واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعر مشرق علامہ اقبال



شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے


اقبال کا تصور ابلیس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-07, 04:35 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اقبال کا تصور ابلیس

اقبال کا تصور ابلیس

رسمی مذہب اسے بدی کا مجسمہ قرار دیتا ہے وہ ہستی جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے خدائی احکام کی نا فرمانی کی اور ہمیشہ کے لئے ملعون و مردود قرارد ی گئی۔ اب اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا کی مخلوق کو بہکانے اور اُسے خدا کے مقرر کردہ راستے سے دور لے جائے۔ قدیم ایرانی حکماء، مسلمان صوفیاءاور مغربی شعراءنے اپنے اپنے زاویہ نظر سے ابلیس اور خیر و شر پر اپنا فلسفہ پیش کیا۔ اقبال کے تصور ابلیس کو سمجھنے کے لئے دنیا میں تصور ابلیس کے ارتقاءپر نظر ڈالناضروری ہے۔
[ترمیم] ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس
اس طرز فکر کی نمائندگی تین مفکرین کرتے ہیں زرتشت، مانی اور مزدک ان تینوں فلسفیوں کے نزدیک کائنات میں فعال قوتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک جو یزداں کے نام سے منسوب ہے دوسری اہرمن کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اہرمن شر کی قوتوں کا نمائندہ جبکہ یزداں خیر کی قوتوں کا نمائند ہ ہے۔ فطرت میں خیر وشر کی قوتوں کے مابین ایک مسلسل پیکار جاری ہے۔ اشیا ءاچھی یا بری اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ یا تو خیر کی قوت تخلیق کی پیداوار ہیں یا شر کی۔





[ترمیم] مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس
جن مسلمان صوفیا نے ابلیس کا خاص انداز میں ذکر کیا ہے۔ ان میں منصور حلاج، مولانا روم ، ابن عربی وغیرہ کے نام زیادہ اہم ہیں۔ بعض نے تو ابلیس کو اتنی اہمیت دی کہ اُسے سب سے بڑا توحید پرست اور موحد قرار دیاہے۔

ابلیس خدا کے ارادوں کی مشیت کا ایک ایسا کارندہ ہے جس کے فرائض سب سے زیادہ تلخ ، سب سے زیادہ ناگوار ، کڑے اور نازک ہیں۔ (منصور حلاج
شیطان اس زیرکی کا نام ہے جو عشق سے معریٰ ہو کر ادنی مقاصد کے حصول میں حیلہ گری کرتی ہے۔(مولانا روم
ابلیس ارادے میں آزاد ہے۔ ابن عربی

[ترمیم] مغربی ادب میں تصور ابلیس
مغربی شعراءنے بھی اس فلسفے میں بڑی نکتہ نوازیاں کی ہیں۔ چند نمائندہ شعراءکے فلسفہ ہائے ابلیس پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔





[ترمیم] دانتے
دانتے مشہور اطالوی شاعر ہیں اس نے اپنی عظیم رزمیہ داستا ن ”ڈیوائن کامیڈی “ میں شیطان کا کردار پیش کیا ہے۔ دانتے کا شیطان بالکل قدیم مذہبی نوعیت کا شیطان ہے جسکا تصویر بائیبل میں ملتاہے۔ یہ بہت ہیبت ناک اور ساکن ہے ۔ دانتے اپنے شیطان کو سینے تک برف میں دھنسا ہوا دکھاتا ہے۔ وہ جتنا کسی زمانے میں حسین تھا اتنا ہی اب بد شکل ہے دانتے نے ابلیس کو دوزخ کے ساتھ دنیاوی نمائندہ قرار دے کر زندگی کے لئے ناگزیر تسلیم کیا ہے۔





[ترمیم] ملٹن
یہ ایک مشہور شاعر ہے۔ اس کی نظم ”جنت گم گشتہ “ میں ابلیس کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ملٹن کا شیطان ایک زبردست شخصیت کا مالک ہے۔ جو اتنا ہیبت ناک ہے کہ دوزخ اس کے قدموں تلے کانپتی ہے۔ اس نے خدا سے شکست کھائی ہے۔ لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ وہ ناقابل تسخیر ارادے اور عزم کا مالک ہے اور ایک ایسا ذہن رکھتا ہے جسے زمان و مکان تبدیل نہیں کر سکتا ۔





[ترمیم] گوئٹے
عظیم جرمن شاعر ہے اُس نے اپنے شہر ہ آفاق ڈرامے ” فاوسٹ “ میں شیطان کا ایک خاص کردار پیش کیا ہے۔ گوئٹے شیطان کو محض گردن زدنی نہیں سمجھتا بلکہ اس میں بعض خوبیاں بھی دیکھتا ہے گوئٹے کی دنیا میں شیطان کا بہکانا بھی انسان کے لئے مفید ہے کیونکہ صدائے غیبی کے الفاظ میں ’ ’ جب تک انسان راہ طلب میں ہے اس کا بھٹکنا لازمی ہے۔ انسان کا دستِ عمل سو جاتا ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہم خوشی سے تیرا ساتھ دے ددیتے ہیں جو اُسے اُبھارے اور شیطانی قوت کو تخلیق دے اس شیطانی قوتِ تخلیق کا گوئٹے بہت قائل ہے۔ یعنی شیطان انسان میں خفیہ تخلیقی قوتوں کو بیدار کرتاہے اور عمل پر اکساتا ہے۔





[ترمیم] علامہ اقبال کا تصور ابلیس
اقبال نے ابلیس کے بارے میں اپنا فلسفہ مرتب کرتے وقت نہ صرف قدیم فلسفیوں ، صوفیوں اور شاعروں کے خیالات سے استفادہ کیا بلکہ اس میں اسلامی تعلیمات کو بھی مدنظر رکھا ۔ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم جو اقبال کے تصور ِ ابلیس کو ان کے فلسفہ خودی کے تابع سمجھتے ہیں، لکھتے ہیں،

” اقبال کے ہاں ابلیس کا تصور ان کے فلسفہ خودی کا ایک جزو لاینفک ہے ۔ خودی کی ماہیت میں ذات الہٰی سے فراق اور سعی ِ قرب و وصال دونوں داخل ہیں اقبال کے فلسفہ خودی کی جان اس کا نظریہ عشق ہے۔ عشق کی ماہیت ، آرزو ، جستجو اور اضطراب ہے۔ اگر زندگی میں مواقع موجود نہ ہوں تو خیر کوشی بھی ختم ہو جائے جس کی بدولت خودی میں بیداری اور اُستواری پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان کے اندر باطنی کشاکش نہ ہو تو زندگی جامد ہو کر رہ جائے۔“





[ترمیم] نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال
شیطان جو رسمی مذہب میں بد ی کا مجسمہ ہے اسے اقبال نے اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ وہ جبر و تحکم کے علمِ بغاوت کو بلند کرنے والا اور بندہ ئے دام کے بجائے خود آزادانہ فیصلہ کرنے والا ایک منفرد کردار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اس اقدام سے ایک زبردست معرکہ چھیڑدیتا ہے جو افراد کے اندرونی رجحانات اورخارجی ماحول کے درمیان ہمیشہ جاری رہے گا۔ تمام فرشتوں میں یہ ایک اسی کی ذات تھی جس نے خدا کے حکم پر آد م کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور خدا کے اس سوال پر کہ اس نے یہ خطرناک جرات کیوں کی ، شیطان نے یہ جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں ۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ اقبال نے ”پیام مشرق“ میں اپنی نظم تسخیر فطرت میں اس قرآنی آیت کی نہایت مو ثر ترجمانی کی ہے۔ اس نظم کے پانچ حصے ہیں۔

میلاد ِ آدم
انکار ابلیس
اغوائے آدم
آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید٥) صبح قیامت آدم در حضور ِ باری
یہاں بھی انسانی تخلیق اور اس کی شخصیت کی تکمیل میں شیطان کا حصہ اگرچہ وہی پرانا قصہ ہے اور تمام مذہبی صحیفوں میں موجود ہے۔ لیکن یہاں اقبال نے شیطان کا ایک منفر د اور ڈرامائی انداز پیش کیا ہے۔ انسان کی آفرینش قدرت کا اعلیٰ ترین شہکار تھی ۔ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی قدرت نے ایک تخلیقی قطعیت بھی پیدا کی جو سکون سے عمل کی طرف ، طاقت سے طاقت کے استعمال کی طرف اور خوئے تسلیم و رضا سے تجزیہ و عمل کی طرف اس کے شعور کو پھیرنا چاہتی تھی۔ یہی تجرباتی ، متحرک ، طاقت اور رجحان انکار ابلیس ہے۔ ”تسخیر فطرت“ میں ابلیس ، سجدہ آدم سے انکار کی وجہ بڑے جوش ، خروش سے خدا کے سامنے بیان کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حرکت کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ اور زندگی میں حرکت کی ساری برکت کواپنا کمال سمجھتا ہے۔

می تپداز سوزِ من ، خونِ رگ کائنات
من بہ دو صرصرم ، من بہ غو تندرم

پروفیسر تاج محمد خیال نظم پر تبصرہ کرنے ہوئے لکھتے ہیں، ” یہاں اقبال نے شیطان کواپنے اندرونی جذبات یعنی جذبہ مسابقت، دوسروں پر فوقیت حاصل کرنے اور غلبہ پانے کی آرزو کا آزاد اظہار کرتے دکھایا ہے۔ ماحول کی قوتوں کے مقابل میں ردعمل اور انہیں متاثر کرنے جو فطری رجحان ہر جاندار مخلوق میں پایا جاتا ہے۔ تو گویا شیطان اسی رجحان کی ایک رمزیہ شکل ہے۔ یہ رجحان زندگی کا ایک جوہر ہے اور تمام آرزو ، طلب ، سعی و کامرانی کی تخلیق کا ذمہ داردراصل یہی ہے۔“


[ترمیم] نظم جبرئیل و ابلیس
بال جبریل کی نظم” جبریل و ابلیس“ بھی اقبال کے تصور ابلیس پر روشنی ڈالتی ہے۔ نظم ایک دلچسپ مکالمے کی شکل میں ہے جس میں جبرئیل اپنے ہمدم دیرینہ شیطان سے بڑے دوستانہ لہجے میں پوچھتا ہے کہ جہاں ِ رنگ و بو کا حال کیا ہے۔ ؟ ذرا ہمیں بھی بتائو شیطان اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جہاں عبادت ہے سوز و ساز وردو جستجو ہے۔ جبریل اُسے کہتا ہے کہ آسمانوں پر ہر وقت تیرا ہی چرچا رہتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ تو خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے اور پھر ذات باری کا قرب حاصل کرے جواب میں شیطان کہتا ہے کہ میر ے لئے اب یہ ممکن نہیں میں آسمان پر آکر کیا کروں گا۔ وہاں کی خاموشی میں میرا دم گھٹ کر رہ جائے گا۔ آسمان پر زمین کی سی گہما گہمی اور شورش کہاں ہے۔ جبریل یہ باتیں سن کر بہت ناخوش ہوتے ہےں اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ اسی انکار کی وجہ سے تو نے اپنے مقاماتِ بلند کھو دئیے ہیں ۔ اور اسی سے تو نے فرشتوں کی بے عزتی کرائی ہے تمہارے اس اقدام کے بعد فرشتوں کی خدائی نظروں میں کیا آبرو رہی؟ اس پر شیطان چمک کر جواب دیتا ہے کہ تم آبرو کا نام لیتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میر ی جرات سے ہی کائنات وجود میں آئی اور میری ہی وجہ سے عقل کی ضرورت پڑی ۔ تیرا کیا ہے تو تو ساحل پر کھڑا ہو کر تماشا دیکھنے والوں میں سے ہے۔ تو خیر و شر کی جنگ کو بس دور سے دیکھتا ہے۔ میری طرف دیکھو کہ میں طوفان کے طماچے کھاتا ہوں یہ میں ہی تھا جس کی بدولت آدم کے قصے میں رنگینی پیدا ہوئی ورنہ یہ ایک بے روح داستان تھی ابلیس و جبریل خیالات کی بلندی کے اعتبار سے اردو شاعری میں ایک معرکے کی چیز ہے۔

ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمو
میرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تارو و پُو
دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خےر و شر
کون طوفاں کے طماچے کھا رہا ہے میں کہ تو
حضر بھی بے دست و پا ، الیاس بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم ، دریا بہ دریا جُو بہ جُو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
میں کھٹکتا ہوں دل یزادں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

اقبال کی یہ نظم پڑھتے وقت کوئی شخص شیطان کی عظمت و شکوہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں اقبال نے اُسے ”سوزِ درونِ کائنات “ قرار دیا ہے۔





