|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نوجوان نسل کے مشہور و مقبول شاعر اور ایف ایم ریڈیو کے مایہ ناز پریزینٹر جناب خلیل اللہ فاروقی کا پہلا شعری مجموعہ ”محبت خوش گماں ہے“ شائع ہو چکا ہے۔ جسے زبردست پزیرائی حاصل ہو رہی ہے اور مسلسل اس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے
محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے دھنک سے رنگ لے لینا ستاروں سے دمک لینا سحر سے روشنی لینا گُلوں سے دلکشی لینا مغنّی بلبلوں سے نغمگی لینا علی الصبح جاگ جانا اوس کے قطروں سے تم پاکیزگی اور تازگی لینا صباحت حور سے لینا ملاحت تم مِرے محبوب سے لینا ہزاروں بھید والے کالے برِّاعظم کے تحیّر خیز خطے میں چلے جانا بہت مخصوص جنگل میں قلانچیں مارتے آہو کا رَم تسخیر کر لینا اور اُس کے نافہ مغزن صفت سے خوشبوئے جادو اثر لینا جسے سب مُشک کہتے ہیں لگے جب جنگلوں میں آگ اس آتش کے شعلوں سے غضب کی تم لپک لینا سمندر سے تحمل، ضبط اور گہرائی لے لینا محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے بہاروں سے یہ کہنا اپنی شادابی تمھیں دے دیں کسی سرسبز وادی میں چمکتی جھیل پر جب کالے بادل جھوم کر چھائیں ہوا رُک جائے بارش کی بہت ننھی سی بے حد دلنشیں شہزادیاں بوندوں کی نازک پالکی میں جب اُتر آئیں تو یہ منظر چُرا لینا یہ سارے رنگ اور منظر تمھارے ہاتھ آجائیں مگر پھر بھی اُدھوری سی تمھیں تصویر لگتی ہو طرب زارِ تمنا میں المناکی ضروری ہو محبت کی اگر یہ مونا لیزا بن نہیں پائے تو پھر اِک کام تم کرنا مِرے ٹوٹے ہوئے دل کی ہر اِک کرچی اُٹھا لینا یہی جوہر تو اس تصویر میں اِک روح پھونکے گا محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے.... |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں ایسی محبت کرتا ہوں
ناکام نہیں ناشاد نہیں میں قیس نہیں فرہاد نہیں پُنّوں بھی نہیں رانجھا بھی نہیں وامق بھی نہیں مرزا بھی نہیں وہ لوگ تو بس افسانہ تھے اِس شدّت سے بیگانہ تھے میں زندہ ایک حقیقت ہوں سرتاپا جذبہ¿ اُلفت ہوں میں تم کو دیکھ کے جیتا ہوں ہر لمحہ تم پہ مرتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ ”تم جہاں پہ بیٹھ کے جاتے ہو جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں اس چیز کو چُھوتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ تم جس سے ہنس کے ملتے ہو میں اس کو دوست بناتا ہوں تم جس رستے پر چلتے ہو میں اس سے آتا جاتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ تم جن کو دیکھتے رہتے ہو وہ خواب سرہانے رکھتا ہوں میںتم سے ملنے جلنے کے کتنے ہی بہانے رکھتا ہوں میں ایسی محبت کرتاہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟“ کچھ خواب سجا کر آنکھوں میں پلکوں سے موتی چُنتا ہوں کوئی لمس اگر چُھو جائے تو میں پہروں تم کو سوچتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو جن لوگوں میں تم رہتے ہو تم جن سے باتیں کرتے ہو جو تم سے ہنس کے ملتے ہیں جو تم کو اچھے لگتے ہیں وہی مجھ کو اچھے لگتے ہیں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ جس باغ میں صبح کو جاتے ہو جس سبزے پر تم چلتے ہو جو شاخ تمھیں چُھو جاتی ہے جو خوشبو تم کو بھاتی ہے وہ اوس تمھارے چہرے پر جو قطرہ قطرہ گرتی ہے وہ تتلی چھوڑ کے پھولوں کو جو تم سے ملنے آتی ہے جو تم کو چھونے آتی ہے ان سب کے نازک جذبوں میں مِرے دل کی دھڑکن بستی ہے مِری روح بھی شامل رہتی ہے تم پاس رہو یا دُور رہو نظروں میں سمائے رہتے ہو میں تم کو تکتا رہتا ہوں میں تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ جس کالج میں تم پڑھتے ہو میں اس میں لیکچر دیتا ہوں وہ کلاس جہاں تم ہوتے ہو میں اس کو تکتا رہتا ہوں جس کرسی پہ تم بیٹھتے ہو میں اس کو چُھوتا رہتا ہوں جو کاپی تم نے گم کی تھی میں اپنے بیگ میں رکھتا ہوں گدلا سا ایک ٹشو پیپر جو تم نے کلاس میں چھوڑا تھا وہ میرے پرس میں رہتا ہے وہ میرے لمس میں رہتا ہے وہ مخمل ہے وہ دیبا ہے وہ چاندی ہے وہ سونا ہے وہ عنبر ہے وہ صندل ہے وہ خوشبو کا اِک جنگل ہے ہر منظر میں ہر رستے پر میں ساتھ تمھارے ہوتا ہوں میں چشمِ تصور سے اکثر بس تم کو دیکھتا رہتا ہوں بس تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی کا جواب بھی وہ خود ہی دیتے ہیں۔۔۔۔ میں ایسی محبت کرتا ہوں ناکام نہیں ناشاد نہیں میں قیس نہیں فرہاد نہیں پُنّوں بھی نہیں رانجھا بھی نہیں وامق بھی نہیں مرزا بھی نہیں وہ لوگ تو بس افسانہ تھے اِس شدّت سے بیگانہ تھے میں زندہ ایک حقیقت ہوں سرتاپا جذبہ¿ اُلفت ہوں میں تم کو دیکھ کے جیتا ہوں ہر لمحہ تم پہ مرتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ ”تم جہاں پہ بیٹھ کے جاتے ہو جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں اس چیز کو چُھوتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ تم جس سے ہنس کے ملتے ہو میں اس کو دوست بناتا ہوں تم جس رستے پر چلتے ہو میں اس سے آتا جاتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ تم جن کو دیکھتے رہتے ہو وہ خواب سرہانے رکھتا ہوں میںتم سے ملنے جلنے کے کتنے ہی بہانے رکھتا ہوں میں ایسی محبت کرتاہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟“ کچھ خواب سجا کر آنکھوں میں پلکوں سے موتی چُنتا ہوں کوئی لمس اگر چُھو جائے تو میں پہروں تم کو سوچتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو جن لوگوں میں تم رہتے ہو تم جن سے باتیں کرتے ہو جو تم سے ہنس کے ملتے ہیں جو تم کو اچھے لگتے ہیں وہی مجھ کو اچھے لگتے ہیں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ جس باغ میں صبح کو جاتے ہو جس سبزے پر تم چلتے ہو جو شاخ تمھیں چُھو جاتی ہے جو خوشبو تم کو بھاتی ہے وہ اوس تمھارے چہرے پر جو قطرہ قطرہ گرتی ہے وہ تتلی چھوڑ کے پھولوں کو جو تم سے ملنے آتی ہے جو تم کو چھونے آتی ہے ان سب کے نازک جذبوں میں مِرے دل کی دھڑکن بستی ہے مِری روح بھی شامل رہتی ہے تم پاس رہو یا دُور رہو نظروں میں سمائے رہتے ہو میں تم کو تکتا رہتا ہوں میں تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ جس کالج میں تم پڑھتے ہو میں اس میں لیکچر دیتا ہوں وہ کلاس جہاں تم ہوتے ہو میں اس کو تکتا رہتا ہوں جس کرسی پہ تم بیٹھتے ہو میں اس کو چُھوتا رہتا ہوں جو کاپی تم نے گم کی تھی میں اپنے بیگ میں رکھتا ہوں گدلا سا ایک ٹشو پیپر جو تم نے کلاس میں چھوڑا تھا وہ میرے پرس میں رہتا ہے وہ میرے لمس میں رہتا ہے وہ مخمل ہے وہ دیبا ہے وہ چاندی ہے وہ سونا ہے وہ عنبر ہے وہ صندل ہے وہ خوشبو کا اِک جنگل ہے ہر منظر میں ہر رستے پر میں ساتھ تمھارے ہوتا ہوں میں چشمِ تصور سے اکثر بس تم کو دیکھتا رہتا ہوں بس تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
احساس
(ایک گداگر لڑکی) میری آواز پہ کشکول کو بھرنے والو میرے پندار کی قیمت ہیں تمھارے سکّے روح کے کرب کا احساس نہیں تم کو ہیں مِرے جسم کا معیار یہ سارے سکّے رحم کے پردے میں پوشیدہ ہوسناکی ہے ان نگاہوں کا ہر انداز سمجھ سکتی ہوں مِرے کشکول میں اُبھری ہے چھنک سکّے کی اس عنایت کا ہر اِک راز سمجھ سکتی ہوں میں کہ معصوم سی اِک خوابزدہ لڑکی تھی کتنے سپنوں کو سجایا تھا تمھیں کیا معلوم معبدِ دل میں پرستش کی تمنا لے کر کیسے چہرے کو بسایا تھا تمھیں کیا معلوم سوچتی رہتی کہ شہزادہ کوئی آئے گا مجھ کو اس وادی¿ ظلمت سے چُھڑانے کے لیے مِرے ٹوٹے ہوئے پندار کی قسمت بن کر میں جو بکھری ہوں مجھے پھر سے بنانے کے لیے پھر مجھے مل گئی تعبیر مِرے سپنوں کی دل نے چپکے سے کہا آگئی منزل تیری ہم نے اقرار کیا ساتھ سدا رہنے کا تُو ہوا میری طلب، میں بنی حاصل تیری تم نے سوچا کہ مِرے ہاتھ کا ٹوٹا پیالہ داغ بن جائے گا اس چاند سی پیشانی کا یہ نہ سوچا کہ اگر تم نے سہارا نہ دیا لوگ دیکھیں گے تماشہ مِری عریانی کا وقت کے ساتھ مِرے جسم سے بیزار ہوئے اور مجھے اپنی نگاہوں سے گرایا تم نے مِری آغوش میں لیٹا ہے جو لاغر سا وجود میری پیشانی پہ یہ داغ لگایا تم نے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (03-10-10), عروج (03-10-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
" نظم"
مگر ابھی تک کوئی کمی ہے بہت ہی مصروف زندگی میں مشہور و معروف زندگی میں خوشی سے بھرپور ساعتوں میں ہزار طرح کی راحتوں میں بدن میں گھلتی رفاقتوں میں وصال آمادہ خلوتوں سے بہت ہی ہولے سے چوری چپکے ہر ایک رشتے سے بچ کے کٹ کے کسی بھی بے سمت سے سفر پر کسی بھی انجان رہگزر پر میں چلتے چلتے یہ سوچتا ہوں کہ ساری دنیا یہ جانتی ہے بہت حسین میری زندگی ہے مگر کسی کو میں کیا بتاؤں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ہر ایک شے ہے وہی نہیں ہے (خلیل اللہ فاروقی) محبت خوش گماں ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | فیاض انصاری (25-11-11), نبیل خان (29-09-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وقت کے ساتھ مِرے جسم سے بیزار ہوئے
اور مجھے اپنی نگاہوں سے گرایا تم نے مِری آغوش میں لیٹا ہے جو لاغر سا وجود میری پیشانی پہ یہ داغ لگایا تم نے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
کبھی ہم زندگی سے گلہ کر کے روئے
کبھی موت کی دعا کر کے روئے عجب سلسلہ ہے نام محبت کا کبھی ادا کر کے روئے کبھی قضا کر کے روئے |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
