیل میں نہیں جا وں گا۔
ہومیوپیتھی بہت سستا طریقہ طب ہے۔ اور عارضی سکون یا افاقہ دینے کے بجا ئے مکمل بحا لئ صحت پر یقین رکھتا ہے۔
ہمیں ضرورت صرف ہومیو پیتھی کے تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی ہے۔ اس کیلئے الحمد للہ بہت کا م ہو رہا ہے۔اور
خصوصی طور پر اس کے ڈپلومہ کے معیار کو بہتر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ( اس سلسلے میں امریکہ کی ایک معروف تنظیم " ہومیوپیتھی ورلڈ کمیونٹی" کی ویب سا ئٹ پر آپ میر ے بلاگ کا مطا لعہ کرسکتے ہیں وہاں میں نے اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ (

معاشرے کی" کریم" ایلوپیتھی کی طرف راغب ہوتی ہے۔ تمام اچھے طالب علم ایلوپیتھک ڈاکٹر بننا چا ہتے ہیں کیوں کہ وہاں ان کو مستقببل میں سٹیٹس اور " دولت" ملنے کا لا لچ ہو تا ہے۔ " دکھی انسا نیت " کی خدمت کا نعرہ تو سب لوگ لگا تے ہیں۔ مگر چند ہی اس پر کار بند ہوتے ہیں۔
ہومیوپیتھی کی طرف اور حکمت کی طرف بریلینٹ طلباء بہت کم آتے ہیں۔لہذا جو کھیپ با ہر نکلتی ہے۔ انکی اکثریت اس شعبے کی باریکیوں میں تحقیق کرنے کے بجائے محض نسخوں اور شارٹ کٹ کمبی نیشن سے کا م چلاتی ہے۔ یوں یہ پیشہ
مزید بدنا م ہوتا ہے۔ اور لوگ سب ہومیوڈاکٹرز اور حکیموں کو " جا ہل " کہنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
جہاں ہمیں حکمت اور ہومیوپیتھی کے شعبوں کے معیا ر تعلیم کو بلند کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں ایک مخصوص ما فیا کے پروپیگنڈا کے زیر اثر عام لوگوں کے رویے میں بھی تبدیلی لا نے کی ضرورت ہے۔
ہومیوپیتھی اور حکمت صدیوں سے رائج شعبہ ہا ئے طب ہیں ۔ اور حکومتوں اور عوام کی نا قدری کا شکا ر ہیں۔ ہمیں مل جل کر اس کیلئے کا م کر نا ہے۔
کیا ہومیوپیتھی اور حکمت کا یہ کمال نہیں کہ صدیاں گذرنے کے باوجود انکی ایک میڈیسن بھی 'بین" نہیں ہوئی جبکہ ہرسال سینکڑوں انگریزی ادویات مضر اثرات کی بنا پر " بین" ہوتی ہیں ۔ ۔۔۔
[/COLOR]

Last edited by ڈاکٹرنور; 21-08-09 at 10:19 AM.
ڈاکٹرنور آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
comments, فورم, فارم, ہسٹری, کمپیوٹر, لوگ, نظر, مکمل, میراث, آج, اللہ, انگلش, انسان, انشا, امریکہ, بہترین, بھائی, تعلیم, جلد, جاہل, حل, حال, سافٹ, علاج, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پریڈ کرنے والے انڈین فوجیوں کے گھٹنے جواب دے گئے ۔ ڈھیلی ڈھالی پریڈ جاویداسد خبریں 20 17-11-10 06:22 AM
نیو اردو ناولز، نیو بکس (all in PDF format) افتخاراحمد کتاب گھر 19 09-05-10 02:09 PM
جیو آئندہ ماہ سے 3/ نئے پروگرام شروع کریگا کراچی(جنگ نیوز) جیو ٹی وی نے ہم عبدالقدوس خبریں 1 22-06-08 10:24 PM
یو ٹیوب سے ویڈ یو کیسے ڈاون لوڈ کریں aazamiqbal Ask Experts ماہرین کی رائے 22 01-05-08 03:46 PM
نشریات معطل کرکے صرف جیو نہیں، پوری قوم پر پابندی لگائی گئی ہے ،بینظیر بھٹو کی جیو کے دورے کے موقع پر گفتگو خرم شہزاد خرم خبریں 0 20-11-07 10:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger