| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم کدھر جا رہے ہیں؟ یہ سوال تو ہر اس پاکستانی کی زبان پر ہے جو کسی حکمران اور سیاست خان کا پروانہ نہیں۔ لیکن وہاں پر بار بار یہی سوال پوچھا جا رہا تھا ’’شرم کہاں چلی گئی ہے؟‘‘ بات کہیں سے بھی شروع ہو موضوع کوئی بھی ہو ختم اسی پر ہو جاتا تھا کہ ’’بے شرمی کو قابل احترام کس نے بنا دیا ہے؟‘‘ بے شرم پیدائشی ہوتا ہے اس کے خاندانی جینز بے شرم ہوتے ہیں مان لیا مگر اس کے اتنے پروانے؟‘‘ کوشش یہی تھی کہ ملکی حالات اور ان کے اثرات پر بات نہ کی جائے ایک کے سوا باقی چاروں وہ تھے جن کی زندگیاں ہی صحافت کے کھوہ کھاتے لگ چکی ہیں۔ اب بھی اسی شعبہ سے وابستہ ہیں چاروں دن رات کے اپنے اپنے فکر و فاقہ سے آزاد چند لمحے تلاش کرنے کو اکٹھے ہوئے تھے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ’’ہمارے ملک کا دامن شرم سے کیوں تہی ہو گیا ہے؟‘‘ کا سوال سامنے آن کھڑا ہوتا تھا۔ اسی پانچ رکنی محفل میں پنجاب کے اس حصہ کے پرانے سماجی اور معاشرتی رویوں کی بھی بات ہوئی اس پنجاب کی جس سے پانچ میں سے چار کا تعلق تھا اور جہاں گاؤں کے کسی بھی باسی کی بیٹی سارے گاؤں کی بیٹی ہوتی تھی۔ علاقے میں سے کسی کی بھی بیٹی کو سارے علاقے والے اپنی ہی بیٹی سمجھتے ہوتے تھے۔ آپس کی مخالفتوں لڑائی جھگڑوں کے باوجود گاؤں کی بیٹی کے احترام و عزت کے محاذ پر سب گاؤں متحد ہوتا تھا۔ علاقے کی بیٹی کی عزت و احترام کے لئے سارا علاقہ ایک ہو جایا کرتا تھا۔ علاقے کے بدمعاش بھی اپنے گاؤں کی گلیوں میں اپنی نظریں جھکائے رکھتے تھے کہ گاؤں کی بیٹیاں بھی گلیوں میں سے گزرنے والوں میں ہو سکتی تھیں۔ اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی طالبات کو مردہ‘ زخمی اور بے بس دیکھ کر میں نے ٹی وی بند کر دیا۔ کرسی سے اٹھ کر زمین پر لیٹ گیا اور وہی سوال پھر سامنے آن کھڑا ہوا تھا کہ ’’اس ملک اور معاشرے سے شرم کہاں غائب ہو گئی ہے؟‘‘ اس حملہ کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور قوم کی بیٹیوں پر خود کش حملے کروانے والوں کی اپنی بیٹیاں نہیں۔ ان کے اقارب میں خاندانوں میں معاشروں میں کسی کی بھی کوئی بیٹی نہیں؟ ان سب کے خاندانی جینز میں اور معاشرتی اقدار میں بیٹی کا احترام کیوں شامل نہیں؟ ان کا تعلق کس بے حس، بے حیا معاشرے سے ہے؟ ہمارے ملک سے شرم کیوں غائب ہو گئی ہے؟ اپنے وزیر داخلہ کو اس یونیورسٹی میں اپنی اور اپنی حکومت کی کارکردگی کی بجائے ’’ سب راستے وزیرستان کی طرف جاتے ہیں‘‘ کا کئی ہزارواں انکشاف فرماتے سن کر بھی وہی سوال سامنے آن کھڑا ہوا تھا جو پینتیس پینتیس لاکھ روپے کے ایک دن کے گھریلو خرچ والوں کے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گوشوارے اور دنیا کے سب سے امیر حکمرانوں میں سے ایک کے اس ٹھوٹھا بدست قوم سے گیارہ لاکھ روپیہ روزانہ اپنے چائے پانی کا خرچہ وصول کرنے پر سامنے آن کھڑا ہوتا ہے وہی جو اس مجلس میں سرور سکھیرا بار بار پوچھ رہا تھا۔ وزیر داخلہ جی امریکہ برطانیہ اور یو اے ای دئیے این آر او کی عطا ہیں جو بھی کوئی این آر او کے حق سچ ہونے پر صدر آصف علی زرداری جتنا ہی ایمان کامل رکھتا ہے این آر او کو حق مانتا ہے اس کی تو معلوم نہیں کیا حالت ہوئی ہو گی ہمیں تو بہت شرم آئی تھی بلکہ اب تک آ رہی ہے وہ قوم کو اپنے عزم اپنی این آر او شاہی کے ارادوں سے مزید آگاہ فرما رہے تھے ان کی آنکھوں سے عزم و خدمت کا خمار ٹپک رہا تھا اور ہماری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ قوم کی بیٹیوں کی توہین پر اور شرم کے این آر او ہو جانے پر اس معاشرے کے نابود ہو جانے کے سبب جس میں ہم نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا ہوا ہے وہ معاشرہ جس میں کسی فرد کسی خاندان کی سب سے بڑی قیمتی چیز اس کی اپنی شرم اور معاشرے میں احترام ہوا کرتے تھے۔ وہ معاشرہ مٹ کیوں گیا؟ وہاں اس پر بھی بات ہوئی تھی اور اتفاق اس پر پایا گیا تھا کہ جب کسی ملک اور معاشرے کے حکمران طبقوں میں ان لوگوں کی بھرمار ہو جائے جن کے اجداد کے پاس وہ قیمتی چیز نہیں ہوتی تھی جس کو لوگ اپنی سب سے قیمتی چیز سمجھتے ہوتے تھے تو وہاں ایسے ہی ہوا کرتا ہے مگر وہ جو القاعدہ اور طالبان کے مالک و مختار بتائے جاتے ہیں کیا ان کے معاشروں اور خاندانوں میں بھی بیٹیوں کے احترام کی کوئی روایت نہیں؟ ان کے جینز بھی ہمارے جینز سے الگ کسی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں؟ ان کے جن کے ایمان اور اسلام میں گناہ اور ثواب کا معیار بھی کوئی اور ہے۔