[ترمیم] نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش
ضرب کلیم میں ”تقدیر “ کے عنوان سے ایک نظم ہے جس کا ذیلی عنوان ہے۔ ”ابلیس و یزداں “ اس نظم کا مرکزی خیال ابن ِ عربی سے ماخوذ ہے۔ یہاں بھی ابلیس اور یزداں کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ ابلیس کہتا ہے کہ اے خدا مجھے آد م سے کوئی بیر تھا اور نہ تیرے سامنے تکبر کرنا میرے لئے ممکن تھا۔ بات صرف اتنی ہے کہ تیری مشیت میں ہی میرا سجدہ کرنا نہیں لکھا تھا۔ خدا پوچھتا ہے کہ تجھ پر یہ راز انکار سے پہلے کھلا یا انکار کے بعد ۔ ابلیس جو اب دیتا ہے کہ انکار کے بعد اس پر خدا طنزاً فرشتوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھو اس کی پستی فطرت نے اُسے یہ بہانہ سکھایا ہے۔ ہم نے اسے جو آزادی بخشی تھی۔ اسے یہ احمق مجبوری اور جبر کا نام دے کر اس کی اہمیت سے انکار کر رہا ہے۔

پستی فطرت نے سکھائی ہے یہ حجت اِ سے
کہتا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود
دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
ظالم اپنے شعلہ سوزاں کو خود کہتا ہے دود






[ترمیم] نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“
اقبال کے ہاں ابلیس کی رسمی اور اپنی تصویر بھی ملتی ہے مثلاً ضربِ کلیم کی ایک نظم ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے میں شیطان کہتا ہے۔

لا کر برہمنوں کو سیاست کے بیچ میں
زناریوں کو دیر کہن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو


بقول تاج محمد خیال: ” ان کا نظریہ شیطان رسمی عقائد سے خواہ کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو شیطان پھر بھی شیطان ہے۔ اس کی شخصیت خواہ کتنی ہی شاندار ہو اور اس کا کردار خواہ کتنا ہی اہم ہو پھر بھی شیطان جن رجحانات کا مظہر ہے اگر انسان بالکل انہی رجحانا ت کا مطیع ہو جائے گا تو نتیجہ ابدی انتشار و کشمکش ، تباہی و بربادی کے سواءکچھ بھی نہ نکلے گا ایسی بنیادوں پر جو سماجی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا وہ یکسر شیطانی ہوگا یہ قوت کا حامل تو ہوگا لیکن بصیرت سے محروم رہے گا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (26-02-10), رضی (26-06-09), سیپ (18-07-08), عرفان حیدر (18-07-08)
کمائي نے خرم شہزاد خرم کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
18-07-08 عرفان حیدر بہت خوب 50
18-07-08 buhat achy bhai 50
پرانا 16-09-07, 12:04 PM   #2
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کمال کر دیا خرم محنت نظر آ رہی ہے، مبارک اور داد قبول کریں۔
ایم اے راجا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 18-07-08, 03:06 PM   #3
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 8,547
کمائي: 934,142
شکریہ: 4,411
5,329 مراسلہ میں 13,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اقبال کا تصور ابلیس

سیپ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 18-07-08, 06:05 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,479
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقبال کا تصور ابلیس

کیا بات ہے بھائی بہت اچھی چیز ہے
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 19-07-08, 10:12 PM   #5
Senior Member
 
چاند's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Lahore
عمر: 27
مراسلات: 266
کمائي: 1,156
شکریہ: 11
87 مراسلہ میں 130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اقبال کا تصور ابلیس

بہت خوب خرم صاحب۔۔۔
آپ واقعی قابل داد ھے۔
چاند آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 19-07-08, 10:12 PM   #6
Senior Member
 
چاند's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Lahore
عمر: 27
مراسلات: 266
کمائي: 1,156
شکریہ: 11
87 مراسلہ میں 130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اقبال کا تصور ابلیس

بہت خوب خرم صاحب۔۔۔
آپ واقعی قابل داد ھے۔
چاند آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 27-08-09, 03:19 AM   #7
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سے کے پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-03-10, 11:42 AM   #8
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,247
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق راحیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, قرآنی, قصہ, نظر, ممکن, معلوم, اللہ, انسان, اردو, اسلامی, اعلیٰ, توحید, تاج, ترمیم, تصویر, جواب, حال, دیکھو, سیاست, شاعری, عقل, عبادت, عشق, صدائے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اقبال کا تصور عقل و عشق خرم شہزاد خرم شاعر مشرق علامہ اقبال 3 10-09-11 06:10 PM
ناکامی کا خوف۔۔۔ تصور کا دشمن wajee گپ شپ 2 17-07-09 01:40 PM
”اقبال کا تصور شاہین“ خرم شہزاد خرم اردو ادب سے اقتباسات 7 06-12-07 02:55 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ اول زبیر اسلامی نظریہ حیات 2 17-08-07 01:08 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم زبیر اسلامی نظریہ حیات 0 17-08-07 03:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger