کیامیں صحیح ہوں؟
کیامیں صحیح ہوں؟
مسائل، چھوٹے چھوٹے مسائل ہرمملکت کالازمی جزہوتے ہیں۔ لیکن زندگی شایداسی کا نام ہے کہ ان مسائل کوارام،سکون اورخوصلہ سے حل کی طرف بڑھایاجائے، نہ کہ ان مسائل کو اتنی ہوا دی جائے، کہ یہ اور بہت سارے مسائل کو جنم دے۔ کسی بھی ملک کا اندرونی خلفشار اس بات کی غمازہوتی ہے، کہ حکومت وقت میں کوئی خامی،کوئی کمی ضرور ہے۔ اب وہ کمی کہاں پر ہے؟، اس خامی کی نوعیت کیاہے؟، اور اس کا تدارک کیا ہے؟، سب حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ہمارےیہاں کے اصولوں کے بالکل برخلاف ایک ترقی یافتہ ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑا گہرا رشتہ ہوتا ہے، اپوزیشن مسائل کی نشاندہی کرتی ہے، اور حکومت تہہ دل سے ان مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، سب الٹی گنتی گن رہے ہیں۔سب کواپنے مسائل کی فکر اور دوسروں کے مسائل بڑھانے کا شوق ہے۔
ہمارے ملک میں انکوائریاں بہت چلتی ہیں، مگر نتیجہ اکثربےمعنی ہوتا ہے۔ انکوائری برائےانکوائری کے تحت صرف انکوئری ہی ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر مصحف علی میر کی شہادت کی انکوائری ابھی تک چل رہی ہے۔ اور تو اور ہم نے تو اپنے محسن پاکستان،ایٹمی ہیروں عبدالقدیرخان کو بھی نہیں بخشا اور ان پر بھی انکوئری بٹھادی، جواٹھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔
ہمارے ملک میں کرپشن نام کو نہیں ہیں،(کیونکہ کرپشن ٹائپ نام ہندؤںرکھتے ہیں،ہمارے ملک کی اکثریت مسلمان ہیں) مگر کرپشن کرنے والے بہت ہیں، اور جب کسی حکومت کا تحتہ الٹتا ہے، تو ان بیچاروں کی سختی آ جاتی ہیں، ہرطرف پکڑدھکڑ،کوئی ادھربھاگ جاتا ہے،کوئی اُدھر بھاگ جاتا ہے۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بےداغ کرپشن کرتے ہیں، اور اکثر بچ جاتے ہیں، کرپشن ختم کرنے کی بہت کوششیں کی گئی، مگر بےسود۔ میرے خیال میں اگر گورنمنٹ ایک بھی کرپشن کرنے والے کو پاک فوج کے ہمراہ سزا کے طورپر بارڈر بلکہ فرنٹ لائن پر یا سوات،باجوڑبھیج دے۔جہاں روزانہ ان کے کان کے پاس دو تین گولیاں گزریں، تو وہ دوبارہ کبھی کرپشن نہ کرے بلکہ دوسروں کوبھی کرپشن نہ کرنےکا مشورہ دیگا۔ لیکن یاد رہے ان کو کمانڈر بنا کر نہ بھیجا جائے۔ خدانخواستی بارڈر پر کرپشن کردی تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے ملک کی عوام بھی بہت زہین اور عقلمند ہیں۔ پتہ نہیں سیاست دان انکویرسال بیواقوف کیسے بنا دیتے ہیں، سیاسی داؤں پیچ کھیلنے والے ہرسال وہی وعدے، وہی باتیں اور ہماری اور ہماری عقلمندعوام ہردفعہ کی طرح انکھیں بند کرکے اعتبار، میرامطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہمارا سیاسی طبقہ زیادہ عقلمند ہے۔ مگر الیکشن کے دنوں میں مسندشاہی کی خواہش ان کے عقل کو 2سے ملٹی پلائی کردیتی ہیں۔ اور عوام کو عقل الیکشن کے بعد ہی انکھیں کھولتی ہیں۔
بات کہاں سے کہاں چلی گئی، میں بات کررہاں تھا،مسائل کی کہ سائل تو انسانی زندگی کا لازمی جز ہوتے ہیں، اور انکو خوش اسلوبی سے حل کرناحکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے لئے حکومت اور اپوزیشن میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ جب ہم نے وؤٹ دئیے تھے، اس وقت ہمیں یہ نہیں بتایا گیا تھا، کہ یہ صاحب اپوزیشن میں ہونگے، یاحکومت میں، ہم سے تو یہ کہہ کر وؤٹ لئے گئے تھے کہ ہمارے مسائل کو حل کیاجائے گا۔ تو پھر یہ تفریق کیوں؟ کیا اسمبلیاں صرف اسی لئے بنتی ہیں، کہ وہ پانچ سال صرف اپوزیشن اور حکومتی احتلافات میں گذار دئیے جائیں، خدارا!!! اپوزیشن اور حکومت کو چھوڑو، اس ملک کا سوچو، پاکستان کا سوچو، جو ہماری پہچان ہے، کہیں ہم اپنی پہچان کھو نہ دیں، کہ تقدیر ضمیرفروشوں اور خودغرضوں کو معاف نہیں کرتی۔۔
|