| شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر : محمودالحق
آج کل اشعار ہیں کہ رکتے ہی نہیں سیدھے سادے لکھتے لکھتے کبھی کبھار موسم کی تبدیلی سے ماحول کی نزاکت کا خیال بھاری ہونے پر نیا انداز بیان ظاہر ہو جاتا ہے ۔جو کہ میرا اپنا نہیں ہے ۔ علامہ محمداقبال قائداعظم محمد علی جناح کی طرح ہمارے بھی مرشد ہیں۔ ان کے ایک شعر کو آج کے دور پہ بٹھانے کی جسارت کی ہے ۔ جس کے لئے پیشگی معزرت چاہتے ہیں ۔ علم سے زندگی چلتی ہے قناعت بھی رسم بھی۔ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ حضوری ہے نہ درباری ہے یہ بھی ممکن ہے آپ کہیں کہ بات بنی نہیں ۔ لیکن آج بات اپنی نہیں کہیں گے ۔ صرف بیان تو صرف علامہ صاحب کا ہی کریں گے کہ انہوں نے کیا خوب کہا ۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے علامہ صاحب نے جس دور میں فلسفہ پڑھا اس وقت تعلیمی شعور کی تحریک کا آغاز تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے سے پیغام دیا کہ مسلمان اپنی ذات کو پہچانےاور اپنے عمل سےمنزل تک کی رسائی حاصل کرے ۔ غلام ملک کی غلام قوم کو وہ جو پیغام دیتے رہے اس کا مقصد تھا کہ وہ اپنے رویوں کو مقاصد کے حصول کے رخ پر چلائیں ۔قوم کی روح کو بیدارکرنے کے لئے ان کا پیغام فلسفہ کی چند کتابوں کی بنیاد پہ نہیں تھا ۔بلکہ پچھلے دو سو سال سے سماجی ، معاشرتی ، معاشی اورمذہبی انحطاط پزیرمسلم معاشرہ جس زوال کا شکار تھا۔ وہاں سے نکالنے کے لئے انہوں نے اپنے کلام سے ایک نئی روح پھونکی ۔ وہی ديرينہ بيماری ، وہی نا محکمی دل کی علاج اس کا وہی آب نشاط انگيز ہے ساقی نہيں ہے نااميد اقبال اپنی کشت ويراں سے ذرا نم ہو تو يہ مٹی بہت زرخيز ہے ساقی ہندوستان کے تمام مکاتب فکر سے لے کر ایرانی مفکرین تک ان کا حوالہ دینے میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ ان کی فکر کا تعلق عام آدمی کی سوچ سے تھا ۔ جسے انہوں نےتبدیلی کا بنیادی ماخذ قرار دیا ۔ انہوں نے اپنےلکھے گئے شکوہ کی بنا پر بعض فتوؤں کا سامنا بھی کیا ۔ وہ ایسی سوچ کے حامل مسلمانوں کی آئینہ دار تھی۔جو ایک مایوس اور انحطاط پزیر معاشرہ کی عکاس تھی ۔ علامہ صاحب کے کلام میں الفاظ علمیت کا بوجھ نہیں رکھتے ۔ بلکہ ذہن پر چھائی آلودہ معاشرتی گرد کے لئے لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتے ۔ خودی کی شوخی و تندی ميں کبر و ناز نہيں جو ناز ہو بھی تو بے لذت نياز نہيں وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قوم کے اندر کون سی سوچ پنپتی ہے جب وہ غلامی کی زنجیروں سے جکڑی جاتی ہے ۔اسی لئے خودداری پیدا کرنے کے لئے خودی کا تصور وسعت بیان یوں کرتے ہیں ۔ خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہيں تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہيں مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا وہ پيرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہيں کہنے والے تو یہ بھی کہہ دیتے کہ وارث شاہ کی ہیر رانجھا سے بڑھ کر آج کی دنیا میں مثالیں موجود ہیں ۔اگر آج عشقیہ داستانیں بہت زیادہ ہیں تو یہ معاشرے کے رویے کی وجہ سے ہیں ۔ہوا کا رخ انہیں اس طرف لے کر چلا گیا ۔لیکن وارث شاہ نے جب لکھا وہ کہانی بھی نئی تھی ۔ موضوع بھی نیا تھا ۔وہ معاشرہ قبولیت و جذبیت کے فقدان کا دورتھا ۔آج قبولیت کی انتہا ہے ۔اس لئے عشق کی انتہا بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ علامہ صاحب قوم میں جو عشق دیکھنا چاہتے تھے اسے انہوں نے یوں بیان کیا ۔ کيا عشق ايک زندگی مستعار کا کيا عشق پائدار سے ناپائدار کا وہ عشق جس کي شمع بجھا دے اجل کی پھونک اس ميں مزا نہيں تپش و انتظار کا علامہ اقبال ایک قومی شاعر اور تصور پاکستان کے خالق کا عظیم اعزاز رکھتے ہیں ۔لیکن آج الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی ترقی سے علامہ صاحب کے افکار ایک بار پھر موضوع بحث ہیں ۔اور اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ نئی نسل میں وہ روح بیدار ہو جس کا علامہ صاحب بار بار اظہار کرتے تھے ۔ دل سوز سے خالی ہے ، نگہ پاک نہيں ہے پھر اس ميں عجب کيا کہ تو بے باک نہيں ہے ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک ميں پنہاں غافل! تو نرا صاحب ادراک نہيں ہے کسی بیمار کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر ہسپتال پہنچانا ہو تو دو مزید ہاتھوں کی ضرورت رہتی ہے ۔جو اس کے لئے ہسپتال کے دروازہ کھولتے چلے جاتے ہیں ۔یہی یہ دو دو ہاتھ قائداعظم اور علامہ اقبال کے تھے۔ایک نے غلام قوم کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور دوسرے نے آزادی کا دروازہ کھلا دکھایا ۔صرف بیماری کی تشخیص کافی نہیں ہوتی ۔بلکہ دوا کی ضرورت اور افادیت سےآگاہی کاہونا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکيمانہ سکھائی عشق نے مجھ کو حديث رندانہ نہ بادہ ہے ، نہ صراحی ، نہ دور پيمانہ فقط نگاہ سے رنگيں ہے بزم جانانہ مری نوائے پريشاں کو شاعری نہ سمجھ کہ ميں ہوں محرم راز درون ميخانہ آج کے دور میں کتنے لوگ ہیں جو اس نقطہ کو سمجھتے ہیں کہ لکھنے کا تعلق صرف زور قلم سے نہیں بلکہ جذب مفہوم سے ہوتا ہے ۔ایسی سوچ تحریر کو قدامت پسندی قرار دے کر پیپر ویٹ کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے ۔ معاشرہ اپنا عکس آئینہ جہاں ملے پزیرائی دیتا ہے ۔ اور جو آنکھ میں غرور اور سوچ میں تکبر کی نشاندہی کرتا ہے وہ ہرجائی کہلاتا ہے ۔پھل پک جائیں تو اُتار کر بانٹے نہیں بیچے جاتے ہیں ۔روشنیاں پانی میں اپنا عکس تو دیتی ہیں مگر پانی روشنی نہیں کرتیں ۔ ریت پر پتھر کی چٹانیں نہیں کھڑی کی جاتی بلکہ ریت کے ہی گھروندے بنائے جاتے ہیں ۔
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (26-04-10), نیلم خان (19-03-10), منتظمین (10-03-10), محمدعدنان (10-03-10), راجہ اکرام (10-03-10), رضی (12-03-10), شاہ جی 90 (10-03-10), عارف اقبال (11-03-10), عبداللہ حیدر (11-03-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,386
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دل سے جو آہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔
پر نہیں طاقت پروازمگر رکھتی ہے۔ کہیں کھو گیا میرے قائد اور اقبال کا پاکستان۔ اللہ ہی جانے کون ہوگا جو اسے واپس ڈھونڈ کے لائے گا۔ یہ ایک کاش ہے جس کا حل سر دست تو نظر نہیں آتا۔ محمود بھائی کیا کہنے!! ایک اور شاہکار تحریر۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب مکرمی محمود بھائی
آپ نے بالکل بجا کہا کہ علامہ مرحوم نے قوم میں نئی روح پھونکنے کے لئے خودی کو موضوع بحث بنایا۔ غلامی میں جو برائیاں معاشرے اور انسان میں پنپ جاتی ہیں ان سے خبردار کیا۔ آج ایک بار پھر اقبال کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ہم تا حال بد ترین ذہنی غلامی کا شکار ہیں۔ بہترین تحریر پر ہدیہ تبریک میری جانب سے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاندار تحریر ہے محمود بھائی
ہمیشہ کی طرح آپ نے ایک اچھے موضوع کا انتخاب کیا ہے خوش رہو |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علامہ موصوف کا اس انداز سے مطالعہ پہلے نہیں دیکھا
محمود بھائی ہماری جانب سے ایک اور اچھی تحریر پر مبارک باد قبول کریں |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (11-03-10) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پريشاں ہوکے ميري خاک آخر دل نہ بن جائے جو مشکل اب ہے يارب پھر وہي مشکل نہ بن جائے عروج آدم خاکي سے انجم سہمے جاتے ہيں کہ يہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے اس وقت ہر طرف کرگسی شاہینوں کی اُڑان ہی بلند پرواز نظر آتی ہے |
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کل کسی جگہ ٹی وی شو کا یو ٹیوب کلپ دیکھا نوجوان شاعر مہمان تھا میزبان اس کا گہرا دوست اور کال کر کے تعریف کرنے والا ان دونوں کا مشترکہ دوست موصوف کی محبت کی شاعری زلف کا اسیررہنے کی ترغیب دلاتی ہے ۔ علامہ صاحب کی روح متفکر ہو گی کہ کیا فائدہ ہوا آزادی کے دروازے تک پہنچانے کا ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (11-03-10), شاہ جی 90 (11-03-10) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اے ابن خلق کب تک اقبال ِ محمود کے انتظار میں رہو گے خود بھڑکاؤ آتش ِعشق کو قوم ِ وجود کے انتظار میں رہو گے گرمائش ِ خون حدتِ ایمان کی آنچ پہ رکھو کب تک اَبل آب کو لہوء مقصود کے انتظار میں رہو گے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ واہ واہ کیا بات ہے
آپ کی شاعری کے تو ہم ہمیشہ سے فین رہے ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | بزم خیال (11-03-10), عارف اقبال (11-03-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
انشااللہ تعالی جلد ایک نئے مضمون کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں آج ہی لکھنا شروع کیا ہے " کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں " ٹائپنگ کی رفتار بہت سست ہے مضمون طویل ہے جیسے جیسے ٹائپ ہوا پوسٹ کرتا جاؤں گا والسلام |
|
|
|
|
| بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (12-03-10) |
![]() |
| Tags |
| کلام, کتابوں, پاکستان, قائداعظم, لوگ, نظر, ممکن, معاشرہ, آئینہ, آدمی, اشعار, تحریر, دل, زندگی, سال, شاعری, شعر, علی, علامہ, عجب, عظیم, غلام, غلامی, غرور, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ن لیگ لانگ مارچ چاہتی ہے، انہیں رائیونڈ چھوڑ کر آئینگے:پی پی پنجاب | گلاب خان | خبریں | 0 | 02-03-11 05:25 AM |
| اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کےلئے ن اور ق لیگ کی عدالتی کمیشن کی حمایت، پی پی کی مخالفت | گلاب خان | خبریں | 0 | 16-12-10 05:04 AM |
| فرشتہ نہیں، غلطیاں ہوئی ہوںگی،پی پی پی نے زیادتی کی، ارباب غلام رحیم | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-04-08 03:37 PM |
| جیو یکجہتی کیمپ: پی پی ، مسلم لیگ ق اور ن کی خواتین اور دیگر افراد نے دورہ کیا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 12-12-07 10:55 AM |
| ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری ملازم کیخلاف انکوائری جاری رکھی جاسکتی ہے، سپریم کورٹ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 12:27 PM |