| شاعر مشرق علامہ اقبال شاعر مشرق علامہ اقبال کا احوال زندگی اور ان کی شاعری کے متعلقہ معلومات اور شاعری کے مجموعے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
1936ء کو لکھی گئی علامہ اقبال کی شاعری جس میں انسان کو تباہ کرنے کے ابلیسی ہتھ کنڈوں کی نشان دہی ابلیس کے الفاظ میں کی گئی ہے۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں
ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں! اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز جس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوں میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند کون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوں! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلام! ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید؟ ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام! |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر! |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو، کیا اس سے خطر! ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر کاروبار شہریاری کی حقیقت اور ہے یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟ وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوز مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب! اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب! |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
توڑ اس کا رومہ الکبرے کے ایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب، |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ابلیس کو مخاطب کرکے
اے ترے سوز نفس سے کار عالم استوار! تو نے جب چاہا، کیا ہر پردگی کو آشکار آب و گل تیری حرارت سے جہان سوز و ساز ابلہ جنت تری تعلیم سے دانائے کار تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف تیری غیرت سے ابد تک سرنگون و شرمسار گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار وہ یہودی فتنہ گر، وہ روح مزدک کا بروز ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرغ کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگار چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پر جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبار فتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
اپنے مشیروں سے
ہے مرے دست تصرف میں جہان رنگ و بو کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمان تو بتو دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو کیا امامان سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو کارگاہ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو! دست فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مو ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو جانتا ہے، جس پہ روشن باطن ایام ہے مزدکیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے! |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں ہے وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں الحذر! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں! چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات ابن مریم مر گیا یا زندہ جاوید ہے ہیں صفات ذات حق، حق سے جدا یا عین ذات؟ آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟ ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟ کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟ تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے تا بساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہان بے ثبات ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابلیس کی مجلس شوری
ابلیس یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دُوں ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں! اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز جس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوں میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں! پہلا مشیر اس میں کیا شک ہے کہ مُحکم ہے یہ ابلیسی نظام پختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سُجود ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج صوفی و مُلا ملوکیت کے بندے ہیں تمام طبعِ مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلام! ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟ ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام! دوسرا مشیر خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر! پہلا مشیر ہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے جو ملوکیت کا اک پردہ ہو، کیا اس سے خطر! ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر کاروبار شہریاری کی حقیقت اور ہے یہ وجودِ میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر! تیسرا مشیر روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟ وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوز مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب! اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب! چوتھا مشیر توڑ اس کا رومۃ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ آل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب، تیسرا مشیر میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب پانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کرکے اے ترے سوز نفس سے کار عالم استوار! تو نے جب چاہا، کیا ہر پردگی کو آشکار آب و گل تیری حرارت سے جہان سوز و ساز ابلہ جنت تری تعلیم سے دانائے کار تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف تیری غیرت سے ابد تک سرنگوں و شرمسار گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار وہ یہودی فتنہ گر، وہ روح مزدک کا بروز ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرغ کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگار چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پر جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبار فتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار ابلیس اپنے مشیروں سے ہے مرے دست تصرف میں جہان رنگ و بو کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمان تو بتو دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو کیا امامان سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو کارگاہ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو! دست فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مو ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو جانتا ہے، جس پہ روشن باطن ایام ہے مزدکیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے! (2) جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں ہے وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں بے یدِ بیضا ہے پیران حرم کی آستیں عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں الحذر! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں! چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے (3) توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات ابن مریم مر گیا یا زندہ جاوید ہے ہیں صفات ذات حق، حق سے جدا یا عین ذات؟ آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟ ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟ کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟ تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے تا بساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہان بے ثبات ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, گئی, پہ, لکھی, نام, نشان, مجلس, مسجد, آج, اقبال, الفاظ, انسان, ابلیس, ابلیس کی مجلس شوری, ابلیسی, ارمغانِ حجاز, تباہ, دہی, شوری, شاعری, علامہ, علامہ اقبال, عناصر, عرش |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نشئی بیوروکریٹ نے پولیس کو جوتے مار کر ایس ایس پی سندھ بدر کرا دیا | جاویداسد | خبریں | 0 | 28-11-10 06:41 PM |
| حکومت نے ایس ایم ایس پر بیس پیسے ٹیکس کا فیصلہ واپس لے لیا۔ | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 0 | 23-06-09 11:19 AM |
| ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے | عبیداللہ عبید | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 10 | 14-06-09 08:44 PM |
| پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل :سی ایس ایس امتحانات میں 12ویں پوزیشن لینے والا ایماندار افسر برطرف | شیخ ہمدان | خبریں | 10 | 03-04-09 03:20 AM |
| راشد رؤف فرارکیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں2 روز کی توسیع | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 25-12-07 02:43 PM |