علم و آگہی کے بحر رواں دواں ڈاکٹر وحید قریشی سے اس ملک اور معاشرے کے محروم ہو جانے کی بات ہوئی تو مجھے یہ کہنا پڑا کہ ان کا تعلق بھی ایسے ہی نایاب افراد سے تھا جن کی تعزیت بھی اپنے آپ سے ہی کرنا پڑتی ہے۔ ماہ ثواب رمضان سے دو چار دن پہلے بھی مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی ہی محرومی سے گزرنا پڑا تھا کرنل ریٹائرڈ سرور ڈوگر کے بیٹوں سے تعزیت کے مراحل میں ان کے آنسو دیکھ کر مجھے بار بار یہی خیال آتا رہا تھا کہ کیا ان ڈاکوئوں کو معلوم نہیں تھا جنہوں نے چند لاکھ کے لئے اس ملک اور قوم کی بے پناہ خدمت کرنے والے باہمت باشعور شخص کو گولی مار دی تھی کہ اس شخص نے تو اپنی زندگی اس ملک اور قوم کی خدمت میں گزار دی ہوئی تھی۔ وزیرستان میں ان کے میجر بیٹے کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا ڈرائیور شہید ہو گیا اور کرنل سرور کا سر فخر سے اور بھی بلند ہو گیا تھا اپنی برادری کے احباب کے وہ ان چند نایاب افراد میں سے تھے جس سے مل کر بات کر کے سکون میسر آ جایا کرتا تھا ان کی اصل تعزیت بھی مجھے اپنے سے ہی کرنا پڑ رہی تھی کہ اب شرم و حیاء کی تعزیت کرنے کو بھی کوئی نہیں مل رہا حالات اور ان کے اثرات سے فرار کی بھی کوئی راہ سامنے نہیں رہی سرور سکھیرا بتا رہا تھا کہ وہ رات کتابوں کے ساتھ گزارنے لگا ہے ایک کتاب اٹھاتا ہے چند منٹ بعد دوسری اٹھانا پڑ جاتی ہے اور پھر تیسری اور پھر چوتھی اور میں ان کے ماضی کی تعزیت بھی صرف اپنے سے ہی کر سکتا ہوں رات تو میری بھی اسی حالت میں گزرتی ہے الکتاب کے مختلف تراجم بدل بدل پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش میں کہ اب اس کے سوا کوئی پناہ نہیں دِکھتی سرور نے بتایا تھا کہ وہ صوفیا کرام کی فکر و مستی کے بارے میں کسی محفل میں بھی جانے لگا ہے اور شہنشاہ صوفیا حضرت مولانا رومؒ فرماتے ہیں؎ خواجہ در عیب است غرقہ تا بگوش....... خواجہ در مال است دمالش عیب پوش کز طمع عیبش نہ بیند طامع............ گشت دلہارا طمع ہا جامع یہ کہ ’’آقا کانوں تک عیب میں ڈوبا ہوا ہے مگر اس کے پاس مال ہے جس نے اس کے عیب چھپا رکھے ہیں۔ لالچی اپنے لالچ کی وجہ سے اس کے عیب نہیں دیکھتا اور لالچ ان دونوں کے دلوں کو جوڑنے والا بن گیا ہے‘‘۔ مگر سترہ کروڑ کی قیادت و سیاست والوں میں سے سب ہی کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟ ان ہزاروں کے منصب قیادت و سیادت پر قائم و دائم ہوتے ہوئے بھی شرم اس ملک سے ہجرت کر گئی ہے؟ یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, کتابوں, پاکستانی, وزیر, منصوبہ, معلوم, معاشرہ, ایمان, امیر, امریکہ, اسلام, اسلامی, تلاش, خان, خبر, رمضان, زرداری, سیاست, شخص, طالبان, علی, عزت, صحافت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تعزیت | M A Ansari | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 4 | 01-03-11 07:05 PM |
| لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کا احمدیوں کے روحانی رہنما سے اظہار تعزیت | Nasiwise | خبریں | 1 | 12-06-10 06:19 PM |
| تعزیت | عدنان دانی | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 22-01-10 11:05 PM |
| نوڈیرو میں آصف زرداری سے ممتاز شخصیات کی تعزیت | ابو کاشان | خبریں | 0 | 14-01-08 12:58 PM |
| لاڑکانہ: مختلف وفود کی نوڈیرو میں آصف زرداری سے تعزیت | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 09:52 AM |