واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں ( حصہ دوم)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-03-10, 03:22 PM   #1
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں ( حصہ دوم)

کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں ( حصہ دوم)

کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں ( حصہ اول)یہاں پڑھیں


تحریر : محمودالحق

شاعری کا تیسرا دور 1908 تا 1923
علامہ صاحب کے شاعری کے تیسرے دور میں گورا راج نے 1911 میں ہندوؤں کی مخالفت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے تقسیم بنگال کو منسوخ کر دیا ۔ پھر 1913 میں مسجد شہید گنج کانپور کا واقعہ بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ جس نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کی تحریک میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرنے کی طرف پہلا قدم بنا دیا ۔ اور 1914 میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا ۔ جس میں ملت اسلامیہ کے مرکز خلافت عثمانیہ ترکی نے جرمنی اور جاپان کے ساتھ شامل ہوکر دنیا کی اتحادے ممالک کے خلاف صف آرا ہوا ۔برطانوی حکومت کے زیر اثر ہندوستان بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ سلطنت عثمانیہ ترکی کے خلاف جنگ میں شامل ہوا ۔ مسلمان جسے اپنا اسلامی مرکز سمجھتے تھے وہ اس سے پہلے ہی یورپ کے مرد بیمار کا مقام پا چکا تھا ۔اس جنگ کی وجہ سے آخری سانسوں پہ چلا گیا ۔مسلمان ترکی سے دلی وابستگی رکھتے تھے ۔اور اس جنگ میں ترکی کا کردار اتنا اہم نہیں تھا مگر انجام بہت اہم تھا ۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر جس طرح ترکی کے حصے بخرے کر کے بندر بانٹ کی گئی ۔ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے درد اور اذیت کا باعث تھی ۔اور اس جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ہندوستان کے اندر انتہا پسند تنظیموں کا اثر ورسوخ بڑھتا چلا گیا ۔جو مسلمانوں سے مفاہمت کی بجائے مخاصمت کی روش پر عمل پیرا تھیں ۔سیاسی جماعتیں سیاسی داؤ پیچ سے اس مسئلے کے حل میں کوشاں تھیں ۔
علامہ اقبال اپنی اس فکر کو اشعار کی زبان میں مجلسوں میں بیان کرتے ۔ اور قوم کے اندر نئی و ولولہ کو پیدا کرنے کی تحریک بنے ۔ ۔شعور کی بیداری اور تحریکوں کے آغاز نے قوم میں جو نئی روح پھونکی ۔ تو قومیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرتی چلی گئیں ۔ جوں جوں منزل قریب آتی گئی فاصلے بڑھتے چلے گئے اور راستے جدا ہوتے چلے گئے ۔
علامہ صاحب کی شاعری میں وہ تمام اثرات جو ان کی دلی کیفیت کے غماز تھے نمایاں نظر آتے ہیں ۔
بلاد اسلامیہ علامہ اقبال کی وہ نظم ہے کہ جس میں انہوں نے نہایت خوبصورت پیرائے میں پرچم اسلامی کی سر بلندی کی داستان بیان کر دی اور ان کا مکہ معظمہ و مدینہ منورہ سمیت اسلام سے عقیدت عشق کا اظہار پڑھنے کے لائق ہے۔
سرزميں دلی کی مسجود دل غم ديدہ ہے
ذرے ذرے ميں لہو اسلاف کا خوابيدہ ہے
پاک اس اجڑے گلستاں کی نہ ہو کيونکر زميں
خانقاہ عظمت اسلام ہے يہ سرزميں
ہے زمين قرطبہ بھی ديدہء مسلم کا نور
ظلمت مغرب ميں جو روشن تھی مثل شمع طور

