| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,625
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ملک حبیب اللہ بھٹہ ............
اسرائیل کے قیام پر قائد اعظم نے ایک تاریخی تبصرہ کیاتھا کہ اسرائیل کا قیام تمام دنیا کے لئے فتنہ ہو گا ۔فکر و تدبر سے سوچا جائے توپاکستان کے لئے قائداعظم کا یہ پالیسی بیان تھا اس سے ایک خاص بات ابھر کر سامنے آئی کہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والوں سے پاکستان کی دوستی نا ممکن ہو گی۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کے آئین کے متعلق جب قائد اعظم سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس قرآن حکیم ہے یہی اس ملک کا آئین ہے۔ اس سے دوسری اہم بات ابھر کر سامنے آئی کہ دنیا کی دوسری قوت روس تھی۔ اللہ کی اس منکر قوم سے پاکستان کی دوستی بھی ناممکن تھی۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لئے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا تھا اور وہ تھا غیروابستہ ممالک کی تنظیم میں شمولیت۔بھارت نواز دانشوروں نے یہ غلط فہمی پھیلا رکھی ہے کہ قائداعظم پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تھے اگر اسے سچ مان بھی لیا جائے تو پاکستان کے دو لخت ہونے پر اندرا گاندھی نے بڑے فخریہ انداز سے یہ کیوں کہا تھا کہ میں نے دو قومی نظریہ کو بے آف بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔ دنیا بھرکے سیاسی مفکر ین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا میں دو ممالک مذہب کی بنیاد پر معرض وجود میں آئے ہیں ایک پاکستان اور دوسرا اسرئیل۔ وزیر اعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے روس کا مجوزہ دورہ منسوخ کر کے امریکہ یاترا کو ترجیح دی اور وہاں جاکرسیٹو اور سینٹو جیسے دفاعی معاہدوں میں پاکستان کو جکڑ دیا۔ ماسوائے ذوالفقار علی بھٹو کے باقی تمام پاکستانی حکمران نوابزادہ لیاقت علی خان کے نقش پا پر چلتے نظر آئے اسکے برعکس امریکہ نے ہمیشہ پاکستان دشمنی کا ثبوت ہر دور میں دیا۔ سب سے پہلے امریکہ نے جنگِ کشمیر پر سلامتی کونسل میں جنگ بندی کا ریزولیوشن اس وقت منظور کرایا جب بھارت تقریبا یہ جنگ ہار چکا تھا۔رہا کشمیریوں کا حق خود ارادیت اس کے لئے امریکہ نے کبھی بھارت پر زور ہی نہیں دیا بلکہ سازش کے تحت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ہمارے تین دریائوں کے پانیوں سے بھی ہمیں محروم کروا دیا۔باقی تین دریائوں پر بھارت 62ڈیمز بنانے کے منصوبے مکمل کرنے وا لاہے امریکہ نے آج تک کلمہ حق نہیں کہا۔پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے باوجود پاک بھارت جنگ میں کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں جب بھولی بھالی پاکستانی قوم امریکہ کے چھٹے بحری بیڑے کی آمد کی منتظر تھی اس وقت انکشاف یہ ہوا کہ امریکہ نے خفیہ طور پر بھارت کے ساتھ 1952ء میںدفاعی معاہدہ کر لیا تھا جسکی بناء پر وہ پاکستان کی امداد نہیں کر سکتا تھا۔ روس افغان جنگ سے پہلے امریکہ نے پاکستان میں بھٹو حکومت کے خلاف اور ایران میں شہنشاہ ایران کی حکومت کے خلاف مذہبی تحریک چلوا کردونوں ممالک میں مذہبی حکومتیں بنوائیں کیونکہ بھٹو اور شہنشاہ ایران کے دور اقتدار میں روس افغان جنگ کیلئے اسلام اور کفر کی جنگ کا ڈھونگ رچایا نہیں جا سکتا تھا۔ بھٹو امریکہ کی مرضی کے خلاف پاکستان کو نیو کلیر پاور بنانے کا آہنی عزم کر چکا تھا اور شہنشاہ ایران پچیس سو سالہ جشن شہنشاہت پر ایران کو سپر پاور بنانے کا نہ صرف اعلان کر چکا تھا بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہو چکا تھا۔ امریکہ نے دھمکی دی کہ بھٹو نے اگر پاکستان کو نیو کلیئرپاور بنانے کا ارادہ ترک نہ کیا توبقول ہنری کسنجر وہ بھٹو کو عبرت کا مقام بنا دیں گے۔بھٹو کو پھانسی دلا کرامریکہ نے دشمنی پوری کر دی ۔ شہنشاہ ایران کوامریکہ دوستی کی صرف اتنی سزا ملی کہ ’’دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘‘۔ روس افغان جنگ کے خاتمہ پر ضیاء الحق اور اس کے رفقاء کوامریکہ دوستی کی سزا لاکھوں گیلن ایندھن میں جلا کر دی ۔ صدام حسین کو عربوں اور ایرانیوں کی پیٹرو ڈالر آمدنی کوعراق ایران جنگ کی نذر کرنے کا معاوضہ پھانسی دے کر ادا کیا جہاں تک پرویز مشرف کا معاملہ ہے اسکا فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ رہی جہادی قوتیں ،انکی روس افغان جنگ میں کامیابیوں کے خوف سے یہودیوں نے 9/11کا ڈرامہ رچا کر انکے خلاف دہشت گردی کی جنگ جو دراصل مسلمانوں کیخلاف ہے شروع کرا دی یہ ڈرامہ صرف اس لئے رچایا گیا کہ کہیں جہادی قوتیں فلسطین سے اسرائیلیوں اور کشمیر سے بھارت کو نہ نکال دیں اس جنگ میں جس تیزی سے دونوں ممالک امریکہ کے سٹریجک پارٹنر بنے ہیں یہی ثبوت کیلئے کافی ہے۔ راقم الحروف نے 2001ء میں 9/11سے پہلے سابق گورنر پنجاب ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل صفدر کے آخری دورہ بہاولپور پر سرکٹ ہائوس میں ہر شعبہ حیات سے متعلق عوام سے بھرے ہوئے ہال میں کھڑے ہو کر یہ سوال کیا تھا کہ آپ کی حکومت کی غلط پالیسیوں سے اگر پاکستان کا مغربی بارڈر دشمن بنا دیا گیا تو پاکستان کا کیا بنے گا مشرقی سرحد سے دگنی مغربی سرحد کی حفاظت آپ کیسے کر ینگے ، پاکستان کی اکانومی کا کیا بنے گا، ایک خوشامدی نے انکے جواب سے پہلے یہ کہہ کر انہیںراہ فرار کا موقع فراہم کیا کہ ملک صاحب یہ بھی گورنر صاحب سے پوچھنے کی کوئی بات ہے ۔جو کچھ آج مغربی سرحد پر ہو رہا ہے وہ مجھے 9/11سے پہلے نظر آنے لگا تھا۔ پاکستان کے ایک بزدل آرمی چیف نے امریکہ کے دو نمبر کے حکمران کی ایک ٹیلیفونک کال پرامریکہ کو افغانستان کیخلاف لاجسٹک سپورٹ اور دوسری امداد دیکرلاکھوں افغانیوں کا قتل اور افغانستان کا تورا بورا تو بنوا دیا لیکن یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی کہ اس کے بعد پاکستان کا حشر کیا ہو گا؟ کو ئی دن خالی ہے جب خودکش حملہ یا بم بلاسٹ نہ ہوا ہو؟ آج پورا ملک لرز رہا ہے یہ ہم دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں یا امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کے بعد حکمت عملی تبدیل کرکے خود ہی دہشت گردی کی جنگ کو ہماری شاہراہوں ، اداروں اور ہمارے گھروںتک پہنچا دیا ہے حالات ایسے پید ا کر دیئے گئے ہیں کہ مسلمان مسلمان کا خون پئیں۔ امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں یہ خوفناک ’’پتلی تماشہ ‘‘دیکھ کر لطف اندوز ہوتے رہیں۔ جہاں تک پاکستانی اقتصادیات کا تعلق ہے جب سے پاکستان امریکہ دوستی سے وابستہ ہوا ہے ماسوائے بھٹو کے تمام حکمرانوں پر ملک کی دولت بیرون ملک لے جانے کے الزامات ہیں ایسے حکمران تو ان پاکستانی لٹیروں ، رہزنوں اور کرائے کے قاتلوں سے بھی بد تر ہیں ان جرائم پیشہ افراد کا لوٹا ہوا مال تو پاکستان میں گردش میں رہتا ہے اسکے بر عکس آج تک جتنی امداد ان حکمرانوں کے ادوار میں امریکہ نے پاکستان کو دی ہے اس سے کہیں زیادہ پاکستانی دولت ان حکمرانوں نے امریکہ اور اس کے دوست مماک میںجمع کی ہے ، محلات ،لگژری اپارٹمنٹس کارخانے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سرمایہ کاری کوویب سائٹ پر دکھا کر انہیں ذلیل و خوار کرنے کا پروگرام بھی امریکہ اور اسکے دوست ممالک نے چلایا ہوا ہے تاکہ ان میں سے کوئی بھی پاکستان کیخلاف کی گئی چیرہ دستیوں پر چوں چراں کرنے کے قابل نہ رہے ۔ پاکستان کی موجودہ خوفناک اقتصادی حالت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ جن شرمناک شرائط پر پاکستان کی امداد کرنا چاہتا ہے اس سے پاکستانی بنارسی ٹھگوں کے پاس ذرہ برابرشرم اور غیرت ہوتی تو پاکستان کی ایسی حالت زار دیکھ کر ان کا کلیجہ پھٹ جاتا۔ کس کام کی ہے یہ دولت جس سے عزت سادات ہی جاتی رہی ؟دہشت گردی کیخلاف جنگ سے بچنے کیلئے اور ملک میں امن قائم کرنے کیلئے ہمیں فلسفہ جہاداپنانا ہو گا یہی ملک و قوم کی بقاء کا ضامن ہو گا۔ یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com |
|
|
|
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,263
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (26-10-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اب تو یہ حال ہے کہ ان واہیات کہانیوںپر ہنسی بھی نہیں آتی ہے ۔۔ صاف نظر آتا ہے کہ یہ کہانیاں کس ٹکسال میں ڈھلی ہیں۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب کہانیاں جس ٹیکسال میں بھی ڈھلتی ہوں ان کے پیچھے امریکی، اسرائیلی اور بھارتی دماغ اور سرمایا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,624
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہاہاہاہاہاہاہاہا بھٹا وہ خود امریکی گود میں بیٹھ کر آیا تھا. آپ شاید بھٹا کے کارکن لگتے ہو. لیاقت علی خان پر جو آپ کہہ رہیں ہیں وہ انکی اپنی بصارت تھی انہیں شہید کر دیا گیا وہ کچھ کرتے .لیکن ............
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (26-10-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
یہ جان کر بہت ہی خوشی ہوئی کہ نوائے وقت کے پیچھے ہندو ، اسرائیلی دماغ کام کر رہے ہیں۔ انتہا پسند دہشت گردوں کی حمایت بند کرنے کا وقت ہے یہ۔
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (27-10-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ حیدر یہ آپ کی ذہنی اختراع ہے یا پھر سمجھ کا پھیر
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (27-10-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (27-10-09) |
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مسلمان دماغ تقلید اغیار میں فکر و تدبر کی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اور جو دو چار اس دولت کو سنبھالے ہوئے ہیں ان کی آواز ابھی اتنی زور آور نہیں کہ نقار خانے میں سنی جا سکے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستانی, قائداعظم, لیاقت علی خان, مکمل, موجودہ, ممکن, ایران, اللہ, امریکہ, اسلامی, ترک, جواب, خون, خودکش, خودکش حملہ, خلاف, خان, خبر, دریافت, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, علی, عزت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|