|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,395
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,732 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غمِ حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی
چلے آئو ک دنیا سے جا رہا ہے کوئی ازل سے کہہ دو کہ رُک جائے دو گھڑی سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی وہ اس ناز سے بیٹھے ہیں لاش کے پاس جیسے روتے ہوئے کو منا رہا ہے کوئی پلٹ کر نہ آجائے پھر سانس نبضوں میں اتنے حسین ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے کوئی ۔
__________________
مرزا محمد فاروق |
|
|
|