بکھر رہی ہے میری ذات اسے کہنا
کبھی ملے تو یہ بات اسے کہنا وہ ساتھ تھا تو زمانہ تھا ہمسفرمیرا مگر اب کو نہیں میرے ساتھ اسے کہنا اسے کہنا کہ بن اس کہ دن نہیں کٹتا سسک سسک کہ کٹتی ہے رات اسے کہنا اسے پکاروں کہ خود ہی پہنچ جائوں اسے کہ پاس نہیں رہے وہ حالات اسے کہنا ،،،،،،،،،،،،،، اگر وہ پھر نہ لوٹے تو اے مہربان قاصد ہماری زیست کہ حالات اسے کہنا ہار جیت اس کہ نام کر رہا ہوں میں میں مانتا ہوں اپنی ہار اسے کہنا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
وفا رسوا نہیں کرنا سنو ایسا نہیں کرنا
میں پہلے ہی اکیلا ہوں مجھے تنہا نہیں کرنا جدائی بھی آجائے تو دل چھوٹا نہیں کرنا بہت مصروف ہو تو مجھے سوچا نہیں کرنا بھروسہ بھی ضرور ہے مگر سب کا نہیں کرنا مقدر پھر مقدر ہے کبھی گلہ نہیں کرنا جو لکھا ہے ضرور ہو گا کبھی شکوہ نہیں کرنا میری تکمیل تم سے ہے دیکھو مجھے ادھورا نہیں کرنا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،، |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
تجھے کیا خبر تیری یاد نے
مجھے کس طرح سے ستا دیا کبھی خلوتوں میں ہنسا دیا کبھی محفلوں میں رلا دیا کبھی ہوں ہوا تیری یاد میں میرے کئے سجدے قضا ہوئے کبھی یوں ہو تیری یاد نے مجھے میرے رب سے ملا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
چاہا تھا جسے وہ ملا ہی نہیں
لاکھ کوشش کی لیکن یہ فاصلہ مٹا ہی نہیں خدا سے جھولی پھیلا کہ مانگا تھا اسے خدا نے میری کسی دعا کو سنا ہی نہیں ہر ایک سے پوچھا اس کا نہ ملنے کا سبب ہر ایک نے بتایا وہ تیرے لئے بنا ہی نہیں کتنی شدت سے چاہا تھا اور وہ کسی اور کا ہو گیا شائد اس جہان میں وفا کا صلہ ہی نہیں میرے ہمنشین میرے ہمنوا یہ دعا ہے گلہ نہیں اسے زندگی میں وہ سکون ملے جو مجھے کبھی ملا ہی نہیں |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
کچھ خوابوں ہیں جن کو لکھنا ہے
تعبیر کی صورت دینی ہے کچھ لوگ ہیں اجڑے دل والے جنہیں اپنی محبت دینی ہے کچھ پھول ہیں جن کو چھونا ہے اور ہار کی صورت دینی ہے کچھ اپنی نیندیں باقی ہیں جنہیں بانٹنا ہے کچھ لوگوں میں ان کو بھی راحت دینی ہے اے عمر رواں آہستہ چل ابھی حصہ قرض چکانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج تو کمپیوٹر سکھنے کی قیمت ادا ھو گئ ،ایسے دل کی گہرائیوں سے نکلے الفاظ کہ پیاس ھی بجھ گئ ، ھم تک پہنچانے والوں کا شکریہ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (29-09-11), راجہ اکرام (03-10-10) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی کمال کی شاعری ہے۔۔ آج نظر پڑی ہے اس تھریڈ پر
بیشتر نظمیں پڑھی ہوئی ہیں لیکن یہ علم نہیں تھا کہ یہ کس کے قلم کا شاہکار ہیں۔۔ کبھی یوں ہوا تیری یاد نے مجھے میرے رب سے ملا دیا ۔ لا جواب شاعری ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (29-09-11) |
![]() |
| Tags |
| کالج, گمان, پھول, وفا, قیس, لوگ, لوٹے, موت, محبت, اللہ, تصویر, جیت, جواب, خوش, خبر, دیکھو, دوست, دل, دعا, رات, زیست, زندگی, زمانہ, صفت, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|