واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


اقبال کا نظریہ فن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-07, 04:42 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اقبال کا نظریہ فن

اقبال کا نظریہ فن

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیا
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتی و ہ ہنر کیا

نظریہ فن کے بارے میں اقبال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اوّل یہ کہ آرٹ کی غرض محض حسن کا احساس پیدا کرناہے اور دوم یہ کہ آرٹ سے انسانی زندگی کوفائدہ پہنچنا چاہیے۔ اقبال کا ذاتی خیال ہے کہ ہر وہ آرٹ جو زندگی کے لئے فائدہ مند ہے وہ اچھا اور جائز ہے۔ اور جو زندگی کے خلاف ہو وہ ناجائز ہے۔ اور جو انسانوں کی ہمت کو پست اور ان کے جذبات عالیہ کو مردہ کرنے والا ہو قابل ِ نفرت ہے۔ اور اس کی ترویج حکومت کی طرف سے ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔آرٹ کے مضر اثرات کے متعلق فرمایا ہے کہ بعض قسم کا آرٹ قوموں کو ہمیشہ کے لئے مردہ بنا دیتا ہے۔ چنانچہ ہندو قوم کی تباہی میں ان کے فن ِ موسیقی کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔

گویا اقبال فن کو زندگی کا معاون سمجھتے ہیں اور اس کو افادیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اقبال ایسے فن کے شدید مخالف ہیں جس سے قوم پر مردنی چھا جائے اور جو اس کے قوائے عمل کو مضمحل کردے۔ اس لحاظ سے اقبال کے نظریہ فن میں افادیت اور مقصدیت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اقبال افادیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ ان کے خیال میں مردنی پیدا کرنے والے فن کی حکومت کی طرف سے جبراً روک تھام ہونی چاہیے۔


[ترمیم] فن اور زندگی
اقبال کے نزدیک فن کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی کی نشوونما میں معاونت کرے جس فن میں نہ زندگی کی کار فرمائی نظر آئے اور نہ فن کار کی خودی وہ اقبال کے نزدیک بیکار ہے۔

اقبال سارے فنون لطیفہ کو زندگی اور خودی کے تابع قرار دیتا ہے ۔ زندگی سے اقبال کی مراد قوم کی اجتماعی زندگی ہے اقبال نے اپنی ایک نظم میں قوم کو ایک جسم قرار دیتے ہوئے افرا د کو اس کے مختلف اعضاءسے تشبیہ دی ہے۔ ان اعضاءمیں شاعر کی حیثیت قوم کے دیدہ بینا کی ہے۔ مثلاً

قوم گویا جسم ہے افراد ہے اعضائے قوم
منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفل نظم حکومت چہرہ زیبائے قوم
شاعر رنگیں نو ہے دیدہ بینائے قوم

اقبال کہتے ہیں جب تک شاعری میں سوز دروں کی کارفرمائی نہیں ہوگی، قوم سوز آرزو اور سوزِ حیات سے بیگانہ رہے گی۔ اگر قوم لذت آرزو سے محروم رہے گی تو اس کی شیرازہ بندی ممکن نہیں ہوگی مثلاً،

شمع محفل ہوکے تو جب سوز سے خالی رہا
تیرے پروانے بھی اس لذت سے بےگانے رہے
رشتہ الفت میں جب ان کو پروسکتاتھا تو
پھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہے






[ترمیم] فن اور صداقت
اقبال کے خیال میں آرٹ کی بنیاد سوز و گداز ، صداقت اور انقلاب انگیز قوت پر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حیات ِ اجتماعی کسی خاص زمانے میں کسی خاص انحطاطی اثر کا شکار ہو تو آرٹ کو اس سے متاثر نہ ہو نا چاہیے۔ اقبال کہتے ہیں کہ صداقت نقل اور تقلید سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ شاعر کا کام ہے کہ کائنات اور حیات کے بحر ذخار سے خود نئے موتی چنے اور زندگی کے سمندر سے صداقت کا جام پئے۔مثلاً

شاعر دلنواز بھی بات اگر کہے کھری
ہوتی ہے اس کے فےض سے مزرع زندگی ہری
شان خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاں
کرتی ہے اسکی قوم جب اپنا شعار آذری
کہہ گئے ہیں شاعری جزو یست از پیغمبری
ہاں سنا دے محفل ملت کو پیغام سروش






[ترمیم] فن اور آزادی
اقبال کہتے ہیں کہ فن کے حقیقی فروغ کے لئے آزادی بے حد ضروری ہے کیوں کہ عمرانی اور معاشی آزادی کے بغیر فن کی صحیح نشوونما ہو ہی نہیں سکتی۔ جمال کی قدر جس کو اقبال نے اپنے نظریہ فن میں حرکت سے وابستہ کر دیا ہے صرف آزادی ہی کے عالم میں پیدا ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ اقبال کے نزدیک جمال ، جلال کی ابتدائی کیفیت ہے۔ غلامی میں ذوق حسن باقی نہیں رہتا ۔ بصیرت جو حسن و جمال کے مشاہدے کے لئے اس قدر ضروری ہے فنا ہو جاتی ہے۔ اور دوسروں کی اقدارِ حسن کی اندھی تقلید باقی رہتی ہے اور اس اندھی تقلید سے جو آرٹ پیدا ہوتاہے وہ بھی جھوٹا اور بے اصل ہی ہوتا ہے۔ مثلاً

غلامی کے ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بند ے ہے وہی زیبا
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو
صیاد ہیں مردان ِ ہنر مند کہ نخچیر






[ترمیم] فن اور خودی
اقبال کے فن کا نظریہ ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ ان کے نزدیک آرٹ اظہار خودی کا ایک وسیلہ ہے ۔ وہ فن جس میں خودی باقی نہیں رہتی ۔ اقبال کے خیال میں عضر چیز ہے۔ خودی دراصل اقبال کے نظام فکر کا مرکزی نقطہ ہے ۔ اس لئے انھوں نے تمام فنون لطیفہ کو خودی کے تابع قرار دیا ہے ۔ اس کے علاوہ فن اجتماعی زندگی کی نشوونما بھی کرتا ہے۔

خودی کا باقاعدہ تصور پیش کرنے سے پہلے اقبال نے شاعر کو اپنی حقیقت سے آشنا ہونے اور خودی کے ذریعے راز حیات معلوم کرنے کے ذرائع ڈھونڈنے کی تعلیم دی تھی۔ یہ شاعر یا فنکار کے لئے داخلیت یا وطن پرستی کا درس اپنی خودی کو دریافت کرنا اور اسے جگانا ، احتساب کائنات کے لئے شمع روشن کرنا ہے۔ مثلاً،

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقان ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو
آہ کس کی جستجو اوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو ، رہرو بھی تو ، رہبر بھی تو ، منزل بھی تو
اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو
قطرہ ہے لیکن مثال بحر بے پایا ں بھی ہے
گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر
وائے صورت گری و شاعری و نائے و سرور






[ترمیم] فن اور عشق
اقبال کے فلسفے میں عشق کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ اقبال کے نزدیک فن کا محرک جذبہ عشق ہے۔ ان کے خیال میں کوئی فن خلوص ، سوز و گداز اور خون جگر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ فنکا ر کی ایک بڑی خصوصیت اس کا خلوص ہے جو عقلی بھی ہو سکتا ہے اور جذباتی بھی۔ اقبال کے ہاں جذباتی رنگ زیادہ غالب ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ وہ تمام معجز ہائے ہنر فانی ہیں جن کی تہہ میں خلوص و جذبہ موجود نہ اوروہ تمام فن پارے ابدی اہمیت کے حامل جن کی نمود خونِ جگر ، خلوص اور سوز دل کی مرہون ِ منت ہو مثلاً

رنگ ہو یا خشت و سنگ ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود


نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر


برگ گل رنگیں ز مضمون من است
مصرع من ، قطرہ خونِ من است





[ترمیم] فن اور جلا ل و جمال
اقبال ہر فن پارے میں دلبری کے ساتھ ساتھ قاہر ی کی صفت بھی دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ فن میں جلا ل و جمال کے امتزاج کے قائل ہیں۔ کیونکہ وہ قوت اور جلال ہی میں زندگی کی نمو کا راز پوشیدہ دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خالص قوت جس میں جمال کی آمیزش نہ ہو تباہی و بربادی لیکر آتی ہے۔ اور خالص جما ل جو قوت سے محروم ہو ان کے خیال میں پست درجے کے فن کی تخلیق کرتا ہے۔

اقبا ل کے خیال میں اگر کسی فن پارے میں دلبری و قاہری کا امتزاج نہ ہو تو فن پارہ نا مکمل ہے۔ اور اگر اس میں جلال اور جمال کی صفات جلوہ گر ہوں تو وہ ابدیت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ دلبری سے قاہری کو جادوگری اور دلبری با قاہری کو پیغمبری قرار دیتے ہیںمثلاً۔

دلبری بے قاہری جادو گریست
دلبری با قاہری پیغمبر یست

مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
کہ سر بہ سجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک نہ ہو جلال تو حسن و جما ل بے تاثیر
مرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتشناک
مجھے سزا کے لئے بھی نہیں قبول وہ آگ
کہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک






[ترمیم] فن صبح کا پیغامبر
اقبال کے نزدیک فن کا مقصد معاشرتی ترقی ہے۔ وہ فن کے متعلق اپنے نقطہ نظر اور معاشرے سے اس کے تعلق کو شاعری کے ذریعے مثالوں سے واضح کرتے ہیں ان کے نزدیک شاعری دیدہ بینا ئے قوم ہے۔ فن کا صحیح مقصد زندگی ، انسان اور اس کی معاشرت کو تقویت دینا ہے۔ ایک فنکار کو صبح کا پیغامبر ہونا چاہیے اور اگر وہ افسردہ اور یاس انگیز نغموں کے سوا کچھ نہ الاپ سکے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے مثلاً

افسرد ہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں
بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیز
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیا






[ترمیم] معاشرے میں جذبات پیدا کرنا
اقبال کا کہنا ہے کہ شاعر سینہ ملت میں دل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے اپنی پیغمبرانہ قوتوں سے ملت خوابیدہ کو بیدار کردینا چاہیے۔ اور انہیں بلند سے بلند تر منازل تک لے جانا چاہیے ۔ اقبال مزید کہتے ہیں کہ وہ شاعری یا وہ شعر جو معاشرے میں جذبات کا ایک طوفان پیدا نہ کردے کسی کام کا نہیں مثلاًً

جس سے دل درےا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرہ نہاں وہ صدف کیا وہ گہر کیا؟
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتی وہ ہنر کیا؟

اقبال کہتے ہیں کہ فن زندگی کے حصول کا ایک گراں قدر ذریعہ ہے اور اگر اس میں یہ خصوصیت ہوتو وہ پیغمبر ی سے صرف ایک درجہ کمتر ہے۔ فن کا ر کو لازم ہے کہ وہ کم حوصلہ لوگوں میں مردانگی اور جرات کی روح پھونک دے مثلاً

نوا پیرا ہو ایک بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا





[ترمیم] حیات ابدی کے حصول کی لگن
اقبال فرماتے ہیں کہ فن کا کام یہ ہے کہ وہ ایسی شاعری تخلیق کرے کہ جس شاعر ی سے تمام بنی نوع انسان حیات ابدی کی طرف راغب ہو جائے اور ابدی زندگی کے حصول کے لئے کوشش شروع کر دے۔ اقبال فرماتے ہیں وہ شعر جو حیات ابدی کا پیغام لئے ہوئے ہو نغمہ جبریل کی طرح مشیت ایزدی کی تلقین کرتا ہے اور شعر کہنے والے کی آواز حشر کا سامان ہوتی ہے۔ مثلاً

وہ شعر کہ پیغام حیاتِ ابدی ہے
یا نغمہ جبریل ہے یا بانگ اسرفیل

مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے
یہ یک نفس یا دو نفسِ مثلِ شرر کیا





[ترمیم] فطرت کی خامیوں کو دور کرنا
فن کے بارے میں بعض فطرت پرستوں کا نظریہ یہ ہے کہ حقیقی فن یہ ہے کہ فطرت جس طرح نظر آتی ہے فنکار اسے بالکل اسی طرح پیش کرے ۔ گویا فن کا راپنی ظاہر کی آنکھ سے جو کچھ دیکھتا ہے اگر اس کی ہو بہو تصویر کھینچ دے تو یہ بڑا فن ہے ورنہ نہیں۔

اقبال نے نقالی کے اس نظریے کی بھی شدید مخالفت کی ۔اقبال کا نقطہ نظر یہ ہے کہ فطرت کی نقالی کوئی کمال نہیں اصل کمال تو یہ ہے کہ جو فطرت نہیں کرسکتی اسے انسان کرے۔ انسان فطرت کے مقابلے میں بہتر ، بلند اور باشعور ہے وہ فطرت کا غلام نہیں فطرت اس کی غلام ہے ۔ فن کار کا کام یہ ہے وہ فطرت کی خامیوں کو دور کرکے اسے حسین بنا کر پیش کرے مثلاً

فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام ِ رنگ بو کر
بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر


یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شائد
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون


بقول ایم ایم شریف

” اقبال کے نزدیک اس فن کا کوئی مطلب نہیں جس کا تعلق زندگی ، انسان اور معاشرت سے نہ ہو فن کا اوّلین مطلوب خود زندگی ہے ۔ فن کے لئے لازم ہے کہ وہ ذہن انسانی میں ایک ابد ی زندگی کے حصول کی لگن پیدا کردے۔“


__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
سیپ (13-07-08)
پرانا 20-07-07, 04:07 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
عمر: 29
مراسلات: 14,897
کمائي: 5,560,008,153
شکریہ: 12,384
6,493 مراسلہ میں 15,156 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقبال کا نظریہ فن

ماشا اللہ بہت اچھے keep it up
محمدعدنان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 28-07-07, 10:05 AM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اقبال کا نظریہ فن

شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-09-07, 11:52 AM   #4
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کمال کر دیا خرم محنت نظر آ رہی ہے، مبارک اور داد قبول کریں۔
ایم اے راجا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فن, ہندو, کمال, لطیفہ, نفرت, مکمل, ممکن, معلوم, معجزہ, اللہ, بلبل, ترمیم, تعلیم, تصویر, جواب, جام, حسن, خون, خلاف, دریافت, زندگی, شاعری, شعر, صدائے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger