| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
تقریباً پورا ملک ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایک بہترین پریزنٹر اور صحافی سمجھتا ہے اور ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحقیق کو سراہے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپ میں سے شاید کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ میں یہ بات آپ کے علم میں لایا تھا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی معروف ٹی وی سیریز ’’اینڈ آف دی ٹائمز‘‘، جو اے آر وائی ون ورلڈ پر نشر ہوئی تھی، کا اصل خیال ایک معروف ترک اسکالر ہارون یحییٰ کی ویب سائٹ پر موجود کتاب اور ویڈیوز سے لیا گیا تھا۔ اگر آپ دوستوں کو یہ بات یاد نہیں تو شاید یہ بات ابھی آپ کے لیے نئی ہوگی۔ لیکن اس وقت جو موضوع میں نے شروع کیا ہے وہ شاید آپ کے لیے مشتعل کرنے والا ہو لیکن یہی حقیقت ہے۔ آپ میں سے کافی دوستوں کو شاہد مسعود کے ماضی کے بارے میں اگر علم نہیں تو میں بتائے دیتا ہوں؛
ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کراچی کے ایک اخبار ’’قومی اخبار‘‘ کے ذریعے کیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈاکٹر صاحب جناح اسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر انہیں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اس اخبار کے دفتر کے چکر لگاتے ہوئے اور ایڈیٹرز کی منتیں کرتے ہوئے پایا جاتا تھا۔ وہ ان ایڈیٹرز سے اپنی وہ سنگل کالمی خبریں لگوانے کے لیے درخواستیں کرتے جو وہ رپورٹر کی حیثیت سے جناح اسپتال سے فائل کرتے تھے۔ جب ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے طبی کیریئر کو مزید آگے بڑھانے کی خاطر لندن جانے لگے تو انہوں نے قومی اخبار کے ایڈیٹر الیاس شاکر کو تنگ کرنا شروع کیا کہ وہ انہیں ایک ایسا لیٹر جاری کریں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ (ڈاکٹر) لندن میں اخبار کے بیورو چیف ہیں۔ الیاس شاکر کا خیال تھا کہ شاہد مسعود برطانوی ویزا کے حصول کےلیے ایسا کر رہے ہیں، اسلئے انہوں نے کافی عرصے تک اس معاملے کو لٹکائے رکھا تاہم شاہد مسعود کی جانب سے نیوز ایڈیٹر خوشنود صاحب کو تنگ کیا تو انہوں نے انہیں مطلوبہ لیٹر جاری کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کا صحافتی کیریئر میں بریک تھرو اس وقت ہوا جب پاپ سنگر نازیہ حسن کا لندن میں انتقال ہوا۔ وہ لاش کے ہمراہ پاکستان پہنچے اور مرحومہ کی والدہ کا انٹرویو کیا۔ اس وقت قومی اخبار وہ واحد اخبار تھا جس نے جامع طور پر اس پورے واقعے کی کوریج کی اور لوگوں نے پہلی بار ڈاکٹر شاہد مسعود کو بحیثیت جرنلسٹ پہچانا۔ اس کے بعد الطاف بھائی کے ولیمے کی باری آئی اور اس کےلیے بھائی نے الیاس شاکر اور صابر علی کو خصوصی دعوت نامے بھجوائے۔ چونکہ یہ بھائی کی جانب سے خصوصی دعوت نامہ تھا لہٰذا دونوں شخصیات کو بہر حالت ولیمے میں شرکت کرنا تھی۔ الیاس شاکر نے شاہد مسعود سے رابطہ کرکے انہیں لندن میں اپنے قیام کا بندوبست کرنے کے لیے کہا۔ اب جب یہ لندن پہنچنے تو شاہد مسعود نے الیاس شاکر سے ولیمے میں جانے کے لیے ضد کی۔ شاید یہ وہ پہلی ہائی لیول تقریب تھی جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے شرکت کی۔ بعد میں الیاس شاکر نے لندن میں مقیم بے نظیر بھٹو کا انٹرویو کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس بار بھی شاہد مسعود انٹرویو کے لیے جانے والی دو شخصیات، الیاس شاکر اور صابر کے ساتھ تھے۔ جب یہ تینوں بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ پہنچے تو برطانیہ میں پاکستان کے موجودہ سفیر واجد شمس الحسن نے شاہد مسعود کو روک کر کہا کہ وہ جرنلسٹ نہیں لہٰذا وہ نہیں جاسکتے۔ بعد میں الیاس شاکر اور صابر نے بھی واجد شمس کو سمجھایا۔ لیکن بہرالحال، شاہد مسعود کو بے نظیر کے کہنے پر ان کی رہائش گاہ میں جانے کی اجازت ملی۔ یہاں انہوں نے بے نظیر بھٹو کا انٹرویو کیا اور ان کے ساتھ قومی اخبار کی ایک کاپی کے ساتھ تصویر بھی کھنچوائی۔ دوسرے دن اخبار میں شائع ہونے والی اس تصویر کا کیپشن تھا ’’فوٹو بائی شاہد مسعود‘‘۔بعد میں شاہد مسعود اخبار چھوڑ کر ایک ٹی وی چینل (اے آر وائی) سے منسلک ہوگئے اور اس کے بعد ان کی کامیابیوں کا سلسلہ سب کو معلوم ہے۔ جہاں تک جیو ٹی وی کا تعلق ہے تو انہوں نے کافی عرصے تک جیو ٹی وی سے وابستگی اختیار کئے رکھی اور اپنے ہر پروگرام کے ذریعے یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ ایک ایماندار صحافی ہیں لیکن حقیقت یہ نہیں۔ انہیں دراصل مراعات چاہئے تھیں ایسی مراعات جو ایکسیپشنل ہوں۔ جب تک انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل جوائن نہیں کیا تھا اس وقت تک وہ اپنا صحیح ریٹ لگائے جانے کے منتظر تھے اور جیسے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت نے انہیں ان کا ریٹ بتایا تو انہوں نے فورا آمادگی ظاہر کردی۔ ان کو دی جانے والی مراعات جن پر گزشتہ کافی دنوں سے قومی اسمبلی میں بحث ہو رہی ہے وہ یہ ہیں: ڈاکٹر شاہد مسعود ساڑھے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 1600 سی سی کی ایک گاڑی، ڈرائیور اور اس کے ایندھن کی لامحدود مقدار، بزنس کلاس میں مقامی اور بین الاقوامی سفر، ایک وقت شفٹنگ کے لیے دو لاکھ روپے، تفریح اور علاج معالجے کے لیے تمام اخراجات، لامحدود کالز کی سہولت کے ساتھ ایک موبائل فون، گھر پر فون کے لیے دس ہزار روپے کی کالز، گھر پر سکیورٹی گارڈز، ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر کی سالانہ گریجوٹی، پچاس ہزار روپے کا سالانہ انکریمنٹ اور پی ٹی وی کے دیگر ملازمین کی طرح بونس کے وہ بھی حقدار ہوں گے۔ معمول کے معاہدوں کے برعکس ڈاکٹر شاہد مسعود کے پی ٹی وی چھوڑنے یا حکومت کی جانب سے انہیں نکالنے کے لیے 6 ماہ کا نوٹس ایک دوسرے کو دینا ہوگا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کے پاس چیئرمین اور ایم ڈی دونوں عہدے ہیں لیکن وہ تنخواہ صرف ایم ڈی کی لے رہے ہیں۔ یعنی اگر وہ چیئرمین کی بھی تنخواہ لینے لگیں تو سوچیں ان کو دی جانے والی مراعات غریب عوام پر بوجھ ہوگی یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر صاحب یہ تو تھی اندر کی بات!!! اب آتے ہیں دوسری بات کی جانب۔ 19 اگست کو یعنی پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے ایک دن بعد ڈاکٹر صاحب کا ایک آرٹیکل چھپا تھا جنگ اخبار میں۔ اس میں انہوں نے جو جھوٹ بولے ہیں ان کے بارے میں میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میرے محترم دوست، جو سماء ٹی وی میں پروڈیوسر ہیں، نے بڑے ہی واضح الفاظ کو جنگ اخبار کے مالک میر شکیل الرحمن کو خط لکھ کر بتایا تھا کہ ڈاکٹر شاہد نے جو کچھ لکھا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔ بقول میرے دوست حسن کاظمی صاحب کے ڈاکٹر شاہد کہتے ہیں کہ وہ ایوانِصدر کی چوتھی منزل پر موجود تھے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شاید آپ دوستوں نے پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کا آخری خطاب ٹی وی پر دیکھا ہو۔ اس میں آپ نے صرف اور صرف تین کیریئرز کے مائیکرو فون ٹیگز دیکھے۔ ایک پی ٹی وی، دوسرا سماء ٹی وی اور تیسرا سیٹلائٹ ریڈیو کیریئر تھا نام ذہن میں نہیں۔ سماء کو بلایا ہی اسی وجہ سے گیا تھا کہ اس بات کا امکان تھا کہ پی پی کی گورنمنٹ شاید صدر کو خطاب کرنے کے لیے سرکاری ٹی وی کی خدمات فراہم نہ کرے لہٰذا سماء کو انوائیٹ کرلیا گیا۔ بعد میں جب شاہد مسعود اپنے کریو / عملے کے ساتھ وہاں پہنچے تو انہیں میجر جنرل تردید قریشی اوہ سوری راشد قریشی کے کمرے میں نظر بند کردیا گیا۔ خیر اس بارے میں آپ میرے دوست کاظمی صاحب کا خط، ڈاکٹر شاہد کا آرٹیکل اور ایک دو ویڈیوز پیش کرتا ہوں وہ دیکھیں گے تو صورتحال واضح ہوجائے گی۔ ٍفیصلہ آپ خود کریں۔ Last edited by شیخ ہمدان; 03-09-08 at 04:17 AM. |
|
|
|
| شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا | جان جی (03-09-08) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2008
عمر: 27
مراسلات: 40
کمائي: 354
شکریہ: 0
14 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھم کافی مفید informationدی ھے آپ نے ،،،،ڈھول کا پول کھول دیا،،،،
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,156
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ ساری کہانی بالکل سچ لگتی ہے۔ پنجابی زبان کی ایک کہاوت ہے "چوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز"۔
پاکستان کا قومی خزانہ صرف نام کا ہے۔ بلکہ اس کو حکمرانوں کا ذاتی خزانہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ پاکستان کے غریب عوام جو مہنگائی کی چکی میں مسلسل پِس رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر جان سے مار رہے ہیں یا فروخت کر رہے ہیں۔ وہاں پاکستان کے حکمرانوں کی ساری توجہ قومی خزانے کو لوٹنے پر مرکوز ہے۔ باہر سے دھڑا دھڑ قرضے لے کر ہضم ہو رہے ہیں۔ قومی خزانن من پسند افراد میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور غریب عوام کی گردنوں پر قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
| Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا | جان جی (03-09-08) |
|
|
#4 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2008
عمر: 27
مراسلات: 40
کمائي: 354
شکریہ: 0
14 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بس جی ۔۔اب صبر کے الاوہ اور کیا ھو سکتا ھے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کراچی, پاکستان, ویب, وزیر, لندن, نیوز, چینل, نظر, موبائل, موجودہ, مائیکرو, معلوم, بہترین, بھائی, بے نظیر, ترک, تصویر, جھوٹ, جیو ٹی وی, حسن, خصوصی, سوری, علی, علاج, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سعودی عرب کے اقتدار و اختیار میں تبدیلی، شاہ عبداللہ امریکہ چلے گئے | جاویداسد | خبریں | 1 | 26-11-10 02:36 PM |
| مہنگائی، پھر مہنگائی اور مزید مہنگائی | گلاب خان | خبریں | 1 | 04-11-10 09:15 AM |
| یکم سے 10ستمبر تک پھر مون سون بارشیں شروع ہونگی، محکمہ موسمیات | جاویداسد | خبریں | 0 | 27-08-10 12:18 PM |
| العسیری نے جسٹس افتخار کو حج کی دعوت دی، حکومت پاکستان کا پیغام لیکر نہیں گئے، سعودی سفارتخانہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 09-12-07 05:30 PM |
| جلاوطنی، سعودی عرب سے احتجاج | چاچا کمال | خبریں | 0 | 11-09-07 03:50 PM |