|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
ام غزل صاحبہ آ پ کے لئے
ماں! جب کبھی زندگی اداس لگے جب کہیں بھی سکون نہ پائو تم کوئی پرسان حال نہ پوچھے ساری دنیا سے ہار جائو تم تب میرے دوست صرف ایک ہستی تم پہ نظرِ کرم کی ڈالے گی تم سے ساری اداسیاں لے کر راحت قلب تم کو بخشے گی جو کہیں سے بھی نہ میسر ہو وہ سکون ماں کے پاس ہوگا دیکھ کر درد اپنے بچے کا آنکھ ہو جاتی ہے جس کی پرنم دوست تجھ سے کہوں میں کیا ہے ماں محبتوں کا ایک جہاں ہے ماں تیری دنیا میںگر اندھیرا ہو روشنی دینے کو شمع ہے ماں قدم کہ نیچے ہے جنت اس کے یعنی جنت کا آسمان ہے ماں مشورہ میرا ہے تجھے ہمدم توڑنا نہ کبھی ماں کا بھرم بندے وہ ہی کمال رکھتے ہیں جو اپنی ماں کا خیال رکھتے ہیں کہ ہدیث میں یہ کمال ہوتا ہے بیٹا ماں کا غلام ہوتا ہے |
|
|
|
| کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-03-09 | محمدخلیل | for mother | 50 |
|
|
#17 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
خدا بچوں کو ماںکے سائے سے محروم نہ کرے آ میں |
|
|
|
|
|
|
#18 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
قدر ماں باپ کی گر کوئی جان لے اپنی جنت کو دنیا میں ہی پہچان لے ۔۔ جب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا یہ جہاں تیری سوچ سے بھی دور تھا ہاتھ پائوں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے تیری آنکھوں میں دنیا کے سپنے نہ تھے تجھ کو آتا صرف رونا ہی تھا تجھ کو چلنا سکھایا تھا ماں نے تیری تجھ کو دل میں بسایا تھا ماں نے تیری ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا آہستہ آہستہ توں کڑیل جوان ہو گیا تجھ پی سارا جہاں مہربان ہو گئا زور بازو پہ توں بات کرنے لگا خد ہی سجنے سنورنے لگا ایک دن ایک لڑکی تجھ کو بھاگئی بن کے دلہن وہ تیرے گھر آگئی اپنے فرض سے توں دور ہونے لگا بیج نفرت کے توں بونے لگا پھر توں باپ کو بھی بھلانے لگا تیر باتوں کے پھر توں چلانے لگا بات بہ بات ان سے تو لڑنے لگا قائدہ ایک توں نیا پھر پڑھنے لگا یار کر تجھ سے ماں نے کہا اک دن اب ہمارا گزار نہیں تیرے بن سن کہ یہ بات توں طیش میں آگیا تیرا غصہ تیری عقل کو کھا گیا جوش میں آکے توں نے یہ ماں سے کہا میں تھا خاموش سب دیکھتا ہی رہا آج کہتا ہوں پیچھا میرا چھوڑ دو جو ہے رشتہ میرا تم سے وہ توڑ دو جائو جا کہ کہیں کام دھندا کرو لوگ مرتے ہیں تم بھی کہیں جا مرو بیٹھ کر آہیں بھرتی تھی ماں رات بھر انکی آہوں کا تجھ پر ہوا نہ اثر ایک دن باپ تیرا چلا روٹھ کر کیسے بکھری تھی ماں تیری ٹوٹ کر پھر وہ بھی بس کل کا بلاتی رہی زندگی اسکو روز ستاتی رہی ایک دن موت کو بھی ترس آگیا اسکا رونا بھی تقدید کو بھا گیا اشک آنکھوں میں تھے وہ روانہ ہوئی موت کی ایک ہچکی بہانہ ہوئی ایک سکوں اس کے چہرے پہ چھا گئا ہھر توں میت کو اسکی سجانے لگا مدتیں ہو گئی آج بوڑھا ہے توں ٹوٹی کھٹیاں پہ پڑا ہے توں تیرے بچے بھی اب تجھ سے ڈرتے نہیں نفرت ہیں،محبت وہ کرتے نہیں درد میں توں پکارے کہ او میری ماں تیرے دم سےب روشن تھے دونوں جہاں وقت چلتا رہتا ہے وقت رکتا نہیں ٹوٹ جاتا ہے وہ جو جھکتا نہیں بن کے عبرت کا توں ابن نشان رہ گےا ڈھونڈ زور تیرا کہاں رہ گیا توں احکام ربی بھلاتا رہا اپنے ماں باپ کو توں ستاتا رہا کاٹ لے توں وہی توں نے بویا تھا جو تجھ کو کیسے ملے توں نے کھویا تھا جو یاد کر کے گزرا دور توں رونے لگا کل جو توں نے کیا آج پھر ہونے لگا موٹ مانگے تجھے موت آتی نہیں ماں کیصورت نگاہوں سے جاتی نہیں توں جو کھانسے تو اولاد ڈانٹے تجھے توں ہے ناسور سکھ کوں بانٹے تجھے موت آئے گی تجھ کو مگر وقت پر بن ہی جائے گی قبر تیری وقت پر قدر ماں باپ کی گر کوئی جان لے اپنی جنت کو دنیا میں ہی پہچان لے اور لیتا رہے وہ بدعائوں کی دعا اسی کے دونوں جہاں اسکا حامہ خدا یاد رکھنا توں فیض کی اس بات کو بھول نہ جانا رحمت کی برسات کو |
|
|
|
|
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() |
واہ بھائی کیا بات ہے بہت مزا آگیا ہے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (04-03-09), ام غزل (05-03-09) |
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ خلیل بھائی آپ کا کہ آُ نے تبصرہ کیا اور اپنے کمائی سے مئجھ جیسے غریب کو عطیہ کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں ام غزل صاحبہ دیکھ لو خلیل بھائی نے عطیہ کیا ہے امید ہے کہ آُ بھی محبت کے ساتھ اپنی کمائی مئجھے ہی دے دی گی اور میں آپکو بھی شکریہ کہوں گا ایک بار پھر خلیل بھائی آپ کا شکریہ
|
|
|
|
|
|
#21 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے کہا میں ان سے دور ہوئ یعنی جب میں شادی کرکے ین سے دور ہوئ۔خیر آپ کی خیر سگالی کا شکریہ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے کہا میں ان سے دور ہوئ یعنی جب میں شادی کرکے ان سے دور ہوئ۔خیر آپ کی خیر سگالی کا شکریہ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#23 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور مولا کریم ان کو زندگی تندرستی عطا فرمائے اور آپ پر ان کا سایہ برقرار رہے آمین ثم آمین ماں ہی ہمارا کل سرمایہ ہوتی ہے اگر ہم لوگ سمجھے تو ایک بار پھر معزرت کے ساتھ امید کرتا ہوں کہمجھے معاف کر دیا جائے گا( معافی کا خواستگار سید انجم شاہٰ) |
|
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | ام غزل (05-03-09) |
![]() |
| Tags |
| پھول, پوسٹ, قدم, نیند, نظر, ماں, محبت, اللہ, انعام, بھائی, بچوں, تلاش, جواب, جلد, حل, خوش, خدا, دعا, سوری, شاعری, شعر, عزیز, غزل, صاحبہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|