واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > شاعری اور مصوری




میری اماں جان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-03-09, 11:04 AM   #16
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: میری اماں جان

ام غزل صاحبہ آ پ کے لئے


ماں!
جب کبھی زندگی اداس لگے
جب کہیں بھی سکون نہ پائو تم
کوئی پرسان حال نہ پوچھے
ساری دنیا سے ہار جائو تم
تب میرے دوست صرف ایک ہستی
تم پہ نظرِ کرم کی ڈالے گی
تم سے ساری اداسیاں لے کر
راحت قلب تم کو بخشے گی
جو کہیں سے بھی نہ میسر ہو
وہ سکون ماں کے پاس ہوگا
دیکھ کر درد اپنے بچے کا
آنکھ ہو جاتی ہے جس کی پرنم
دوست تجھ سے کہوں میں کیا ہے ماں
محبتوں کا ایک جہاں ہے ماں
تیری دنیا میں‌گر اندھیرا ہو
روشنی دینے کو شمع ہے ماں
قدم کہ نیچے ہے جنت اس کے
یعنی جنت کا آسمان ہے ماں
مشورہ میرا ہے تجھے ہمدم
توڑنا نہ کبھی ماں کا بھرم
بندے وہ ہی کمال رکھتے ہیں
جو اپنی ماں کا خیال رکھتے ہیں
کہ ہدیث میں یہ کمال ہوتا ہے
بیٹا ماں کا غلام ہوتا ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (04-03-09), ام غزل (05-03-09)
کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
04-03-09 محمدخلیل for mother 50
پرانا 04-03-09, 11:35 AM   #17
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: میری اماں جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنی ماں کیلئے کچھ لکا تھا جب میں ان سے دور ہوئ۔۔۔۔۔۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،
کیا کہیں ماں ،تمھیں کہ کیا ہو تم
جو مانگی رب سے،وہی دعا ہو ہو تم
تم محبت کا ایسا بادل ہو
جس کے نیچے کنارے رہتے ہیں
تم بہاروں کا ایسا منظر ہو
جس میں خواہش کے پھول کھلتے ہیں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،
بہت فخر کے ساتھ کہ یہ میں نے اپنی ماں کے لئے لکھا۔
امٍ غزل۔
ماں کی کمی کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ نہیں ہوتی

خدا بچوں کو ماں‌کے سائے سے محروم نہ کرے آ میں
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-03-09, 12:03 PM   #18
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: میری اماں جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنی ماں کیلئے کچھ لکا تھا جب میں ان سے دور ہوئ۔۔۔۔۔۔



کیا کہیں ماں ،تمھیں کہ کیا ہو تم
جو مانگی رب سے،وہی دعا ہو ہو تم
تم محبت کا ایسا بادل ہو
جس کے نیچے کنارے رہتے ہیں
تم بہاروں کا ایسا منظر ہو
جس میں خواہش کے پھول کھلتے ہیں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،بہت فخر کے ساتھ کہ یہ میں نے اپنی ماں کے لئے لکھا۔
امٍ غزل۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدر ماں باپ کی گر کوئی جان لے
اپنی جنت کو دنیا میں ہی پہچان لے
۔۔
جب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا
یہ جہاں تیری سوچ سے بھی دور تھا
ہاتھ پائوں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیا کے سپنے نہ تھے
تجھ کو آتا صرف رونا ہی تھا
تجھ کو چلنا سکھایا تھا ماں نے تیری
تجھ کو دل میں بسایا تھا ماں نے تیری
ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا
آہستہ آہستہ توں کڑیل جوان ہو گیا
تجھ پی سارا جہاں مہربان ہو گئا
زور بازو پہ توں بات کرنے لگا
خد ہی سجنے سنورنے لگا
ایک دن ایک لڑکی تجھ کو بھاگئی
بن کے دلہن وہ تیرے گھر آگئی
اپنے فرض سے توں دور ہونے لگا
بیج نفرت کے توں بونے لگا
پھر توں باپ کو بھی بھلانے لگا
تیر باتوں کے پھر توں چلانے لگا
بات بہ بات ان سے تو لڑنے لگا
قائدہ ایک توں نیا پھر پڑھنے لگا
یار کر تجھ سے ماں نے کہا اک دن
اب ہمارا گزار نہیں تیرے بن
سن کہ یہ بات توں طیش میں آگیا
تیرا غصہ تیری عقل کو کھا گیا
جوش میں آکے توں نے یہ ماں سے کہا
میں تھا خاموش سب دیکھتا ہی رہا
آج کہتا ہوں پیچھا میرا چھوڑ دو
جو ہے رشتہ میرا تم سے وہ توڑ دو
جائو جا کہ کہیں کام دھندا کرو
لوگ مرتے ہیں تم بھی کہیں جا مرو
بیٹھ کر آہیں بھرتی تھی ماں رات بھر
انکی آہوں کا تجھ پر ہوا نہ اثر
ایک دن باپ تیرا چلا روٹھ کر
کیسے بکھری تھی ماں تیری ٹوٹ کر
پھر وہ بھی بس کل کا بلاتی رہی
زندگی اسکو روز ستاتی رہی
ایک دن موت کو بھی ترس آگیا
اسکا رونا بھی تقدید کو بھا گیا
اشک آنکھوں میں تھے وہ روانہ ہوئی
موت کی ایک ہچکی بہانہ ہوئی
ایک سکوں اس کے چہرے پہ چھا گئا
ہھر توں میت کو اسکی سجانے لگا
مدتیں ہو گئی آج بوڑھا ہے توں
ٹوٹی کھٹیاں پہ پڑا ہے توں
تیرے بچے بھی اب تجھ سے ڈرتے نہیں
نفرت ہیں،محبت وہ کرتے نہیں
درد میں توں پکارے کہ او میری ماں
تیرے دم سےب روشن تھے دونوں جہاں
وقت چلتا رہتا ہے وقت رکتا نہیں
ٹوٹ جاتا ہے وہ جو جھکتا نہیں
بن کے عبرت کا توں ابن نشان رہ گےا
ڈھونڈ زور تیرا کہاں رہ گیا
توں احکام ربی بھلاتا رہا
اپنے ماں باپ کو توں ستاتا رہا
کاٹ لے توں وہی توں نے بویا تھا جو
تجھ کو کیسے ملے توں نے کھویا تھا جو
یاد کر کے گزرا دور توں رونے لگا
کل جو توں نے کیا آج پھر ہونے لگا
موٹ مانگے تجھے موت آتی نہیں
ماں کی‌صورت نگاہوں سے جاتی نہیں
توں جو کھانسے تو اولاد ڈانٹے تجھے
توں ہے ناسور سکھ کوں بانٹے تجھے
موت آئے گی تجھ کو مگر وقت پر
بن ہی جائے گی قبر تیری وقت پر
قدر ماں باپ کی گر کوئی جان لے
اپنی جنت کو دنیا میں ہی پہچان لے
اور لیتا رہے وہ بدعائوں کی دعا
اسی کے دونوں جہاں اسکا حامہ خدا
یاد رکھنا توں فیض کی اس بات کو
بھول نہ جانا رحمت کی برسات کو
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (04-03-09), ام غزل (05-03-09)
پرانا 04-03-09, 01:33 PM   #19
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,476
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: میری اماں جان

واہ بھائی کیا بات ہے بہت مزا آگیا ہے
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-03-09), ام غزل (05-03-09)
پرانا 04-03-09, 02:26 PM   #20
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: میری اماں جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
واہ بھائی کیا بات ہے بہت مزا آگیا ہے
بہت شکریہ خلیل بھائی آپ کا کہ آُ نے تبصرہ کیا اور اپنے کمائی سے مئجھ جیسے غریب کو عطیہ کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں ام غزل صاحبہ دیکھ لو خلیل بھائی نے عطیہ کیا ہے امید ہے کہ آُ بھی محبت کے ساتھ اپنی کمائی مئجھے ہی دے دی گی اور میں آپکو بھی شکریہ کہوں گا ایک بار پھر خلیل بھائی آپ کا شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-03-09, 03:51 AM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: میری اماں جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
ماں خدا کی ذات کو وہ عظیم تحفہ ہے جس کا نعم البدال کوئی نہیں اور وہ انسان بدقسمت ہے جس نے اپنی ماں سے محبت نہیں کی اور ماں کو سمجھ نہیں سکا اور وہ انسان خوش نصیب ہے جس نے اپنی ماں کو پا لیا اور جب ماں جیسی عظیم ہستی ہم سے چھن جاتی ہے تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ ہم ماں بنا کچھ نہیں ہے
(یک بار حضرت موسی خدا کی پاک ذات سے ہمکلام ہونے گئے تو چلتے چلتے لڑکھڑا گئے غیب سے آواز آئی اے موسی سنبھل کر تیرے پیچھے ماں کی دعا نہیں ہے)ماں کی دعا ہے ہماری زندی کا سرمایہ ہے میں سید انجم شاہ فخر سے کہتا ہوں کہ میں اپنی ماں کے بنا نہیں رہ سکتا صبح ناشتہ کے وقت صرف ماں پاس پوتی ہے اور جب رات کو گھر جاتا ہوں تو ماں‌سے باتیں نہ کروں تو نیند ہی نہیں آتی اور یہ بھی فخر ہے کہ ماں کا لاڈلا ہوں
ام غزل آپ نے لکھا میں نے اپنی ماں کیلئے کچھ لکا تھا جب میں ان سے دور ہوئ۔۔۔۔۔۔تو سمجھ آتا ہے کہ وہ دنیا میں نہیں ہیں
تو مولا کریم سے دعا ہے کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام دے اور آپ کو صبر و جمیل دے بے شک ماں کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماں کا نعم البدل ہی کوئی نہیں آًمین ثم آمین
اللہ نہ کرے کہ ان کو کچھ ہو وہ حات ہیں اور اللہ کریم ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتے رہیں،
میں نے کہا میں ان سے دور ہوئ یعنی جب میں شادی کرکے ین سے دور ہوئ۔خیر آپ کی خیر سگالی کا شکریہ۔۔۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-03-09, 03:52 AM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: میری اماں جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
ماں خدا کی ذات کو وہ عظیم تحفہ ہے جس کا نعم البدال کوئی نہیں اور وہ انسان بدقسمت ہے جس نے اپنی ماں سے محبت نہیں کی اور ماں کو سمجھ نہیں سکا اور وہ انسان خوش نصیب ہے جس نے اپنی ماں کو پا لیا اور جب ماں جیسی عظیم ہستی ہم سے چھن جاتی ہے تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ ہم ماں بنا کچھ نہیں ہے
(یک بار حضرت موسی خدا کی پاک ذات سے ہمکلام ہونے گئے تو چلتے چلتے لڑکھڑا گئے غیب سے آواز آئی اے موسی سنبھل کر تیرے پیچھے ماں کی دعا نہیں ہے)ماں کی دعا ہے ہماری زندی کا سرمایہ ہے میں سید انجم شاہ فخر سے کہتا ہوں کہ میں اپنی ماں کے بنا نہیں رہ سکتا صبح ناشتہ کے وقت صرف ماں پاس پوتی ہے اور جب رات کو گھر جاتا ہوں تو ماں‌سے باتیں نہ کروں تو نیند ہی نہیں آتی اور یہ بھی فخر ہے کہ ماں کا لاڈلا ہوں
ام غزل آپ نے لکھا میں نے اپنی ماں کیلئے کچھ لکا تھا جب میں ان سے دور ہوئ۔۔۔۔۔۔تو سمجھ آتا ہے کہ وہ دنیا میں نہیں ہیں
تو مولا کریم سے دعا ہے کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام دے اور آپ کو صبر و جمیل دے بے شک ماں کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماں کا نعم البدل ہی کوئی نہیں آًمین ثم آمین
اللہ نہ کرے کہ ان کو کچھ ہو وہ حیات ہیں اور اللہ کریم ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتے رہیں،
میں نے کہا میں ان سے دور ہوئ یعنی جب میں شادی کرکے ان سے دور ہوئ۔خیر آپ کی خیر سگالی کا شکریہ۔۔۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-03-09, 12:09 PM   #23
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: جواب: میری اماں جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
اللہ نہ کرے کہ ان کو کچھ ہو وہ حیات ہیں اور اللہ کریم ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتے رہیں،
میں نے کہا میں ان سے دور ہوئ یعنی جب میں شادی کرکے ان سے دور ہوئ۔خیر آپ کی خیر سگالی کا شکریہ۔۔۔
غزل میں اپنے الفاظ پر شرمندہ ہوں معزرت کےلئے الفاظ نہیں ہیں میرے پاس
اور مولا کریم ان کو زندگی تندرستی عطا فرمائے اور آپ پر ان کا سایہ برقرار رہے آمین ثم آمین ماں ہی ہمارا کل سرمایہ ہوتی ہے اگر ہم لوگ سمجھے تو ایک بار پھر معزرت کے ساتھ امید کرتا ہوں کہمجھے معاف کر دیا جائے گا( معافی کا خواستگار سید انجم شاہٰ)
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (05-03-09)
جواب

Tags
پھول, پوسٹ, قدم, نیند, نظر, ماں, محبت, اللہ, انعام, بھائی, بچوں, تلاش, جواب, جلد, حل, خوش, خدا, دعا, سوری, شاعری, شعر, عزیز, غزل, صاحبہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger