![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,530
کمائي: 298,224
شکریہ: 36,136
13,829 مراسلہ میں 40,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے، باپ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ کا نسب چوتھی پشت پر جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجے ہوتے ہیں اور والدہ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ کا نسب دوسری پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھانجے ہوتے ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ میانہ قامت،خوش روتھے،بڑی ڈاڑھی تھی ،سر میں بال زیادہ تھے ، بازوچوڑے تھے ،پنڈلیاں گوشت سے بھری ہوئیں تھیں اور رنگ گندمی تھا۔ بچپن میں آپ رضی اللہ عنہ نے لکھنا پڑھنا سیکھا، کچھ دنوں تک اونٹ چرانے کی خدمت بھی عرب کے رسم کے مطابق انجام دی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ترغیب پر مشرف باسلام ہوئے،یوں آپ رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اُم المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام قبول کرنے والے چوتھے شخص تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ خود اکثر فرمایاکرتے تھے’’میں اسلام کا چوتھا شخص ہو ں ،میری ذات سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی چوتھی عدد پوری فرمائی‘‘۔ آپ رضی اللہ عنہ کو فطرت سلیمہ ودیعت کی گئی تھی، جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ زمانۂ جاہلیت میں بھی فسق وفجور،کذب وافتراء، زنا،چوری اورشراب جیسی جاہلیت کی اکثر عادات واطوار سے دُور رہے ۔استیعاب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ نے زمانۂ جاہلیت میں اپنے اوپر شراب حرام کر لی تھی، جبکہ عرب کا ہر بچہ بادۂ گلگوں میں مست تھا ،آپ کی زبان اسکے ذائقہ سے بھی نا آشنا تھی،صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صکے اِن اوصاف و کمالات پر اورچار چاند لگا دئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ محاسنِاخلاق،حلم ووقار، شرم و حیاء،تقوی وطہارت اورحسنِ عشرت کے مجسمہ تھے،صلہ رحمی وقبیلہ پروری کا خاص شیوہ تھا،مسلمان ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ روزانہ غسل فرماتے ،آپ رضی اللہ عنہ کثرت کے ساتھ روزے رکھنے والے ،تہجد گذاراور لوگوں پر احسان کرنے والے تھے،اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کیا کرتے،اگر کبھی اس میں ناغہ ہوجاتا تو آئندہ جمعہ کو دو غلام آزاد کرتے ۔آپ رضی اللہ عنہ کاتبین وحی میں سے تھے،آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے،آپ رضی اللہ عنہ اکثر ایک رکعت میں قرآن ختم کرتے تھے۔ متعدد قرآنی آیات آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئیں۔آپ رضی اللہ عنہ قرآنی آیات کے شانِ نزول کے ماہر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ مسائلِ حج کے بہت ماہر تھے،دورِ نبوی میں جن صحابہ رضی اللہ عنہما کو فتوی دینے کی اجازت تھی آپ رضی اللہ عنہ اُن میں سے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ کی حیا ضرب المثل تھی، حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ،آپ رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے تھے،ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی ایک مجلس میں تشریف فرماتھے، حضرات شیخین بھی تشریف فرماتھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی مبارک سے کپڑاھٹا ہوا تھا،اچانک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اپنے پاؤں سمیٹ لئے اور پنڈلیاں بھی چھپالیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں…؟ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دو ہجرتیں کیں ١ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، جس میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں۔یوں آپ رضی اللہ عنہ حضرت لوط وحضرت ابراہیم کے بعد پہلے شخص ہیں، جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ ہی کی نسبت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا تھا’’اے ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت لوط و حضرت ابراہیم کے بعد سب سے پہلے انہی دو نے ہجرت کی ہے‘‘۔ ٢ ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے تو آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے۔آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا و حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا یکے بعد دیگرے آپ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سرورِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مغموم دیکھا تو فرمایا کہ’’جبرئیل علیہ السلام نے مجھے اللہ کا یہ پیغام پہنچایا ہے کہ میں رقیہ کی بہن کلثوم کا نکاح ، اُسی مہر کے ساتھ،اُسی طرح آپ کے ساتھ کر دوں‘‘پھر جب حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر میری اور لڑکی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان سے کر دیتا‘‘ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے عثمان سے عقد کرتا جاتا،یہاں تک کہ اُن میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی‘‘اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کو ذی النورین کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے نمایاں اوصاف میں سے ایک وصف سخاوت و فیاضی تھا،جس سے قریش کے ہر چھوٹے بڑے،امیر فقیر،سب نے خوب فائدہ اٹھایا۔اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے فیاضی کا جو معاملہ کیاوہ آپ رضی اللہ عنہ کی ثروت و دریادِلی کی بے مثل نظیر ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح طے ہواتوحضرت علی رضی اللہ عنہ کے مَہر کی رقم آپ رضی اللہ عنہ نے ہی فراہم کی تھی۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو پچاس ہزار درہم قرض معاف کر دیا تھا،بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہما کو اِس سے بھی زیادہ قرض معاف کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں ہر سال حج کے لئے تشریف لے جاتے اور مقام منیٰ میں اپناخیمہ نصب کرواتے،جب تک حُجاج کوکھانا نہ کِھلالیتے،لَوٹ کر اپنے خیمہ میں نہ آتے تھے،یہ سارا انتظام اپنی خاص جیب سے کرتے، بیت المال سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ غزوۂ تبوک میں کھانے پینے کی جو تکلیف مسلمانوں کو ہوئی ،اِس سے پہلے کسی غزوہ میں نہ ہوئی تھی،آپ رضی اللہ عنہ کو جب اِس کا عِلم ہوا تواِس قدر غلہ ،روٹیاں اور کھانے پینے کی دیگر چیزیں خرید کر اُونٹوں پر لاد کر لے گئے کہ تبوک کے تمام شرکاء کو کافی ہوگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھاکرآپ رضی اللہ عنہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا’’اے اللہ !میں عثمان سے خوش ہوگیا ہوں تُو بھی اِس سے راضی ہوجا‘‘۔ جیش العسرہ میں کل لشکر کاسرو سامان آپ رضی اللہ عنہ نے ہی مہیا کیاتھا،حضرت عبد الرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبرسے اُترتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے’’آج کے بعد عثمان جو کریں گے سب معاف ہے‘‘۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ اہلِ بیت نبوی کو چار روز تک کھانے پینے کو کچھ میسر نہ آیا،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کئی اُونٹ آٹا،گیہوں،کھجوریں،سالم بکرااور تین سو درہم کی ایک تھیلی لاکر پیش کی،اور کہا اِسے تیار ہونے میںدیر لگے گی،میں تیار کھانا لاتا ہوں،چنانچہ تھوڑی دیر میں بُھناگوشت اور روٹیاں لائے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوہاتھ اُٹھا کر دعا دیتے ہوئے فرمایا’’اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوگیا ہوں تو بھی راضی ہوجا‘‘۔ مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ایک چھوٹی سی مسجد بنائی گئی تھی ،جو کچھ ہی عرصہ میں چھوٹی پڑ گئی تھی ،ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا’’جوشخص فلاں فلاں اشخاص کے مکان خرید کر ہماری مسجد میں شامل کرے گا ،اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں مکان بنائے گااور اُس کے گناہ معاف کردے گا‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے اجازت لے کر ان مکانات کو بیس یا پچیس ہزار اشرفی میں خرید کر مسجد نبوی میں شامل کردیا۔ مدینہ منورہ میں میٹھے پانی کا ایک ہی کنواں تھا ،جس کا مالک ایک یہودی تھا،جو پانی مہنگا بیچتا تھا ،جس کی وجہ سے نادار صحابہث کو کھاری پانی پینا پڑتا تھا،رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ میں پانی کی اِس تنگی کاذکر فرمایا،آپ رضی اللہ عنہ نے پنتیس ہزار میں کنواں خرید کر وقف کر دیا۔ صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنا معتمدِ خاص مقرر کر رکھا تھا،صدیق اکبررضی اللہ عنہ تمام اہم معاملات آپ رضی اللہ عنہ سے تحریر کرواتے،حتیٰ کہ اپنی وصیت، جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنا جان نشین نامزد کیا، آپ رضی اللہ عنہ سے تحریر کروائی تھی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ نے نمایاں خدمات انجام دیں اور فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ بھی تمام اہم امور میں آپ رضی اللہ عنہ سے مشاورت کرتے تھے،اور آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی مجلس شوریٰ کا رکن بنا رکھا تھا،آپ رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے ہی حضرت عمررضی اللہ عنہ نے بیت المال کا شعبہ قائم کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک مسجد نبوی کی چھت ،کھجور کے پتوںاور لکڑیوں سے بنی ہوئی تھی ،صحن کچا تھا۔بارش کے دنوں میں دو دن تک مسجد نبوی کی چھت سے پانی ٹپکتا رہتا تھا،نمازیوں کو سخت تکلیف ہوتی۔آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مرمت کی درخواست کی، انہوں نے منع کردیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِخلافت میں،ذاتی خرچہ سے مسجد نبوی کی چھت،صحن اور دیواروں کو پختہ کروایا،مسجد حرام(حرمِ مکی )کی توسیع بھی آپ رضی اللہ عنہ نے کروائی۔مکہ مکرمہ کی بندرگاہ جدہ مقرر کی۔آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں لوگوں میں وظائف تقسیم کرنے کے دن مقرر کر رکھے تھے،آپ رضی اللہ عنہ کا منادی لوگوں میں اعلان کردیتا کہ صبح روزینہ ، کپڑے،گھی اور شہد لینے آجاناتو لوگ صبح کو جاکر مطلوبہ اشیاء لے آتے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں چوکیاں ،سرائے(مسافرخانہ)،پُل،سڑکی ں،چشمے،نہریں،مہمان خانے، مساجداورمدارس بکثرت تعمیر کروائے۔آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِخلافت میں مدینہ کے گرد سیلاب کو روکنے کیلئے بند بندھوایا، پولیس کا محکمہ آپص نے مقرر کیا۔تجارت ، صنعت،حرفت اور زراعت کوفروغ دلوایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب نمازیوں کی کثرت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ سے قبل دو آذانیں دینے کا حکم دیا،جبکہ پہلے صرف ایک آذان ،امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت دی جاتی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد کی فضاکو عام کیا اور احیاء علوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے قرآن مجید کے بہت سے نسخے تیار کروا کے تمام بلاد اسلامیہ میں بھجوائے،تاکہ امت اختلاف سے محفوظ رہے۔حضرات شیخین کی طرح آ پ رضی اللہ عنہ بھی روایتِ حدیث میں بہت احتیاط کرتے تھے،آپ ص کے ذریعے 146احادیث اُمت تک پہنچیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جو علاقے فتح ہوئے اُن میں سے چند کے نام یہ ہیں، طرابلس الشام،افریقہ،اندلس،جزیرۂ قبرص،جزیرۂ روڈس ،قسطنطنیہ ، آرمینیا،فارس، خراسان،سرخس، بیہق،ترکستان،کابل، زابلستان، سیستان، کرمان، ہرات،طالقان، فاریاب اور طبرستان ، نیز آپ رضی اللہ عنہ کے شاندار کارناموں میں سے ایک روشن کارنامہ بحری جنگوں کا آغاز بھی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی تواضع وانکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ ایامِ خلافت میں مسجد نبوی میں عام لوگوں کی طرح سر کے نیچے چادر رکھ کر سو جاتے تھے،کسی نے کوئی بات کرنی ہوتی تو وہیں آپ رضی اللہ عنہ کو بیدار کر کے پوچھ لیتا اورآپ رضی اللہ عنہ اُس کا جواب دیکر پھر وہیں لیٹ جاتے ،بسا اوقات آپ رضی اللہ عنہ بیدار ہوتے تو چٹائی کے نشان آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر نمایاں ہوتے۔سادگی کا یہ عالم کہ گھر میں بیسیوں لونڈیاں اور غلام تھے ،مگر آپ رضی اللہ عنہ اپنے ذاتی کام خود انجام دیتے ، اُ ن میں سے کسی کو نہ فرماتے۔۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی جنت کا ساتھی ہے اور میرا جنت کاساتھی عثمان بن عفان ہے‘‘۔حضرت جابر بن عطیہ ص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبہ میں فرمایا:’’اے عثمان! اللہ نے تیرے گناہ بخش دیئے،جو تونے پہلے کئے اور جو تو بعد میں کریگا،جو تونے چھپا کر کئے اور تو نے ظاہر کئے اور جو گناہ قیامت تک ہونے والا ہے‘‘۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے شام میں کسی شخص کے چلانے کی آوازسنی جو کہہ رہا تھا،ہائے آ گ !ہائے آگ!میں اُ س کے پاس گیاتو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کراہ رہا ہے،جس کے دونوں ہاتھ اور پیر کٹے ہوئے ہیں اور آنکھوں سے بھی اندھا ہے،میں نے پوچھاتم اس حالت پر کس طرح پہنچے…؟اس نے کہاکہ میں مصریوں کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے گیاتھا،جب میں آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا ،توآپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے خوف زدہ ہوکر چیخ ماری،میں نے اُس کے چہرے پر زوردار تھپڑ کھینچ مارا،یہ دیکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بد دعا کی کہ’’ اللہ تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ دے،تیری آنکھیں اندھی ہو جائیں اور تو جہنم واصل ہو‘‘آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، میں وہاں سے نکلا توبجلی کی کڑک مجھ پر چھا گئی،جس سے اس حال کو پہنچا جو تم دیکھ رہے ہو،اب میرے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بد دعامیں سے اتنی کسر رہ گئی ہے کہ دوزخ میں داخل کیا جاؤں۔میںنے کہا دور ہو، خدا تجھے ذلیل کرے۔ آپ رضی اللہ عنہ بارہ دن کم بارہ سال منصب خلافت پر فائز رہے،اس دوران آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بارہ سالہ خدماتِخلافت کا معاوضہ(تنخواہ)بھی وصول نہیں کیا، بلکہ مسلمانوں کے مصارف میں خرچ کر دیا ۔آپص کی مظلومانہ شہادت کی پیشین گوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے تھے،آپ رضی اللہ عنہ نے بیاسی سال کی عمر میں 18ذی الحجہ35ھ بروز جمعہ عصر کے وقت شہادت پائی۔آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں آٹھ شادیاں کیں،جن سے آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں نو لڑکے اورسات لڑکیاں ہوئیں،لڑکوں میں سے چار لڑکے عمرو،ابان،عمراورسعید بڑے ہوکر نامور ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت خلافت لینے کے بعد پہلے خطبہ میں ارشاد فرمایا’’یاد رکھو!دنیا سراپا فریب ہے ،پس دنیا کی پُر فریب زندگی تمہیں غلط فہمیوں کی بھول بھلیوں میں نہ ڈال دے اور شیطان کے پنجۂ اغوا میں گرفتارنہ کر دے۔عمر فانی کی مہلت بہت کچھ گذر چکی اور کچھ تھوڑی سی باقی ہے ایسی غیر یقینی کی حالت میں کیا عجب ہے کہ کسی شخص کوصبح یا شام ہی کو پیام اجل آجائے اور وہ سخت بے بسی کی حالت میں قبر میں سُلا دیا جائے ۔اُن لوگوں کے واقعات سے عبرت پکڑوجو تم سے پہلے گذرچکے اور نیک یا برے اعمال کے سوا اپنے ساتھ کچھ نہ لے جا سکے،پس اپنی طرف سے آخرت کا سرمایہ جمع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو،اور غفلت کی عادت چھوڑ دو ‘‘نیز آپ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا’’اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو دنیا اس غرض سے دی ہے کہ اس کے ذریعہ آخرت کو طلب کرو Last edited by فیصل ناصر; 17-12-08 at 05:39 AM. |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | qam (18-06-10), فاروق سرورخان (06-12-09), کنعان (24-05-10), ھارون اعظم (12-06-10), چیتا چالباز (17-12-08), میاں شاہد (17-12-08), محمد عاصم (26-05-10), محمدخلیل (23-05-10), ام طلحہ (17-12-08), ابو محمد (03-05-09), ابن جلال (18-12-08), باسط (01-02-10), جیدی (17-12-08), حیدر (18-06-10), راجہ اکرام (07-12-09), طلحہ (26-05-10), طارق راحیل (10-03-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ
اللہ پاک ہمیں ان مقدس شخصیات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
__________________
![]() |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | چیتا چالباز (17-12-08), ام طلحہ (17-12-08), ابو محمد (03-05-09), ابن جلال (18-12-08), باسط (01-02-10), جیدی (17-12-08), حیدر (18-06-10), راجہ اکرام (07-12-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,663
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سبحان اللہ
اللہ جزائے خیر دے۔ آمین |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | چیتا چالباز (17-12-08), ابن جلال (18-12-08), باسط (01-02-10), حیدر (18-06-10), راجہ اکرام (07-12-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے بھائی فیصل ناصر ، اور مزید خیر کی توفیق عطا فرمائے ، ان شخصیات کا ذکر یقینا ایمان کی تازگی و قوت کے بڑے اسباب میں سے ہے ، اللہ ہر ایک ملسمان کو ان شخصیات کی محبت اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 17-12-08 at 09:56 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (12-06-10), چیتا چالباز (17-12-08), ابو محمد (03-05-09), ابن جلال (18-12-08), باسط (01-02-10), جیدی (17-12-08), حیدر (18-06-10), راجہ اکرام (07-12-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ
بہت ہی خوب۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
مراسلہ دیکھیں
اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم صل وسلم وبارک علٰی محمد بعدد کل معلم لک دائما ابدا۔ جزاللہ عنا سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ما ھو اہلہ۔۔ اللھم صل علی محمدن النبی الامی وعلٰی آلہ وسلم تسلیما۔۔ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یارسول اللہ وعلٰی آلک واصحابک یا سیدی یا حبیب اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا نور من نور اللہ وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی یا خیر خلق اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا شفیع المذنبین وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی رحمۃ اللعٰلمین جشن عید میلاد النبی مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
آمین اللّھُمَ آمین اقتباس:
رسولک صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سیدنا ::: اے اللہ تمہارے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہمارے سردار ہیں ::: و انت مولانا و لا مولا لنا غیرک ::: اور تو ہمارا مولا ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی مولا نہیں آمین اللّھُمَ آمین الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ سید الأولین و الآخرین و علی آلہ و أصحابہ و أزواجہ و ذریتہ و من تبعھم باحسان الی یوم الدین الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، و لم یکن نورٌ مِن نور اللہ کام عبدٌ للہ و لم یکن جُزء مِن اللہ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اللہ کے نور میں سے نور نہ تھے اللہ کے بندے تھے نہ کہ اللہ کا جُز ::: و ماذا یکون الشرک بعد ذلک؟ ::: ایسی بات کے بعد اور شرک کیا ہو گا ؟ ::: نور اللہ صفۃ من صفات اللہ و لا شریک لہ فی ذاتہ و لا فی صفاتہ::: اللہ کا نور یعنی روشنی اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اللہ کا کوئی شریک نہیں نہ اس کی ذات میں اور نہ ہی اس کی صفات میں ::: و علی آلہ و أصحابہ انہ کان خیر خلقہ و لا ریب اقتباس:
بدعت کبھی مبارک نہیں ہوتی ، بلکہ جس رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت میں یہ جشن یا اس قسم کی دوسری بلا دلیل و حجت رسمیں منائی جاتی ہیں ان کا فیصلہ ہے ((((( کل بِدعۃ ضلالۃ و کُلّ ضلاۃ فی النار ::: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ))))) """" عید میلاد النبی اور ہم """" کا مطالعہ کیجیے ، پاک نیٹ کی انتظامیہ اپنے طے کردہ قوانین کے نفاذ کی طرف توجہ کرے ، و السلام علیکم۔ |
||||
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
واہ جی واہ فیصل ناصر صاحب آپ پہلے عبداللہ حیدر کی خلافق و ملوکیت والا تھریڈ تو پڑھ لو آپ تعریفین کر رہے ہو اور وہ صاحب حضرت عثمان میں نقص نکال رہا ہے |
|
|
|
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (18-06-10) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
ضرار بھائی!شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ لنک دیکھیں: خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت والسلام علیکم |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (18-06-10) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دیکھ لون گا ویسے لگتا ہے آپ بھی اپنے چاچے کی طرح ہی کوءی بہانہ بناو گے وہ شعیوں کو بھاءی بھاءی بناتا ہے آپ بھی شعیوں کو خوش کرنے والے صحابہ پر الزام تراشی کرنے والے کے لیے کوئی بہانہ بنا لو گے |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بھائی آپ کسی کی ذات پر تنقید نہ کیا کریں اس سے اصلاح کم اور فساد زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ ہر کسی کا اپنا مزاج ہوتا ہے کسی کا نرم مزاج تو کسی کا گرم مزاج اصل بات ہوتی ہے سمجھنے سمجھانے کی تو آپ اس کے اوپر بات کیا کریں۔ اُمید ہے آپ میری بات کا بُرا نہیں منائیں گیں۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بہت شکریہ عاصم صاحب میں خیال کروں گا ویسے میں نے کسی کی ذات پر کوئی تنوید نہیں کی آپ خود ہی دیکھ لو یہ دونوں چاچا بتیجا کتنا مشکل مشکل لکھتے ہین چلو جی میرے کو کیا میں سمجھنے کو کوشش کرتا ہوں میرا خیال ہے اس فورم کا نام نصیحت فورم رکھ دینا چاہیے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, پاک, قدم, قرآن, مجید, محبت, مسجد, مسجد نبوی, ایمان, اللہ, انتظامیہ, امیر, اغوا, بہترین, بھائی, جواب, حدیث, خدا, دعا, سردار, عید, عقد, صفات, صفت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں | حیدر | گپ شپ | 29 | 30-10-11 06:19 PM |
| ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے | عبدالہادی احمد | اپکے کالم | 13 | 02-02-11 08:32 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم | گوندل | اخلاق و آداب | 0 | 25-10-09 11:21 PM |
| اسوہ رسول (ص) کی عظمت و اہمیت | Real_Light | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 15-07-08 01:54 PM |