|
|
#1 |
|
Junior Member
اجنبیتاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 36
مراسلات: 7
کمائي: 223
شکریہ: 5
4 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہیں پر زمیں خون سے تر بتر ہے
کہیں آسماں بھی لہو رو رہا ہے چلو سو رہیں اوڑھ کر ہم بھی مٹی کہ دنیا میں جینا سزا ہورہا ہے قیامت کے آثار تو جا بجا ہیں جہاں محو غفلت ابھی سورہا ہے عقائد ، قواعد کی بے اعتدالی فسوں کیسا جگ میں بپا ہورہا ہے غلامی کی قبروں میں خاموش مردے ہوس جاگتی ہے بدن سو رہا ہے مفادات کے مدفنوں میں مقید ہر اک ہر طرف نفرتیں بورہا ہے میں سرگشتہ بیکس، میں بےبس، میں بےحس زمانے میں میرا بھرم کھورہا ہے دکھا کر حقیقت کا آئینہ سعدی فرائض سے اپنے بری ہو رہا ہے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے saadi کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Junior Member
اجنبیتاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 36
مراسلات: 7
کمائي: 223
شکریہ: 5
4 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکریہ اس پذیرائی کا----
جی محترم یہ میری اپنی کاوش ہے۔۔ |
|
|
|