مسلم ثقافت و تہذیب کی بدولت عالم دنیا میں عَلم اسلام کی سر بلندی کا ذکر بار بار کرتے ہیں اور گورستان شاہی میں بادشاہت کے متعلق ان کا انداز کلام کیا خوب ہے۔
خواب گہ شاہوں کی ہے يہ منزل حسرت فزا
ديدہء عبرت! خراج اشک گلگوں کر ادا
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا يہ رہ گزر
چشم کوہ نور نے ديکھے ہيں کتنے تاجور
اس نشاط آباد ميں گو عيش بے اندازہ ہے
ايک غم ، يعنی غم ملت ہميشہ تازہ ہے
دہر کو ديتے ہيں موتی ديدہء گرياں کے ہم
آخری بادل ہيں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم
ہيں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش ميں
برق ابھی باقی ہے اس کے سينہء خاموش ميں

علامہ اقبال نے اپنی ابتدائی شاعری میں ترانہء ہندی لکھا تھا مگر برصغیر کی بدلتی سیاسی صورتحال میں ان کی شاعری میں مسلم قومیت کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا ۔ جب وہ 1908 میں یورپ سے لوٹے تو ہندوستان میں تقسیم بنگال کو لے کر ہندوؤں نے واویلہ مچارکھا تھا کیونکہ مسلم اکثریتی مشرقی بنگال ( موجودہ :بنگلہ دیش) صوبہ بننے سے مسلم ترقی اور اکثریتی صوبہ ہندو سے برداشت نہیں ہو رہاتھا ۔ اور آخر کار گورا حکومت نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور 1911 میں تنسیخ تقسیم بنگال ہو گئی ۔ پھر ان کا رحجان شاعری میں ہندوستان کے ساتھ مسلمان کی طرف بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔ جیسے ان کا یہ ترانہ ملی ملاحظہ فرمائیں ۔

چين و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہيں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحيد کی امانت سينوں ميں ہے ہمارے
آساں نہيں مٹانا نام و نشاں ہمارا

یہ وہ دور ہے جب ان کی شاعری میں انسانیت ناطے اشعار کے کہنے کا مزاج بدل چکا تھا ۔ہندوستان کومسلم اسلاف کا امین قرار دیتے تھے ۔ان کے نزدیک بادشاہت کے خاتمے سے ہندوستان فتح ہوا تھا مسلمان نہیں ۔ اسی فکر کو انہوں نے جگانے کی کوشش کی ۔ جو بار بار اشعار کی صورت میں مسلم قوم میں اس جزبہ کو پیدا کرنے کا سبب ہو ئی۔مثلا ان کے کلام وطنيت (يعنی وطن بحيثيت ايک سياسی تصور کے( میں ان کا اسلوب بیان قومیت کی تعریف یوں کرتا ہے ۔
گفتار سياست ميں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت ميں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام ميں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قوميت اسلام کے جڑ کٹتی ہے اس سے


مسلمان قوم جس مشکل کا شکار تھی ۔طاقت کا توازن بگڑنے سے حاکم محکومی کے اس مقام پر جا پہنچے جہاں انہیں معاشی ومعاشرتی نا ہموار سماج کے ساتھ ساتھ غم روزگار کے بھی لالے تھے ۔ کئی دہاہیوں سے انہیں انگریزی تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا جارہا تھا ۔ انگریز بہادر کے ساتھ ساتھ ہندو صدیاں محکومی کا بدلہ انگریز کے کندھوں پر چڑھ کر مسلمانو ں سے لینا چاہتے تھے ۔ علامہ اقبال کا شکوہ بھی آرزدہ دل مسلمان کی پکار تھی ۔
کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا ميں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قديم
پھول تھا زيب چمن پر نہ پريشاں تھی شميم


جسٹس جاوید اقبال اپنی کتاب میں والد محترم کے متعلق لکھتے ہیں کہ علامہ صاحب جب واپس لوٹے تو انہیں ابتدا میں یورپ میں گزارے گئے اپنے دن یاد آتے رہے ۔جدید تعلیم سے آراستہ شاعری میں کہنہ مشق اقبال اس وقت کی سیاست کے لئے انتہائی موضوع اوصاف کے مالک تھے ۔مگر پرواز کی رغبت نہیں تھی تو خود کو کچھ اس انداز میں نصيحت فرماتے ہیں ۔
ميں نے اقبال سے از راہ نصيحت يہ کہا
عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند نماز
تو بھی ہے شيوہ ارباب ريا ميں کامل
دل ميں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز
جتنے اوصاف ہيں ليڈر کے ، وہ ہيں تجھ ميں سبھی
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شريک تگ و تاز
غم صياد نہيں ، اور پر و بال بھی ہيں
پھر سبب کيا ہے ، نہيں تجھ کو دماغ پرواز

مسلمان نوجوان جس دور سے گزر رہے تھے وہ انہیں جدید دنیا سے روشناس کرانے میں ایک اہم سمت چل رہا تھا ۔مشینی ترقی سے معاشرتی قدریں اکثر کمزور پڑ جاتی ہیں ۔اور یہی اس دور کا خاصہ تھا کہ نوجوانوں میں حقوق آزادی کی اُمنگ کی بجائے عیش ترنگ کی کیفیت طاری تھی ۔ جسے جنجھوڑنے کی ضرورت تھی ۔ علامہ صاحب نے خطاب بہ جوانان اسلام میں اسی پیغام کو باور کروایا ۔
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کيا تو نے
وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں ميں تاج سر دارا
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سےارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائی تھی
ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا


اس کے باوجود کہ حالات مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں تھے وہ مسلمانوں کے استقلال و نیت خلوص پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے کلام مسلم (جون1912ء( میں ایسے اظہار کیا ۔
آشکارا ہيں مری آنکھوں پہ اسرار حيات
کہہ نہيں سکتے مجھے نوميد پيکار حيات
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے
ہے بھروسا اپنی ملت کے مقدر پر مجھے

شکوہ لکھنے پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے جواب شکوہ لکھ کر تمام نقادوں ، معترضین کو لا جواب کر دیا کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہيں' طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
ہم تو مائل بہ کرم ہيں' کوئی سائل ہی نہيں
راہ دکھلائيں کسے' رہر و منزل ہی نہيں
تربيت عام تو ہے' جوہر قابل ہی نہيں
جس سے تعمير ہو آدم کی' يہ وہ گل ہی نہيں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی ديتے ہيں
ڈھونڈنے والوں کو دنيا بھی نئی ديتے ہيں

1911 میں تنسیخ بنگال نے مسلمانوں میں انتہائی مایوسی پیدا کر دی تھی ۔ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا ۔ ایک طاقت کا شاہسوار تو ایک کوڑا تھا ۔ مسلمان بیچارگی کی تصویر بنا اچھے مستقبل کی امید بھی کھوتا جا رہا تھا ۔ایسے میں علامہ صاحب کا یہ کلام نوید صبح (1912ء) حوصلہ و ہمت بندھانے کی نوید تھا ۔

آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحر
منزل ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر
محفل قدرت کا آخر ٹوٹ جاتا ہے سکوت
ديتی ہے ہر چيز اپنی زندگانی کا ثبوت
چہچاتے ہيں پرندے پا کے پيغام حيات
باندھتے ہيں پھول بھی گلشن ميں احرام حيات
مسلم خوابيدہ اٹھ ، ہنگامہ آرا تو بھی ہو
وہ چمک اٹھا افق ، گرم تقاضا تو بھی ہو

صرف قوم کوخوابیدگی سے اُ ٹھانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لئے دعا بھی نکلتی ان کے دل سے ۔
يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادي فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے

مغربی دنیا کے زیر اثرنوجوان مسلمان اپنی ثقافت و تہذیب بھی بھولتے جارہے تھے۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں تھا جنہوں نے قیادت کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھانی تھی اور وہی نئی تہذیب کی رعنائی کے دلدادہ ہوتے جارہے تھے وہ اپنے کلام تہذيب حاضر میں اسی نقطہ کو واضح کرتے ہیں ۔
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبيعت نے
يہ رعنائی، يہ بيداری ، يہ آزادی ، يہ بے باکی
تغير آگيا ايسا تدبر ميں، تخيل ميں
ہنسی سمجھی گئی گلشن ميں غنچوں کی جگر چاکی


علامہ اقبال مسلمانوں کو ان کے مذہب پر کاربند رہنے کو ان کی بحیثیت ملی تشخص قائم رکھنے کی بندش سمجھتے تھے ۔ مسلمانوں کا طرز حیات جدا ہے اور اسے چھوڑنے سے سارے ناطے رشتے مذہب کادھاگہ کھلنے سے ملت کےموتی بکھرنے کی مثل ہو جاتا ہے ۔ اسی پیغام کو انہوں نے اپنے کلام مذہب میں یوں بیان کیا ۔

اپنی ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکيب ميں قوم رسول ہاشمی
دامن ديں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعيت کہاں
اور جمعيت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی


اور پھر انہیں اس امید کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ اگر وہ مذہب سے بیگانہ نہ ہوں تو ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں چھوٹا ۔اس کے باوجود کہ قوم اپنا ماضی کھو چکی ہے۔لیکن انہیں اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہیئے کہ انہوں نے زوال کا تاریک دور دیکھا ۔ بلکہ انہیں ملت میں پرو کر رہنا ہو گا ۔اور نئی زندگی کی صبح کا انتظار کرنا ہو گا ۔

ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہيں ہے اسے برگ و بار سے
ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ!

علامہ صاحب کا یہ شعر!
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھی
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھی

کبھی کبھار ایسے موقع پر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جہاں کسی کو یہ باور کروانا ہو کہ جناب ابھی صبر رکھیں ۔ آپ اس قابل نہیں کہ پرواز کر سکیں ابھی آپ میں مقابلہ کا دم نہیں ۔ لیکن جب میں نے اس شعر کو پورے مفہوم کے ساتھ پڑھا تو علامہ صاحب کا عشق حقیقی ابھر کر آنکھوں کے سامنے آ گیا ۔ایسے ہی نقادوں کے لئے یہ اگلا شعر!
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھی

کہیں پھر کوئی نقاد نہ آ دھمکے کہ چیلنج ہو گیا اور علامہ صاحب کو جو میں خراج تحسین پیش کر رہا ہوں وہ بحث میں بدل جائے تو واپس موضوع کی طرف آتے ہیں اور ان اشعار کو پڑھتے ہیں ۔
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھی
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھی
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھی
بے خطر کود پڑا آتش نمردو ميں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی


اسی طرح علامہ صاحب کا یہ شعر بھی زبان زد عام ہے اور کسی پر طنز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔خاص کر اگر کبھی کوئی اچھا کام کی نیت کرے تو کہا جاتا ہے ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں
لیکن اگر پڑھتے جائیں تو انسان خود پڑھنے پڑ جاتا ہے کہ علامہ صاحب بہت بڑی بات کتنی آسانی سے کیسے کہہ گئے ۔ کہ پڑھتے جائیں تو مفہوم کیا سے کیا ہو جاتا ہے ۔
کبھی اے حقيقت منتظر نظر لباس مجاز ميں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہيں مری جبين نياز ميں
نہ کہيں جہاں ميں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز ميں
نہ وہ عشق ميں رہيں گرمياں،نہ وہ حسن ميں رہيں شوخياں
نہ وہ غزنوی ميں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف اياز ميں
جو ميں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زميں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں


عقل میں تعبیر و تنقید تو دل سے عشق کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے لیکن عشق حقیقی میں اظہار سے زیادہ اعمال کی بنیاد پر روح عمل سے آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے جسے علامہ صاحب کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں ۔
گرچہ تو زندانی اسباب ہے
قلب کو ليکن ذرا آزاد رکھ
عقل کو تنقيد سے فرصت نہيں
عشق پر اعمال کی بنياد رکھ
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا


Last edited by بزم خیال; 15-03-10 at 08:04 PM.
بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (13-03-10), منتظمین (13-03-10), محمد عاصم (30-04-10), راجہ اکرام (13-03-10), رضی (20-01-11), شاہ جی 90 (13-03-10), عارف اقبال (16-03-10)
پرانا 13-03-10, 03:37 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کےلیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (14-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10)
پرانا 13-03-10, 05:32 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی بہترین محمود بھائی۔ یقینا آج ہمیں اقبال کو سمجھنے کی شدید ضرورت ہے تا کہ غلامی کے جراثیم کو غیرت ایمانی کے ذریعے ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین

ایک اہم بات
آج میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا “اقبال۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید”
یہ اقبال کے خطبات پر منعقد ہونے والے ایک سیمنار کے مقالات کا مجموعہ ہے جو 1988 کو جامعہ کراچی میں منعقد ہوا۔ اس میں اقبال کے ان خطبات پر مقالہ جات پیش کئے گئے تھے جو The Reconstruction of Religious Thought in Islam کے نام سے کتابی شکل میں آئے تھے۔
اس میں ایک مقالہ ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کا بھی ہے جنہوں نے ایک بات کہی جو واقعی قابل غور ہے ۔ اور وہ یہ کہ یہ کتاب اپنی اہمیت کے اعتبار سے بہت ہی قابل قدر ہے لیکن اس کو مطلوبہ مقام نہیں دیا گیا اور اس کا ترجمہ ہونے میں تاخیر کا ایک باعث بھی یہ تھا کہ علماء کرام اس پر تحفظات رکھتے تھے۔
اس کتاب پر بھی ہمیں کچھ توجہ دینی چاہیئے تا کہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے حوالے سے رہنمائی مل سکے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (30-04-10), بزم خیال (14-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10)
پرانا 13-03-10, 10:56 PM   #4
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محمود بھائی ایک تنقید کا میدان بچا تھا اس پر بھی ہاتھہ صاف کر لیا
اچھا ہے
بہت اچھا ہے
جاری رکھئیے
ہمیں مزید کا انتظار رہے گا
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (14-03-10), راجہ اکرام (14-03-10)
پرانا 14-03-10, 08:10 AM   #5
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
بہت ہی بہترین محمود بھائی۔ یقینا آج ہمیں اقبال کو سمجھنے کی شدید ضرورت ہے تا کہ غلامی کے جراثیم کو غیرت ایمانی کے ذریعے ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین

ایک اہم بات
آج میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا “اقبال۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید”
یہ اقبال کے خطبات پر منعقد ہونے والے ایک سیمنار کے مقالات کا مجموعہ ہے جو 1988 کو جامعہ کراچی میں منعقد ہوا۔ اس میں اقبال کے ان خطبات پر مقالہ جات پیش کئے گئے تھے جو The Reconstruction of Religious Thought in Islam کے نام سے کتابی شکل میں آئے تھے۔
اس میں ایک مقالہ ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کا بھی ہے جنہوں نے ایک بات کہی جو واقعی قابل غور ہے ۔ اور وہ یہ کہ یہ کتاب اپنی اہمیت کے اعتبار سے بہت ہی قابل قدر ہے لیکن اس کو مطلوبہ مقام نہیں دیا گیا اور اس کا ترجمہ ہونے میں تاخیر کا ایک باعث بھی یہ تھا کہ علماء کرام اس پر تحفظات رکھتے تھے۔
اس کتاب پر بھی ہمیں کچھ توجہ دینی چاہیئے تا کہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے حوالے سے رہنمائی مل سکے۔
بہت شکریہ اکرام بھائی
بجا فرمایا آپ نے آج وطن عزیز کو ایسی فکر کی ضرورت ہے ۔لکھتے ہوئے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ علامہ صاحب آج کی بات کر رہے ہیں ۔
بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (14-03-10), عارف اقبال (16-03-10)
پرانا 14-03-10, 08:28 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
محمود بھائی ایک تنقید کا میدان بچا تھا اس پر بھی ہاتھہ صاف کر لیا
اچھا ہے
بہت اچھا ہے
جاری رکھئیے
ہمیں مزید کا انتظار رہے گا
شاہ صاحب کمال کرتے ہیں ۔ یہ کیا ایک میدان بچا تھا یعنی اب کرنے کو کچھ نہیں بچا ۔

آپ کا بہت شکریہ
جس میں یہ لکھ رہا ہوں تنقید کا میدان ہے کیا ؟
بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (14-03-10), عارف اقبال (16-03-10)
پرانا 14-03-10, 08:04 PM   #7
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابھی تو بہت کچھہ ہے کرنے کو
لیکن ہمیں سب سے زیادہ لطف آپ کی ہمہ جہت شخصیت دے رہی ہے
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے
یہ تنقید ہی ہے جو آپ کر رہے ہیں
بس یہ مثبت معنوں میں ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (16-03-10), عارف اقبال (16-03-10)
پرانا 16-03-10, 03:42 AM   #8
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,136
شکریہ: 1,882
725 مراسلہ میں 1,798 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سبحان اللہ۔ بہت خوب۔ محمود بھائی اللہ پاک آپکو جزائے خیر دے
عارف اقبال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (16-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 16-03-10, 09:52 PM   #9
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
ابھی تو بہت کچھہ ہے کرنے کو
لیکن ہمیں سب سے زیادہ لطف آپ کی ہمہ جہت شخصیت دے رہی ہے
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے
یہ تنقید ہی ہے جو آپ کر رہے ہیں
بس یہ مثبت معنوں میں ہے
شاہ بھائی ہلہ شیری ملتی رہے گی تو کچھ نہ کچھ تو ہوتا رہے گا ۔ اب ایک نیا موڑ شروع ہوا ہے پنجابی میں چند اشعار کا اظہار کیا ہے ۔ اگر آپ پنجابی سمجھتے ہیں تو مکمل پیش کروں گا ابھی نمونہ حاضر ہے ۔

رگاں زمانہ وکھریاں پخدا لہوء جواناں
دل ہووے بادشاہ پنڈا شہر کرے سلاماں
بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 16-03-10, 11:45 PM   #10
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
شاہ بھائی ہلہ شیری ملتی رہے گی تو کچھ نہ کچھ تو ہوتا رہے گا ۔ اب ایک نیا موڑ شروع ہوا ہے پنجابی میں چند اشعار کا اظہار کیا ہے ۔ اگر آپ پنجابی سمجھتے ہیں تو مکمل پیش کروں گا ابھی نمونہ حاضر ہے ۔

رگاں زمانہ وکھریاں پخدا لہوء جواناں
دل ہووے بادشاہ پنڈا شہر کرے سلاماں
واہ واہ واہ کیا بات ہے
محمود بھائی یہ بھی اسی معیار کا شعر ہے جس معیار کی آپ کی اردو شاعری ہوتی ہے
ہم تو اسے بھی جاری رکھنے کا مشورہ دیں گے ، آخر فیض جیسے شاعر نے بھی تو پنجابی میں کہنے کی ضرورت محسوس کی تھی ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (17-03-10)
جواب

Tags
ہنگامہ, پسند, قدم, لوٹے, لندن, نماز, نظر, مکہ, موجودہ, مقابلہ, محبت, مسجد, آئینہ, اچھا کام, اشعار, بادشاہت, تعلیم, جاوید اقبال, خدا, دعا, روزہ, سیاست, شاعری, عقل, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger