| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Fawad – Digital Outreach Team - US State Department
پاکستان ميں تمام سياسی جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر يہ تاثر ديا جاتا ہے کہ امريکہ پاکستان ميں 16 کروڑ عوام کی خواہشات کے برعکس ايک آمر کی پشت پناہی کرتا رہا ہے اور ملک ميں تمام تر مسائل کا ذمہ دار صرف امريکہ ہے۔ اگر امريکہ اپنے مذموم ارادوں کی تکميل کے ليےملک کے جمہوری اداروں اور سياسی قوتوں کی بجاۓ ايک آمر کو سپورٹ نہيں کرتا تو ملک آج ان بے شمار مسائل ميں گھرا ہوا نہيں ہوتا۔ اس حوالے سے سياسی جماعتوں کی جانب سے يہ نقطہ بھی کئ بار دہرايا گيا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ بھی زيادہ موثر ثابت ہوتی اگر ملک پر کسی ايسی سياسی جماعت کی حکومت ہوتی جس کی جڑيں عوام ميں مضبوط ہوں کيونکہ صرف ايک مقبول قيادت ہی عوام ميں دہشت گردی کے خلاف شعور اجاگر کر سکتی ہے۔ يوں تو سياسی جماعتوں کا يہ موقف پچھلے کئ سالوں سے ميڈيا کے ذريعے عوام تک پہنچتا رہا ہے۔ ليکن پچھلے کچھ عرصے ميں اس نقطے کی تشہير ميں شدت آگئ ہے۔ اس کی وجہ ملک ميں ہونے والے عام انتخابات ہيں۔ حال ميں جيو ٹی وی پر "گريٹ ڈبيٹ – خارجہ پاليسی" کے عنوان سے ايک مباحثہ ديکھنے کا اتفاق ہوا جس ميں ملک کی چھ بڑی جماعتوں کے قائدين نے خارجہ پاليسی کے حوالے سے اپنے خيالات کا اظہار کيا اور ايک نقطہ جس پر سب متفق تھے وہ يہی تھا کہ امريکہ صدر پرويز مشرف کی تائيد کر کے پاکستان کے داخلی معاملات ميں براہراست مداخلت کر رہا ہے اور براہراست يا بلاواسطہ پاکستان کے تمام مسائل کی وجہ يہی ہے کہ تمام اختيارات فرد واحد کے ہاتھ ميں ہيں جو امريکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے ملک ميں من پسند قوانين نافذ کر کے پاکستان کی تقدير سے کھيل رہا ہے۔ پاکستان ميں يہ تاثر اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ ميڈيا يا اخبارات ميں اس بات کا ذکر کرتے ہوۓ کسی دليل يا توجيہ کی ضرورت بھی محسوس نہيں کی جاتی گويا کہ يہ مفروضہ بحث ومبـاحثے کے مراحل سے گزر کر ايک تصديق شدہ حقيقت بن چکا ہے کہ صدر مشرف کا دور اقتدار (اس بات سے قطعہ نظر کہ وہ پاکستان کے ليے فائدہ مند ہے يا نقصان دہ) صرف اور صرف امريکہ کی مرہون منت ہے۔ آپ کے ليے يہ بات دلچسپی کا باعث ہوگی کہ امريکی حکومتی حلقوں ميں اس تاثر پر انتہاہی حيرت کا اظہار کيا جاتا ہے۔ اس کی وجہ يہ ہے کہ نہ ہی پرويز مشرف کو آرمی چيف کے عہدے پر ترقی ميں امريکہ کا کوئ کردار تھا، نہ ہی انھيں ملک کا صدر امريکہ نے بنايا اور نہ ہی ان کے دور اقتدار ميں توسيع امريکہ نے کروائ۔ اس حوالے سے کچھ حقائق پيش خدمت ہيں۔ 7 اکتوبر 1998کو اس وقت کے وزيراعظم نوازشريف نے آرمی چيف جرنل جہانگير کرامت کے استعفے کے بعد پرويز مشرف کو دو سينير جرنيلز کی موجودگی ميں ترقی دے کر آرمی چيف کے عہدے پر ترقی دی۔ اپنے ايک حاليہ انٹرويو ميں نواز شريف نے پرويز مشرف کو آرمی چيف کے عہدے پر تقرری کو اپنے سياسی کيرئير کی ايک "بڑی غلطی" تسليم کيا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب نواز شريف کو اقتدار سے ہٹايا گيا تو ملک کی تمام بڑی سياسی جماعتوں نے اس کا خيرمقدم کيا۔ اگر آپ انٹرنيٹ پر اس دور کے اخبارات نکال کر ان کی سرخيوں پر نظر ڈاليں تو آپ ديکھيں گے کہ پاکستان پيپلزپارٹی اور تحريک انصاف سميت تمام سياسی جماعتوں نے پرويز مشرف کو ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ ميں لينے کے قدم کو ملک کے مفاد ميں قرار ديا۔ 2002 ميں تحريک انصاف کے قائد عمران خان نے پرويز مشرف کی حمايت کو ايک "بڑی غلطی"قرار ديا۔ 2004 ميں ايم – ايم –اے کے توسط سےقومی اسمبلی ميں 17ويں ترميم پاس کی گئ جس کے ذريعے پرويز مشرف کے اقتدار کو مضبوط کر کے اس ميں مزيد توثيق کر دی گئ۔ 2005 ميں قاضی حسين احمد نے ايم – ايم – اے کے اس قدم کو "بڑی غلطی" قرار ديا۔ 2007 ميں پاکستان کی چاروں صوبائ اسمبليوں اور قومی اسمبلی ميں عوام کے منتخب نمايندوں نے پرويز مشرف کو57 فيصد ووٹوں کے ذريعے اگلے پانچ سالوں کے ليے ملک کا صدر منتخب کر ليا۔ اليکشن کے بعد پيپلز پارٹی کی قيادت نے قومی اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کے فيصلے کو بڑی "سياسی غلطی" قرار ديا۔ آپ خود جائزہ لے سکتے ہيں کہ پرويز مشرف کو آرمی چيف مقرر کرنے سے لے کر صدر بنانے تک اور صدر کی حيثيت سے ان کے اختيارات کی توثيق تک پاکستان کی تمام سياسی پارٹيوں اور ان کی قيادت نے اپنا بھرپور کردار ادا کيا ہے۔ اسکے باوجود تمام سياسی جماعتوں کا يہ الزام کہ پرويزمشرف امريکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے برسراقتدار ہيں، ايک جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتا ہے ليکن يہ حقيقت کے منافی ہے۔ اسی حوالے سے يہ بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان پيپلز پارٹی کے شريک چير پرسن آصف علی زرداری نے حال ہی ميں يہ بيان ديا ہے کہ اگر ان کی پارٹی برسراقتدار آئ تو وہ پرويز مشرف کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تيار ہيں۔ کيا مستقبل ميں اس لآئحہ عمل کو پھر سے ايک بڑی غلطی قرار دے کر الزام امريکہ پر لگا ديا جاۓ گا؟ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ايک سپر پاور ہونے کی حيثيت سے امريکہ دنيا ميں ايک حد تک اثر ورسوخ رکھتا ہے۔ ليکن يہ تاثر بالکل غلط ہے کہ امريکہ دنيا کے کسی بھی ملک کی قيادت اپنی مرضی سے تبديل کر سکتا ہے۔ اگر امریکی حکومت کی مشينری اتنی ہی بااختيار ہوتی تو کوئ بھی امريکی صدر کبھی اليکشن نہ ہارے۔ اگر امريکی صدر کو خود اپنے عہدے کو برقرار رکھنے کے ليے عوام اور سياسی جماعتوں کی تائيد کی ضرورت ہوتی ہے تو يہ کيسے ممکن ہے کہ وہ ايک دور دراز ملک کی حکومتی مشينری کو اپنی مرضی سے چلاۓ۔ امريکہ سياسی، معاشی اور سفارتی سطح پر ايسے بہت سے ممالک سے باہمی دلچسپی کے امور پر تعلقات استوار رکھتا ہے جس کی قيادت سے امريکی حکومت کے نظرياتی اختلافات ہوتے ہيں۔ اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ امريکہ کسی بھی ملک سے سياسی، تجارتی اور فوجی تعلقات ميں پيش رفت سے پہلے اس ملک کی حکومت تبديل کرے۔ ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بتا دوں کہ 12 اکتوبر 1999 کو جب فوج نے ملک کا نظام اپنے ہاتھوں ميں ليا اور ملک کی ساری سياسی جماعتوں نے اس کی تائيد کی تھی۔ اس وقت امريکی حکومت کا موقف يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے اس بيان سے واضح ہے۔ "ہم پاکستان ميں جمہوريت کی فوری بحالی کے خواہ ہيں ليکن ہم اس پوزيشن ميں نہيں ہيں کہ پاکستان ميں جمہوريت کی بحالی کے ليے کوئ غير آئينی قدم اٹھائيں۔" 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد جب افغانستان ميں القائدہ کے خلاف کاروائ کا فيصلہ کيا گيا تو جغرافائ محل ووقوع کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں امريکہ کا اتحادی بن گيا، ليکن امريکہ کا پاکستان کے ساتھ يہ اتحاد ايک ملک کی حيثيت سے تھا اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں تھا کہ امريکہ نے پرويز مشرف کی آمرانہ طرز حکومت کو تسلیم کر ليا تھا۔ يہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تمام تر فوجی اور مالی امداد کے باوجود امريکہ پرويز مشرف سے ملک ميں عام انتخابات اور وردی اتارنے کا مطالبہ کرتا رہا۔ ذيل ميں آپکو امريکی حکومتی حلقوں کے بيانات دے رہا ہوں جو آپ پر اس موضوع کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف کو واضح کرے گا۔ "ہم اس بات پر مکمل يقين رکھتے ہيں کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات ديرپا اور قابل اعتبار ہونے چاہيے اور يہ تعلقات محض ايک شخص تک محدود نہيں ہيں بلکہ پاکستان کے اداروں سے ہيں- ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات ميں اس بات کو يقينی بنا رہے ہيں کہ اليکشن کے ذريعے پاکستان کو جمہوريت کے راستے پر گامزن ہونے کا موقع فراہم کيا جاۓ اور يہی وہ نقطہ ہے جس پر ہم زور دے رہے ہيں۔ ہم پاکستان کے لوگوں، سياسی ليڈروں اور سول سوسائٹی کو بھی يہی پيغام ديتے ہيں کہ ساتھ مل کر ايک جمہوری مستقبل کے ليے کوشش کريں"۔ کونڈوليزا رائس - امريکی سيکريٹيری آف اسٹيٹ "تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان کے حوالے سے ہمارا بنيادی موقف تبديل نہيں ہوا۔ ہم پاکستان ميں جمہوريت کی بحالی اور سول حکومت ديکھنا چاہتے ہيں۔ ہم پاکستان ميں شفاف انتخابات کے ذريعے عوامی نمياندوں کو برسراقتدار ديکھنا چاہتے ہيں- اس حوالے سے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں کہ پاکستان ميں شفاف انتخابات منعقد کيے جائيں۔ ايک مضبوط اور پائيدار جمہوری حکومت اس بات کو يقينی بناۓ گی کہ معاشرے کے مختلف گروہ اور طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر ايک پائيدار اور مستحکم پاکستان کی بنياد رکھيں۔ اور ايک مضبوط معاشرہ ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے عوامل کو ختم کر سکتا ہے- اس ميں کوئ شک نہيں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں پاکستان امريکہ کا اتحادی ملک ہے ليکن پاکستان ايک خود مختار ملک ہے اور ہمارا حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کا طريقہ کار انھی کی صوابديد پر ہے"۔ رچرڈ باؤچر - اسسٹنٹ سيکريٹيری آف اسٹيٹ "امریکہ اس بات پر يقين رکھتا ہے کہ کسی بھی ملک ميں انتہاپسندی کے خاتمے کے ليے يہ ضروری ہے کہ وہاں سياسی نظام مستحکم ہو۔ يہی حقيقت پاکستان پر بھی صادق آتی ہے۔ ميں نے اپنی تمام ملاقاتوں اور تمام مذاکرات ميں اسی بات پر زور ديا ہے۔ ايک جمہوری اور مستحکم پاکستان دہشت گردی کے خلاف امريکہ اور پاکستان دونوں کے مفاد ميں ہے۔" نيگرو پونٹے - ڈپٹی سيکريٹيری آف اسٹيٹ "ہم يہ سمجھتے ہيں کہ يہ انتہاہی ضروری ہے کہ صدر پرويز مشرف اور انکے حکومتی ارکان اس بات کو يقينی بنائيں کہ ملک ميں ايسا ماحول قائم کيا جاۓ کہ صاف شفاف انتخابات کا انعقاد يقينی بنايا جا سکے۔ ايک جمہوری معاشرے کے قيام کے ليے امريکہ پاکستانی عوام کے ساتھ ہے۔" کيسی (ترجمان – يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ) "ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں کہ پاکستان ميں جمہوريت بحال ہو کيونکہ صرف يہی ايک طريقہ ہے جس سے ملک ميں تشدد کی فضا کو ختم کيا جا سکتا ہے۔" پيرينو (ترجمان – وائٹ ہاؤس) " ہم نے پرويز مشرف پر زور ديا ہے کہ وہ ملک ميں جمہوری انتخابات کا عمل يقينی بنائيں اور پاکستان کو دی جانے والی امداد کو صاف اور شفاف انتخابات سے مشروط قرار ديا ہے۔" جوزف ليبرمين – چيرمين ہوم لينڈ سيکيورٹی آخر ميں اپنے اسی نقطہ نظرکا اعادہ کروں گا کہ کسی بھی ملک کی تقدير کے ذمہ دار اس ملک کے عوام اور ان کے منتخب کردہ عوامی نمايندے ہوتے ہيں جو اسمبليوں ميں جا کر قانون سازی کرتے ہيں اور ملک کی خارجہ پاليسی بناتے ہيں۔ "بيرونی عوامل" اور "غير ملکی سازش" ايسے نعرے ہيں جو سياست دان اپنی ناکاميوں اور غلطيوں پر پردہ ڈالنے کے ليے استعمال کرتے ہيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | Zullu230 (25-03-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائ صاحب !
آپ کس قسم کی باتیں لے بیٹھے ہیں؟ مطلب کہ امریکہ کو کسی بھی ملک میں کسی بھی قسم کی حکومت ہو کوئ فرق نہیں پڑتا؟ کیا ایسا ہی ہے؟ براہ مہربانی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے چیک کر لیں۔ کیا آپ میرا مطلب ہے بذات خود اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ امریکہ کو ہماری حکومتوں میں موجود افراد سے کوئ دلچسپی نہیں اور وہ صرف دنیا میں جمہوری نظام دیکھنا چاھتا ہے؟ صرف ایک خبر White House spokeswoman Dana Perino also described the situation in Pakistan as a setback and a crisis in its "early days," and said it was premature to call Musharraf a dictator. یہ موقع ہے جب ایمرجنسی نافذ کی گئ - کیوں بھائ جمہوریت کے چاہنے والوں نے یہ بھی نہ گوارا کیا کہ مذمت ہی کر دیتے؟ ہاں، اس وقت شاید یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا ہو گا؟ "The president feels very strongly that President Musharraf knows exactly how he feels about the situation," Perino said. دیکھا آپ نے لیول آف کوآپریشن ! Speaking with Pakistani journalists February 22, Bush said he appreciated Musharraf's "commitment to joining the world in dealing with Islamic radicals who will murder innocent people to achieve an objective." کیوں جناب اپنا کام ہے تو غیرِجمہور کو اپریشی ایٹکرنا صحیح ہے؟ اور لطیفہ تو یہ ہے Bush said that economic reforms in Pakistan have yielded "strong results." With a growing economy, Pakistan's people, Bush said, also are enjoying tangible benefits of democracy, including a free press. کون سے اقتصادی ریفارمز - کون سی ترقی؟ اور کون سا آزاد پریس؟ یہ کون سا طریقہ ہے جمہوریت کی فوری بحالی میں مدد دینے کا؟ ہمارے عربی بھائیوں کا مخصوص تکیہ کلام ہے -- واللہِ عجیب
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
میرا سوال:
آخر امریکا کے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے۔ شاید آئوٹ ریچ ٹیم یہ ماننے سے ایک بار پھر انکار کردے لیکن میں مثال کے طور پر صرف ایک واقعہ (اور بھی بہت سارے ہیں) پیش کر رہا ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا میں بیٹھ کر امریکی حکومت کے ترجمان (خصوصا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان) تو ایک بات کرتے ہیں لیکن اس ہی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے تابع چلنے والا پاکستان میں امریکی سفارتخانہ اس کے بالکل برعکس حرکات کرتا ہے۔ مثال کے طور پر لیجیئے کہ کچھ روز قبل اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’ہم پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور عدلیہ کے بحران کو حل کرنا پاکستان کی نئی حکومت کا کام ہے، وہی اسے طے کرے گی‘‘۔ دوسری جانب پاکستان میں متعین سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی دو بڑی جماعتوں کے تمام سرکردہ رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ شاید یہ بھی ہو کہ جو دوسرے سفیر ن لیگ اور پی پی کے رہنمائوں سے مل رہے ہوں وہ بھی امریکا کے مشورے دینے کے لیے مل رہے ہوں۔ گزشتہ دنوں آپ بتا سکتے ہیں کہ امریکی سفیر نے شہباز شریف سے کیوں ملاقات کی؟ صرف چائے پاپے کھانے گئی تھیں؟ جی نہیں ملاقات کے بعد امریکی سفیر کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ بیان دیں کہ ’’نواز لیگ ججوں کی بحالی کے معاملے میں اپنا موقف بدلے‘‘۔ ارے بھئی کیوں بدلے۔ آپ کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
گذشتہ دنوں اسرائیل کے ایک اسکول آٹھ افراد قتل کردیے گئے تھے، جس کے اگلے ہی دن سلامتی کونسل کا اجلاس بلوا لیاگیا، چیخ و پکار مچ گئی یہ کیا ہوگیا، ایسا نہیں ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ، غزہ میں اسرائیل نے 110 سے اوپر افراد قتل کیے اس پر تو کوئی سلامتی کونسل کوئی نہیں آیا سب کے سب سو رہے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ ویسے ان ویڈیوز کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے۔ ویڈیو نمبر ا (ایک عراقی کو مارتے ہوئے اور اسپر خوشی کا اظہار ویڈیو نمبر 2 بچوں کو انتہائی بے دردی سے مارتے ہوئے برطانوی فوج ویڈیو نمبر 3 موت کا میدان غزہ وسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد بھائی اس بارے میں کوئی مفصل جواب درکار ہے-
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم، کسی بھی موضوع کے حوالے سے راۓ قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ ميڈيا پر پيدا کردہ مضبوط مصنوعی تاثر کو رد کر کے اصل حقائق کو پيش نظر رکھا جاۓ۔ آج کل ميڈيا اور تمام اردو فورمز پر تواتر کے ساتھ اس بات پر زور ديا جا رہا ہے کہ امريکہ پاکستان ميں حکومت کی تشکيل کے عمل ميں براہراست مداخلت کر رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف امريکی سفيروں کی سياسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کو خاص اہميت دی جا رہی ہے۔ مغربی ميڈيا ميں شائع ہونے والی بہت سی خبروں اور اداريوں کو بھی ثبوت کے طور پر مختلف فورمز پر پيش کيا جا رہا ہے اور اس راۓ کو پختہ کيا جا رہا ہے کہ امريکہ ہر صورت ميں سياسی رہنماؤں کے توسط سے پرويز مشرف کو صدر کے عہدے پر ديکھنے کا خواہ ہے۔ آپ نے امريکی سفير اين پيٹرسن کی نواز شريف سے ملاقات اور اس کے بعد ان کے مبينہ بيان کا ذکر کيا ہے۔ اسی حوالے سے مجھے بھی آج ٹی وی پر خبروں کے دوران ايک مختصر فلم ديکھنے کا اتفاق ہوا جس ميں امريکی سفیر اين پيٹرسن کو نواز شريف سے ملاقات کرتے دکھايا گيا اور ساتھ ميں يہ خبر چلائ گئ۔ "امريکی سفير اين پيٹرسن نے نواز شريف سے ملاقات کے دوران ججوں کی بحالی اور صدر مشرف کے عہدے کے حوالے سے نرم رويہ اختيار کرنے کی درخواست کی"۔ آپ کی اطلاع کے ليے عرض کر دوں کہ سفارتی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں ميں گفتگو کا متن ريکارڈ کيا جاتا ہے۔ آج ٹی وی پر يہ خبر ديکھنے کے بعد ميں نے اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے اس گفتگو کا متن حاصل کيا۔ 25 فروری کو فرنٹير ہاوس ميں اين پيٹرسن اور نواز شريف کے درميان ہونے والی ملاقات ميں اين پيٹرسن کی گفتگو کے کچھ منتخب حصے پيش خدمت ہيں۔ "انتخابی عمل کے ذريعے پاکستان کے عوام نے اپنی خواہشات کا اظہار کر ديا ہے اور ہم انکی خواہش کا احترام کرتے ہيں۔ ہم کسی بھی اتحاد کے تحت بننے والی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے ليے آمادہ ہيں۔ حکومت بنانا منتخب عوامی نمايندوں کا کام ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم نئ حکومت کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کے بہبود اور ترقی کے ليے شروع کيے جانے والے مختلف مشترکہ منصوبوں اور پاکستان کی دفاعی صلاحيتوں ميں اضافے کے ليے باہمی کوششوں پر کام جاری رکھ سکيں"۔ ججوں کی بحالی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے جس پر فيصلے کا اختيار نو منتخب پارليمنٹ اور متعلقہ قانونی ماہرين کو حاصل ہے۔ جہاں تک اس مسلۓ پر امريکی حکومت کے موقف کا سوال ہے تو جمہوريت کے حوالے سے امريکی موقف بالکل واضح ہے۔ آزاد ميڈيا، آزاد عدليہ اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت مضبوط جمہوريت کے اہم ستون ہيں۔ يہاں ميں ايک بات واضح کر دوں کہ سفارتی سطح پر امريکی حکام کے بيانات محض روايتی بيانات نہيں ہوتے بلکہ کسی بھی متعلقہ ايشو پر امريکی حکومت کے موقف کو واضح کرتے ہيں۔ امريکی سفير اين پيٹرسن اور نواز شريف کے درميان ہونے والی گفتگو کے متن کا آج ٹی وی پر چلاۓ جانے والی خبر سے موازنہ کريں اور پھر اس کے نتيجے ميں پيدا ہونے والے تاثر پر غور کريں۔ فيصلہ ميں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ اسی ضمن ميں ايک آرٹيکل کا لنک آپ کو دے رہا ہوں جو مختلف اردو فورمز پر پوسٹ کيا گيا۔ http://news.yahoo.com/s/mcclatchy/20...latchy/2855957 يہ آرٹيکل اور ايسے ہی بے شمار آرٹيکلز اس بات کا ثبوت ہيں کہ ميڈيا ميں شائع ہونے والی ہر بات کو بغير تحقيق کے سچ نہيں مان لينا چاہيے۔ اگر آپ اس آرٹيکل کو دوبارہ پڑھيں تو آپ يہ بات جان ليں گے کہ پورا آرٹيکل کسی بھی امريکی حکومتی اہلکار کے بيان کے بغير لکھا گيا ہے۔ کيا وجہ ہے کہ اس آرٹيکل ميں پاکستان کے حوالے سے تو ہر بات مذکورہ اہلکار کے نام اور اسکی سياسی وابستگی کے تعارف کے ساتھ لکھی گئ ہے جبکہ امريکی حکومت کے کسی بھی اہلکار کا نام اور اسکی وابستگی نہيں دی گئ۔ صرف امريکی صدر بش کا ايک بيان شائع کيا گيا جس ميں انھوں نے کہا کہ "اب وقت آ گيا ہے کہ نومنتخب ارکان اسمبلی اپنی حکومت بنائيں۔ ہميں اميد ہے کہ نئ حکومت امريکہ کے ساتھ دوستانہ روابط رکھے گی"۔ امريکہ ميں آزادی راۓ کے اظہار کی وجہ سے آپ کو ميڈيا پر ہر قسم کا نقطہ نظر اور اسکی تآئيد ميں بےشمارمواد مل جاۓ گا۔ ليکن سوال يہ ہے کہ کيا يہ کسی شخص يا ادارے کی ذاتی راۓ کی ترجمانی کرتا ہے يا اسے امريکی حکومت کے سرکاری موقف سے منسوب کيا جا سکتا ہے۔ جہاں تک امريکی سفيروں کی سياست دانوں سے ملاقاتوں کا سوال ہے تو آپ کی اطلاع کے ليے عرض کر دوں کہ پچھلے چند دنوں ميں صدر مشرف سے امريکہ کے علاوہ 5 مختلف ممالک کے سفيروں نے ملاقات کی ہے۔ ملک ميں نئ حکومت کے قيام کے حوالے سے سفيروں کی اہم رہنماؤں سے ملاقاتيں کوئ غير معمولی واقعہ نہيں ہے۔ اسکی ايک تازہ مثال کوسوو ميں ديکھی جا سکتی ہے جہاں نئ حکومت کے قيام کے حوالے سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ يہ بھی ياد دلا دوں کہ پاکستانی سفارت کار بھی امريکہ سميت ديگر بيرونی ممالک ميں اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہيں۔ کسی بھی دو ممالک کے درميان تعلقات کی مضبوطی کے ليے يہ سفارتی روابط نہايت اہم کردار ادا کرتے ہيں۔ يہی وہ سفارتی روابط ہیں جن کی بدولت بھارت اور پاکستان کے درميان کئ بار کشيدگی ختم کی گئ بصورت ديگر ايٹمی ہتھياروں سے ليس دونوں ممالک متعدد موقعوں پر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہوتے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (10-03-08) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اقتباس:
ہیرون دے کے یا کلاشنکوف دے کر؟ افیون کے باغات لگا کر یا چرس کی بوریاں بنا کر۔ اب تو یہ خود افغانستان میں ہیں اب کیوں ریکارڈ پیداوار ہوتی ہے افیون کی؟؟؟؟؟؟؟ کہتے ہیں ہمیں پتہ نہیں چلتا ، اچھا پاکستان کے ایٹمی ریسرچ سینٹر کی تصاویر تو بہت واضع ہوتی ہیں اور حتی کہ جو گاڑی ہے اسکی نمبر پلیٹ تک یہ لوگ دیکھ سکتے ہیں مگر نجانے کیوں انکو افیون کے باغات نہیں دیکھائی دیتے۔ افغانستان میں بیٹھ کر یہ چین، روس، پاکستان، ایران سب پر نظر رکھے ہوئے ہے، کیوں کہ آپ اس سے انکار کرتے ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں امریکی اڈا تو کب کا بن چکا ہوتا اگر چین تڑی نہ دیتا ویسے بعید نہیں اب بھی موجود ہو۔ جب دیکھو چیختا رہتا ہے ایران کے پاس ہتھیار ہیں وہ ایٹمی، امہ بھائی تو اسرائیل کے پاس کیا ہیں؟؟ پانی کی پستولیں یا لکڑی کی کلاشنکوفیں جس سے وہ لوگوں کو مارتے ہیں۔ یہ امریکہ ہی تھا جس نے جاپان میں پہلا ایٹم بم مارا اور اسکے بعد دوسری بار بھی یہی تھا جس نے ناگاساکی پر ایٹم بم مارا، ہمیں کیا کہتے ہو، بارک ابامہ ملعون سے پوچھو جو یہ کہتا ہے کہ میں مکہ اور مدینہ پر چڑھائی کروں گا۔ آپ اسکو رپورٹ بنا کردے دیں اسے آپکی ضرورت ہے ہمیں آپکی نہیں۔ وسلام |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,156
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت معلوماتی تجزیہ ہے جناب۔ شکریہ شئیر کرنے کا۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, democracy, economic, economy, free, house, pakistan, pakistani, php, پاکستان, لطیفہ, موقع, موت, world, ایٹم بم, ایران, امریکہ, بھائی, بچوں, تصاویر, جواب, حل, دیکھو, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لندن میں پرویز مشرف کو جوتوں سے بچانے کی حکمت عملی | گلاب خان | خبریں | 0 | 26-09-10 03:46 AM |
| جلسوں میں جوتوں کے بعد اب انڈے | جاویداسد | خبریں | 6 | 11-07-10 11:47 PM |
| اب جوتوں میں بھی لائٹس لگا دی گئیں | محمدعمر | خبریں | 4 | 13-02-10 02:06 AM |
| جوتوں کی بارش لالہ موسیٰ میں | محمدخلیل | خبریں | 3 | 14-07-09 11:11 AM |
| وکلا جمہوری قوتوں سے تصادم نہیں چاہتے،منیر اے ملک | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 24-04-08 01:31 PM |