| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے معاملے پر شدید اختلافات کے سامنے آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے انتخابی کمیشن سے اب الگ الگ انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں بھی دے دی ہیں۔ کیا یہ اس اتحاد کے اختتام کے اشارے ہیں؟ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ یہ اتحاد شدید اختلافات سے دوچار ہوا ہو۔ اس سے قبل اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معملے پر بھی جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کے درمیان شدید اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ اُس وقت اگر اختلاف رائے اسمبلیاں چھوڑنے پر تھا تو آج اسمبلیوں میں جانے پر ہے۔ لیکن اس مرتبہ اختلاف کچھ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے سے منہ پھیرا ہوا ہے اور فی الحال صلاح کا واحد راستہ ’اے پی ڈی ایم‘ کا چارٹر آف ڈیمانڈ ہے۔ اس پر اگر مولانا فضل الرحمان رضامند ہوتے ہیں تو پھر مشترکہ موقف کی امید پیدا ہو سکتی ہے ورنہ دونوں کے راستے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ اختلاف کا ایک بڑا ثبوت انتخابی کمیشن کو دونوں کی جانب سے الگ الگ انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں دینا ہے۔ جمیعت نے گزشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے نشان ’ کتاب‘ کی جبکہ جماعت اسلامی نے’چھتری‘ کی مانگ کی ہے۔ لیکن کس کو کیا ملتا ہے اس کا حتمی فیصلہ نو دسمبر کو اسلام آباد میں انتخابی کمیشن ہی کرے گا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کمیشن نے فریقین کو طلب کیا ہے۔ راولپنڈی میں بدھ کو پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، مولانا فضل الرحمان نے واضع کیا کہ اگر دیگر اتحادی جماعتیں بائیکاٹ کرتی ہیں تو وہ ایم ایم اے کے نام اور نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعت انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی وہ ایم ایم اے سے الگ تصور ہوگی اور ان کی جماعت ان حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ زمینی حقائق کو سمجھنے کی التجا کرتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی انتخابات سازگار حالات میں نہیں ہوئے لہذا ان کی امید کرنا عقل مندی نہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ جو اتحادی انتخابات میں حصہ لے گا وہ اتحاد چھوڑ کر چلا جائے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ اور سازگار ماحول میں صاف و شفاف انتخابات ممکن نہیں لہذٰا ان میں حصہ لینا بےکار ہے۔ پاکستانی سیاست میں روایت رہی ہے کہ حلیف ہمشہ ساتھی اور حریف ہمیشہ دشمن نہیں رہتے۔ دونوں جماعتیں اتحاد کو برقرار رکھنے کی اہمیت سے بھی واقف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ان کی حیران کن کارکردگی کی جہاں ایک وجہ امریکہ مخالف جذبات تھے تو دوسری جانب ان کا اکٹھا ہونا بھی اہم تھا۔ دونوں فریق کہتے ہیں کہ اس اتحاد کو بچانے کی وہ ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن فی الحال یہ کوششیں زیادہ کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ بشکریہ بی بی سی |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,124
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جو حالات اس وقت نظر آرہے ہیں اس سے تو یہی لگ رہا کہ ایم ایم اے ٹوٹنے والی ہے۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چلیں اچھی بات ہے منافقین کے ٹولے سے جان چھوٹ جائے گی۔۔ خس کم جہاں پاک
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
|
صرف مولانہ کڑروی مل کی چھٹی کروانی چاھیے۔ یہ اپنے باپ کے نظریات پر عمل پیرا ھے۔ قاضی صاحب کو ہوش کرنا چاھیے۔
|
|
|
|