|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
بے چین اُمنگوں کو بہلا کر چلے جانا
ہم تم کو نہ روکیں گے بس آکر چلے جانا ملنے جو نا آئے تم تھی کونسی مجبوری؟ جھوٹا کوئی افسانہ دوہرا کر چلے جانا جو آگ لگی ہے دل میں وہ سرد نا ہو جائے بجھتے ہوئے شعلوں کو بڑھکا کر چلے جانا اُجڑی نظر آتی ہے جذبات کی ہریالی تم اس پر کوئی بادل برسا کر چلے جانا فرقت کی ازیت میں کچھ صبر بھی لازم ہے یہ بات میرے دل کو سمجھا کر چلے جانا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شیراز احمد کا شکریہ ادا کیا |